پاکستان میں آرٹ کا مستقبل


ایک روز میں اکیڈمی کے سب سے آخر والے کمرے میں کھڑا قیوم، عرفان اور ضیا کو اپنے سکیچز دکھا رہا تھا۔ ایف ایس سی سیکنڈ ایئر کے پیپرز ہو چکے تھے۔ اب ہم پریکٹیکلز کی تیاری کر رہے تھے۔ آج کل اکیڈمی ایک لیب کا منظر پیش کر رہی تھی۔

ان دنوں میں بھی کھل کر آرٹسٹک مشاغل میں گم تھا۔ قیوم نے میرا کام دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں گھر سے تصویروں کا البم ساتھ لے آیا۔ اب عرفان اور ضیاء بھی بڑے شوق سے میرے سکیچز دیکھ رہے تھے۔

قیوم کو نیلے رنگ سے بنا گھوڑے کا سکیچ بہت پسند آیا۔ عرفان نے علامہ اقبال اور ضیاء نے غالب کا پورٹریٹ زیادہ پسند کیا۔ وہ البم کی ایک ایک تصویر دیکھ کر اس پر تبصرہ کر رہے تھے۔ پھر اوشو، فیض اور سرسید کے سکیچز نظر سے گزرے۔ اس کے بعد مصورانہ کیلیگرافی شروع ہو گئی۔

سر حماد ہمارے پاس سے گزر رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر وہ رکے اور ہمارے ساتھ آکر کھڑے ہو گئے۔ ہم نروس محسوس کرنے لگے کہ اب انہیں کیسے شامل گفتگو کریں؟ عرفان، جو ہم میں سب سے زیادہ شارپ تھا، نے موقع کی مناسبت سے سر حماد سے سوال پوچھا کہ پاکستان میں آرٹ کا کیا مستقبل ہے؟

سر حماد ہمارے ریاضی کے پروفیسر تھے۔ ان کا پڑھانے کا اپنا انداز تھا۔ وائٹ بورڈ پر ایک مسئلے کو حل کرتے ہوئے وہ گہری سوچ میں گم ہو جاتے۔ بار بار سینے سے چپکی ہوئی قمیض کو کھینچ کر ڈھیلا کرتے۔ بلآخر انہیں مسئلے کا حل مل جاتا۔ وہ ماتھے سے پسینے کو صاف کرتے ہوئے بورڈ پر نتیجہ لکھتے۔ اور ایک فاتح کی طرح زیر لب مسکراتے ہوئے کلاس کی طرف متوجہ ہوتے۔

عرفان کے سوال نے آج بھی انہیں گہری سوچ میں ڈال دیا۔ یہ کوئی ریاضی کا مسئلہ نہیں تھا۔ اس کے لیے کوئی لمبا چوڑا حساب نہیں چاہیے تھا۔ یہ تو بس ایک سادہ سا سوال تھا کہ پاکستان میں آرٹ کا کیا مستقبل ہے؟ جسے عرفان نے اتفاقاً پوچھ لیا تھا۔ انہوں نے سینے سے چپکی ہوئی قمیض کو کھینچ کر ڈھیلا کیا۔ ہم ان کے جواب کے منتظر تھے۔ وہ بس زیر لب مسکرائے جا رہے تھے۔ مگر ان کا انداز فاتحانہ نہیں تھا۔ غالبا وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ اس کے بعد محفل برخواست ہو گئی اور ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے۔

اکیڈمی کے اساتذہ ایک خاص مشن پر کام کر رہے تھے۔ ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کے سٹوڈنٹس بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کریں۔ ان کا اچھا میرٹ بنے اور بڑی یونیورسٹی میں داخلہ ہو جائے۔ ایسے میں وہ طالب علموں سے یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنا پورا فوکس اپنی پڑھائی پر رکھیں۔

غیر نصابی مشاغل ایک طالب علم کو اپنے حقیقی مقصد سے دور کر سکتے تھے۔ اسی طرح پروفیسرز کی زیادہ توجہ صرف ایسے طلبا کی طرف ہوتی تھی جو ان کی توقعات پر پورا اتر سکیں۔ باقی کلاس تماشائیوں کی طرح استاد اور ٹاپرز کے مکالمے سنتی رہتی تھی۔

ایک روز ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ مجھے آرٹ کے ساتھ لٹریچر میں بھی دلچسپی تھی۔ اردو لازمی مضمون تھا۔ ایک روز اردو کے پروفیسر نے میرا پیپر لہرا کر ساری کلاس کو دکھایا۔ انہوں نے میرے کام کی تعریف کی اور سب کو تاکید کی کہ وہ میری طرح لکھیں۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے وضاحت پیش کی کہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اردو جیسے مضمون میں بھی سب کے اچھے نمبر آئیں۔ تاکہ اچھا میرٹ بنے اور بڑی یونیورسٹی میں داخلہ ملے۔ اچھا شعر یاد کرنے کا ان کی نظر میں اس سے زیادہ کوئی مصرف تھا نہ ضرورت۔

پریکٹیکل بھی خیر خیریت سے ہو گئے۔ اب ہم نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔ کیریئر کی سلیکشن پر میں کشمکش کا شکار تھا۔ میرا رجحان فائن آرٹ کی طرف تھا۔ مگر ساری تعلیم سائنس میں تھی اور ریکارڈ بھی ٹھیک تھا۔ اور پھر یہ بھی واضح نہیں تھا کہ پاکستان میں آرٹ کا مستقبل کیا ہے؟ میں نے خاموشی سے ایک انجنیئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائی کیا۔ انٹری ٹیسٹ پاس کر کے اسکالرشپ پر پڑھنے لاہور آگیا۔

میں نے مالی آزادی کو اپنے شوق پر ترجیح دی۔ میں نے سوچا کہ میرا آرٹ میری پرورش نہیں کرے گا۔ بلکہ میں اپنے فن کی نشوونما کروں گا۔

میرے دوست بھی ملک کے بڑے شہروں میں پھیل گئے۔ انہوں نے انجنیئرنگ کے مختلف شعبوں میں داخلہ لے لیا۔ ہم اگلے کئی سال اپنی اعلیٰ تعلیم پر صرف کرنے والے تھے۔ پتہ نہیں ہمیں غیر نصابی مشاغل کا موقع ملے گا بھی یا نہیں۔ ہم اپنے اساتذہ کی امیدوں پر پورا اترے تھے۔ پھر ہمارا رابطہ ایک دوسرے سے منقطع ہو گیا۔ کئی سال بعد فیس بک کے ورچوئل پلیٹ فارم نے ہمیں ایک جگہ پر اکٹھا کیا۔

انجنیئرنگ کی تعلیم مکمل کر کے میں کچھ روز کے لیے اپنے آبائی شہر میں آگیا۔ ایک روز میں اپنے کزن سے ملنے جا رہا تھا کہ میرا سامنا سر حماد سے ہو گیا۔ ان کا گھر میرے کزن کے گھر کے پاس ہی واقع تھا۔ وہ دور سے سوچ بچار میں گم چلے آرہے تھے۔ میں تھوڑا نروس محسوس کرنے لگا۔

وہ میرے پاس آئے تو میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ مگر وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں ان کا سٹوڈنٹ ره چکا ہوں۔ وہ ریلیکس ہو گئے۔ ان گنت سٹوڈنٹس میں سے کسی ایک سے ملنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔

اور میں کوئی پوزیشن ہولڈر تھوڑی تھا۔ اس لیے وہ مجھے یاد نہیں کر سکے۔ مجھے اچانک عرفان کا سوال یاد آگیا۔ سر میں وہی ہوں! ہم نے قیوم اور ضیاء کے ساتھ آپ سے اکیڈمی کے سب سے آخر والے کمرے میں آرٹ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا تھا۔ میرا ذہن ابھی جذبات کی رو میں الفاظ کو ترتیب ہی دے رہا تھا کہ وہ اجازت لے کر آگے کی طرف بڑھ گئے۔

ہو سکتا ہے وہ جلدی میں ہوں۔ یا لیکچر دینے اکیڈمی جا رہے ہوں۔ اور ان کا دماغ ریاضی کے کسی مسئلے کے بارے میں سوچ رہا ہو۔ مگر میرے مسئلے کا کیا؟ کئی سال پہلے میں ان سے اس کے بارے میں پوچھ نہیں پایا تھا اور اب انہیں یاد نہیں کرا سکا۔ مگر آج، پاکستان میں آرٹ کا مستقبل کیا ہے، مجھے اس کا جواب مل چکا تھا۔


فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid