خصوصی افراد تعلیم کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ثمرہ ارشد کا تعلق جہلم سے ہے۔ مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہیں۔ ہیومن ڈیویلپمنٹ اینڈ چائلڈ سائیکالوجی اور سپیشل ایجوکیشن میں ایم۔ اے ہیں۔ سماعت سے محروم بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ جہلم کے خصوصی تعلیمی ادارے میں سترہویں گریڈ میں فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ پینٹنگ، کیلی گرافی اور کتابیں پڑھنے کی شوقین ہیں۔

والد صاحب نجی بنک سے اے۔ وی۔ پی ریٹائرڈ ہیں۔ والدہ صاحبہ سرکاری سکول میں ٹیچر تھیں۔ خاندان دو بھائی اور دو بہنوں پر مشتمل ہے۔ بڑے بھائی سافٹ ویئر انجینئر ہیں مسقط میں جاب کر رہے ہیں۔ بڑی بہن فارماسسٹ ڈاکٹر ہیں ناروے میں مقیم ہیں۔ دونوں شادی شدہ ہیں۔ جبکہ چھوٹے بھائی جرنل ایجوکیشن میں اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر ہیں۔

ثمرہ پیدائشی طور پر نارمل تھیں۔ پڑھائی کے ساتھ کھیل کود میں بھر پور حصہ لیتی تھیں۔ میٹرک جہلم کے آرمی پبلک سکول سے کیا۔ بچپن سے فائن آرٹس میں گہری دلچسپی تھی۔ میٹرک کے بعد ثمرہ فائن آرٹس، آرکیٹیکچر یا پھر فیشن ڈیزائننگ میں اپنے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہتی تھیں۔ اس وقت جہلم میں ان شعبوں میں ڈگریز کروانے والا کوئی ادارہ نہ تھا۔ جس کی وجہ سے ثمرہ کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر کسی نے لاہور کے کالج آف ہوم اکنامکس (موجودہ یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس) کا ذکر کیا۔ کالج کا سنتے ہی ثمرہ نے والدین سے داخلہ لینے کی ضد شروع کر دی۔ والدین ثمرہ کو نظروں سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اس وقت بڑے بھائی لاہور کی یو۔ ای۔ ٹی سے انجینئرنگ کر رہے تھے۔ بڑے بھائی کے اصرار پر ثمرہ کا داخلہ لاہور کے کالج آف ہوم اکنامکس میں کرا دیا گیا۔ ثمرہ نے ہاسٹل میں رہنا شروع کر دیا۔ سب کچھ نارمل چل رہا تھا۔ ثمرہ چونکہ بچپن سے کھیلوں میں حصہ لیتی رہی تھیں اس لیے کالج کے دوسرے سال ثمرہ نے سپورٹس کا پیریڈ بھی جوائن کر لیا۔ ایک دن سپورٹس کی ٹیچر نے سب لڑکیوں کو بھاگنے کا کہا تو ثمرہ کے سوا ساری لڑکیوں نے دوڑ لگا دی۔ ثمرہ نے بڑی کوشش کی لیکن بھاگ نہ سکیں۔

ثمرہ نے اسے معمول کی کمزوری تصور کرتے ہوئے نظر انداز کر دیا۔ ثمرہ نے محسوس کیا کہ جب یہ سو کر اٹھتی ہیں اس وقت ٹانگوں میں شدید درد ہوتا ہے۔ اسی طرح سیڑھیاں چڑھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھر والوں سے ذکر کیے بغیر ثمرہ تکالیف کو برداشت کرتی چلیں گئیں۔ چھٹیوں میں جب گھر جانا ہوا تو ثمرہ نے درد کا ذکر ولادین سے کیا۔ گھر والے یہ سمجھے کہ ہاسٹل کی خوراک اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے شاید ثمرہ کمزوری محسوس کر رہی ہیں۔

گھر میں ثمرہ کی خوب خاطر تواضع شروع کر دی گئی۔ ڈاکٹر نے اسے معمول کی کمزوری سمجھتے ہوئے کچھ وٹامنز وغیرہ دے دیے۔ ثمرہ کو اپنی صحت سے متعلق تشویش لاحق تھی اس لیے انھوں نے ہڈیوں کے امراض سے متعلق کتابیں پڑھنا شروع کر دیں۔ ایک روز لائبریری سے ایک کتاب ہاتھ لگی جس کا نام ”مسکولر سکیلیٹن ڈزیز“ تھا۔ کتاب پڑھنے سے ثمرہ کو اندازہ ہوا کہ ان کا مرض معمولی نوعیت کا نہیں ہے۔

بڑے بھائی نے میو ہسپتال کے ڈاکٹر خالد جمیل صاحب سے ثمرہ کے لیے ٹائم لیا۔ پھر کئی ماہ تک مختلف ہسپتالوں سے پہلی اور دوسری رائے کے لئے چکر لگاتے رہے۔ بائی آپسی کے بعد مرض کی تشخیص ہوئی۔ اس وقت ثمرہ تھرڈ ائر میں تھیں۔ والدین کو پریشانی سے بچانے کے لئے ثمرہ مرض کو والدین سے چھپاتی رہیں۔

مسکولر ڈسٹرافی کی تشخیص کے بعد ثمرہ کو ایسا محسوس ہونے لگا جیسے جینے کا مقصد ختم ہو گیا ہو۔ اداسی اور مایوسی نے ثمرہ کو گھیر لیا۔ مایوسی کے اس عالم نے ثمرہ کو دنیا سے دور اور رب کے قریب کر دیا۔ ثمرہ باقاعدگی سے دین کو پڑھنے لگیں۔ ثمرہ اپنی زندگی کے مقصد کو جاننے کی کوشش کرنے لگیں۔ ثمرہ سوچنے لگیں کہ یہ گھر والوں سے مخالفت مول لے کر لاہور آئیں تھیں۔ اگر پڑھائی چھوڑی ہیں تو والدین کو مایوسی ہوگی۔

بہت سوچ بچار کے بعد ثمرہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ فیشن ڈیزائننگ کے ساتھ ڈگری مکمل کرنا ان کے لیے سود مند نہیں رہے گا۔ کیونکہ فیشن ڈیزائننگ کا کام بہت محنت طلب تھا جس کو مکمل کرنا اب ثمرہ کے لئے ممکن نہ تھا۔ مضامین میں رد و بدل کرتے ہوئے ثمرہ نے پڑھائی کے سلسلے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا۔ اپنی صحت کے بارے میں یونیورسٹی اور ہاسٹل کو آگاہ کر دیا۔ یونیورسٹی نے ثمرہ سے اتنا تعاون کیا کہ بیماری کی تشخیص کے بعد ثمرہ کا کوئی پیریڈ دوسری منزل پر نہیں رکھا گیا۔ اس طرح خاندان، اساتذہ کرام اور دوستوں کے تعاون سے ثمرہ بی۔ ایس۔ سی مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

ڈگری مکمل کرنے کے بعد ثمرہ گھر واپس آ گئیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے لگیں۔ ایک سال کی سوچ بچار کے بعد ثمرہ نے مزید پڑھنے کا فیصلہ کیا اور کالج آف ہوم اکنامکس میں ہیومن ڈیویلپمنٹ اینڈ چائلڈ سائیکالوجی میں داخلہ لے لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایم۔ اے سپیشل ایجوکیشن میں بھی داخلہ لے لیا۔ دونوں ڈگریز مقررہ وقت میں مکمل کر کے ثمرہ نے والدین کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

مرض کی تشخیص کے بعد ثمرہ نے دو مرتبہ عمرے کی سعادت حاصل کی۔ دوران عمرہ اپنے لیے خوب دعائیں کیں۔ خدا کے گھر کے سفر نے دل کو ایسا روشن کیا کہ پھر مڑ کے نہیں دیکھا اور آگے بڑھتی چلی گئیں۔ ایم۔ ایس۔ سی مکمل کرنے کے بعد ثمرہ گھر واپس آ گئیں اور اپنی سی۔ وی مختلف تعلیمی اداروں میں دینا شروع کی۔ 2013 ء میں ثمرہ اپنی تعلیمی قابلیت کی وجہ سے پاک فوج کے خصوصی تعلیمی ادارے میں نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ 2015 ء میں سپیشل ایجوکیشن کی طرف سے جونیئر ٹیچرز کی بھرتیاں شروع کی گئیں۔ ثمرہ نے پی۔ پی۔ ایس۔ سی کے ذریعے مقابلے کے امتحان میں حصہ لیا اور اوپن میرٹ میں کامیابی حاصل کی۔

ثمرہ کو سکول لانے لے جانے کی ڈیوٹی والد صاحب دیا کرتے تھے۔ والد صاحب کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے 2015 ء میں ثمرہ نے آرمی کے ڈرائیونگ سکول میں داخلہ لے لیا اور ایک ماہ کے مختصر سے عرصے میں گاڑی چلانا سیکھ لی۔ اب ثمرہ کسی کی مدد اور سہارے کے بغیر زندگی کے سارے امور خود ہی سر انجام دیتی ہیں۔

2019 ء میں سپیشل ایجوکیشن کی طرف سے سینئر ایجوکیٹر کی جابز شائع کی گئیں۔ ثمرہ نے دوبارہ پی۔ پی۔ ایس۔ سی کے ذریعے اپلائی کیا اوپن میرٹ میں ٹیسٹ دیا اور کامیابی حاصل کی۔ انٹرویو میں خاص بات یہ رہی کہ پینل میں خیبر پختون خواہ کے سابقہ آئی۔ جی ناصر خان درانی بیٹھے تھے۔ انٹرویو دوسری منزل پر تھا۔ ناصر خان درانی ثمرہ کی قابلیت اور حاضر دماغی سے بہت متاثر ہوئے۔ انٹرویو کے اختتام پر ثمرہ سے کہنے لگے کہ اگر انھیں ثمرہ کی مشکل کا پہلے پتہ ہوتا تو وہ انٹرویو لینے نیچے آ جاتے۔ سابقہ آئی۔ جی کے الفاظ نے ثمرہ کو بہت متاثر کیا۔

سکول سے آنے کے بعد ثمرہ خود کو اور والدین کو ٹائم دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ فارغ اوقات میں کتابیں پڑھتیں ہیں، پینٹنگ اور کیلیگرافی کرتی ہیں۔ ثمرہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ مقاصد کے حصول کے لئے دین اور دنیا سب کو بھلا دیتے ہیں۔ ملنا وہی کچھ ہوتا ہے جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے۔

ثمرہ کہتی ہیں کہ خصوصی افراد کو اپنا وقت سیکھنے اور سمجھنے میں صرف کرنا چاہیے۔ تعلیم اور ہنر ایسے ہتھیار ہیں جن کی مدد سے خصوصی افراد معاشرے میں نہ صرف اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments