گھر کی سختیوں اور معاشرے کے ناروا سلوک سے تنگ آ کر انمول نے ٹرانس جینڈرز سے دوستیاں بڑھانا شروع کر دیں۔ ایک دفعہ ایک خواجہ سرا نے انمول سے فیصل آباد میں لگنے والے میلے کا ذکر کیا۔ گھر کی پریشانیوں سے تنگ انمول نے میلے میں جانے کی فوری ہامی بھر لی۔ خواجہ سرا، انمول کو اپنے گھر لے گئی۔ کھانا کھلایا کپڑے پہننے کو دیے۔ اس کی محبت اور شفقت نے انھیں بہت متاثر کیا۔
میلے میں جانے کی خبر جیسے ہی والد صاحب تک پہنچی تو انھوں نے میلے کا رخ کیا۔ انمول کو دیکھتے ہی ان کا خون کھول اٹھا۔ انمول کو بالوں سے گھسیٹا اور مارنا شروع کر دیا۔ اتنا مارا کہ بے ہوش ہو گئیں۔ آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو تھانے میں پایا۔ ایس ایچ او کے دریافت کرنے پر انمول نے بتایا کہ تشدد کرنے والا شخص ان کا والد ہے، مار پیٹ کی کی وجہ میلے میں خواجہ سرا بن کر آنا ہے۔ ایس ایچ او نے انمول کو دو تھپڑ رسید کیے ، گالیاں دیں اور والد کے ساتھ چلتا کیا۔
Read more