سافٹ پاور اور بین الاقوامی رائے سازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو جولائی 2018ء کو روس میں جاپان اور بیلجیئم کے مابین فیفا ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل کھیلا گیا۔ میچ کے زیادہ تر حصے میں جاپان مخالف ٹیم پر حاوی رہا، لیکن میچ کے آخری منٹوں میں بیلجیئم نے یکے بعد دیگرے دو گول داغ کر نہ صرف میچ برابر کر دیا بلکہ اضافی وقت میں جاپان کے خلاف تیسرا گول کر کے میچ اپنے نام بھی کر لیا۔ فٹبال کا میدان ہو، ورلڈ کپ کا موقع ہو اور ٹیم کو فتح کے اتنے قریب آ کر اچانک منہ کی کھانی پڑ جائے تو توقع یہی کی جاتی ہے کہ ایک طرف شائقین سٹیڈیم میں بوتلیں پھینکیں گے اور دوسری طرف کھلاڑی ڈریسنگ روم کا تیا پانچہ کر ڈالیں گے۔

تاہم اگلے دن کے اخبارات ایک بالکل الگ کہانی سنا رہے تھے۔ جاپان کے کھلاڑیوں نے میچ ہارنے کے بعد ڈریسنگ روم کی صفائی یوں کی کہ اپنی حرفت میں یکتا خاکروب بھی رشک کر اٹھیں۔ دوسری جانب صدمے سے نڈھال جاپانی شائقین تھے کہ اسٹیڈیم میں اپنی کرسیوں کے اردگرد سے کوڑا کرکٹ اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک رہے تھے۔ دنیا ماتھے پر شکنیں سجائے ٹی وی کی سکرینوں سے چپکی یہ انہونی گزرتے دیکھ رہی تھی۔ اگلے دن کے اخبارات نے کھیل کے صفحے پر تو بیلجیئم کی فتح کی سرخی جمائی مگر جاپانی کھلاڑیوں اور شائقین کا کارنامہ بڑے بڑے بین الاقوامی اخبارات کے پہلے صفحے کی زینت بنا۔

جاپان یہ میچ تو ہار گیا مگر جاپانی شائقین نے اپنے ملک کے وقار میں جو اضافہ کیا، وہ بجائے خود ایک بہت بڑی فتح تھی۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ مناظر کیمرے نے جہاں تک پہنچائے، وہاں تک جاپانی قوم کی اعلی ظرفی کا تاثر گیا۔ اس واقعے کے بعد دنیا نے جاپان کے بارے میں کیا رائے قائم کی ہوگی؟ جاپان کا کیسا امیج بنا ہو گا؟ ان سوالوں کے جواب سوشل میڈیا پر بہت واضح دکھائی دے رہے تھے۔ اکیسویں صدی میں طاقت کا مطلب بدل رہا ہے۔ آج یہ بات سب سے زیادہ اہم ہے کہ کوئی ملک کس حد تک دوسرے ممالک کے فیصلوں اور پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اس صلاحیت کو ”سافٹ پاور“ کا نام دیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ تہران کانفرنس ( 1943 ء) کے موقع پر برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل نے سوویت یونین کے رہنما جوزف اسٹالن کو تجویز دی کہ کیوں نہ کانفرنس کے فیصلوں پر پوپ کو اعتماد میں لے لیا جائے۔ روایت کے مطابق اسٹالن نے مختصر توقف کے بعد طنزیہ لہجے میں پوچھا: ”پوپ موصوف کی کمانڈ میں فوج کی کتنی ڈویژنیں ہیں؟“ اس عہد کے تناظر میں سٹالن کا طنز انتہائی مناسب اور معقول تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب ملکوں کی طاقت کا واحد پیمانہ ٹینک، ہوائی جہاز اور فوج کی تعداد ہوا کرتی تھی۔ آج کے دور میں بھی فوجی طاقت، ایٹمی صلاحیت اور ملک کی مجموعی معاشی پیداوار بلاشبہ ملکی طاقت کے اہم پیمانے ضرور ہیں لیکن اکیسویں صدی میں جس طرح روایتی جنگوں کا امکان کم ہور ہا ہے، اسی طرح سافٹ پاور کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

مختلف ممالک دنیا میں اپنی سافٹ پاور بہتر کرنے کے لیے کئی ہیلوں سے باقاعدہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یو ایس ایڈ امریکہ کی جانب سے ترقی پذیر ممالک میں کی جانے والی ایک ایسی ہی سرمایہ کاری ہے۔ یو ایس ایڈ کی امدادی رقم سے خریدے جانے والے پانی کے کولر پر بھی ”امریکی عوام کی جانب سے“ کی مہر لگی ہوتی ہے تاکہ پانی پینے والے کو یاد دہانی رہے کہ دعا کس کو دینی ہے۔ اسی طرح یوگریڈ، کامن ویلتھ سکالرشپ، اور اس طرز کے دیگر پروگراموں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لائق طلبہ کو ایک مختصر عرصے کے لیے اپنے ممالک میں بلا کر اپنی ثقافت سے متعارف کروایا جائے۔ چونکہ یہ طلبہ اوسطا لائق اور ذہین ہوتے ہیں، لہذا امید رکھی جاتی ہے کہ آگے چل کر جب یہ اپنے ممالک میں اہم عہدوں پر پہنچیں گے تو سکالرشپ دینے والے ممالک کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہوں گے۔ فل برائٹ سکالرشپ حاصل کرنے والے درجنوں طلبہ اپنے اپنے ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم رہ چکے ہیں۔

چین سافٹ پاور کے اس مقابلے کا نیا کھلاڑی ہے، معاشی طاقت بنتے ہی چین کو بھی یہ احساس ہوا کہ سیاحت اور تعلیم کے لیے چین کا رخ کرنے والے لوگ ان کے ملک کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی چین نے ایک طرف تو اپنی ویزا پالیسی میں نرمی کی اور دوسری جانب دھڑا دھڑ طلبہ کو سکالر شپس دینا شروع کر دیں۔ او راب ون بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبے کے ذریعے تو چین سافٹ پاور کو بالکل ایک نئی بلندی پر لے گیا ہے۔ یعنی ہر ملک اپنی معاشی استطاعت کے مطابق دنیا میں اپنا تاثر بہتر کرنے پر محنت کرتا ہے۔

بھارت کی فلم انڈسٹری اور سرکار کی بھرپور کوششوں کی بدولت پچھلے چند برسوں میں بھارت کا بین الاقوامی تاثر بہت بہتر ہوا ہے۔ آج جب کوئی امریکی یا یورپی بھارت کا نام سنتا ہے تو اس کے ذہن میں کچی آبادیاں، ماحولیاتی آلودگی اور غذائی قلت سے مرجھائے ہوئے بچے نہیں آتے بلکہ اس کے ذہن میں پہلا خیال یوگا اور بالی وڈ کا آتا ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے پچھلے کچھ عرصے میں اپنے ملک کو تقریباً کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی تشہیری مہم کی طرز پر بیچنا شروع کر دیا ہے۔

اگرچہ کشمیر میں جاری تحریک حق خودارادیت اور اقلیتوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں بھارت کی اس تشہیری مہم کے سامنے مثل آئینہ آ کھڑی ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا ان خلاف ورزیوں پر اتنا سخت موٴقف نہیں اختیار کرتی جتنا سخت موٴقف دیگر ممالک کی جانب سے کی جانے والی اس سے کم خلاف ورزیوں پر کیا جاتا رہا ہے۔ یورپی یونین کے ادارے ڈس انفو لیب نے بھارت کے قومی کردار پر سوال اٹھانے میں کوئی کسر تو نہیں چھوڑی تھی، مگر ناقابل تردید شواہد کے باوجود بین الاقوامی میڈیا میں اس رپورٹ کو وہ کوریج نہیں ملی جس کی یہ حق دار تھی۔ لہذا یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ یہ بھارت کی کامیاب سفارت کاری ہی ہے جس کی بدولت دنیا ان کو ہمیشہ شک کا فائدہ دیتی ہے، اور وہ اس فائدے کو پوری طرح سے اپنے قومی مفاد میں استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کو بھی بتدریج اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اپنے قومی ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسز کرنے سے بین الاقوامی رائے عامہ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ان پریس کانفرنسز کو صرف چند غیر ملکی اخبارات کے نمائندے اور پاکستان میں موجود غیرملکی سفارتکار ہی سنتے ہیں، جبکہ دنیا میں کسی بھی ملک کا بیانیہ تب بکتا ہے جب وہ خاص و عام تک پہنچے۔ اٹلی کے سفارتکاروں کی رائے کی اہمیت اپنی جگہ ہے مگر سوشل میڈیا کے دور میں بین الاقوامی فورمز کے ذریعے اٹلی کے عوام تک اپنی بات پہنچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

جنیوا میں ان دنوں ہیومن رائٹس کونسل کا اڑتالیسواں اجلاس جاری ہے۔ اب کی بار پاکستانی وفد کی سرگرمیوں سے یہ فرحت بخش احساس ہو رہا ہے کہ آخر کار ہم بھی بین الاقوامی رائے عامہ کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی مندوبین کے بیانات، غیر رسمی ملاقاتیں اور پریس ریلیزیں اس بات کا عندیہ ہے کہ اب کی بار دفتر خارجہ پوری تیاری کے ساتھ جنیوا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کشمیر میں ہونے والے مظالم کی طرف بڑے زوردار طریقے سے دنیا کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔

اسی طرح بھارت کی دلت آبادی کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک، مشرقی بھارتی ریاستوں میں جاری فوجی آپریشنز کے نام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، بی جے پی کی ہندوتوا آئیڈیالوجی اور پاکستان میں بھارت کی جانب سے ہونے والی مداخلت پر پاکستان کا نقطہ نظر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل کا اجلاس سافٹ امیج کے اعتبار سے ایک انتہائی اہم فورم ہے جس کی اہمیت کو پاکستان نے ماضی میں فراموش کیے رکھا ہے۔

دنیا کو اپنے تحفظات اس زبان اور طریقے سے پہنچانے ضروری ہیں جو بین الاقوامی تعلقات کی زبان ہے۔ پاکستان میں بیٹھ کر ہمسایوں کی کج ادائی کا گلہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، دنیا سفارتکاری کی زبان سمجھتی ہے۔ البتہ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ نقطہ نظر کو بیانیہ بننے میں اکثر کئی سال لگتے ہیں، اسی طرح پاکستان کے خلاف بھارت کے کئی برسوں کی محنت سے تشکیل دیے گئے بیانیے کو زائل کرنے پر بھی کافی وقت اور توانائی لگے گی۔ یہ بات البتہ باعث اطمینان ہے کہ ایک مربوط کوشش کا آغاز تو ہوا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حمزہ اقبال ہنجرا کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments