سیلیکان ویلی کی ”ڈارلنگ“ ارب پتی عدالت کے کٹہرے تک کیسے پہنچی؟


امریکہ ہو یا پاکستان ابھی بھی عورتیں بہت سے شعبوں میں برابری کی سطح پہ نہیں پہنچیں ہیں۔ کیلی فورنیا کا سیلیکون ویلی بھی اس سے مستثنی نہیں۔ پچاس مربع میل کے رقبہ پہ محیط یہ وہ علاقہ ہے جسے ملٹی بلین ٹیکنالوجی کمپنیوں کا ”مکہ“ قرار دیا جاتا ہے۔ جس کی گود میں ایپل، گوگل، فیس بک یاہو، امیزون اور نیٹ فلیکس وغیرہ جیسی کمپنیاں پروان چڑھیں۔ اور ان کی بنیاد رکھنے والے اربوں ڈالرز کمپنیوں کے مالک بن بیٹھے ہیں چاہے وہ مائیکروسافٹ کے بل گیٹس، ایپل کمپنی کے اسٹیو جابز، فیس بک کے مارک زکربرگ، ہوں یا گوگل کے لیری پیج۔

مردوں کی اس دنیا میں بہت کم عرصہ کے اندر ایک نوجوان لڑکی الزبتھ ہومز نے اربوں کی میڈیکل ڈائیگنوسٹک ٹیکنالوجی کی صنعت ”تھیرونوس“ کمپنی قائم کر کے دنیا بھر میں ایک تہلکہ سا مچا دیا۔ اس کا دعوی تھا کہ بجائے سرنج سے ٹیوبوں میں کافی مقدار میں خون لینے کے اب صرف انگلی پہ سوئی کھبو کے خون کے محض چند قطروں میں دو سو سے زائد بیماریوں کے نتائج کم وقت اور ارزاں قیمت میں ایک پورٹیبل مشین ”منی لیب“ میں کیے جا سکتے ہیں۔

الزبتھ 3 فروری 1983 کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی تھی۔ لیکن اس کی خاندانی تاریخ میں اس کے پر دادا کی بیش بہا دولت کے چرچے رقم تھے۔ وہ امارت جو ان کی زندگی میں ہی خاک ہو گئی تھی۔ خاندانی دولت کے قصوں کو سنکر بڑی ہونے والی الزبیتھ کا خواب ایک بار پھر اس کھوئی ہوئی دولت کا حصول تھا۔ جب کوئی بچپن میں اس سے پوچھتا کہ وہ کیا بننے چاہتی ہے تو وہ جواب دیتی ”ارب پتی“ ۔

اسکے پاس دنیا کو متاثر کرنے والے خیالات اور آگے بڑھنے کی لگن تھی۔ جس کی مادی دولت کے پجاری سماج نے مزید حوصلہ افزائی کی۔

گہری نیلی، چمکتی آنکھوں والی اس سفید فام اور غیر معمولی ذہانت کی پرکشش لڑکی نے کم عمری سے ہی اپنے خوابوں پہ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہائی اسکول کے بعد اس کا داخلہ مشہور زمانہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے کیمیکل انجنیئرنگ شعبہ میں ہو گیا۔ جہاں اس نے اپنی متاثر کن اور قائل کرنے والی گفتگو سے اپنے انقلابی منصوبوں اور انسانی خدمت کے ویژن سے لوگوں کو اپنی سچائی کا یقین دلایا۔ اس کا مشن تھا کہ بجائے سرنج سے زیادہ مقدار میں خون نکالا جائے۔ محض ایک دو قطرے ایک مخصوص مشین میں جانچے جائیں۔ اس مشین کی مدد سے کم پیسوں اور وقت میں مرض کی جلد تشخیص اور بیماری سے بچنے کے لیے تدابیر ممکن بنائی جا سکے۔ اس طرح امریکہ کے مہنگے صحت کے نظام میں یہ بات ممکن ہو سکے کہ یہ سہولت عام آدمی تک پہنچے۔

انیس سالہ الزبتھ نے اپنی میڈیسن کی پروفیسر فلپس گارڈنر کو سن2002 میں اپنا آئیڈیا بتایا جو اس سے متفق نہ ہوئی کہ محض ایک قطرہ خون سے کوئی مشین اتنے ساری بیماریوں کی شناخت کس طرح کر سکتی ہے۔ تاہم الزبتھ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی جو اس کے مینٹر بن گئے۔ الزبتھ نے محض ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اسٹنفرڈ یونیورسٹی میں تعلیم کو نامکمل چھوڑ کے اپنے تصوراتی منصوبہ کی تکمیل کا بیڑہ اٹھایا۔ بقول اس کے کہ جو میں کرنا چاہتی تھی اس کے لیے اتنے طویل دورانیہ کی تعلیم غیر ضروری تھی۔

آخر کو اس کا آئیڈیل مشہور زمانہ ”اپیل کمپنی“ کا اسٹیو جابز تھا جو اسکول ڈراپ آؤٹ تھا۔ وہ اسی کی طرح کی کالی ٹرٹل نک قمیض پہنتی اور پھر جب اس نے اپنی کمپنی کھولی تو جابز کی کمپنی کے دو بہت معتبر ملازمین آوی ٹینین اور اینا اریولا کو بہت بھاری تنخواہ پہ ملازم رکھ لیا۔ اپنی کمپنی کی مالی اعانت کے لیے اس نے اپنی ذہین، پرکشش اور کرشماتی شخصیت کی مدد سے امریکہ کے امیر ترین سرمایہ کاروں کو اپنے آئیڈیا کی افادیت اور پھر کامیابی کے امکان پہ قائل کر لیا جو الزبتھ کو لاکھوں ڈالرز دینے پہ راضی ہو گئے۔

کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں امریکی تاریخ کے نامور ترین افراد جو معمر اور معتبر گورے تھے مثلاً سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈاکٹر شلز، سینٹر بل فرسٹ، ایڈمرل گیری رف ہیڈ، ہنری کسنجر اور سرمایہ کار مثلاً ٹم ڈریپر، ہنری کسنجر، روپرٹ مر ڈول، لیری ایلسن، ڈیواز فیملی کے علاوہ امریکہ کی میڈیکل فارمیسی کی مشہور چین وال گرین نے بھی کمپنی میں الزبتھ کی مشین ”منی لیب“ (جسے شروع میں ایڈیسن کا نام دیا گیا) کے لیے سرمایہ کاری کا انتخاب کیا۔ ایک نامور صنعت کار سافٹ ویر انجنیئر رمیش سنی بلوانی نے بیس ملین ڈالرز لگائے تھے۔ اس کی حیثیت کمپنی کے صدر کی تھی اور جو عمر کے خاصے فرق کے باوجود الزبتھ کا رومانوی ساتھی بھی تھا۔

تھیرانوس کمپنی جس کا آغاز 2003، میں ہوا تھا، 2014 تک اس کی قیمت نو بلین ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔ اور کمپنی میں کام کرنے والوں کی تعداد سات آٹھ سو تک پہنچ گئی تھی۔ ہر اہم میگزین کے سرورق پہ اس کی تصویر شائع ہو رہی تھی۔ ٹائمز میگزین نے اسے سو متاثرکن افراد میں شمار کیا۔ صنعتی حلقے میں وہ مستقبل کی ”اسٹیو جو بز“ کہلائی جانے لگی۔ وہ جگہ جگہ تقاریر کے لیے بلائی جانے لگی۔ ایک بڑی کمپنی کی سی ای او کے ناتے الزبتھ نے اپنی اصلی آواز کو بھاری اور رعب دار لہجہ میں بدل لیا تھا۔ اخبارات اور میگزین میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ حتی کے امریکہ کے صدر کلنٹن نے ٹی وی پروگرام میں اس کے کام کی تشہیر کی۔

لیکن الزبتھ کی طلسماتی شخصیت کا بت اس وقت ٹوٹنے لگا کہ جب اس کی مشین ”منی لیب“ سے ملنے والے نتائج میں حیرتناک حد تک فرق آنے لگا۔ چونکہ بات مریضوں کی صحت اور علاج سے متعلق تھی لہٰذا غلط نتائج کا مطلب غلط علاج تھا۔ ایک عام کام کرنے والے کے لیے نتائج کو چیلنج کرنا مشکل تھا لیکن دو لیب ورکرز اریکا چینگ اور ٹائلر شلز کے ضمیر نے اس کو گوارا نہ کرتے ہوئے ناقص مشین کے غلط نتائج کو چیلنج کیا۔ لیکن کمپنی نے ان کے اعتراضات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے نہ صرف ان سے سختی کا رویہ رکھا۔ بلکہ ٹسٹنگ کو اسی طرح جاری رکھا اور ان دونوں کو ملازمت سے نکالنے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی دھمکی دی۔

ان دونوں ملازمین نے کمپنی سے استعفی دے کر اس بدعنوانی کی صورتحال سے اسٹریٹ جرنل کے صحافی جان کیریورو کو آگاہ کیا جس کے مضامین نے وال اسٹریٹ کی دنیا میں ایک تہلکہ سا مچا دیا۔

ظاہر ہے کسی بھی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہیں۔ ملٹی بلین کمپنی کے مالکان کی سرپرستی ملک کے امرا اور نامور وکیل کر رہے تھے۔ اس کمپنی کے مقدمہ میں ٹائلر کے والدین کوا پنا گھر بیچنا پڑا اور اریکا کو تو امریکہ چھوڑ کے واپس اپنے وطن چین جانا پڑا۔ مقدمہ کے دوران دنیا کو پتہ چلا کہ اس کمپنی میں ہر بات کس طرح راز میں رکھی جاتی تھی اور اس کی چہار سو خفیہ کیمروں کے نصب ہونے سے سے کس قدر خوف و ہراس کی فضا تھی۔

پھر کمپنی کے مالکان کسی قسم کی مخالفت سننے کے قائل نہ تھے۔ جس کی وجہ سے ہر کوئی مشین کی ناقص کارکردگی کے خلاف شکایت کرنے سے قاصر تھا۔ اس مقدمہ کے نتیجہ میں 2018سے کمپنی بند ہے۔ الزبتھ اپنے مقدمے کو بھگتا نے کے لیے کٹہرے میں وکیلوں کے جوابات دے رہی ہے۔ اور اس کا دولت کی طمع کے لیے تراشا بت عدالت کی چوکھٹ پہ پاش پاش پڑا ہے۔

Facebook Comments HS