101 پاکستانی ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر پاک و ہند میں ہر تعلیم یافتہ فرد اس حقیقت سے واقف ہے کہ انگریزوں نے اس خطہ پر تقریباً دو سو سال حکومت کی۔ انگریزوں کے دور حکومت کا آغاز رابرٹ کلائیو کے 1757 ء میں جنگ پلاسی میں فتح سے ہوا۔ صحیح معنوں میں 1858 ء میں ہندوستان میں برطانوی ولی عہد کا راج قائم ہوا جس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے کنٹرول کی ایک صدی کا خاتمہ کیا۔ 1947 ء میں انگریزوں نے متحدہ پاک و ہند کو آزاد کیا اس طرح پاکستان اور بھارت معرض وجود میں آئے۔

دو سو سال تک انگریزوں کے برصغیر میں رہنے کی وجہ سے ہندوستانی عوام میں انگریزی زبان سیکھنے اور انگریزوں کے طرز زندگی کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ انگریزوں کے برصغیر میں قیام کے دوران بھی یہ ایک عام رجحان تھا کہ ہندوستانی شہری اعلٰی تعلیم کے لئے برطانیہ جاتے۔ اور یقیناً وہاں اچھا روزگار ملنے پر اس سے ضرور فائدہ اٹھاتے ہوں گے ۔ تحریک آزادی کے بہت سے راہنما برطانیہ سے اعلٰی تعلیم یافتہ تھے۔ آج بھی برصغیر بالخصوص پاکستان میں تعلیم و تربیت، روزگار اور رہائش کے لئے برطانیہ جانے کا رجحان ہے۔ 2020 ء میں 20820 ہزار پاکستانی برطانیہ میں مقیم تھے۔ زیادہ تر پاکستانی برطانیہ کی مستقل شہریت لے چکے ہیں اور برطانوی معاشرہ میں رچ بس کر اپنا سیاسی، ثقافتی، معاشی اور معاشرتی کردار ادا کر رہے ہیں۔

برطانیہ کا شمار دنیا کے بڑے کثیر نسلی معاشروں میں ہوتا ہے۔ 60 اور 70 کی دہائی میں برطانیہ ہجرت کر کے آنے والے افراد کی بڑی وجہ معاشی تھی۔ یہ آج بھی سچ ہے۔ وہ لوگ جو برطانیہ میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کی مدد کے بہتر مواقع کے لیے پاکستان سے آئے تھے انہوں نے سخت محنت کی اور اب وہ ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

” 101“ اردو اور پنجابی میں ایک بڑی تعداد کی علامت ہے جو کسی بہت بڑی اور بڑی چیز کی نمائندگی کرتا ہے۔ 101 پاکستانی ڈاٹ کام ویب سائٹ ان تمام عظیم شخصیات اور ان کے جانشینوں کی محنت کو تسلیم کرنے کی کوشش ہے جنہوں نے پاکستان سے ہجرت کی اور دنیا میں اپنی پہچان بنائی۔ 101 پاکستانی وہ چمکتے ستارے ہیں جو اندرون اور بیرون ملک رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو قیادت اور تحریک فراہم کر رہے ہیں۔ ایسے ہی کامیاب ترین لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یہ ویب بنائی گئی۔ یہ ویب سائٹ ان 101 غیر ملکی پاکستانیوں اور ان کی آنے والی نسلوں کا تعارف ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا بھر سے اپنے لاکھوں سیاحوں کو ، خاص طور پر برطانیہ میں مقیم 101 پاکستانیوں کی کامیابیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے۔

برطانوی پاکستانیوں کی بڑی تعداد خوشحال ہے۔ وہ ہاؤس آف لارڈز اور کامنز میں نشستیں رکھتے ہیں اور اربوں پاؤنڈ مالیت کے کاروبار کے مالک بھی ہیں۔ دو ایسے لوگ، جنہیں آپ پہلے ہی جانتے ہوں گے، پاکستان سے تعلق رکھنے والے لارڈ نذیر احمد ہیں، جو ایک جرات مند، پر اعتماد اور مضبوط شخص ہیں جو ہاؤس آف لارڈز میں کشمیر کاز کی وکالت کرتے ہیں، اور سر انور پرویز ایک خود ساختہ آدمی ہے جو اب اربوں مالیت کی کمپنی کا مالک ہے۔

اسی طرح اور بھی بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے بہت محنت کی ہے اور بہت کچھ حاصل کیا ہے لیکن ان کی کامیابیوں کے بارے میں دنیا کم جانتی ہے۔ اس لئے جو لوگ ان کامیاب، مثالی اور خوش حال پاکستانیوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، ان کے بارے میں سب کچھ 101pakistanis.com پر مل سکتا ہے۔ لیکن ایک بات یاد رہے کہ اس ویب سائٹ پر آپ کو سیاسی پناہ لینے والے، ملک میں انارکی پیدا کروانے والے اور ملک کو معاشی نقصان سے دوچار کرنے والے پاکستانیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہ مل سکیں گی۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے ایک گروپ نے برٹش پاکستانی نوجوانوں، مؤرخین اور ہر وہ شخص جو اس موضوع میں دلچسپی رکھتا ہو ان کو سہولت کے لیے ان تمام قابل ذکر داستانوں کو دستاویز کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ اس پراجیکٹ میں ( 101pakistanis.com) مسلسل ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ان کے ڈیٹا بینک میں کسی کو شامل کرنا چاہتے ہیں یا اس سائٹ کے حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔

یہ آرگنائزیشن ایک سیلف فنانس، غیر منافع بخش، خود مختار، رضاکارانہ، غیر سرکاری تنظیم/ ( این جی او ) آرگنائزیشن ہے جو کہ 2000 ء سے برطانوی پاکستانیوں میں غربت اور سماجی ایشوز رکے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ آرگنائزیشن برطانیہ میں رہائش پذیر تمام عظیم پاکستانی شخصیات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے پاکستان سے ہجرت کی اور شبانہ روز محنت اور لگن سے دیار غیر میں اپنی شناخت اپنے ملک کی قابل فخر پہچان بنے۔ یہ آرگنائزیشن ان تمام پاکستانیوں کی کی محنت اور نتیجہ خیز کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

۔ ۔ ٭٭٭۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments