خیرات، سرمایہ دار اور سرمایہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ دور میں معاشی ترقی کو ہی انسان کی انفرادی اور اجتماعی بقاء کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ مارکس جیسے فلسفیوں کا سارا فلسفہ معاش پر ہی کھڑا نظر آتا ہے بلکہ قبلہ مارکس تو فرماتے ہیں۔ Life is not determined by۔ consciousness، but consciousness by life

اور لائف اصل میں معاش ہی سے عبارت ہے۔ مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگ بھی معاشی معاملات کو زیر بحث لاتے رہتے ہیں۔

اس وقت پوری دنیا کا معاشی ڈھانچہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت اپنا وجود استادہ رکھے ہوئے ہے۔ جو اپنے اندر بہت سی قباحتیں لیے ہوئے ہے۔ سود جیسے استحصالی ہتھکنڈوں سے لے کر ناجائز منافع خوری تک سب اسی سرمایہ دارانہ نظام کے شاخسانے ہیں، اور بندہ مزدور کے اوقات دوبھر ہوچکے ہیں کامریڈ جالب نے کہا تھا

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہاں غم عشق کسی لالہ فام کی جدائی نہیں بلکہ غم روز گار کی رومانوی آگاہی جو جالب صاحب کا خاصہ ہے اور جس سے بندہ مزدور کی زندگی کے تارپود جڑے ہیں اسی لیے تو فیض صاحب نے بھی کہا تھا

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
خیر ادب برطرف۔

موجودہ وقت میں سرمایہ داروں نے جو نیا ہتھکنڈا اپنا رکھا ہے اسے اہل نظر خیرات کہتے ہیں، بڑے سرمایہ دار ضخیم دستر خانوں کا اہتمام کرتے ہیں، اجتماعی شادیوں کی تقاریب منعقد کروائی جاتی ہیں اور کچھ احباب غربا و مساکین کے لیے حج و عمرہ کا بندوبست کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے ان کو دو قسم کے فائدے ہوتے ہیں اک طرف مذہبی حلقوں میں پذیرائی ملتی ہے اور حضرت شیخ کی قربت بھی نصیب ہوتی ہے۔ آئے ہائے معذرت پھر فیض کو یاد کر لینے دیجیئے اسی قربت کے متعلق فرماتے ہیں

شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی
تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہوئے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی
تیرے دست ستم کا عجز نہیں
دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی
تھے شب ہجر کام اور بہت
ہم نے فکر دل تباہ نہ کی
کون قاتل بچا ہے شہر میں فیضؔ

جس سے یاروں نے رسم و راہ نہ کی۔ پوری غزل تسکین ذوق کے لیے لکھ ڈالی ہے مدعا تو پہلے شعر میں ہی افشاں ہے خیر آگے چلتے ہیں دوسرا فائدہ انہیں ان غریبوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کی صورت میں ہوتا ہے جنھیں یہ صاحب ثروت اقتدار کی راہداریوں تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اگر کبھی کوئی ریاستی ادارہ ان کے کالے دھن تک دسترس حاصل کرنے لگے تو یہ بریانی زدہ روحیں اس حد تک نوحہ کنعاں ہوتی ہیں کہ مفلوج ریاست ہمیں لرزہ براندام نظر آتی ہے۔

اس طرح ایک احسن کام سماج میں بے بسی کی علامت بن کے رہ گیا ہے اور ہم اس بات کی پرواہ کیے بغیر چلے جا رہے ہیں، غریب، غریب سے غریب ہوتا جا رہا ہے اور امیر اسی فکر میں مبتلا نظر آتا ہے کہ کس طرح اس دولت کو عیش کے زینوں پر بچھایا جائے اور حوص کی دیوی کو خوش کیا جا سکے۔

یہاں میں اپنی قوم کے دانشوروں سے درخواست کروں گا اس معاملے کو سمجھیں اور عوام کو ایجوکیٹ کریں کہ وہ بریانی سے تو ضرور لطف اندوز ہوں لیکن اپنی سوچ کو ان ثروت کدوں میں گروی مت رکھیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے جمہور کی طاقت کو سمجھیں کہ کس طرح اس ظالم نظام کو بدلنا ہے، مارکس نے کہا تھا۔

The proletarians have nothing to lose but their chains.


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments.

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments