صدقے کا نوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نصیب کیا ہے؟ کوشش کس شے کا نام ہے؟ کیا یہ دنیا فزکس کے اصولوں پر چل رہی ہے؟ ریاضی کی مساوات نے ہمارے روزمرہ کو باندھ رکھا ہے اور کیا دو جمع دو ہمیشہ چار ہی ہوتا ہے؟ کبھی پونے چار یا سوا چار نہیں ہو سکتا ؟ یہ وہ مباحث ہیں جو مدتوں سے لاینحل ہیں۔ فریقین کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں جن پر وہ پوری استقامت سے کھڑے ہیں۔

ہمارے دانش ور دوست یا سر پیرزادہ نہیں مانتے مگر کیا کیا جائے کہ مجھے آئے دن ایسے واقعات سے سابقہ پڑتا رہتا ہے جس سے کم از کم میں تو یہی مانتا ہوں کہ اتفاقات کی شکل میں کچھ ان دیکھی قوتیں زمانے میں کارفرما ہیں جن کو فزکس اور ریاضی کے اصولوں پر پرکھا نہیں جاسکتا۔ کوئی لٹمس ٹیسٹ نہیں جو عقلی بنیادوں پر ان کی پڑتال کرسکے۔

بدھ کی شام ایک مدت کے بعد عالیہ ( میری اہلیہ) نے مجھ سے سموسے کھانے کی فرمائش کی۔ سموسے بھی چوک نواں شہر کے۔ یہ کوئی ایسی فرمائش نہیں جسے پورا نہ کیا جا سکے اور اس میں طویل وقفہ آ جائے مگر جب سے ہم دونوں نے عمر کی چوتھی دہائی مکمل کی ہے تو بازار کی تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم عالیہ کوئی ہفتہ دس دن پہلے اپنا پندرہ دن کا کورنٹائن ختم کر کے نکلی تھیں۔ بارہ پندرہ روز تک پیہم سونگھنے کی اور ذائقہ کی حس تعطیل پر رہی ہو تو بندے کا دل تو کرتا ہے کچھ چٹ پٹا کھانے کو۔ سو اس نے کہا کہ آج شفیق کے سموسے کھلائیں۔ سموسوں پر چنے اور کھٹی میٹھی چٹنیاں ڈال کر وہ خوب مزے کی پلیٹ بنایا کرتا ہے۔

مغرب کے بعد ہم نواں شہر چوک کے لئے گھر سے نکلے تو راستے میں دو دفعہ پروگرام تبدیل ہوا کہ رات کے وقت ایسی ثقیل چیز کھانا درست نہیں مگر زینب کی ضد کہ نہیں سموسے ہی کھانے ہیں۔ خیر! ہم پہنچ گئے۔ میں نے دکان سے ذرا ادھر ہی گاڑی روک لی۔ دو تین دفعہ ہارن دیا مگر کوئی نہ آیا۔

گاڑی دکان سے آگے نسبتاً کھلی جگہ پر لے گیا تو وہاں ہم سے آرڈر لے لیا گیا۔ پلیٹیں اور چمچ ہم گھر سے لے کر گئے تھے۔ ابھی لڑکا آرڈر لے کر آیا نہ تھا کہ ڈیرا اڈہ کی طرف سے ایک چشمہ پوش بابا جی ’جن کی چھوٹی چھوٹی سفید داڑھی تھی‘ آتے ہوئے دکھائی دیے۔ چھوٹے چھوٹے قدموں والی دھیمی چال۔ وہ گاڑی کے پاس سے گزر کر کچھ آگے چلے گئے تھے کہ پھر پلٹے اور مجھ سے مخاطب ہوئے ”صدقے دے کجھ پیسے ودن؟“ (صدقے کے لئے پیسے ہیں آپ کے پاس) میں نے پوچھا ”خیریت! کیا کریسو“ ۔ بابا جی بولے ”صدقے دے پیسے ہوون تاں ڈیو چا ’گھر کوئی شے گھدی ویساں“ ۔ ان کے لہجے اور انداز میں گداگروں والی کوئی بات نہ تھی۔ بیگم نے کہا ”فوزیہ والا صدقہ دے دوں؟ کب سے لئے پھررہی ہوں“ ۔ میں نے کہا دے دو‘ بابا جی نے تو مانگا ہی صدقہ ہے۔

عالیہ جب کورونا کی زد میں تھیں اور کورنٹائن تو ان کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ خبر گیری کو آئیں۔ جاتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا نوٹ عالیہ کو دیا کہ ٹھیک ہونے پر اپنے ہاتھ سے صدقہ دینا۔ اب پچھلے آٹھ دس روز سے یہ نوٹ عالیہ کے پرس میں گھوم رہا تھا۔ وہ کہتی تھیں بھکاری کو نہیں دینا۔ ایجوکیشن یونیورسٹی کے سامنے الائیڈ بنک کے باہر فٹ پاتھ پر جو بابا جی روٹیوں والے رومال اور صفائی کے فلالین والے کپڑے بیچتے ہیں ’ان کو دینے کا ارادہ تھا مگر دو دفعہ چکر لگایا‘ وہ بزرگ وہاں نہیں تھے۔

چناں چہ یہ نواں شہر والے بابا جی ملے تو اسی لمحے ہمیں لگا کہ صدقے کا یہ نوٹ انہی کا ہے۔ میں ان سے ایک ڈیڑھ منٹ بات کی۔ بابا جی خالص ملتانی لہجے میں سرائیکی بولتے تھے۔ بتانے لگے کہ میری آنکھوں کا آپریشن ہوا ہے ’اس لئے یہ رنگین عینک لگائی ہے۔ سی ایم ایچ میں کرنل صاحب کے پاس لے گئی تھی مجھے بڑی بیٹی، انہوں نے آپریشن کر دیا۔

بابا جی کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ انہوں نے نہ تو مظلوم بننے کی کوشش کی اور نہ ہی اپنی غربت و بے چارگی کا کوئی رونا رویا۔ چھاؤنی سے پرے جو بستی خداداد ہے، وہاں رہتے تھے۔ بتایا کہ دن میں یہاں مسجد میں پڑا رہتا ہوں۔ اب لال بس پر بیٹھوں گا اور گھر چلا جاؤں گا۔ ”میڈی عمر اسی سال تھی گئی اے، ایوب خاں دے دور توں رنگ دا کم کریناں ہم، ہنڑ نئی کرسکدا‘ بڈھا تھی گیاں“ ۔

بڑھاپے کے بوجھ سے سہمی چال چلتے بابا جی چوک کی طرف چلے گئے۔ لڑکا سموسے لے آیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ دس دن کی تاخیر سے صدقے کے نوٹ نے اپنے حق دار کو کیونکر تلاش کر لیا۔ وہ روٹی کے رومال بیچنے والا بابا دو دفعہ جانے کے باوجود کیوں نہ ملا۔ ان دس دنوں میں وہ نوٹ کسی اور کو دینے کا خیال ہمیں کیوں نہ آیا۔

سموسوں کا پروگرام دو دفعہ تبدیل ہو جانے کے باوجود زینب نے کیوں ضد کی۔ بابا جی نے آتے ہی اللہ کے نام پر مدد یا خیرات ’زکوٰة کا تقاضا کیوں نہ کیا۔ کیوں بابا نے ڈائریکٹ صدقے کا تقاضا کیا۔ اگر وہ صدقے کا نہ کہتے تو ہو سکتا ہے ہمیں وہ نوٹ یاد ہی نہ آتا۔ ہم دس بیس دے کر فارغ ہو جاتے یا ”بابا معاف کر“ کہہ کر رخصت کر دیتے۔

کچھ ہے صاحب! یہ سارے اتفاقات یونہی نہیں۔ ان کا مسودہ کہیں لکھا جاتا ہے اور ہم کرداروں کی طرح اس سکرپٹ پر چلتے ہیں۔ اک دوسرے سے ناآشنا ’ناواقف کردار اپنی اپنی جگہ سے چلتے ہیں اور پھر ایک ہی وقت میں کسی مخصوص جگہ ان کا ملاپ ہوتا ہے۔ اک دوجے کی امانت پہچانتے ہیں اور پھر سے اجنبیت اوڑھ اک دوجے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ جناب علی ؓ کا جو فرمان ہے کہ ”میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا“ ان اتفاقات اور تقدیر کی بہترین تشریح ہے۔ ہم کچھ ارادہ کرتے ہیں مگر ہمیں علم نہیں ہوتا کہ سکرپٹ میں کچھ اور لکھا ہے۔ کردار کی کیا مجال کہ سکرپٹ سے ہٹ کر کچھ کرسکے۔

٭٭٭٭٭٭


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments