چین نے جب غلامی کی زنجیریں توڑیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’انقلاب کوئی کھانے کی دعوت، آرٹیکل لکھنا یا مصوری کرنا نہیں، یہ اتنا شائستہ، پر اطمینان اور پر سکون نہیں ہو سکتا۔ انقلاب پر آشوب ہے، یہ ایک طبقے کا دوسرے کو ہٹانے کا پرتشدد عمل ہے۔ ‘ یہ الفاظ 1927 میں ماؤ کے لکھے ایک آرٹیکل سے لیے گئے ہیں۔ یکم اکتوبر چین کی تاریخ کا وہ دن ہے جب ماؤزے تنگ نے انقلاب کی بنیاد رکھی اور اس کے نتیجے میں یکم اکتوبر 1949 کو عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔ اس دور میں غیر متوازن معاشرے کے شکار غریب محنت کش اور کسان طبقہ سراپا احتجاج بنا اور ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے 2 ہزار سال پر محیط شہنشاہت کی بالادستی کو ختم کر کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔

معاشرے میں جب اشرافیہ اپنی مراعات اور خوشحالی کے لئے محنت کش طبقے کا گلہ گھونٹتا ہے تو محروم طبقہ اپنے حقوق کے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ چینی انقلاب کے بعد مستحکم حکومت و عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لئے کوششوں کا آغاز تیز رفتار نہیں تھا کیونکہ اس وقت زمینی اصلاحات کا عمل جنگ عظیم اول و دوم کے مضمر اثرات سے باہر نہیں نکل سکا تھا۔ سوویت یونین کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور زرعی اصلاحات نے مغربی جمہوری حکومتوں کو پریشان کر دیا تھا کہ کہیں یہ لہر یورپ میں بھی نہ پھیل جائے جب کہ چینی عوام روسی انقلاب سے بری طرح متاثر تھے، اور امرا ء کی بالادستی کے خاتمے کے لئے ماؤزے تنگ کی آواز پر لبیک کہہ رہے تھے۔

عوامی جمہوریہ چین نے خود کو منوانے کے لئے کئی مشکل ادوار اور حالات مقابلہ کیا، موجودہ چین کی مخلص قیادت کی پالیسیاں مغربی دنیا کے لئے ایک جانب جہاں اکنامک چیلنج دے رہی ہیں تو دوسری جانب عسکری اعتبار سے بھی چین ایک موثر ناقابل تسخیر دفاعی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ چینی قیادت کے اقدامات نے جہاں 10 کروڑ انسانوں کو خطہ غربت سے باہر نکالا وہاں دنیا کی سب سے بڑی آبادی والی مملکت کی حیثیت سے اقتصادی طور پر خود کو عالمی سطح پر کسی دوسری عالمی طاقت کا محتاج بننے کے بجائے سپر اکنامک پاور ملک کی حیثیت سے منوایا۔

سرمایہ داری نظام نے بڑی بڑی حکومتوں کو سرنگوں کیا ہے اور عوام سرمایہ داری نظام کے بوجھ تلے دبے اور پسے ہوئے ہیں، چین کے پالیسی ساز 2049 تک کی ایک ایسی پالیسی ساز منصوبے پر گامزن ہیں جس میں وہ ایک مکمل جدید اور طاقتور سوشلسٹ ملک کی شناخت کے ساتھ اپنے عوام کے مفادات کی نگرانی کرسکے، 28 ستمبر کو جاری وائٹ پیپر جاری کیا گیا، جس سے ان کی مستقبل کی پالیسی کی جھلک نمایاں ہے کہ ’چین کا اعتدال پسند خوشحال معاشرہ ترقی کے توازن، ہم آہنگی اور پائیداری کی عکاسی کرتا ہے۔ چین ہمیشہ عالمی امن کا معمار، عالمی ترقی میں معاون، بین الاقوامی نظم و نسق کا محافظ اور عوامی اشیاء کا فراہم کنندہ رہا ہے ”۔

پاکستان اور چین کے تعلقات تاریخی، دیرینہ اور گہرے ہیں۔ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مضبوط تر بنانے کے کوشاں ہیں، دونوں کو ایسی عالمی استعماری قوتوں کے مخالفت کا بھی سامنا ہے جو پاک۔ چین کو پر امن اور ترقی کے راستے پر گامزن نہیں دیکھنا چاہتے۔ عالمی قوتوں نے جہاں چین کے عظیم منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کو اپنی ہٹ لسٹ پر رکھا ہوا ہے تو دوسری جانب پاکستان کو چین کا دیرینہ اتحادی ہونے اور سی پیک منصوبے کے لئے راستہ دینے پر کئی جانب سے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

چین اقتصادی انقلاب کے لئے دنیا بالخصوص یورپ اور مغربی ممالک کے ساتھ چلنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے لیکن مخصوص عالمی مفادات کی آڑ میں داخلی مداخلت اور اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا پیغام بھی دیتا ہے۔ چین ’سبق سکھانے‘ کی دھمکیوں سے کبھی نہیں دبا بلکہ جس راستے پر رواں ہے انہیں بڑی سمجھداری اور فہم کے ساتھ حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے چین کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ اہم اسٹریجک پارٹنر اور پڑوسی ملک ہونے کے ناتے پاکستان نے اپنے ہر دور میں چین کو کندھے سے کندھا ملاتے پایا۔ کچھ عناصر پاک۔ چین تعلقات کو خراب کرنے کی عالمی سازشوں میں ملوث بھی پائے گئے لیکن پاکستان نے چین کو ہمیشہ رول ماڈل دوست ملک قرار دیا۔

وزیراعظم عمران خان چینی قیادت کی پالیسیوں بالخصوص چینی عوام کی کروڑوں کی تعداد کو خطہ غربت سے نکالنے اور کرپشن کے خلاف موثر اقدامات سے کافی متاثر ہیں اور کئی مواقعوں پر اس کا کھل کر اظہار بھی کرچکے، چین بھی پاکستان کو آزمایا ہوا قابل اعتماد دوست سمجھتا ہے۔ مملکت کی ترقی و دفاع کے لئے چین کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سی پیک منصوبہ پاکستان اور افغانستان کے معاشی انقلاب کے لئے گیم چینجر ہے اور اس کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور اعتماد سازی کے رشتے کو ہمیشہ مضبوط بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان، صرف چین کے لئے دنیا کے کسی بھی ملک سے سفارتی تعلقات خراب نہیں کر سکتا، اسی طرح چین بھی پاکستان کے خاطر دنیا کو نہیں چھوڑ سکتا، کیونکہ اس کا فلسفہ انہی بنیادی خطوط پر استوار ہے کہ انہوں نے ہمیشہ چینی عوام کے مفادات کو تمام ملکوں کے لوگوں کے مفادات کے ساتھ ملایا ہے۔

خطے میں تبدیل ہوتی صورت حال میں دیگر ممالک بالخصوص افغانستان میں تعمیری کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، چین اپنے منصوبے کے لئے ایک ایسا سازگار اور پر امن ماحول کا ویسا ہی خواہشمند ہے جیسا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے چین کے ساتھ دوستی اور بہتر تعلقات کے لئے ہر دور میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کا چین معترف بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان کو اپنے قابل اعتماد ممالک میں دوستی کے پہلے درجے پر رکھتا ہے۔

دنیا کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات اور پاکستان کے ساتھ قربت میں نمایاں یکسانیت ہے۔ دونوں ممالک اپنی عوام کو خوش حال اور غربت سے نکالنے کے لئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف ایک صفحے پر باہمی و دو طرفہ تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان، چین کے قومی دن پر ان مثبت اقدامات کو عملی طور پر اپنانے کے عزم کا اعادہ کرے جس نے چین کو ایک سپر اکنامک پاور ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ چین کے قومی دن پر ہمیں واضح پیغام ملتا ہے کہ جب تک اس ملک کی عوام خود نہ چاہے کہ غلامی کی زنجیریں توڑیں تب تک کسی قسم کے انقلاب لانے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments