میرے مطالعے کا سفر بیش تر مذہبی کتابوں سے شروع ہوا۔ یہ کتابیں عموماً مذہب کے سافٹ امیج یا روشن خیالی کی ترویج کے لئے لکھی گئیں تھیں۔ یہاں آپ کو ’بہشتی زیور‘ ، ’موت کے بعد کا منظر‘ یا ’قصص الانبیا‘ وغیرہ، نظر نہیں آئیں گی۔ میری نظر سے جو کتابیں گزریں، ان کے عنوان کچھ یوں تھے : ’سلیم کے نام خطوط‘ ، ’قرآن کی فریاد‘ ، اور ’مذہب اور جدید چیلنج‘ وغیرہ۔ ان کتابوں میں دور جدید کے مسائل کے تناظر میں مذہب کی تعریف نو بھی کی گئی تھی، مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ بھی پڑھا گیا تھا، اور مذہب کی حقانیت کے بارے میں دلائل بھی پیش کیے گئے تھے۔ میری خصوصی توجہ مذہب اور سائنس کے مابین ہم آہنگی، فرقہ واریت سے بلند ہو کر دین کی تعبیر نو اور باہم پیکار نظریات کی دنیا میں مذہب کی افضلیت پر مرکوز رہتی تھی۔
میری پرورش ایک روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔ تلاوت کلام پاک، نماز کی پابندی اور رمضان کا خصوصی اہتمام اس کے نمایاں پہلو تھے۔ مگر یہ سب عبادات کی حد تک تھا۔ کتابوں میں اس سے بڑھ کر نظریات کی جنگ چل رہی تھی۔ اگر کتاب خدا کا قول ہے تو پھر کائنات کیا ہے؟ اس کا فعل؟ اور خدا کے قول و فعل میں ہرگز کوئی تضاد نہیں ہو سکتا۔ میں مذہب میں سائنس کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور سائنس میں مذہب کو۔ میں کہیں قرآن مجید میں بگ بینگ کی بازگشت سن رہا تھا، تو کہیں ایک چیونٹی یا ایک خلیے میں الوہی معجزے کا بیان۔ مسلمان جو اس زبوں حالی کا شکار ہیں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، یہ چند مفاد پرست طبقات کی سازش ہے، جو دین کا صحیح مفہوم عام لوگوں تک پہنچنے نہیں دیتے، ورنہ ان کا کاروبار خطرے میں پڑ جائے گا۔ پھر مختلف ادیان اور مذاہب کے تقابل سے یہ ثابت کیا جاتا کہ ہمارا عقیدہ ہی سچا اور کھرا ہے، باقی محض باطل ہیں یا پھر ملاوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔
Read more