کیا خواجہ سرا شادی کر سکتے ہیں؟

خدا نے کائنات کو بڑی خوبصورتی سے تشکیل دیا ہے۔ اس میں پائی جانے والی کوئی چیز بے مقصد نہیں۔ ہر زندہ چیز دنیا میں آتی ہے، جوان ہو کر نسل آگے بڑھاتی ہے، انھیں پروان چڑھا کر دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے۔ زمین پر زندگی کی شروعات سے یہ عمل اسی طرح جاری ہے۔ خاندان بنانا، اپنی نسل کو آگے بڑھانا فطری عمل ہے۔ فرض کریں کہ ہم کسی جاندار پر نسل آگے بڑھانے پر پابندی لگا دیتے ہیں۔

Read more

ایڈوکیٹ نشا راؤ (خواجہ سرا) کی ہمارے گھر آمد

نشا راؤ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں ایم۔ اے اور ایل۔ ایل۔ بی کیا ہے۔ ایل۔ ایل۔ ایم کر رہی ہیں۔ مستقبل میں بیرسٹر بننا چاہتی ہیں۔ وکالت کے ساتھ ٹرانس پرائیڈ کے نام سے این۔ جی۔ او بھی چلا رہی ہیں۔ جس میں خواجہ سراؤں کو مدد کے ساتھ مختلف ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نشا سکن کیئر کا کلینک بھی چلا رہی ہیں۔ نشا خواجہ سراؤں کے کیسز کی

Read more

خواجہ سراؤں کی نسل کشی کا منصوبہ

نسل کشی کا مطلب نسلی، علاقائی، مذہبی، لسانی یا کسی بھی چیز کو وجہ بنا کر مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے کسی گروہ، قبیلے، فرقے یا قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔ نسل کشی کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ موجودہ دور میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن اس کی شکل بدل چکی ہے۔ مغرب ہولو کاسٹ، بوسنیا، چائنہ، روانڈا، میکسیکو، رومن سلطنت، سلطنت عثمانیہ میں ہونے والی نسل کشی کی مہم کو دنیا کی سب سے خطرناک

Read more

رانی خان (خواجہ سرا) کے گھر میں عید کا دن

ہمارا بچپن راولپنڈی کے علاقے ٹینچ بھاٹہ میں گزرا۔ عید الاضحٰی کی آمد سے مہینہ قبل ہی بکرا دلاؤ کی رٹ لگا لیتے تھے۔ والد محترم سعودی ارامکو میں نوکری کرتے تھے۔ عید سے دو ہفتہ قبل تشریف لاتے اور آتے ہی بکرا دلا دیتے۔ غربت کا دور تھا کم ہی لوگ قربانی کیا کرتے تھے۔ ہمارا اٹھارہ سو، دو ہزار کا بکرا علاقے کا سب سے تگڑا بکرا ہوا کرتا تھا۔ دس پندرہ دن بکرے کی خوب خدمت کرتے۔

Read more

خواجہ سرا: گرو چیلا سسٹم کے حامیوں کا موقف کیا ہے

خواجہ سراء کمیونٹی اس قدر زیادتیوں کا شکار ہے کہ یہ عام لوگوں پر اعتبار نہیں کرتی۔ انھیں ہر شخص مفاد پرست جنسی بھیڑیا نظر آتا ہے۔ دو سال قبل میں نے ان کے حقوق پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تو مجھے کہا گیا آپ ہمارے پاس آئیں گے ہم سے معلومات لیں گے، ویڈیوز بنائیں گے پھر انھیں باہر بیچ کر پیسہ کمائیں گے۔ ”ہم سب“ کے تعاون سے لکھی گئی تحریروں کے نتیجے میں خواجہ سراء کمیونٹی

Read more

خواجہ سراؤں کے ڈیروں پر آنے والے غیر متعلقہ افراد

ہمارے ملک میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کے بارے میں اگر مجھ سے سوال کیا جائے تو میں حکومت اور میڈیا کو اس کا ذمہ دار قرار دوں گا۔ ماضی میں حکومتیں انسانی حقوق کو کسی کھاتے میں نہیں لاتیں تھیں اور میڈیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز نہیں اٹھاتا تھا۔ پرائیویٹ چینلز کی آمد کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ شاید اب انسانی حقوق کے حوالے سے بھی آواز اٹھائی جائے گی لیکن ایسا

Read more

خواجہ سراؤں میں گرو چیلہ کلچر سے آزادی کی تحریک

دنیا میں آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ انسان دنیا میں آزاد تشریف لاتا ہے۔ پھر مذہب اور معاشرتی حد بندیاں اسے قواعد و ضوابط کے پابند بناتے ہیں۔ آزادی کا مطلب رکاوٹوں کی غیر موجودگی ہے۔ یعنی رکاوٹوں کے نہ ہونے پر انسان کو آزاد تصور کیا جاتا ہے۔ انسان اس وقت آزاد ہوتا ہے جب وہ کسی کے ظلم و جبر کا شکار نہیں

Read more

کیا خواجہ سراؤں کو تفریح کا حق بھی حاصل نہیں؟

تفریح ہر انسان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ سیاحتی مقامات کی سیر انسان کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کی یاداشت مضبوط ہوتی ہے۔ بلڈپریشر نارمل سطح پر آ جاتا ہے۔ ماضی کی تلخیاں بھلانے میں مدد ملتی ہے۔ صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سیاحتی مقام کی سیر انسان کو ریفریش کر دیتی ہے۔ جینے کا نیا جذبہ اور ولولہ فراہم کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراء بچہ جیسے ہی مخالف جنس کی حرکتیں

Read more

ناممکن کو ممکن بنانے والے معذور نوجوان کی کہانی

میاں خرم شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ پولیو کا شکار ہیں۔ ایم۔ فل تک تعلیم حاصل کی ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں سترہویں گریڈ کے افسر ہیں۔ خصوصی خدمت ٹیم آف سپیشل پرسنز کے نام سے ایک این۔ جی۔ او چلا رہے ہیں۔ 2018 ء میں معذور افراد کی خدمت کے حوالے سے ”انسپرائرنگ سول ایوارڈ“ حاصل کر چکے ہیں۔ خصوصی خدمت کے نام سے ایک یوٹیوب چینل بھی چلا رہے ہیں۔ خرم کے والد صاحب سٹور چلاتے ہیں۔

Read more

خواجہ سرا: تیسری جنس یا کسی بیماری کا شکار ہیں؟

میں ویل چیئر پر بیٹھا ایک معمولی سا معذور شخص ہوں۔ انسانی مسائل پر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم رنگ، نسل، مذہب اور جنس سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کو قبول کر لیں گے تو ہمارے ملک کے بیشتر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ معذور افراد کے مسائل پر شاید سب سے زیادہ میں نے لکھا ہے اور میری تحریریں آگہی کا سب سے بڑا ذریعہ بنیں۔ حیرت کی بات یہ

Read more

لڑکیاں گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوتی ہیں؟

ہماری ایک دوست کے گھر ایک عورت پچیس سال سے برتن اور کپڑے دھو رہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب اس خاتون نے نیا نیا کام شروع کیا تھا۔ اس وقت اس کے دو نومولود بچے تھے۔ اس کا شوہر ٹیکسی چلاتا تھا۔ گھر کا گزارا نہ ہونے کی وجہ سے اس نے گھروں میں کام کاج شروع کر دیا۔ میاں ٹیکسی لے کر نکل جاتا وہ بیچاری کام کرنے نکل جاتی۔ اس طرح بچوں پر توجہ نہ ہونے

Read more

خواجہ سراؤں کو نفرت کی نگاہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟

میں ایک معذور شخص ہوں۔ ویل چیئر پر ہوتا ہوں۔ قلم کو دنیا کا سب سے مضبوط ہتھیار سمجھتا ہوں اور اس کے ذریعے معاشرے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے لکھنے کے سفر کا آغاز 2019 ء میں ”ہم سب“ سے ہوا۔ معذور افراد کے مسائل، انٹرویو اور ان کی زندگی کی کہانیوں پر اب تک میری سوا سو سے زائد تحریریں شائع ہو چکیں ہیں۔ میری تحریروں نے معاشرے میں معذور افراد سے متعلق پائی

Read more

جہیز کی تاریخ

جہیز کے نظام کی تاریخ چند سالوں یا چند صدیوں پر محیط نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا تعلق چند مذاہب، گروہوں اور قوموں سے ہے۔ جہیز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس کے واضح آثار بابل کی تہذیب، یونانیوں اور سلطنت روم سے جا کر ملتے ہیں۔ بڑے مذاہب میں جہیز کسی نہ کسی شکل میں لیا اور دیا جاتا ہے۔ لیکن ان مذاہب کے ماننے والے یہی دعوٰی کرتے ہیں کہ ان کے مذہب میں جہیز کے

Read more

کم از کم تنخواہ اور کام کے اوقات کو یقینی بنایا جائے

کم از کم تنخواہ کام کی وہ اجرت ہوتی ہے جس میں غریب خاندان اپنی ضروریات زندگی پوری کر سکتا ہے۔ کام کے کم سے کم اوقات کا مطلب کام کے لئے مختص وہ وقت ہے جس کے اندر رہتے ہوئے انسانی جسم بہترین پرفارمنس دے سکے۔ کم از کام تنخواہ اور کام کے اوقات کار کے بعد بھی کمپنی کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی مزدور کو کام کے لئے بہترین ماحول مہیا کرنا، کام کی جگہ میں ہوا،

Read more

صبا گل (خواجہ سرا) کے گھر ہماری افطار پارٹی

صبا گل کا نام ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے معتبر ناموں میں سے ایک ہے۔ کمیونٹی صبا گل کو ماں کہ کر پکارتی ہے۔ انڈس ہومز، ٹرانس الائنز اور تڑپ کی بانی و صدر ہیں۔ دس اپریل کی صبح ہمیں صبا جی کی کال آتی ہے۔ کہتی ہیں ثاقب بھائی آج کا روزہ آپ نے ہمارے غریب خانے میں کھولنا ہے ناں نہیں چلے گی۔ میں نے درخواست کی کہ میں چل نہیں سکتا میرے لیے کہیں بھی آنا جانا عذاب

Read more

احتجاج اور جنازے ”خواجہ سرا لیڈر“ پیدا کرتے ہیں

انسان کے زمین پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی دنیا میں انسانی حقوق کی جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ جو شاید انسان کے ساتھ ہی ختم ہوگی۔ زمانہ قدیم میں انسانی حقوق کی تھوڑی بہت پاسداری کرنے والی قومیں، دنیا کی عظیم سلطنتیں بنیں۔ آج کے جدید دور میں ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں وہی ملک شامل ہیں جہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے۔ خواجہ سرا اور معذور افراد

Read more

معذور افراد کو ہسپتالوں میں درپیش مسائل

جسمانی معذوری کی تین بنیادی اقسام ہیں۔ پہلی پیدائشی ہے جو مریض کو وراثت میں ملتی ہے۔ موروثی بیماریاں خاموش قاتل کی طرح ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتی رہتی ہیں اور دنیا میں آنے والے مہمانوں کو ہمیشہ کے لئے ان کے ساتھ جینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ایک انٹرویو کے دوران خاتون نے ہمیں بتایا کہ ان کے بچے کو مسکولر ڈسٹرافی چوتھی نسل سے منتقل ہوئی ہے۔ جسمانی معذوری کی دوسری اہم وجہ حادثات اور

Read more

مانسہرہ میں خواجہ سراؤں کے خلاف پولیس گردی کے بڑھتے واقعات

”ہم سب“ سے پہلے اخبارات میں زیادہ تر سیاست کے موضوع پر ہی لکھا جاتا تھا۔ ”ہم سب“ پر شائع ہوئی مختلف تحریروں کو پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اگر میں انسانی حقوق پر لکھتا ہوں تو ”ہم سب“ جیسی معتبر جگہ پر میری تحریر شائع ہو سکتی ہے۔ پھر ہم سب پر لکھنے والوں نے مجھے سپورٹ کیا اور ہم سب سے ہی میرا پہلا آرٹیکل شائع ہوا۔ یوں یہ سلسلہ شروع ہوا۔ میں خواجہ سراؤں اور

Read more

خوف کے سائے میں جیتی مسیحی برادری

چوڑا اور مسلی وہ سطحی الفاظ ہیں جو ہم اپنے ملک میں رہنے والی مسیحی برادری کے لئے بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں۔ پڑھے لکھے افراد کی محفلوں میں جب ہمارے پاس کسی مسیحی بھائی کے سوالوں کا جواب نہ ہو تو ہم اسی قسم کا اخلاق سے گرا کوئی لفظ استعمال کر کے اس کا منہ بند کرا دیتے ہیں۔ وہ بیچارا شرما یا مسکرا کر خاموش ہو جاتا ہے کیونکہ بات زیادہ بڑھتے پر ہم مسلمان ایک

Read more

آر۔ جے ماہین کی کہانی

مسرت تسلیم (ماہین) کا تعلق لاہور سے ہے۔ پولیو کا شکار ہیں۔ عالمہ ہیں۔ ایم۔ اے اسلامیات ہیں۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر اور فیشن ڈیزائننگ کے متعدد کورس بھی کیے ہیں۔ جامعہ نعیمیہ کی برانچ میں بارہ سال تک بطور ناظم اعلٰی رہیں۔ امریکن لائزٹف سکول میں پانچ سال آرٹ اینڈ کرافٹ کی ہیڈ رہیں۔ جبکہ آج کل لاکاس سکول میں بطور استاد قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر پڑھاتی ہیں۔ ماہین برطانیہ کے چینل گڈ مارننگ مانچیسٹر پر مارننگ

Read more

پٹرول بم حقیقی معنوں میں معذور افراد پر گرتا ہے

2017 ء کی مردم شماری سے قبل مجھ سمیت ملک بھر کے معذور افراد خوش تھے کہ شاید ہمیں بھی اس میں شمار کیا جائے گا۔ مردم شماری کے اعداد و شمار حکومت اور دنیا کے سامنے آنے کے بعد حکومت معذوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس وقت کی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ایسا کھیل کھیلا جس کی مثال نہیں ملتی۔ معذور افراد کو مردم شماری کے عمل

Read more

بارہ زبانوں میں گانے والا باصلاحیت نابینا نوجوان

نزاکت علی شاد کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ قوت بصارت سے محروم ہیں۔ اسلام آباد ماڈل پوسٹ گریجویٹ کالج سے انگریزی میں بی۔ ایس کر رہے ہیں۔ بچپن سے ہی نعت خوانی اور گانا گانے کا شوق ہے۔ بارہ زبانوں پر عبور حاصل ہے اور ان سب زبانوں میں گانا گاتے ہیں۔ ان بارہ زبانوں میں اردو، انگریزی، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، کشمیری، سرائیکی، بنگالی، مراٹھی، تامل اور تلگو شامل ہیں۔ شوق کی تکمیل کے لئے مختلف اکیڈمیز سے میوزک

Read more

معذوری مجبوری نہیں بلکہ مختلف انداز زندگی کا نام ہے

غلام عباس حیدر کا تعلق ملتان سے ہے۔ پولیو کا شکار ہیں۔ ایم۔ اے سائیکالوجی ہیں۔ بہا الدین زکریا یونیورسٹی میں بطور جونیئر کلرک کام کر رہے ہیں۔ حافظ قرآن ہیں۔ تیرہ سال کی عمر میں قرات کا پہلا صوبائی ایوارڈ جیتا اور کم عمر ترین قاری کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس کے بعد گیارہ سال مسلسل یہ ایوارڈ اپنے نام کرتے رہے۔ درزی کا کام بھی سیکھا ہے۔ اس کے علاوہ ویل چیئر کرکٹ کے نیشنل لیول کے

Read more

خواجہ سرا کا مفتی صاحب سے زبردست ٹاکرا

معذور افراد کے حقوق کے لئے بننے والے ابتدائی قوانین جنگوں میں زخمی اور معذور ہونے والے فوجیوں کے لئے بنے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں لاکھوں افراد معذوری کا شکار ہوئے۔ ان معذور افراد کو یہ قوانین نا کافی نظر آئے تو یہ احتجاج کے لئے پھر سڑکوں پر نکل آئے۔ ان معذور افراد نے احتجاجوں اور دھرنوں کے ذریعے اپنے حقوق منوانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ 1944 ء میں برطانیہ نے نوکریوں میں معذور

Read more

ٹانگیں کٹنے کے بعد کچھ کرنے کا جذبہ جنون میں تبدیل ہو گیا

سدرہ سلطان ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔ پانچ سال کی عمر میں سدرہ روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہوئیں۔ جس کے نتیجے میں ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ تیرہ سال کے علاج کے بعد 2010 ء میں دوسری ٹانگ بھی کاٹنا پڑی۔ سدرہ نے بی۔ ایڈ، ایم۔ اے انگلش اور اردو کیے ہیں۔ راولپنڈی کے حبیب بینک کی برانچ میں جاب کرتیں ہیں۔ پشاور روڈ پر واقع ڈاکٹر نوشابہ ملک کے آئی۔ ایل

Read more

کیا میڈیا خواجہ سراؤں کے حقوق کو انسانی حقوق نہیں سمجھتا؟

میں اپنی ہر صبح کا آغاز موبائل میں موجود خواجہ سراؤں کو صبح بخیر کا پیغام بھیج کر کرتا ہوں۔ میرے ایک میسج کے بدلے میں مجھے خواجہ سراء کمیونٹی سے بہت سی دعائیں مل جاتی ہیں۔ خواجہ سراء کمیونٹی ہمارے ملک کی محروم طبقات کی کمیونٹیز میں سب سے چھوٹا گروپ ہے۔ 2017 ء کی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو شامل کیا گیا اور ملک بھر میں ان کی کل تعداد اکیس ہزار سات سو چوہتر ظاہر کی

Read more

خصوصی افراد کے حقوق کو بھی انسانی حقوق سمجھا جائے

دبیرہ ملک عمر کوٹ سندھ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہیں۔ چھوٹے بھائی بہنوں کے بہترین مستقبل کے لئے سندھ چھوڑ کر اسلام آباد کے نواحی علاقے میں رہائش اختیار کی۔ سندھ سے ایف۔ ایس۔ سی کی۔ پندرہ سال ٹیوشن پڑھا کر گھر کا خرچ چلایا۔ اسلام آباد میں واقع پراپرٹی کی کمپنی ”نی اوم مارکیٹنگ“ میں بطور انویسٹمنٹ کنسلٹنٹ کام کر رہی ہیں۔ دبیرہ کے والد صاحب کاشتکار ہیں۔ خاندان پانچ بہنوں اور ایک بھائی پر

Read more

دس سالہ خود ساختہ قید کے بعد سماجی کارکن بننے والے خصوصی نوجوان کی کہانی

محمد احسان ملک کا تعلق سناواں، ضلع مظفر گڑھ سے ہے۔ حرام مغز کی چوٹ کا شکار ہیں۔ سماجی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اپنے علاقے میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے مختلف دیہاتوں میں ستر ہینڈ پمپ لگوا چکے ہیں۔ جن سے ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ خصوصی افراد میں دو سو سے زائد ویل چیئرز اور مستحق خواتین میں سو کے لگ بھگ سلائی مشین بھی تقسیم کر چکے ہیں۔ کرونا

Read more

والدہ، بھائی کی جدائی اور معذوری بھی حوصلے پست نہ کر سکے

اقراء بہاولپور کے چھوٹے سے گاؤں ڈیرہ مستی سے تعلق رکھتی ہیں۔ پولیو کا شکار ہیں۔ راولپنڈی کی رفاء یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں بی۔ ایس کر رہی ہیں۔ اقراء مشہور سماجی کارکن ڈاکٹر نوشابہ کے ریہیبلیٹیشن سینٹر میں رہتی ہیں، جو ان کی فیس اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرتی ہیں۔ چھوٹی سی عمر میں اقراء کو بڑے بڑے صدمے برداشت کرنا پڑے۔ لیکن ہمت نہ ہاری۔ سپورٹس میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ 2021 ء میں خیبرپختون خواہ میں

Read more

خصوصی خواتین کو نوکری نہ ملے تو اپنا کاروبار کریں

اسماء کا تعلق لاہور سے ہے۔ جی۔ بی سینڈروم کے مرض کا شکار ہیں۔ سیدھا ہاتھ اور بائیں ٹانگ قدر نارمل ہیں جبکہ بایاں ہاتھ اور سیدھی ٹانگ کمزوری کا شکار ہیں۔ ایم۔ ایس۔ سی اکنامکس اور بی۔ ایڈ تک تعلیم حاصل کی ہے۔ سکول، کالج اور بنک میں ملازمت کرتی رہی ہیں۔ ”پیور آرگینک حب“ کے نام سے قدرتی اجزاء سے بنے ہیئر آئل کا بزنس کر رہی ہیں۔ جسے ملک بھر میں بھر پور پذیرائی ملی ہے۔ والد

Read more

پڑھے لکھے خصوصی افراد کہاں جائیں؟

رابعہ کا تعلق لاہور سے ہے۔ پولیو اور حادثے کی وجہ سے ویل چیئر پر ہیں۔ ایم۔ بی۔ اے، ایم۔ ایڈ اور بی۔ ایڈ تک تعلیم حاصل کی ہے۔ انشورنس کمپنی میں ملازمت کر رہی ہیں۔ شام کے وقت بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ کیلی گرافی اور پینٹنگ کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ آرٹ کی نمائشوں اور مقابلوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔ والد صاحب شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے۔ تین ماہ قبل خالق حقیقی سے جا ملے۔

Read more

رسائی خصوصی لڑکیوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے

ارم ارشد کا تعلق لاہور سے ہے۔ پولیو اور سکالی اوسس کا شکار ہیں۔ فلاسفی میں ایم۔ اے کیا ہے۔ پی۔ سی۔ آئی۔ آر لیبارٹری لیب کمپلیکس میں سترہیویں گریڈ میں بحیثیت انڈسٹریل لائزن افسر کام کر رہی ہیں۔ ارم اول سے دسویں جماعت تک سکول میں ٹاپ کرتی رہی ہیں۔ آٹھویں اور دسویں جماعت میں سکول سے بہترین سٹوڈنٹ کا میڈل بھی حاصل کر چکی ہیں۔ کالج کی تعلیم میں بھی ہمیشہ فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ ایم۔ اے کرنے

Read more

انگریز ڈاکٹرز نہ ملتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا

مطیع اللہ خان نیازی ضلع میاں والی کی تحصیل عیسٰی خیل سے ہے۔ سپائنل کارڈ انجری کا شکار ہیں۔ ایم۔ اے اسلامیات، سی۔ ٹی اور بی۔ ایڈ بھی ہیں۔ گورنمنٹ سکول میں پندرہویں گریڈ کے ٹیچر ہیں۔ تعلیمی سفر میں سکول کی طرف سے بہترین استاد کا ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی۔ ای۔ او کی طرف سے بھی لیٹر آف ایپریسی ایشن حاصل کر چکے ہیں۔ سکول کی ڈسپلنری کمیٹی کے سینئر رکن ہیں۔ ڈسپلن کے

Read more

کینسر مجھے ختم سکتا ہے، ہرا نہیں سکتا۔ سفینہ

سفینہ کا تعلق گجرات سے ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کے کینسر میں مبتلاء ہیں۔ ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں سفینہ کومہ میں جا سکتی ہیں یا پھر مستقل بنیاد پر معذوری کا شکار ہو سکتی ہیں۔ سفینہ کینسر کے ساتھ زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ویل چیئر پر ہیں۔ راولپنڈی کے ایک انڈیپینڈنٹ لیونگ سینٹر میں رہتی ہیں۔ جہاں لڑکیوں کو معذوری کے ساتھ آزادانہ جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہیں۔ اوپن یونیورسٹی سے بی۔ اے کر رہی ہیں۔ کینڈین امیگریشن فرم میں بطور ایڈمنسٹریٹر کام کر رہی ہیں۔ دیا ویلفیئر میں ٹریننگ کارڈینیٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔

Read more

خصوصی لڑکیوں کو میک اپ انڈسٹری کی طرف لانا چاہتی ہوں

صائمہ کا تعلق لاہور سے ہے۔ سپائنل انجری کا شکار ہیں۔ میک اپ آرٹسٹ ہیں۔ دبئی میں طویل عرصہ بطور فری لانس میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ صائمہ کا شمار دبئی کے بہترین میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔ یو۔ اے ای میں کرائے لون  نے میک اپ کا انٹرنیشنل مقابلہ منعقد کروایا۔ دس بہترین آرٹسٹس میں صائمہ کا نام نمایاں تھا۔ صائمہ مارکیٹنگ کے شعبے میں خاصی مہارت رکھتی ہیں۔

Read more

خصوصی لڑکیوں کے احساسات اور جذبات عام لڑکیوں جیسے ہی ہوتے ہیں

آمنہ حامد کا تعلق کراچی سے ہے۔ وائرل انفیکشن نے آمنہ کی قوت سماعت، بینائی اور چلنے کی صلاحیت کو متاثر کیا۔ آمنہ کی قوت سماعت اور بینائی میں بہت بہتری آ چکی ہے لیکن سپائنل کارڈ کی سوزش کی وجہ سے ویل چیئر پر ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن کے ایکسٹرنل پروگرام سے بیچلرز کیا ہے۔ امریلی سٹیل میں بطور سٹریٹجک کونٹینٹ ڈیویلپر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ کتابیں پڑھتی ہیں، کالمز لکھتی ہیں اور فوڈ بلاگنگ کرتی ہیں۔

Read more

ساری زندگی بھی بلا معاوضہ پڑھانا پڑا تو پڑھاتی رہوں گی

اللہ بچائی چھانیو کا تعلق فقیرکی ضلع سانگھڑ سے ہیں۔ پولیو کا شکار ہیں۔ بی۔ اے، بی۔ ایڈ ہیں۔ سولہ سال سے سرکاری سکول میں بلا معاوضہ پڑھا رہی ہیں۔ حکومت سندھ، انسانی حقوق کے کمیشن اور سکول کی طرف سے متعدد ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔ اللہ بچائی کو نعتیں لکھنے اور میلاد پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ سلائی، کڑھائی میں خاصی مہارت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ شام کے وقت بچوں کو مفت ٹیوشن بھی پڑھاتی ہیں۔

Read more

مستقبل ویل چیئر پر گزرنا تھا، شاید اسی لیے بڑے کام بچپن میں ہی کر لیے

ارم خان کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ حرام مغز کی چوٹ کا شکار ہیں۔ سوشل ورک میں ایم۔ اے کیا ہے۔ زندگی کا مشن انسانیت کی خدمت ہے۔ ڈی۔ سی ویلفیئر کی وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ فطرت کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں۔ پودوں کے پاس بیٹھنا، پرندوں سے باتیں کرنا پسند کرتی ہیں۔ ارم کے والد صاحب کا انتقال آٹھ ماہ قبل ہوا، ریٹائرڈ انجینئر تھے۔ جبکہ والدہ صاحبہ چودہ سال قبل خالق حقیقی سے جا ملیں۔ خاندان تین بہنوں

Read more

خصوصی کھلاڑی مایوسی اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں

وقاص سعید کا تعلق گجرانوالہ کے شہر ورگاں سے ہے۔ پولیو کا شکار ہیں۔ اسلامیات میں ایم۔ اے کیا ہے۔ پرائیویٹ سکول میں پڑھاتے ہیں۔ سکول کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ پاکستان ویل چیئر کرکٹ ٹیم میں آل راؤنڈر کے طور پر کھیلتے ہیں۔ تین نصف سینچریاں اور پچاس وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ پچاس رنز کے ساتھ چار وکٹیں بہترین پرفارمنس ہے۔ میچ کراچی میں کھیلا گیا جو میرپور کی ٹیم کے خلاف تھا۔

Read more

خصوصی افراد تعلیم کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں

ثمرہ ارشد کا تعلق جہلم سے ہے۔ مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہیں۔ ہیومن ڈیویلپمنٹ اینڈ چائلڈ سائیکالوجی اور سپیشل ایجوکیشن میں ایم۔ اے ہیں۔ سماعت سے محروم بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ جہلم کے خصوصی تعلیمی ادارے میں سترہویں گریڈ میں فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ پینٹنگ، کیلی گرافی اور کتابیں پڑھنے کی شوقین ہیں۔ والد صاحب نجی بنک سے اے۔ وی۔ پی ریٹائرڈ ہیں۔ والدہ صاحبہ سرکاری سکول میں ٹیچر تھیں۔ خاندان دو بھائی اور دو بہنوں پر مشتمل

Read more

کیا خواجہ سرا گناہ والی زندگی پسند کرتے ہیں؟

نادرہ خان خواجہ سرا کمیونٹی کی سب سے زیادہ نڈر اور بے باک لیڈر ہیں۔ ہزارہ ٹرانس جینڈرز ایسوسی ایشن کی بانی و صدر ہیں۔ تھیٹر اور فلموں میں کام کرچکی ہیں۔ نادرہ کی نئی فلم  ”مشن“ آنے والے چند دنوں میں ریلیز ہونے والی ہے۔ نادرہ شادی بیاہ کے فنکشنز میں پرفارم کر کے اپنا گزر بسر کرتی ہیں۔ لیکن لیڈر بننے اور کرونا وبا کے بعد نادرہ کے ذرائع آمدن میں خاصی کمی آئی ہے جس کی وجہ

Read more

پھر کہتا ہوں کہ عورت مارچ انسانی حقوق کی تحریک نہیں

متنازع موضوعات کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ لکھنے والے کا موقف درست ہو یا نہیں، لیکن پڑھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ اس کی موافقت یا مخالفت میں ضرور کھڑا ہو جاتا ہے۔ میری آج کی تحریر اگر خواتین کے حقوق کے خلاف ہوئی تو یقیناً بہت سے لوگ میری مخالفت میں کمنٹ کریں گے بلاگز لکھیں گے جبکہ خواتین کی آزادی کے مخالف افراد میرا ساتھ دینے کے لئے آگے بڑھیں گے۔ صورتحال جیسی بھی ہوگی نتیجہ شہرت

Read more

جنید بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی-ایچ-ڈی کے خواہش مند ہیں

جنید کا تعلق چیچیاں میرپور آزاد کشمیر سے ہے۔ دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ میٹرک میں اے جے کے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایف اے میں اے جے کے بورڈ میں ٹاپ کر کے والدین کا سر فخر سے بلند کیا۔ آج کل یونیورسٹی آف گجرات سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں گریجویشن کر رہے ہیں۔ مستقبل میں سی ایس ایس اور بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی ایچ ڈی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جنید کی پیدائش

Read more

مہناز یتیم اور لاوارث بچوں کیلئے شیلٹر ہوم بنانے کی خواہش مند ہیں

مہناز کے والد صاحب محکمہ انکم ٹیکس سے ریٹائرڈ ہیں۔ والدہ صاحبہ وفات پا چکی ہیں۔ خاندان دو بھائی اور دو بہنوں پر مشتمل ہے۔ بڑے بھائی انجینئر، چھوٹے فزیو تھراپسٹ، جبکہ بہنوں نے بھی اعلٰی تعلیم حاصل کی ہے۔ چاروں شادی شدہ ہیں اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

مہناز کی زندگی بڑی حد تک نارمل گزری۔ کھیلنا، کودنا، دوڑنا شیطانیاں کرنا بچوں سے ملتا جلنا، بس فرق یہ تھا کہ نارمل بچوں کی طرح بھاگ نہیں سکتی تھیں۔ کھیلتے کھیلتے جلدی تھک جاتی تھیں۔ اونچا بولنے اور شور مچانے میں دقت محسوس کرتیں۔ نویں جماعت میں مہناز ایک بار پندرویں سیڑھی سے گریں۔ گریں بھی کچھ اس طرح کہ ہر سیڑھی کمر کو زخمی کرتی چلی گئی۔ اس واقعے کے بعد مہناز سانس لینے میں دشواری محسوس کرنے لگیں۔ چیک اپ کے بعد پتہ چلا کہ دل کے ایک وال میں کچھ گڑبڑ ہے۔ خیر ڈاکٹر نے دوائیاں دے دیں اور نصیحت کی کہ زیادہ تھکنے والا کام نہ کیا کریں۔ اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ مہناز نے ڈاکٹر کی ہدایت پر سختی سے عمل کیا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ مسئلہ دوائیوں سے ہی حل ہو گیا۔

Read more

شگفتہ سماعت سے محروم بچوں کے کورس کو سمارٹ بنانا چاہتی ہیں

شگفتہ کی پیدائش کے وقت والدین میں ناچاقی چل رہی تھی۔ جس کا اختتام علیحدگی کی صورت میں ہوا۔ شگفتہ پیدائشی طور پر نارمل تھیں۔ پولیو کی ویکسی نیشن نہ ہونے کی وجہ سے چھ ماہ کی عمر میں پولیو کے مرض کا شکار ہو گئیں۔ دادا، دادی کو شگفتہ سے اتنا پیار تھا کہ والد صاحب کی ضد کے باوجود ان کی پرورش کی ذمہ داری لے لی اور پھر بھر پور طریقے سے نبھانا شروع کر دی۔ دادا، دادی کے مشن میں کنوارے چاچا بھی شامل ہو گئے۔ جنھوں نے شگفتہ کو سگی اولاد سے بڑھ کر چاہا اور ابھی تک ان کی تمام تر ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ شگفتہ چاچا کو پاپا اور زندگی کی سب سے بڑی انسپریشن قرار دیتی ہیں۔

Read more

صائمہ "رانیاز کلیکشنز” کو ملک کا مقبول ترین برینڈ بنانا چاہتی ہیں

صائمہ اقبال کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ خصوصی خاتون ہیں۔ رانیاز کلیکشنز کے نام سے اپنا آن لائن بزنس چلا رہی ہیں۔ انسیپشن اور کوئٹہ آن لائن کے ساتھ انسانی حقوق کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ صائمہ کے والد صاحب آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ ریلوے پولیس سے بھی وابستہ رہے۔ جب کہ والدہ صاحبہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔ والدہ صاحبہ پڑھائی کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کی بڑی حامی رہی ہیں۔ ان کا

Read more

مجاہد چولستان کو علم و ہنر کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں

مجاہد کا تعلق بستی محمد پور موضع گلپور طلبانی، تحصیل خیر پورٹا میوالی، ضلع بہاول پور سے ہے۔ عمر تئیس سال، مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہیں۔ شدید مالی مشکلات کے باوجود ”چولستان اسپیشل پرسنز ایجوکیشن سینٹر“ نامی سکول کے ذریعے ستر بچوں کو مفت تعلیم فراہم رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ”چولستان سپیشل پرسنز آرگنائزیشن“ کے ذریعے اپنے علاقے کے خصوصی افراد کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔

مجاہد کے والد صاحب جاوید احمد حجام کے کام اور مزدوری کے ذریعے گھر کا نظام چلا رہے ہیں۔ خاندان پانچ بھائی، بہنوں پر مشتمل ہے۔ دو بہنیں نارمل اور شادی شدہ ہیں، جبکہ مجاہد ان کے چھوٹے بھائی زبیر اور ایک بہن مسکولر ڈسٹرافی جیسے موذی مرض کا شکار ہیں۔

Read more

کوئٹہ کی عائشہ طویل ڈپریشن سے نکل کر امن کی سفیر بن گئیں

عائشہ کا تعلق بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے ہے۔ پست قامت ہیں، کائفوٹک مرض لاحق ہے۔ معاشرتی رویوں سے تنگ آ کر عائشہ نے اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا۔ بارہ سالہ خودساختہ قید کے بعد جب گھر سے باہر نکلیں تو امن کی سفر بن گئیں۔ والد صاحب قومی سلامتی کے ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ خاندان آٹھ بھائی، بہنوں پر مشتمل ہے۔ عائشہ کے علاوہ سب شادی شدہ ہیں۔ بڑے بھائی پیپسی میں ملازم ہیں، دوسرے

Read more

خصوصی افراد کو ماڈلنگ کا پلیٹ فارم فراہم کرنے والے وحید اللہ جان کی کہانی

وحید اللہ جان کا تعلق خیبر پختون خوا کے ضلع مردان سے ہے۔ عمر پینتیس سال ہے۔ مسکولر ڈسٹرافی کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ تعلیم اور وسائل کی کمی کے باوجود وحید نے ایسا منفرد کام کر ڈالا جس کی مثال نہیں ملتی۔ وحید نے سوشل میڈیا پر ”ویل ماڈل پاکستان“ کے نام سے ایک پیج بنایا۔ اس پیچ کو خصوصی افراد کی طرف سے اتنی پذیرائی ملی کہ اب تک اس پیج پر ملک اور دنیا بھر سے تین ہزار سے زائد افراد باہم معذوری ماڈلنگ کے جوہر دکھا چکے ہیں۔

Read more

ایبٹ آباد کی خصوصی سپورٹس گرل زینب نور کی کہانی

زینیب نور کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ انھوں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ اردو لٹریچر میں ایم اے کیا۔ ویل چیئر ریس کے چھ بڑے ٹورنامنٹ اپنے نام کیے۔ ایبٹ آباد میں خصوصی لڑکیوں کی کرکٹ ٹیم بنائی جو تین بڑے ٹورنامنٹ اپنے نام کر چکی ہے۔ زینب کی زبردست کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ( 3 دسمبر 2020 ) خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر انھیں خدیجۃ الکبرٰی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ زینب متعدد چھوٹے بڑے ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔

Read more

ساہیوال کی خواجہ سرا انمول بخاری کی درد بھری کہانی

گھر کی سختیوں اور معاشرے کے ناروا سلوک سے تنگ آ کر انمول نے ٹرانس جینڈرز سے دوستیاں بڑھانا شروع کر دیں۔ ایک دفعہ ایک خواجہ سرا نے انمول سے فیصل آباد میں لگنے والے میلے کا ذکر کیا۔ گھر کی پریشانیوں سے تنگ انمول نے میلے میں جانے کی فوری ہامی بھر لی۔ خواجہ سرا، انمول کو اپنے گھر لے گئی۔ کھانا کھلایا کپڑے پہننے کو دیے۔ اس کی محبت اور شفقت نے انھیں بہت متاثر کیا۔

میلے میں جانے کی خبر جیسے ہی والد صاحب تک پہنچی تو انھوں نے میلے کا رخ کیا۔ انمول کو دیکھتے ہی ان کا خون کھول اٹھا۔ انمول کو بالوں سے گھسیٹا اور مارنا شروع کر دیا۔ اتنا مارا کہ بے ہوش ہو گئیں۔ آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو تھانے میں پایا۔ ایس ایچ او کے دریافت کرنے پر انمول نے بتایا کہ تشدد کرنے والا شخص ان کا والد ہے، مار پیٹ کی کی وجہ میلے میں خواجہ سرا بن کر آنا ہے۔ ایس ایچ او نے انمول کو دو تھپڑ رسید کیے ، گالیاں دیں اور والد کے ساتھ چلتا کیا۔

Read more

تربت کے بے روزگار خصوصی آرٹسٹ احسان رشید کی کہانی

احسان رشید کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ علاقے پسنی سے ہے۔ حرام مغز کی چوٹ کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں تھری ڈی آرٹ جیسی جدید پینٹنگ متعارف کروانے کے بعد بھی احسان مستقل نوکری اور کام سے محروم ہیں۔

احسان کا خاندان چھ بھائی اور پانچ بہنوں پر مشتمل ہے۔ بچپن سے ہی تخلیقی ذہن کے مالک ہیں۔ کھلونوں کو کھولنا، کھول کر جوڑنا ہر وقت اسی جوڑ توڑ میں لگے رہنا۔ پنسل سے اتنے اعلیٰ سکیچ بناتے کہ لوگ دنگ رہ جاتے۔

Read more

بزرگ خواجہ سرا علیشا رضوی کی دکھ بھری داستان‎

سید محسن علی شاہ رضوی عرف علیشا رضوی پچپن سالہ بیمار اور بے یارو مدد گار خواجہ سرا ہیں۔ جن سے خاندان والوں نے بچپن میں ناتا توڑ لیا تھا اور معاشرے نے کبھی قبول ہی نہیں کیا۔ چند ماہ قبل شوگر کی وجہ سے علیشا کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی جس کی وجہ سے مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ اس وقت علیشا اللہ سے عزت کی موت کی دعا مانگ رہی ہیں کیونکہ نہ حکومت ان

Read more

خواجہ سراؤں کے ساتھ پولیس گردی کا سدباب ضروری ہے

مخنث کو عام زبان میں ٹرانس جینڈرز، ٹرانس سیکسول، ہیجڑہ، خواجہ سرا یا چھکا بھی کہا جاتا ہے۔ ٹرانس جینڈرز کو سمجھنے کے لئے سس سیکس کو سمجھنا ضروری ہے۔ سس سیکس ایسے افراد کو کہا جاتا ہے جن کے جسم اور دماغ میں مطابقت پائی جاتی ہو، مطلب وہ جیسے دکھتے ہوں ان کا باڈی پیٹرن جیسا نظر آتا ہو یہ اسی طرح کی سوچ بھی رکھتے ہوں اور اسی طرح کے کام بھی کرتے ہوں۔ ٹرانس جینڈرز تیسری

Read more

حافظ آباد کی خصوصی شیرنی کی کہانی

نام: رخسانہ بھٹی تعلیم: 1۔ بی اے 2۔ ڈاکٹر آف ہومیوپیتھی این۔ جی۔ او: بانی و صدر ریسپیکٹ فار سپیشل پرسنز رہائش: حافظ آباد (سوئیانوالہ) خاندانی پس منظر: والد صاحب لائیو سٹاک ڈاکٹر تھے۔ والدہ صاحبہ گھریلو خاتون تھیں۔ خاندان دو بہنوں اور چار بھائیوں پر مشتمل ہے۔ ایک بھائی پاکستان آرمی میں افسر ، دوسرے ویٹنری ڈاکٹر، تیسرے بھائی پی ٹی سی ایل جبکہ چوتھے بھائی ایس او ایس میں اکاؤنٹس افسر ہیں بڑی بہن گورنمنٹ سکول ٹیچر ہیں۔

Read more

عورت مارچ انسانی حقوق کی تحریک نہیں ہے

میری ماضی کی تمام تحریریں نابینا، سماعت سے محروم، ٹرانس جینڈرز اور افراد باہم معذوری کے بنیادی انسانی حقوق پر لکھی گئی ہیں۔ میں پاکسان میں سماعت سے محروم افراد کے لئے ایسی ترقی یافتہ اشارتی زبان بنانا چاہتا ہوں جس کی مدد سے انھیں ملک کے کسی حصے میں پڑھائی اور روزگار کے حوالے سے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نابینا افراد کے لئے ایسا ماحول تشکیل دینا چاہتا ہوں جہاں انھیں نوکری کے حصول کے لئے ڈنڈے

Read more

میں عورت مارچ کے خلاف کیوں ہوں؟

2018ء میں، میں عام خواتین اور خصوصی خواتین کے حقوق پر باقاعدگی سے لکھنے کے لئے تیاری کر رہا تھا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور انڈیا میں خواتین کے حقوق کے لئے چلنے والی تحریکوں کا جائزہ لیا۔ ابھی ناچیز نے انسانی تاریخ کی با اثر ترین خواتین کی آپ بیتیوں کا مطالعہ شروع کیا ہی تھا کہ اچانک 2018ء میں عورت مارچ کی تحریک نے زور پکڑنا شروع کر دیا۔ خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی خواتین اور

Read more

ہمہ گیر اشارتی زبان ہی سماعت سے محروم افراد کے بیشتر مسائل حل کر سکتی ہے

وطن عزیز کے خصوصی افراد کو دنیا اور خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے جس کی بنیادی وجہ خصوصی افراد کے درست اعداد و شمار کا نہ ہونا ہے۔ 1998 کی مردم شماری میں خصوصی افراد کو ملک کی آبادی کا دو اشاریہ تین آٹھ فیصد ظاہر کیا گیا۔ جبکہ 2017 کی مردم شماری میں شماریات کے فارم سے خصوصی افراد کا نام ہی نکال دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر مردم شماری میں خصوصی

Read more

باہمت فرزانہ کی کہانی

نام: فرزانہ کوثر ٹوانہ رہائش: اسلام آباد (گاؤں : خوشاب مٹھہ ٹوانہ) تعلیم: ا۔ ایم ایس سی میتھس ب۔ ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز شعبہ: ریسرچ افسر (بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز) ‎خاندانی پس منظر: والدین کا تعلق مٹھہ ٹوانہ کے ایک سادہ زمیندار خاندان سے ہے۔ والد صاحب مختلف کاروبار سے وابستہ رہے۔ خاندان پانچ بہنوں پر مشتمل ہے۔ والدین کو تعلیم سے اتنا لگاؤ تھا کہ بچیاں جب سکول جانے کی عمر کو پہنچیں تو گاؤں کو خیر آباد

Read more

خواجہ سراؤں کا والی وارث کون؟

چھ ماہ قبل میں نے سوشل میڈیا پر ”خواجہ سرا“ کے نام سے ایک اکاؤنٹ دیکھا۔ اسے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی اور اس طرح ہماری دوستی ہو گئی۔ میں بڑے شوق سے اس کی پوسٹس پڑھتا اور ان پر خیالات کا اظہار کرتا۔ ایک دن میں نے اس خواجہ سرا سے کہا کہ میں آپ کا انٹرویو لینا چاہتا ہوں برائے مہربانی اپنا نمبر ارسال کر دیں۔ اس نے نمبر تو دے دیا لیکن میری کال کبھی اٹینڈ نہیں کی۔ میرے

Read more

اشاروں کی زبان کی تاریخ بولنے والی زبان سے زیادہ پرانی ہے

آصف امین فاروقی نے بیچلر آف گرافک ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ حرکت پذیری، فوٹوشاپ اور متعدد کمپیوٹر کورسز کر رکھے ہیں۔ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ سماعت سے محروم افراد کے سنٹر آف ایکسی لینس میں فنانس ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اشاروں کی زبان کے ریسرچ گروپ میں گرافک ڈیزائنرکے طور پر (جو پاکستان ایسوسی ایشن آف دا ڈیف کا ایک پروجیکٹ ہے) بھی تعینات ہیں۔ پاکستان

Read more

ندیم صاحب میرے ہیرو ہیں

ندیم بھائی ’مسکولر ڈسٹرافی‘ کا شکار ہونے کی وجہ سے نا اٹھ سکتے نا بیٹھ سکتے نا چل سکتے اور نا ہی ہل سکتے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے با وجود وہ ملک کی نامور آئل کمپنی میں مارکیٹنگ افسر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں، ای پی ڈبلیو ڈی کے نام سے اپنی این جی او بھی چلا رہے ہیں، خصوصی افراد کے حقوق کے سلسلے میں ہونے والی میٹنگز اور سیمینارز کا حصہ بھی بنتے

Read more