ملینیم ڈیولپمنٹ گولز، پاکستان کے لئے ایک اور موقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

22 ستمبر 2010 کو اقوام متحدہ نے آٹھ رکنی ملینیم ڈیولپمنٹ گول کی منظوری دی۔ جن کی ترتیب یوں ہے۔ 1 : انتہائی غربت اور بھوک کا خاتمہ 2 : پوری دنیا میں بنیادی تعلیم کا حصول 3 : صنفی مساوات کو فروغ دینا اور خواتین کو با اختیار بنانا۔ 4 : بچوں کی اموات میں کمی 5 : زچگی کی صحت کو بہتر بنانا 6 : ایچ آئی وی/ایڈز، ملیریا اور دیگر بیماریوں کی روک تھام 7 : ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنانا 8 : ترقی کے لیے عالمی شراکت داری۔

ستمبر 2010 میں جب اقوام متحدہ نے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کی منظوری دی تو وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ صرف ایک دہائی میں پوری دنیا کورونا جیسی وبائی صورت حال کا شکار ہو جائے گی اور ہم ایک بہت ہی مختلف دنیا میں رہ رہے ہوں گے۔ کوویڈ نے اقوام متحدہ کی ایک دہائی میں حاصل کردہ تمام کامیابیوں کے گراف کو نیچے گرا دیا ہے۔ کوویڈ کی وجہ سے بہت سے مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جیسے کہ غربت، بھوک، کمزور نظام صحت، صاف پانی کا حصول وغیرہ۔ یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ 2030 تک 169 ملین سے زائد افراد دنیا بھر میں انتہائی غربت کا شکار ہو جائیں گے۔

روزنامہ جنگ میں 26 فروری 2016 کو تنویر ہاشمی نے اسلام آباد سے لکھا کہ پاکستان ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کے بیشتر اہداف کے حصول میں ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان مقررہ اہداف کو اپنے اندرونی مسائل کے باعث حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ مگر اس وقت کوویڈ سے ہونے والی تباہی نے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کے حصول کو عالمی طور پر متاثر کیا ہے۔ 7 جولائی 2020 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کوویڈ نے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کے حصول کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ 2020 میں 70 ملین سے زائد لوگ انتہائی غربت کا شکار ہو گئے ہیں۔ کوویڈ نے نہ صرف لوگوں کی صحت کو متاثر کیا ہے بلکہ معاشی اور سماجی بحران اور زندگیوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بنا ہے جس کی وجہ سے مقرر کردہ اہداف کا حصول بہت مشکل ہو چکا ہے۔

جوں ہی دنیا ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز کو حاصل کرنے کے قریب ہوگی ہمیں ایک اور عالمی مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈیرل ایم ویسٹ نے 2015 میں انگریزی زبان میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا۔ اس تحقیقی مقالے کا عنوان تھا۔ ”اگر روبوٹ انسان کی نوکری لیتے ہیں تو کیا ہو گا؟ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے اثرات، روزگار اور عوامی پالیسی“ ۔ ڈیرل ایم ویسٹ نائب صدر اور گورننس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر اور بروکنگز میں سینٹر فار ٹیکنالوجی انوویشن کے بانی ہیں۔ ڈیرل کا کہنا تھا کہ 2014 تک دنیا میں 1.5 ملین روبوٹ موجود تھے ڈیرل نے اپنے تحقیقی مقالے میں کہا کہ تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کی بدولت اگلے چند سالوں میں دنیا میں ایک بڑی تعداد میں مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی۔

جہاں دنیا نے موجودہ دو سالوں میں کوویڈ کے باعث عالمی طور پر غربت، بھوک، صحت جیسے مسائل کا سامنا کیا وہاں انھوں نے انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی سے وابستہ کاروباری حضرات کی بے انتہا ترقی کو بھی جانا۔ سرمایہ دار طبقہ یہ جانتے ہوئے کہ انسان کی کام کرنے کی اہلیت محدود ہے۔ بیشتر ترقی یافتہ ملکوں میں قانونی طور پر کسی بھی فرد سے چالیس گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کروایا جاسکتا امریکہ میں اگر چالیس گھنٹے سے زیادہ کام کروایا جائے تو ڈیڑھ گنا معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، سالانہ چھٹیاں، ریٹائرمنٹ اور دیگر سہولیات بھی دینی پڑتی ہیں۔ انسان موسمی اثرات کے تحت بیمار بھی ہوتا ہے اور مختلف اوقات اور ذہنی کیفیات کی بدولت اس کے کام کرنے کی استعداد بھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ اس کے مقابلے میں روبوٹ ایک ہی کام کو لمبے عرصہ تک بغیر شکوہ و شکایت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کے سرمایہ کار مصنوعی ذہانت  سے تیار کردہ پروگرامز پر سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

روبوٹس سے کام لینے کا تصور پہلے ہی موجود بلکہ استعمال میں ہے۔ اب بہت سے چھوٹے چھوٹے کام جن کے لئے کمپنیاں اور ادارے لوگوں کو نوکری دیتے تھے وہ ختم کی جا رہی ہیں۔ امریکہ میں بڑی کمپنیز اور سرکاری اداروں میں فون کالز سے لے کر ، ویب سائٹس پر مصنوعی ذہانت کے سہولت کار متعارف کروا دیے گئے ہیں جو کہ آپ کی مدد کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی بدولت زندگی کے ہر شعبہ میں ایسے سہولت کار میسر ہیں جو آپ کی ضرورت اور مزاج کو دیکھتے ہوئے مقررہ کردہ ہدف کو حاصل کرنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں۔

28 جون 2021 کو ورلڈ بینک نے پاکستان کو 800 ملین ڈالر کا قرضہ دیا جس کا مقصد عوام تک بجلی پہنچانا اور غربت کا خاتمہ ہے۔ 29 جولائی 2021 کو 100 ملین ڈالر کا ایک اور قرضہ سندھ میں ابتدائی تعلم کے حصول کے لئے منظور کیا گیا ہے۔ یہ قرض ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے دیے گئے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک اور سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے اہداف کو حاصل کرے۔ پاکستان ابھی ابتدائی تعلیم اور شرح خواندگی کو بلند کرنے کی دوڑ میں مصروف ہے ابھی تک عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ جبکہ دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک ان مسائل سے بہت آگے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کری کر رہے ہیں۔ پاکستان کو ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کے اہداف کو جلد از جلد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی بدولت آنے والی بڑی عالمی تبدیلی کے لئے بھی تیار رہنا ہو گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments