اسلحہ سازی: صنعت یا موت کھیل

دنیا میں جب بھی کوئی جنگ چھڑتی ہے تو ریاستی بیانیہ اور مین اسٹریم میڈیا اکثر ہمیں سادہ، جذباتی اور محدود وضاحتیں فراہم کرتے ہیں : دشمن نے حملہ کیا، ہماری خودمختاری کو خطرہ لاحق ہے، یا یہ ایک ناگزیر دفاعی اقدام ہے۔ لیکن اگر ہم ان نعروں، سرکاری بیانات، اور جذباتی وضاحتوں سے ہٹ کر پس منظر کا جائزہ لیں تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے جو کہیں زیادہ طاقتور، خاموش، اور دیرپا ہے۔ وہ ہے عالمی اسلحہ

Read more

موسمیاتی تبدیلی اور ہمارے معاشی بندوبست

آپ چاہے اشتراکیت پسند ہیں یا سرمایہ داری کے دلدادہ، انسان کی بقاء آپ کے لیے یقیناً غیر مشروط طور پر اہم ہوگی۔ معاشی بندوبست اس حوالہ سے ہمیشہ سے ایک بنیادی عامل کے طور پر محرک رہتا ہے۔ انسانی تہذیب کے دوسرے تمام بندوبست چاہے وہ سیاسی ہوں یا معاشرتی؛وہ معاشی بندوبست کی مضبوط فعلیت سے ہی مہمیز رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں یہ فعلیت سرمایہ داری کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے بہت سارے منفی اثرات میں سے

Read more

میری زندگی کا نہ حل ہونے والا قضیہ

آپ کا نیاز مند بڑے دنوں سے لکھنے کی مشقت اٹھانے سے فرار لیے ہوئے تھا لیکن آج دماغ میں پھنسے ایک قضیے نے مجبور کر دیا کہ اس کا دکھ آپ سے بانٹا جائے شاید کوئی شفا کا بندوبست ہو سکے اور اہل علم رہنمائی کر دیں تو یہ جان ناتواں کوئی مسرت کا سامان کر سکے، ورنہ غالب نے یہ تو کہ ہی رکھا ہے ہم جیسے خرد سوزوں کے لیے کہ۔ آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے

Read more

مجھے یہی سکھایا گیا

کل جو کچھ مسجد نبوی ﷺ میں ہوا میں اس کی مذمت نہیں کرتا، میں اتنا ہی گرا ہوا ہوں، مجھ سے کوئی برعکس توقع نہ رکھی جائے، مجھے یہی سکھایا گیا ہے، اب میں نے۔ کوئی ڈاکا تو نہیں ڈالا کوئی چوری تو نہیں کی ہے کے مصداق بس جو مجھے میرے منبر و محراب نے سکھایا وہی کیا، مجھے سکھایا گیا کہ مولانا ڈیزل ہوتا ہے، مجھے سکھایا گیا جو آپ سے اختلاف کریں وہ دلے کتے ہوتے

Read more

یاسر پیرزادہ، غامدی صاحب اور میں

مورخہ 13اکتوبر2021 بروز بدھ کو روزنامہ جنگ میں محترم یاسر پیر زادہ صاحب کا مضمون ”غامدی صاحب سے معذرت کے ساتھ“ شائع ہوا جس میں یاسر بھائی نے میرے اور اپنے محترم استاذ جاوید احمد غامدی صاحب کے حالیہ خطبات پر خامہ فرسائی کی اور جس خوبصورت انداز میں تنقید کی اپنی تحریر میں حنا بندی فرمائی وہ ان کے طغرے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ استاذ مکرم کی جن باتوں پر یاسر بھائی نے نقد و جرح کی وہ

Read more

دانیال مصطفیٰ، لبرل ازم اور مارکسزم: ایک فکری مغالطہ

مورخہ یکم اکتوبر بروز جمعہ کو روزنامہ میڈیا نیوز میں برادرم دانیال مصطفیٰ کا مضمون ”لبرل ازم، سستی شہرت کا ذریعہ؟“ کے عنوان سے شائع ہوا، مضمون میں میرے بھائی جن مقدمات کو ضبط تحریر میں لائے وہ علمی حلقوں میں یقیناً زیر بحث ہونے چاہئیں۔ برادرم ذرا گرم مزاج قلم کار واقع ہوئے ہیں اس لیے اپنی تحریر میں بڑے برجستہ نظر آتے ہیں، ایسے نابغہ روزگار کا ہونا صحرا میں باد نسیم کے مصداق ہے۔ خیر ان کے

Read more

خیرات، سرمایہ دار اور سرمایہ

موجودہ دور میں معاشی ترقی کو ہی انسان کی انفرادی اور اجتماعی بقاء کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ مارکس جیسے فلسفیوں کا سارا فلسفہ معاش پر ہی کھڑا نظر آتا ہے بلکہ قبلہ مارکس تو فرماتے ہیں۔ Life is not determined by۔ consciousness، but consciousness by life

Read more

ملکیت: انسان کا اصل مسئلہ

نور مقدم، نور مقدم، نور مقدم، نور مقدم اور اب صرف چپ مقدم۔ ابھی کچھ دن پہلے انسانیت ہمیں سسکتی نظر آئی، ہر طرف کہرام برپا ہوا، گلے سڑے سماج کے متعفن وجود نے گویا جیسے کروٹ لی، جس کی سڑان نے چند دن ہمیں متحیر رکھا۔ ہر کسی نے اپنے قاصے کے مطابق پیشہ ور گداگر کی طرح اپنی صدا لگائی، خیرات حاصل کی اور چلتا بنا۔ میرے مذہبی بھائیوں نے کہا یہ ہے جدید طرز معاشرت کا شاخسانہ

Read more

پدر شاہی اور عورتوں پر ظلم: ڈاکٹر رفیع امیر الدین کے مضمون کا ترجمہ

پاکستان کے سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل نے سب کو رلا دیا ہے. کسی نے یہ توقع نہیں کی ہوگی کہ ایک چمکتا ہوا، مسکراتا چہرہ وقت سے پہلے اس طرح کی انتہائی تکلیف نگل جائے گا. ہر کوئی جوابات کی تلاش میں ہے. کیا یہ وسیع پیمانے پر بدگمانی کا نتیجہ تھا، امتیاز کا احساس جو دولت اور طاقت کے ساتھ آتا ہے، ایک مجرمانہ انصاف کا نظام جو بڑے پیمانے پر امیروں اور طاقتوروں

Read more

اختلاف رائے اور ہمارا معاشرہ

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے جو ریاستیں رائے عامہ  کا احترام کرتی ہیں، اسے عوام کا حق خیال کرتی ہیں اور ہماری ریاست کی طرح نت نئے بیانیے سے لیس اس کی عصمت دری سے اپنا منہ کالا نہیں کرتیں۔ وہاں رائے عامہ کسی سگھڑ بہو کی طرح قدم دھرتی ہے اور اپنے مبارک وجود سے لوگوں کے فکرو خیال کو جلا بخشتی ہے۔ رائے عامہ کے بطن

Read more

بیانیے کی ریاست

ریاست پاکستان کے داخلی اور خارجی محاذوں پر اس وقت بھونچال آیا ہوا ہے۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ ارباب اختیار گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے ہیں اور ایک دفعہ پھر نیا بیانہ تراش رہے ہیں۔ یہ تمام صورتحال ریاست ہائے متحدہ امریکا کے اچانک افغانستان سے جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی نے ٹھہرے ہوئے پانی پر چاند کے عکس

Read more