آرٹسٹ عبدالسلام سے ایک مختصر ملاقات

میں شہر کے مشہور چائے خانے ”نیشنل ٹی سٹال“ میں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ وہ چائے خانہ بازار کے پر رونق مقام پر واقع تھا۔ دکان کے اندر بینچ اور ٹیبل لگے ہوئے تھے جہاں چائے کے متوالوں کو گرما گرم دودھ پتی پیش کی جاتی تھی۔ سٹال کے باہر بھی کچھ کرسیاں بچھی ہوئی تھیں تاکہ جو گاہک چاہے سرعام چائے سے راز و نیاز کر لے۔ گو کہ وہ چائے خانہ میرے گھر سے تھوڑا فاصلے پر

Read more

اوسط درجے کی پینٹنگ

”یہ لو تمہاری فائل،“ میری بہن نے کالج سے آنے کے بعد مجھے ایک سفید رنگ کی فائل پکڑاتے ہوئے کہا۔ ”یہ کیا ہے؟“ میں نے سوالیہ نظروں سے اس سے پوچھا۔ ”تمہاری پینٹنگ،“ اس نے معمول کے سے انداز میں جواب دیا۔ ”میری پینٹنگ؟“ میرے دماغ میں موجود بہت سے سوالوں میں سے ایک میری زبان سے چھوٹ گیا۔ میری بہن کو وہ پینٹنگ کہاں سے ملی؟ اس نے اسے کیوں پاس رکھ لیا؟ وہ اسے کہاں لے کر

Read more

مقابلہ مصوری

یونیورسٹی کے کیفے میں میرے ایک دوست نے بتایا کہ GIKI یونیورسٹی میں ایک آرٹ گالا کا انعقاد ہو رہا تھا۔ اس نے مجھے بھی شرکت کی تاکید کی۔ ہماری یونیورسٹی کی نمائندگی کے لیے ایک ٹیم جمعہ کے روز روانہ ہو رہی تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس دن میرا کمپیوٹر لاجک اینڈ ڈیزائن کا کوئز تھا۔ میں نے پروفیسر صاحب سے درخواست کی کہ وہ میرا کوئز بعد میں لے لیں تو انہوں نے مجھے عجیب نظروں

Read more

انٹرفیس میگزین کا سرورق

ایک روز میں اپنی ای میل چیک کر رہا تھا۔ مجھے کسی خاص ای میل کا انتظار تو نہیں تھا۔ روز ایک جیسی ای میلز ہی ہوتیں تھیں۔ بینک کی طرف سے آئے پن کوڈ، سبسکرائب ویب سائٹس کی اپ ڈیٹ، اور ای میل سروس کی جانب سے بھیجی گئیں پروموشنز۔ لیکن اس روز ایک ای میل باقیوں پر نمایاں ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ مختلف تھی اور خلاف توقع بھی۔ اس کے مقابلے میں باقی ای

Read more

کرونیکل ان ڈارک

میں نے مائکروسافٹ ورڈ میں کتابوں کی ایک فہرست تیار کی اور کنٹرول، پی دبا کر اس کا پرنٹ نکال لیا۔ اس روز میں نے دفتر سے جلدی رخصت لی اور ایک کولیگ کے ساتھ ایکسپو سینٹر میں کتابوں کی سالانہ نمائش دیکھنے پہنچ گیا۔ کتابوں کی لسٹ میرے ہاتھ میں تھی۔ ہال میں داخل ہوتے ہی میں نے کتابوں کی تلاش شروع کر دی۔ اتنا بڑا بک فیئر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہر طرف لوگوں کی

Read more

آپ مجھ سے دوستی کریں گے؟

میں نے جاب ملنے کے بعد کچھ لڑکوں کے ساتھ دفتر کے پاس ہی چار کمروں کا ایک گھر کرائے پر لے لیا۔ ہر کمرے میں دو دو لڑکے رہ رہے تھے۔ ماسوا میرے کمرے کے۔ جس کے لیے ایک اور لڑکے کی تلاش جاری تھی۔ میرا کمرہ بیٹھک نما تھا اور خاصہ بڑا تھا۔ سو شروع کے دنوں میں میں وہاں اپنی کتابوں کے ساتھ تنہا اور آزاد رہنے لگا۔ جاب کے ابتدائی دنوں میں مجھے نئی ٹیکنالوجی سیکھنے

Read more

یونیورسٹی، ہاسٹل اور دوسرے رنگ

میں اپنی یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود تھا۔ تا حد نظر شیلفوں میں کتابیں سجی ہوئی تھیں۔ میں لٹریچر کے سیکشن میں کھڑا ہوا تھا۔ مجھے ایک کتاب کی تلاش تھی۔ کوئی بھی ایسی کتاب جسے میں ایشو کرا کے پندرہ روز تک ہوسٹل میں اس کے مطالعے سے محظوظ ہو سکوں۔ لیکن ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی میں لٹریچر کا سیکشن کیوں؟ وہاں ادب یا فنون لطیفہ تو نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ یا انجینئرنگ کا طالب علم لٹریری کتاب کیوں ڈھونڈ

Read more

گمشدہ خطوط اور کتابیں

جب اس گھر کے حقیقی وارث دوسرے شہر منتقل ہوئے تو اسے کرائے پر دینے کے لیے خالی کر دیا گیا۔ لیکن دہائیوں پرانے اور کئی نسلوں کے بسائے ہوئے گھر یوں خالی نہیں ہوا کرتے! گو کہ ارکان رخصت ہو گئے۔ لیکن گھر کا سامان اکٹھا کر کے چوبارے والے بڑے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ اور یوں اس گھر نے خوشی یا بے دلی سے اپنی بانہیں کرایہ داروں کے لیے کھول دیں۔ ایک روز میں کرایہ

Read more

حجامت: اراؤنڈ دی گلوب

”یہ میرے پاس آپ کی آخری حجامت ہوگی!“ حجام پر اعتماد لہجے میں بولا۔ وہ قدرے جھک کر میرے بال کاٹ رہا تھا۔ ”کیوں، کیا ہوا؟“ میں نے تعجب کا اظہار کیا۔ مجھے حجام کی تبدیلی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ ”بس، میں مسقط جا رہا ہوں۔ اب وہیں پر کام کروں گا۔ میرے بہنوئی نے ہر چیز کا بندوبست کر دیا ہے۔“ اب اس کے اعتماد میں پھرتی بھی شامل ہو گئی۔ گویا اس حجامت کے بعد وہ سیدھا گھر

Read more

علامہ اقبال کا پورٹریٹ

گھر کے سامان سے لدا ہوا ٹرک ایک قدرے خاموش گلی میں آ کر رکا۔ ہم مزدوروں کے شانہ بشانہ سامان چار منزلہ عمارت میں واقع ایک فلیٹ میں منتقل کرنے لگے۔ میرے ماموں نے کچھ عرصہ قبل اس شہر میں نیا کلینک شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی فیملی کو بھی وہاں شفٹ کر لیا۔ اور میں میٹرک کی چھٹیاں گزارنے ان کے ساتھ چلا آیا تھا۔ وہ تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ گلی کی

Read more

دوسرا گھر

”رات کو کہاں سوو گے؟“ ہفتے کے روز امی نے میرے بال بناتے ہوئے پوچھا۔ ”دوسرے گھر!“ میں نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا۔ گویا یہ کسی ان لکھے مگر پیشگی طے شدہ ضابطے کا حصہ تھا کہ ہفتے کے دن اگر امی وہ سوال کریں تو اس کا اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں بنتا۔ جبکہ اگلے روز اتوار ہو اور چھٹی ہو۔ اس جواب کے لئے ہرگز کسی سوچ بچار کی ضرورت نہیں تھی: ”دوسرے گھر۔“

Read more

کون صاحب؟

میں رات کے وقت ایک کزن کے ساتھ اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ان دنوں بہت زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی۔ گلی میں گھپ اندھیرا تھا۔ آس پاس کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ گلیاں ہماری دیکھی بھالی تھیں۔ سو ہم اندازے تخمینے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ میرے ساتھ ساتھ میرے کزن کا ہیولا چل رہا تھا۔ دونوں طرف تاریکی میں ڈوبے مکانوں کے آثار تھے۔ ہمارے پیروں کو چھوتا گلی کا فرش ٹھیک سے دکھائی

Read more

خلیل جبران: محبّت کے افسانے

کچھ ادیب ایسے ہوتے ہیں جو نیند، غذا اور سانس کی طرح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے آپ کا بچپن، اوائل عمری اور جوانی گزرتی ہے۔ آپ ان کی لکھی ہوئی کتابیں بار بار پڑھتے ہیں۔ ان کے لفظوں سے آپ کی مڈبھیڑ قدم قدم پر ہوتی ہے۔ المختصر، ایسے ادیب آپ کی زندگی کا ناگزیر حصہ بن جاتے ہیں۔ میری زندگی میں ایسے ہی ایک ادیب ”خلیل جبران“ ہیں۔ میں جب اپنی مختصر

Read more

سرگوشیوں کا شہر

میں میکلوڈ روڈ پر واقع ایک بینک کی پارکنگ میں کھڑا ہوا تھا۔ میرے سامنے سرخ اینٹوں سے بنی لاہور ہوٹل کی عمارت تھی۔ اس کی پہلی منزل پر سہ طرفہ موٹر سائیکلوں کی ایک بڑی مارکیٹ تھی۔ دوسری منزل پر کاروں کی پارکنگ تھی۔ یہ وہی لاہور ہوٹل ہے جس کا ذکر متعدد بار اے حمید نے اپنی کتاب ”دیکھو شہر لاہور“ میں کیا تھا۔ وہ یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ امپورٹڈ چائے پینے آتے تھے۔ بائیں جانب میکلوڈ

Read more

یونس ادیب کا شہر لاہور

وہ کتاب پڑھنے سے پہلے مجھے پرانے شہر سے زیادہ آشنائی نہیں تھا۔ گو کہ میں پرانے شہر میں کئی بار جا چکا تھا۔ وہاں جانا مجھے اچھا بھی لگتا تھا۔ لیکن میں پرانے شہر کو جانتا نہیں تھا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ اجنبی زبان میں موسیقی سن کر اسے پسند کرنے لگیں۔ لیکن ایسا کیوں؟ شاید ہمارا ایک نامعلوم شے سے لاشعوری واسطہ قائم ہو جاتا ہے۔ بس ہم اس تعلق کو زبان نہیں دے پاتے۔ جس

Read more

ڈریم جاب

وہ ہوسٹل ایک ایک کر کے اپنے باسیوں سے خالی ہو گیا۔ صرف ہم چند دوست رہ گئے جو کچھ روز میں ایک نئی جگہ پر منتقل ہونے والے تھے۔ وہ ہوسٹل چار سالوں سے ان طلبا کا مسکن تھا جو ملک کے دور دراز علاقوں سے تعلیم کے ذریعے اپنی تقدیر سنوارنے کا خواب لے کر آئے تھے۔ وہاں چار سال قیام کیا، انجینئرنگ پڑھی اور اب ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں میں کام کرنے کے لیے پر تول

Read more

اسکول کے اقوال زریں

”سایہ خدائے ذوالجلال۔“ قومی ترانہ ختم ہوا تو ہم ساری جماعتوں کے طلبا قطار میں ایک ایک کر کے اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ٹیچر بھی کچھ دیر ایک دوسرے سے حال احوال کر کے چلی گئیں۔ اسکول کا صحن اب بالکل خالی ہو گیا جس کے دو اطراف میں مختلف جماعتوں کے کمرے تھے جہاں طلبا اپنے تعلیمی دن کا آغاز کرنے جا رہے تھے۔ ایک طرف پرنسپل اور ایڈمن کے دفاتر تھے جہاں اسکول میں موجود کثیر

Read more

ایک ڈراؤنا خواب

ہم سب گھر والے رات کے وقت اپنے پرانے مکان کی تیسری منزل والی چھت پر موجود تھے۔ ہمارے ساتھ والے گھر میں شادی کی کوئی تقریب ہو رہی تھی۔ ہم اپنی چھت کی دیوار سے لگ کر نیچے ہمسایوں کے پر رونق پروگرام میں شریک تھے۔ چچا کی فیملی کو ملا کر ہم کوئی دس افراد تھے۔ ہم سب خوش تھے، ہم سب سرشار تھے۔ ہمارے ہمسایوں کا گھر ہم سے ایک منزل نیچے تھا۔ ان کی چھت تا

Read more

باغوں کا شہر

ایک روز میں گوگل میپ پر لاہور کا نقشہ دیکھ رہا تھا۔ میں اپنے آبائی شہر کے مقابلے میں لاہور کی وسعت دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ میں جو لاہور تعلیم اور جاب کے سلسلے میں آیا تھا، شہر کی بوقلمونیوں میں کھو گیا اور اسی کا ہو کر رہ گیا۔ میں نے گریٹر اقبال پارک پر نقشے کو زوم ان کیا۔ اس قطعے میں لاہور کی تین مشہور تاریخی عمارات تھیں : شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد جو مغل

Read more

پراسرار انکل

یونیورسٹی کے دنوں میں ہوسٹل کی شاموں کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ صوبے کے طول و عرض سے آئے طلبہ اپنے ساتھ عادات، خیالات اور کمالات کا تنوع لے کر آئے تھے۔ سارا دن یونیورسٹی کے لیکچروں کے بعد ہر لڑکا اپنے مطابق شام کے اوقات بسر کرتا تھا۔ کچھ لوگ ساتھ میدان میں کرکٹ یا فٹ بال کھیلنے چلے جاتے۔ کچھ ہوسٹل کی اطراف میں پھیلے کمروں میں خوش گپیوں میں مصروف ہوتے۔ تھوڑے پڑھاکو ٹائپ اسائنمنٹ

Read more

اٹل فیصلہ

رات کے وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں بے دھیانی میں دروازہ کھولنے آیا تو مجھے نیم روشن گلی میں کوئی نظر نہیں آیا۔ کیا کوئی بیل بجا کر بھاگ گیا تھا؟ میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے گلی کے دائیں جانب ایک آدمی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ میں نے غور کیا تو ایک شخص موٹر سائیکل کے ساتھ کھڑا میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اب میں انہیں پہچان چکا تھا۔ وہ سر فاروق تھے۔

Read more

ایک اسکول ٹرپ کی روداد

بدھ کے روز نویں جماعت کے اسلامیات کے لیکچر کے بعد ڈائریکٹر صاحب خوش گوار موڈ میں بولے : ”امتحانات اور سخت پڑھائی کے بعد اب آپ لوگوں کی تھوڑی انٹرٹینمنٹ ہونی چاہیے۔ ہم اسکول کا ٹرپ لے کر فورٹ منرو جا رہے ہیں۔ آپ لوگ کل ایک ایک ہزار روپے جمع کرا دیں۔“ یہ سن کر طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ مقررہ دن کا بے صبری سے انتظار کرنے لگے۔ ہفتے کی صبح ویگن فورٹ

Read more

اے مصور تیری تصویر ادھوری ہے

ہم پرانے گھر کی بالائی منزل والے کمرے میں موجود تھے۔ میں نے سر اونچا کر کے کر پھپھو کو سلیٹ پکڑائی اور اس پر دو کا ہندسہ لکھنے کا بولا۔ پھپھو جو کسی اور سے سنجیدہ گفتگو کرنے میں مصروف تھیں نے بغیر دیکھے سلیٹ پکڑی اور جلدی سے اس پر دو لکھ کر مجھے واپس دے دی۔ میں طمانیت سے سلیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ گویا ایک گہرا راز میرے ہاتھ لگ گیا تھا۔ میں نے دو

Read more

بچپن: کچھ یادیں کچھ شاعری

ہوا کچھ یوں کہ میرے اسکول کے ایک دوست کے پاس لاک والی ڈائری تھی۔ اس کے صفحے خوشبو والے تھے۔ ایک روز اس دوست نے وہ ڈائری مینار پاکستان کے سکیچ کے عوض مجھے دے دی۔ میں وہ ڈائری گھر لے آیا۔ سو اب وہ ڈائری میری تھی۔ مگر اس کے مہکتے ہوئے صفحات پر کیا لکھا جائے؟ ایسا کچھ پرائیویٹ جسے مقفل کیا جا سکے۔ شاعری! میں نے اس پر شاعری لکھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر شاعری کوئی

Read more

لاہور: ایک تلاش اک ملال

اس روز میں نے دفتر سے آدھی چٹھی لی ہوئی تھی۔ گھر میں کچھ کام تھا۔ فراغت کے بعد میرے پاس کچھ گھنٹے فری تھے۔ ویسے بھی کئی روز سے رات گئے تک کام کر رہا تھا۔ ذہن تھوڑی بریک مانگ رہا تھا۔ ایک اچھوتا خیال میرے دماغ میں داخل ہوا۔ میں نے کار نکالی اور مال روڈ کا رخ کیا۔ موبائل پر بالی وڈ کا صوفی میوزک لگا لیا۔ میں اپنے منصوبے کی جزئیات کے بارے میں سوچنے لگا۔

Read more

جگجیت: میرا گیت امر کر دو

علیم بھائی نے ٹیپ ریکارڈر میں کیسٹ ڈالی اور پلے کا بٹن دبا دیا۔ ہم اشتیاق سے ٹیپ کی طرف دیکھنے لگے۔ علیم بھائی جو رشتے میں میرے کزن تھے ہر ہفتے اپنی جیب خرچ سے آڈیو کیسٹ خرید کر لے آتے تھے۔ آج یہ نئی سوغات آئی تھی۔ ٹیپ ریکارڈر میں کیسٹ گھوم رہی تھی۔ ایک غزل کے بول چلنے لگے : مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں

Read more

انگلش کے پروفیسر کی انوکھی پیشکش

  اللہ اللہ کر کے کالج میں ہمارے داخلے ہو گئے۔ وہ کالج میں ہمارا پہلا دن تھا۔ اکیڈمی کو شروع ہوئے تو کئی ماہ ہو گئے تھے۔ جہاں ہم نے ہر مضمون کے کئی کئی باب پڑھ لیے تھے۔ سو کالج میں پڑھنے کی کیا سکیم ہوگی؟ اکیڈمی میں جہاں تک پڑھا تھا کیا کالج اس کے آگے سے شروع کرے گا؟ مگر طلبا تو مختلف اکیڈمیوں میں پڑھ رہے تھے۔ ہر اکیڈمی کی پڑھائی کی اپنی رفتار تھی۔

Read more

یہ شام پھر نہیں آئے گی

میں نیم تاریک راہداری سے گزرتا ہوا اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا۔ مین سوئچ آن کیا تو پورا ہال روشنی سے منور ہو گیا۔ میں نے لیپ ٹاپ بیگ ٹیبل پر رکھا اور بوجھل قدموں سے چلتا ہوا جوتوں سمیت صوفے پر دراز ہو گیا۔ میرے موبائل میں وائٹل سائن کا یہ گانا چل رہا تھا۔ ”یہ شام پھر نہیں آئے گی۔ اس شام کو اس ساتھ کو آؤ امر کر لیں امر کر لیں۔“ میں جکارتہ کے اس ہوٹل

Read more

پرفیوم: دی سٹوری آف اے بیچلر

میں، میرا ایک کزن اور اس کے دو دوست مونٹی اور سفیان ایک روز شام کے وقت شاہ صاحب کے آستانے پر موجود تھے۔ ”یہ سال انشا اللہ سب کے نکاح کا سال ہو گا!“ شاہ صاحب نے آتے ہی اعلان کیا۔ وہ سارا دن آرام فرما کر ابھی تازہ دم اپنے حجرے سے برآمد ہوئے تھے۔ اب وہ رات گئے احباب کی مختلف محفلوں کو رونق بخششیں گے۔ ”سبحان اللہ!“ سفیان نے نعرہ مستانا بلند کیا۔ وہ بات بے

Read more

ایپکٹیٹس، ماركس اوریلئس اور سینیکا کے افکار

مجھے ہمیشہ سے فلسفے کی تاریخ، ارتقا اور مجموعی اثرات کو سمجھنے میں دلچسپی رہی۔ ول ڈیوراں کی داستان فلسفہ، برٹرینڈ رسل کی لوگوں کو سوچنے دو اور جوسٹن گارڈر کی سوفی کی دنیا شوق سے پڑھی۔ ایک شمع جو یونان کے فلسفیوں نے روشن کی، سنہری دور کے مسلم حکما اور نشات ثانیہ کے مفکرین سے ہوتی ہوئی دور جدید کے وجودیوں تک پہنچی۔ دیے سے دیا جلتا رہا۔ فلسفے نے برابر مجھے اپنے سحر میں گرفتار رکھا۔ خیال

Read more

سوفی اور صوفی کا جہاں

ہم کون ہیں اور دنیا کیسے وجود میں آئی ہے۔ ہر انسان ان بنیادی سوالات کے بارے میں سوچتا ہے۔ پھر ان کے بارے میں وہ ایک نظریہ اختیار کرتا ہے۔ یہ نظریہ اسے تاریخ کا ایک تصور اور ماضی کا ایک شعور دیتا ہے۔ یہی نظریہ انسان کے حال کو تشکیل دیتا ہے اور اس کے مستقبل کا بھی تعین کرتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہی انسان کا کل جہان ہوتا ہے۔ 1991 میں ناروے کے

Read more

تعلیم کی ایک انوکھی تجربہ گاہ

اسکول کے پرنسپل آٹھویں جماعت کے طلبا سے فردا فردا ملاقات کر رہے تھے۔ میں اپنی باری پر روشن اور ہوا دار صحن سے پرنسپل کے نیم تاریک آفس میں داخل ہوا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد انہوں نے ایک پمفلٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ ”میں آپ سب بچوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ نویں جماعت کے لیے ڈی سی کالج میں داخلہ لے لیں،“ وہ بولے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی سی کالج کی سب سے

Read more

مار، نہیں پیار

کمال ہماری میٹرک کی کلاس کا سب سے نالائق سٹوڈنٹ تھا۔ ایک بار میں نے اس سے پوچھا، "یار، تم پڑھتے کیوں نہیں؟” "مجھے پڑھائی کا شوق نہیں ہے،” اس نے بجھے ہوئے انداز میں جواب دیا۔ "پھر تمہیں کس چیز کا شوق ہے؟” میں نے پوچھا۔ "کاروبار کا،” اس کی آنکھیں یک دم چمک اٹھیں۔ "تو تم آگے جا کر کامرس یا بزنس ایڈمنسٹریشن بھی پڑھ سکتے ہو،” میں نے لقمہ دیا۔ "لیکن میرے ممی پاپا چاہتے ہیں کہ

Read more

سات عادات اور دوسری پر اثر کتابیں

پچھلی تحریر میں میں نے ان دس کتابوں کے نام لکھے تھے جو میں نے اپنے دوست مبین کو پڑھنے کے لیے تجویز کی تھیں۔ آج میں بتاؤں گا کہ میں نے ان کتابوں کا انتخاب کیسے کیا۔ The 7 Habits of Highly Effective People by Stephen R. Covey اس کتاب کو منتخب کرنے میں میرا کوئی کمال نہیں۔ یہ تو بس اس دن میری ٹیبل پر موجود تھی جب مبین نے مجھ سے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا

Read more

دس کتابوں کا قصہ

مبین سے میری دوستی یونیورسٹی کے زمانے میں ہوئی۔ مگر میں اسے کالج کے وقت سے جانتا تھا۔ ہم دونوں کا تعلق ایک ہی شہر سے تھا۔ انجینئرنگ اور اس کے بعد کئی ہوسٹلوں میں ہم ساتھ رہے۔ سو ہماری رہائش، کھانا پینا اور آنا جانا ایک ساتھ تھا۔ یوں ہماری دوستی زیادہ گہری اور بے تکلف ہو گئی۔ کہیں جاتے ہوئے کتابوں کے اسٹور دیکھ کر میں اکثر غائب ہو جاتا۔ مبین سمیت میری یہ عادت میرے دوسرے دوستوں

Read more

میلہ دلوں کا آتا ہے اک بار

میرے ایک کلاس فیلو نے مجھے بتایا کہ غازی پارک میں ایک بہت اچھی نمائش لگی ہوئی ہے۔ غازی پارک ہمارے شہر کا فیملی پارک تھا۔ وہ ہمارے گھر سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر واقع تھا۔ مگر بچپن میں ایک گلی کا فاصلہ بھی میلوں کے برابر ہوتا ہے۔ بقول شاعر۔ دو قدم پر سہی تیرا کوچہ یہ بھی صدیوں کا فاصلہ ہو گا مگر میں نے پارک جانے کی ٹھان لی تھی۔ ایک روز اسکول سے واپسی پر

Read more

آرٹسٹ ایس ایم خالد سے ایک مختصر ملاقات

ہوسٹل کے دنوں میں ویک اینڈ پر میں اکثر اکیڈمی کے دوست نعیم سے ملنے اس کی یونیورسٹی یو ای ٹی کے ہوسٹلز چلا جایا کرتا تھا۔ ہم شام کے وقت کیمپس کے احاطے میں گھنٹوں چہل قدمی کرتے۔ ہوسٹلز کی فضا سگرٹ کے دھوئیں سے بوجھل ہوتی۔ اور کمروں سے بالی ووڈ کے گانوں کی آواز بلند ہو رہی ہوتی۔ ان دنوں کے کے کا ”بیتے لمحے“ سپر ہٹ ہوا ہوا تھا۔ شام کے جھٹ پٹے میں نغمے کے

Read more

سید قاسم محمود سے ایک مختصر ملاقات

سید قاسم محمود کا انتقال اکتیس مارچ 2010 کو ہوا۔ میرے تایا ابو (مرحوم) کو کہیں سے معلوم ہوا کہ سید قاسم محمود کی رہائش گاہ میرے ہوسٹل کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں سید قاسم محمود کی خدمت میں حاضری دوں۔ تایا ابو، جنہیں میں ماموں پکارتا تھا، کی پرسنل لائبریری میں سید قاسم محمود کی بہت سی کتابیں موجود تھیں۔ میں خود بھی ان کتابوں سے مستفید ہو چکا تھا۔ سو بخوشی راضی

Read more

پاکستان میں آرٹ کا مستقبل

ایک روز میں اکیڈمی کے سب سے آخر والے کمرے میں کھڑا قیوم، عرفان اور ضیا کو اپنے سکیچز دکھا رہا تھا۔ ایف ایس سی سیکنڈ ایئر کے پیپرز ہو چکے تھے۔ اب ہم پریکٹیکلز کی تیاری کر رہے تھے۔ آج کل اکیڈمی ایک لیب کا منظر پیش کر رہی تھی۔ ان دنوں میں بھی کھل کر آرٹسٹک مشاغل میں گم تھا۔ قیوم نے میرا کام دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں گھر سے تصویروں کا البم ساتھ لے آیا۔

Read more

کورونا لاک ڈاؤن میں دنیا کی ورچوئل سیر

دو سال سے دنیا بھر کے لوگ کورونا کی وبا سے بری طرح متاثر ہیں۔ چین کے شہر ووہان میں پیدا ہونے والا یہ وائرس دیکھتے ہی دیکھتے زمین کے چپے چپے پر پھیل گیا۔ حکومتوں نے اپنے لوگوں کے سماجی میل جول اور نقل و حرکت پر کڑی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ اس نا دیدہ بلا نے سب کو گھروں میں محصور کر کے رکھا ہوا ہے۔

Read more

”داڑھی والے“ کا پورٹریٹ

ایک روز میں اپنے گھر میں بیٹھا دفتر کا کام کر رہا تھا۔ باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک تکنیکی مسلے کے ممکنہ حل پر غور کرتا میں گلی میں پہنچا۔ میرے نام پر ایک پارسل آیا ہوا تھا۔ کھول کر دیکھا تو اندر سے دیدہ زیب سر ورق کے ساتھ ایک عمدہ کتاب برآمد ہوئی۔ یہ حسنین جمال کی کتاب ”داڑھی والا“ تھی۔ دو دن پہلے میں نے بک کارنر جہلم کی ویب سائٹ سے آن لائن آرڈر کی

Read more

رانچا مایا کا بھوت بنگلہ

ایک روز میں اپنے موبائل کیمرے کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ ایک تصویر پر آ کر میری نظر رک گئی۔ وہ ایک معمولی سی تصویر تھی۔ میں درمیان میں کھڑا تھا، میرے دائیں جانب میرے دو کولیگ تھے اور بائیں جانب ایک انڈونیشی جوڑا تھا۔ ہم ایک بڑے سے کمرے میں موجود تھے۔ تصویر میں انتہائی دائیں جانب، ہم سے کچھ فٹ پیچھے، ایک چھوٹی سی بچی بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ تصویر مجھے میرے ماضی میں لے گئی۔ کچھ سال

Read more

تقدیر کی گہرائیاں

ایف ایس سی کے دنوں کی بات ہے۔ گرمیوں کی ایک خوشگوار صبح تھی وہ۔ گلیوں میں چھاؤں کی ٹھنڈی چادر بچھی ہوئی تھی۔ دھوپ دیواروں سے نیچے کو بہنا شروع ہو چکی تھی۔ میں معمول کے مطابق اپنے سٹڈی روم میں پہنچ گیا۔ کام ہمیشہ کی طرح آپس میں گتھم گتھا تھا۔ میں سرا ڈھونڈنے لگا۔ اچانک میری بہن کمرے میں داخل ہوئی۔ ”تمھیں ظفر بلا رہا ہے باہر،“ اس نے کہا۔ ”مم، اچھا۔“ گویا سرا ہاتھ آ گیا۔

Read more

جنت کے لیے سرگرداں

میں اپنی جنت کی تلاش میں لاہور روانہ ہو گیا۔ میرے ہوسٹل میں پنجاب کے دور دراز شہروں سے آئے کامیاب امیدوار موجود تھے۔ ہر کمرے میں تین سے چار لڑکوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔ میں نے اپنے روم میٹس کے ساتھ ایک جگہ ڈیرے ڈال دیے۔ اگلی صبح بس ہمیں لینے آ گئی۔ ہم نصرت فتح علی خاں کے ’علی دا ملنگ‘ پر جھومتے یونیورسٹی پہنچے۔ وہاں ایک نئی دنیا آباد تھی۔ پھر علم و ہنر کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

Read more

ریڈنگز: کتاب خانہ یا علم کدہ؟

انجینئرنگ کے زمانے میں میرا قیام جوہر ٹاؤن میں تھا اور درس گاہ فیصل ٹاؤن میں تھی۔ کام کے سلسلے میں اکثر حفیظ سینٹر جانا ہوتا تھا۔ جگاور چوک سے روٹ نمبر ایک سو اکتالیس کی ویگن مین مارکیٹ گلبرگ تک جاتی تھی۔ راستے میں یہ اللہ ہو چوک، شوق چوک، جناح ہسپتال، برکت مارکیٹ، کلمہ چوک اور لبرٹی گول چکر سے گزرتی۔ میرا اسٹاپ حفیظ سینٹر ہوتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب حفیظ سینٹر کی رونقیں

Read more

مدوجزر، کرنیں، شگوفے اور پچھتاوے

وہ گھر ایک ایک کر کے اپنے مکینوں سے خالی ہو گیا۔ ایک دن میں اس کا درد بانٹنے اس کے باہر جا پہنچا۔ دروازے کا تالا کھول کر اندر داخل ہوا۔ یہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے۔ لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ اگر زندگی موقع دے تو کچھ سامان ساتھ لے جاتے ہیں۔ باقی وہیں رہ جاتا ہے۔ بالکل اس گھر کی طرح جو اس وقت خالی اور بکھرا ہوا تھا۔ میں نے خاموش کمروں میں

Read more

امربیل: نوبل ادب کی دریافت

وہ جگہ دنیا کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ اطراف میں بازار لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ دکانیں سامان سے لبالب بھری تھیں۔ گھروں سے گھر جڑے ہوئے تھے۔ بجلی کی بے ترتیب تاروں پر پرندے بیٹھے تھے۔ شام ڈھلنے لگی اور سورج سارا دن زمین کو توانائی دینے کے بعد اب خود سستانے کے لیے مغرب کی طرف بڑھنے گا۔ مین سٹریٹ سے بہت سی گلیاں نکلتی تھیں جیسے درخت کے مضبوط تنے سے بہت سی شاخیں نکل

Read more

آپ زندگی سے کیا چاہتے ہیں؟

ڈیریک سیورز کی تصنیف Anything You Want کا ترجمہ اور تلخیص۔ یہ کتاب میرے دس سالہ تجربے کا نچوڑ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا ایک مشغلہ اتفاقی طور پر ایک بڑے کاروبار میں تبدیل ہو گیا۔ میں نے اس تجربے سے بہت کچھ سیکھا اور تربیت کے کئی مراحل سے گزرا۔ اس ضمن میں مجھ سے بہت سی غلطیاں بھی ہوئیں۔ میرا کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے۔ اور میری کامیابی اسی کی مرہون منت ہے۔ کام کرنے کے

Read more

لیلی للامی کی کتاب: امید اور دوسرے خطرناک مشاغل

اردو قارئین کا کتاب سے رشتہ جوڑنے اور مطالعے کو فروغ دینے میں جو کام اجمل کمال کی آج کی کتابوں اور آصف فرخی کی شہرزاد نے کیا ہے اس کی نظیر کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں خاص طور پر عالمی ادب کے معیاری تراجم اور مناسب داموں میں نفیس اور دیدہ زیب کتابوں کی اشاعت شامل ہے۔ ایسی ہی ایک پیپربیک مراکش کی لیلی للامی کی ’امید اور دوسرے خطرناک مشاغل‘ تھی۔ محمد عمر میمن نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

امید اور دوسرے خطرناک مشاغل ایسے پرعزم افراد کی کہانی بیان کرتی ہے جو بہتر زندگی کی تلاش میں اسپین ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے رستے میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں مگر وہ مصروف عمل رہتے ہیں۔ وہ معاشرہ کی جکڑ سے آزاد ہو کر کھلی فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ انہیں پردیس کی سختیوں کا اندازہ ہے۔ لیکن خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔ ان کی زندگی میں کہیں یادوں کی ٹھنڈی چھاؤں ہے اور کہیں انتظار کی کڑی دھوپ۔ وعدوں کے سائے طویل ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی امید انتہائے کار پاش پاش ہو جاتی ہے۔ آنے والے وقت کی فکر میں انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا حال ان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

Read more

مولانا وحیدالدین خان کے فرمودات

مولانا وحیدالدین کو لوگ عموماً ایک عالم دین کے طور پر جانتے ہیں۔ آپ دہلی میں اسلامک سینٹر کے روح رواں ہیں۔ آپ کی عمر نوے سال کے لگ بھگ ہے۔ ماشاءاللہ آج بھی مستعد ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ کا لائیو لیکچر بھی نشر ہوتا ہے۔ وہ تقسیم ہند کے سخت ناقد رہے ہیں۔ آپ نے بے شمار بین الاقوامی سفر کیے ہیں۔ اور ہر جگہ مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ بھی پڑھا ہے۔ بہت باریک بینی سے

Read more

چالیسویں منزل سے گرتے میں نے سوچا

میں نے اپنے آپ سے ایک سوال پوچھا: دنیا میں اتنا درد کیوں ہے؟ الفاظ بے حس و حرکت زبان کی تہ میں پڑے رہے۔ کسی میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ جواب کا ساتھ دے پاتا۔ ڈستی ہوئی خاموشی کے نہ سرکتے ہوئے لمحے پاؤں پسار کے بیٹھ گئے۔ ایک بے نام کی آواز نے مجھے اندر اور باہر سے گھیر لیا۔ میرا حال اس سیارے کی مانند تھا جس کے باہر کی جانب کڑکتی ہوئی خلا کا ماضی تھا۔ اور اندر کی طرف دہکتے ہوئے سورج سا مستقبل۔ اور میں ان کے درمیان معلق۔ کانوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں جو ذہن کی کھڑکیوں تک پہنچتے پہنچتے طوفان کی شکل اختیار کر گئیں۔ شعور ریزہ ریزہ ہو گیا اور لاشعور میں ایک بازگشت سنائی دینے لگی۔ مجھے مر جانا چاہیے۔ مجھے مر جانا چاہیے۔

Read more

خلیل جبران: محبت کے خطوط

کہتے ہیں کہ خلیل جبران نے اپنی زندگی میں پانچ عورتوں سے محبت کی: لبنانی حلا، فرانسیسی میشلن، امریکی میری ہیسکل، مصری می زائدہ اور امریکی باربرا ینگ۔ خلیل جبران کی ایک کتاب ’محبت کے خطوط‘ شایع ہوئی، جس میں می زائدہ کے ساتھ ان کے رومان کی خط و کتابت نقل کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل جبران، جنہوں نے دنیا کے بہت سے ممالک کے سفر کیے، کبھی اپنی مصری محبوبہ سے بالمشافہ نہیں ملے۔

Read more

لن یوتنگ کی کتاب: جینے کی اہمیت

وہ سرمئی رنگ کی مضبوط جلد والی کتاب تھی۔ اسے دیکھ کر میرا پہلا تاثر یہ بنا کہ یہ کتاب زندگی سے لطف اٹھانے اور مشکلات سے نبرد آزما کے گر سکھاتی ہے۔ تناؤ کی سچوایشن میں موڈ کو خوش گوار بنانے کے لئے اکثر اس کا مطالعہ کرنے بیٹھ جاتا۔ ایک طرح سے یہ میری سیلف ہیلپ کی پہلی کتاب تھی۔ یہ لن یوتنگ کی ’جینے کی اہمیت‘ تھی۔ یہ کتاب زندگی گزارنے کے چینی فلسفے پر روشنی ڈالتی

Read more

ہم کیوں پڑھتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر میں نے کتابوں میں دلچسپی رکھنے والے کچھ دوستوں سے تجسس کے مارے استفسار کیا: آپ کیوں پڑھتے ہیں؟ موصول ہونے والے جوابات دلچسپ اور فکر انگیز تھے۔ دوستوں کے ناموں کو میں نے ان کے ملک کے نام سے تبدیل کر دیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔

پڑھنا ایک عادت ہے، جیسے فلم بینی یا میوزک سننا۔ جب آپ اس میں داخل ہوتے ہیں تو رک نہیں پاتے۔ ہمیشہ تشنگی رہتی ہے۔ جتنا آپ کی سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے، اتنا دلچسپی بڑھتی ہے۔ روس

Read more

ہم کیوں سوتے، جاگتے ہیں؟

انٹرنیٹ کو نیند نہیں آتی۔ ایسے ہی دنیا میں ہر شخص اور چیز فون، کمپیوٹر اور ٹیبلٹ سے ایک نہ رکنے والے رابطے میں ہے۔ ایسے میں نیند زمانہ جاہلیت کی ایک بے کار سرگرمی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں نیند کی اہمیت سے ہرگز انکار نہیں کرنا چاہیے۔ نیند، خوراک اور ورزش کے بعد صحت کا تیسرا ستون ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ نیند ایک ستون سے زیادہ صحت کی بنیاد کا درجہ رکھتی ہے۔ نیند ذہن کو آرام دینے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ اگر آپ الارم کی مدد کے بغیر جاگ نہیں سکتے، آپ کو پڑھا ہوا یاد نہیں رہتا، یا دن میں مستعد رہنے کے لئے کافی کا استعمال کرنا پڑتا ہے، تو سمجھ لیں کہ آپ بے آرامی کا شکار ہیں۔

Read more

اپنی اگلی پسندیدہ کتاب سے ملیے

سوشل میڈیا ہماری آنکھوں کے سامنے زندگیوں کا ناگزیر حصہ بن گیا۔ یونیورسٹی میں پہلی دفعہ ٹویٹر اور فیس بک کا نام سنا۔ پہلے پہل ان کا مقصد کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ٹویٹر تو لگا کہ یہ عوام کے لیے ہے ہی نہیں۔ صرف مشہورشخصیات مداحوں کو باخبر رکھنے کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے پسندیدہ لوگوں کی تلاش شروع کر دی۔ کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ ایک رائیٹر کا خود ٹویٹر اکاؤنٹ بنا کر

Read more

زندگی: ایک فرضی مکالمہ ( 2 )۔

ژاں پال سارتر کلام کر رہا تھا:

انسان اس کے سوا کچھ نہیں جتنا وہ اپنے آپ کو پروجیکٹ کرتا ہے۔ اس کا وجود صرف اتنا ہے جتنا وہ خود سے آگاہ ہو پاتا ہے۔ سو وہ اپنے اعمال کے مجموعے سے زیادہ کچھ نہیں، اپنی زندگی سے زیادہ کچھ نہیں۔

نجیب محفوظ: بات صرف اتنی ہے کہ انسان اپنے لئے ایک مختلف زندگی چاہتا ہے۔
ژاں پال سارتر: نظریہ وجودیت انسانی زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
میلان کنڈیرا: یہ امکان ہر شخص پر سایہ فگن رہتا ہے اور اس کی زندگی کی نوعیت کو تبدیل کرتا ہے۔

Read more

زندگی: ایک فرضی مکالمہ

وہ معتدل موسم کی ایک ٹھنڈی دوپہر تھی۔ میں گھر کے قالین پر بیٹھا کوئی کام کر رہا تھا۔ کمرے کے ایک کونے سے کچھ شور اٹھتا محسوس ہوا۔ اس جانب کتابوں کی ایک الماری تھی۔ میں اس کی طرف بڑھنے لگا۔ آواز کو سننے کے لیے جھک کر اپنے کان کتابوں سے لگا دیے۔ مجھے کوئی اپنی طرف آتا محسوس ہوا۔ میں سیدھا ہو کر شیلف کی کتابیں ٹھیک کرنے لگ گیا۔

لکڑی کی یہ بڑی الماری دیوار میں نصب تھی۔ اس میں نئی اور پرانی کتابیں موجود تھیں۔ مذہب، سائنس، فلسفہ، تاریخ اور ادب کے موضوعات پر کتب موجود تھیں۔ اس کے علاوہ مختلف انسائیکلو پیڈیا، رسالے اور میگزین بھی تھے۔ جب مجھے لگا کہ اب آس پاس کوئی نہیں تو میں پھر ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ارے، یہ تو ایک گفتگو تھی۔ میرے پسندیدہ ادیب، شاعر اور فلسفی مکالمہ کر رہے تھے۔ اور ان کی بحث کا موضوع تھا: زندگی۔

Read more

اراؤنڈ دی ورلڈ ان بکس

انسان جب شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو وہ خود کو کائنات کا مرکز سمجھتا ہے۔ اس کے قدم اپنی ذات کی داخلیت میں مضبوطی سے جمے ہوتے ہیں۔ اس کی آنکھیں انا کے چشمے سے دنیا کو دیکھتی ہیں۔ پھر اسے دوسروں کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ ارد گرد کی گہما گہمی کا ادراک کرتا ہے۔ وہ کائنات کو ’میں‘ اور ’تو‘ کے استعاروں میں توڑتا ہے۔ اس کی اپنی حیثیت، سوچ اور جذبات مرکزی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ دوسرے کا وجود ثانوی حیثیت رکھتا ہے اور زیب داستان کے لیے ہوتا ہے۔ پھر اس کی ذات کا دائرہ بڑھنے لگتا ہے۔ اس کا گھر، شہر، ملک، یہ کرہء ارض اور اس کا عقیدہ، مرکزی حیثیت کے حامل ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنا فخر اور مان ان سے جوڑ لیتا ہے۔ جو چیز ہماری دسترس میں ہو، وہ حقیقت لگتی ہے اور جو نظروں سے دور ہو وہ افسانہ۔

ایک مدت تک انسان یہی سمجھتا رہا کہ زمین جس کے بطن سے وہ پیدا ہوا ہے، کائنات کے مرکز میں واقع ہے۔ سارے جہانوں کے راستے اسی فرش سے پھوٹتے ہیں۔ ایک سورج اس کے دنوں کو روشن رکھے ہوئے ہے۔ ایک چاند اور دوسرے ستارے اس کی راتوں کو جگمگا رہے ہیں۔ پھر سائنس کا معلم اسے سمجھاتا ہے کہ اس کرے کی حیثیت کائنات میں ایک ذرے سے زیادہ نہیں۔ جو دوسرے سیاروں، ستاروں، اور کہکشاؤں کے ہم راہ کائنات کے نا معلوم مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔

Read more

مذہب، روحانیت، فلسفہ اور ادب

میرے مطالعے کا سفر بیش تر مذہبی کتابوں سے شروع ہوا۔ یہ کتابیں عموماً مذہب کے سافٹ امیج یا روشن خیالی کی ترویج کے لئے لکھی گئیں تھیں۔ یہاں آپ کو ’بہشتی زیور‘ ، ’موت کے بعد کا منظر‘ یا ’قصص الانبیا‘ وغیرہ، نظر نہیں آئیں گی۔ میری نظر سے جو کتابیں گزریں، ان کے عنوان کچھ یوں تھے : ’سلیم کے نام خطوط‘ ، ’قرآن کی فریاد‘ ، اور ’مذہب اور جدید چیلنج‘ وغیرہ۔ ان کتابوں میں دور جدید کے مسائل کے تناظر میں مذہب کی تعریف نو بھی کی گئی تھی، مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ بھی پڑھا گیا تھا، اور مذہب کی حقانیت کے بارے میں دلائل بھی پیش کیے گئے تھے۔ میری خصوصی توجہ مذہب اور سائنس کے مابین ہم آہنگی، فرقہ واریت سے بلند ہو کر دین کی تعبیر نو اور باہم پیکار نظریات کی دنیا میں مذہب کی افضلیت پر مرکوز رہتی تھی۔

میری پرورش ایک روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔ تلاوت کلام پاک، نماز کی پابندی اور رمضان کا خصوصی اہتمام اس کے نمایاں پہلو تھے۔ مگر یہ سب عبادات کی حد تک تھا۔ کتابوں میں اس سے بڑھ کر نظریات کی جنگ چل رہی تھی۔ اگر کتاب خدا کا قول ہے تو پھر کائنات کیا ہے؟ اس کا فعل؟ اور خدا کے قول و فعل میں ہرگز کوئی تضاد نہیں ہو سکتا۔ میں مذہب میں سائنس کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور سائنس میں مذہب کو۔ میں کہیں قرآن مجید میں بگ بینگ کی بازگشت سن رہا تھا، تو کہیں ایک چیونٹی یا ایک خلیے میں الوہی معجزے کا بیان۔ مسلمان جو اس زبوں حالی کا شکار ہیں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، یہ چند مفاد پرست طبقات کی سازش ہے، جو دین کا صحیح مفہوم عام لوگوں تک پہنچنے نہیں دیتے، ورنہ ان کا کاروبار خطرے میں پڑ جائے گا۔ پھر مختلف ادیان اور مذاہب کے تقابل سے یہ ثابت کیا جاتا کہ ہمارا عقیدہ ہی سچا اور کھرا ہے، باقی محض باطل ہیں یا پھر ملاوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔

Read more

سو عظیم آدمی اور کتابیں ‎

پہلی کتاب جو میں نے پڑھی، وہ تھی ’سو عظیم آدمی‘۔ امریکی مصنف مائیکل ہارٹ نے اسے لکھا تھا، محمد عاصم بٹ نے ترجمہ کیا اور تخلیقات لاہور نے اسے چھاپا تھا۔ کتاب کا حقیقی عنوان ہے: تاریخ کی سو موثر ترین شخصیات کی درجہ بندی۔ معلوم نہیں مترجم نے کن وجوہ کی بنا پر ترجمے کا عنوان تبدیل کر دیا۔ ’موثر ترین‘ کی جگہ انہوں نے ’عظیم‘ کا لفظ استعمال کیا۔ مصنف نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ فہرست میں شامل تمام اشخاص عظیم یا مشہور نہیں، بلکہ یہ ایسے افراد کی لسٹ ہے جنہوں نے اپنے کارہائے نمایاں کی بدولت تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا اور دنیا کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔ اب یہ اثر مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔ ان شخصیات کی کامیابی دنیا کو ترقی سے ہم کنار بھی کر سکتی ہے اور تنزلی سے دو چار بھی۔ معلوم نہیں مترجم کو کیا سوجھی ہو گی؟ المختصر، جیسے ترجمہ ہوا ویسے ہی ذہن میں بیٹھ گیا: سو عظیم آدمی۔

Read more