لینن کا منظور پشتین کے نام خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

30 ستمبر 2021
گورکی، ماسکو
روس

عزیز من منظور احمد،

پر امید ہوں آپ بخیر و عافیت ہوں گے، تحریک رواں دواں ہوگی اور آپ کے ساتھی آج بھی آپ کے مخلص ہوں گے۔ ایک عرصہ سے آپ کو خط لکھنے کا ارادہ تھا لیکن کچھ ذاتی مصروفیات کے باعث لکھ نہیں پایا۔ کسی نے بتایا کہ آپ ان دنوں افسردہ ہیں تو سوچا دو چار باتیں کرلوں، ممکن ہے کچھ دلاسا ملے۔

تمہیں دیکھ کر مجھے بے ساختہ اپنی جوانی کے دن یاد آتے ہیں۔ 15 برس کی عمر میں خدا سے ایمان تب اٹھا جب بابا کا انتقال دماغی نکسیر کے باعث ہوا۔ اور اپنے حکومتی نظام سے ایمان تب اٹھا جب میرے بڑے بھائی ساشا کو ریاست کے ہاتھوں پھانسی ہوئی۔ طالب علمی کا زمانہ تنظیموں، تحریکوں اور قید و سعوبتوں کی نذر ہوا۔ کاذان یونیورسٹی سے اس بابت نکالا گیا کہ تم نے ظالم کو کیوں للکارا اور سیاہ کو سیاہ کیوں پکارا۔ لیکن میری جدوجہد جاری رہی۔ اور تب تک جاری رہی جب تک انقلاب کے خواب کو شرمندہ تعبیر نا کیا۔

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ بھی زمانہ طالب علمی سے اس نظام کو آئینہ دیکھا رہے ہیں۔ ظلم کو ظلم کہنے کی سکت اور سیاہ کو سیاہ کہنے کی جرت رکھتے ہیں۔ مظلوموں کی مسیحائی اور محروموں کی محرومیوں کا مداوا کر رہے ہیں۔ لیکن یہ جان کر افسوس بھی ہوا کہ آپ کی تحریک بٹ چکی ہے۔ معلوم ہوا کہ آپ کے دوست آپ کے ساتھی تو ہیں لیکن آپ کے مخلص نہیں رہے۔

میرے دوست، یہ مسئلہ صرف آج کا نہیں ہے بلکہ تاریخ میں جب بھی کسی نے طاقت کے خلاف بغاوت کا جھنڈا لہرایا یا ظلم و جبر کے خلاف اعلان جنگ کیا تو ان کو یا تو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا یا تقسیم در تقسیم کر کے اتنا کمزور بنا دیا گیا کہ مزاحمت کی سکت ہی باقی نہ رہی۔

فروری 1917 کا روسی انقلاب بلا شبہ ایک عظیم انقلاب تھا لیکن یہ انقلاب راتوں رات نہیں آیا بلکہ اسے ممکن بنانے میں ہمیں نجانے کتنی اذیتیں اٹھانی پڑیں۔ انقلاب کی تاریخ طویل اور پیچیدہ ہے۔ لیکن جس بات کا آپ اور آپ کی تحریک کے ساتھ تعلق اور مماثلت ہے وہ بولشویک اور مانشویک کے بیچ اختلاف اور تقسیم ہے۔

1903 میں جب ہماری پارٹی دو دھڑوں میں بٹ کر بولشویک اور مانشویک میں تقسیم ہو گئی تھی تو میرا دل خون کے آنسو رویا تھا۔ لیکن یہ تقسیم ناگزیر تھی۔ ان کے مطابق سیاست، قانون سازی اور آئین میں رد و بدل کے ذریعے ایک نئے سیاسی نظام کو تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ یہ نظام ایک ناسور زدہ نظام ہے۔ اور اس کا علاج اور واحد حل انقلاب ہی ہے۔ پس میں نے انقلاب کا راستہ چنا اور تب تک ڈٹا رہا جب تک انقلاب کے ذریعے ایک نئے سیاسی نظام اور ایک نئی ریاست کی بنیاد نہیں رکھی۔

مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے کچھ ساتھی بھی مانشویک نظریات کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق اس نظام کا حصہ رہ کر بھی نظام کو للکارا جا سکتا ہے اور اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سیاست، قانون اور آئین کے راستے ایک نئے نظام تک پہنچنا درست ہے یا غلط ایک الگ بحث ہے۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ کی تحریک جن بنیادوں پر وجود میں آئی تھی ان سے سیاست کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ آپ کی تحریک سے ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی محبت، حمایت اور ہمدردی کی سب سے بڑی وجہ آپ کا غیر سیاسی اپروچ تھا۔ وگرنہ سیاسی پارٹیاں تو پہلے بھی بے شمار تھیں۔

میرے دوست، میں جانتا ہوں آپ اداس ہیں لیکن کمزور نہیں۔ یاد رکھنا آپ بے شمار بے زباں لوگوں کی آواز ہیں۔ انقلاب راتوں رات نہیں آیا کرتے۔ ایسی تبدیلیاں طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد آتی ہیں۔ لیکن آپ کا اخلاص اور عزم باقی رہا تو یہ خواب جلد شرمندہ تعبیر ہو گا۔

آپ کا خیر خواہ،
ولادیمیر لینن


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments