”تین نسلیں“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے اپنی نسلوں کو بہت تباہ کیا ہے، آج کا انسان دوسرے انسان کو یہ تسلی دینے سے قاصر ہے کہ وہ جیے تو کیوں جیے، وہ سوالات کے جوابات دینے میں کم علم ہے کہ انسان کہاں سے آیا کہاں چلا گیا، آج کی نسل اس پر غور کرنے کے درپے نہیں، اس آسائش اور پرہنگم زندگی میں ہم زندگی سے لمحے کشیدنے میں ناکام رہے، ہمیں بارش اچھی لگتی ہے نہ ہوا، کہ کچھ لمحوں کے بعد سکون زائل ہو جاتا ہے۔

ہم دھند کے متوالے ہیں لیکن اس میں بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا، ہم نے آنے والی نسلوں کو نہیں بتایا کہ زندگی کانٹا ہی نہیں خوش رنگ پھول بھی ہو سکتی ہے جس سے دوسروں کی زندگیاں مہکتی ہیں، ہم انہیں آسمان دکھاتے رہے لیکن یہ نہ بتا سکے کہ یہ خلا ہے، وہ خلا جو ہماری زندگیوں میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی قائم رہتا ہے، بحیثیت قوم ہم نے اپنی اگلی نسلوں تک نفرت، خود پرستی، دولت کی ہوس اور خود کو آگے بڑھانے، آگے لے جانے کی لگن قائم رکھی مگر یہ بتانا بھول گئے کہ احساس بھی کوئی شے ہے جو انسانیت کی بنیاد ہے۔

گزشتہ صدی سے نکل کر جیسے ہی دور اگلی صدی میں داخل ہوا ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ہر شخص آگے نکلنے کے درپے ہو گیا۔ رشتوں کی جگہ مشینوں اور نت نئی ایجادات نے لے لی، اب ترقی میں ایسی جدت آئی کہ ہم نرمی کو یاد نہ رکھ سکے، سخت چیزیں لازم ہیں کہ زمین کو قائم رکھنے کے لئے پہاڑوں کا قائم رہنا ضروری ہے۔ لیکن رشتوں اور احساسات میں ردو بدل ہوا کی مانند سب کچھ اڑا کر لے گیا۔

ترقی کی اس راہ میں دو قسم کے لوگ سامنے آئے، ایک وہ والدین جو سختیاں جھیل کر اولاد کو کسی مقام پر پہنچانے کی جدوجہد کرتے رہے اور چالیس سال گزر جانے کے بعد سمجھتے تھے کہ سختیاں تو اب سختیاں نہیں، جو ہم نے جھیلی وہ سختیاں تھی، جبکہ ان کی ماضی کی سوچ حال تک آ کر انھیں یہ باور نہ کروا سکی کہ جو اب جھیل رہے ہیں وہ عذاب ہے۔

اس میں وہ اولاد کی زندگی میں پوری طرح داخل ہو کر نہیں سمجھ سکے کہ اولاد اس زمانے میں کس کرب سے گزرتی ہے۔ جب ان کی تربیت کسی اور طرح سے ہو اور اگلے کچھ سالوں میں زمانہ اور اس کے رنگ بدل جائیں۔ ایسے میں انھیں صرف اپنا آپ ٹھیک لگتا ہے۔ اولاد اس آزمائش میں کہ والدین کو دکھ نہ پہنچے کچھ کہنے سے قاصر ہے، انھیں بتاتی نہیں اور حقوق مکمل کرنے پر کوشاں ہے۔

دوسری جانب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا مال، زر، دولت، ہر شے اولاد پر لٹا دی۔ انہیں اس حد تک خود مختار کر دیا کہ وہ خود کو جانے کیا سمجھنے لگے، انہیں بھی والدین نے سب کچھ سکھانے کی کوشش کی، تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ لیکن وہ کسی راہ پر نہ آ سکے، ایسے میں والدین نے بہت زیادہ توجہ کیا توجہ سے بھی خود کو دور رکھا، یوں نسل ایک ایسے دہانے پر پہنچی جس کے آگے کھائی ہے اور ہر شخص بخوشی اس میں کود رہا ہے۔

کسی کو معلوم تک نہیں کہ کیسے یہ اندرونی قتل ہو رہا ہے۔ ان کے پاس اولاد کو سننے کا وقت نہیں۔ جہاں سننے کا وقت نہ ہو وہاں ایسے سہارے تلاش کیے جاتے ہیں جو کچھ لمحے کو ہی سہی سکون دے سکیں۔ سکون کے لئے گولیوں کی ایجادات نے ایک اور راہ نکالی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ والدین اور اولاد دونوں سے سکون رخصت ہو گیا۔

خلا کہاں آیا؟ ہم سب ایک دوسرے کے قریب تھے لیکن اتنا دور کیسے ہو گئے، یوں تو ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کیے لیکن ہم نے اسے ایسا اپنایا کہ پاس بیٹھے شخص کا فاصلہ بھی زیادہ ہو گیا۔ ہم نے ہر طرح سے ایک دوسرے کا قتل کیا، معاشی قتل، فرضی قتل، لہجوں کا قتل، وقت کا قتل! یوں ہم کہنے لگے کہ ہم قریب ہیں لیکن بعید تھے۔

ہم پاس تھے مگر دور تھے، ہم میں احساس تھا مگر در اصل نہیں تھا۔ ہم جس کے لئے پریشان تھے وہ ہمارے لئے نہ تھا۔ ایسا خلا، ایسی تبدیلی، ایسا شعور جس نے ہمیں ہمارے اپنوں سے جدا کر دیا، ہم پر آہستہ آہستہ ایسی بجلیاں گرتی رہیں جس سے گھر کے گھر تباہ ہو گئے۔ پھر بھی ہم قائم ہیں۔ خدا کی زمین پر موجود ہیں، ہم بدلے لیکن ختم نہیں ہوئے۔ ہمارے اندر کچھ زندگی باقی تھی ہمارے اندر کچھ احساسات حاوی تھے۔

ان سارے حالات میں جب کوئی سننے والا نہ ملا تو کچھ لوگ خدا اور علم کی تلاش میں نکلے۔ کسی کو باعلم لوگوں کی رہنمائی ملی اور کسی نے خود سے وہ سفر طے کرنا شروع کیا جو خدا کی جانب تھا۔ اہل علم اور اہل تلاش کو راستہ مل جاتا ہے۔ اس سرزمین پر خدا کی بہت بڑی مہربانی یہ ہے کہ ہمارے اندر ہی عظیم لوگوں کو پیدا کیا اور انہیں عام دکھا کر عظیم بنا دیا، اپنے قریب کر لیا، انہیں وہ روشن چراغ بنایا جس سے لوگ روشنی حاصل کرتے ہیں، یہ وہ ستارے ہیں جن سے اندھیرے میں سفر کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

وہ لوگ جو اس کرب سے گزر کر والدین بنے وہ جان گئے تکلیف کیا ہے، احساس کسے کہتے ہیں، تمنا ہو تو اس کی رخصت کیسے ہوتی ہے اور کس خواہش کو حاصل کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔ وہ جو آج کے دور کے والدین ہیں جن کے ہاتھوں میں اگلی نسل کے ستارے ہیں وہ آسمان بن کر اس نسل کو کسی منزل پر پہنچانے کے درپے ہیں۔ وہ جو جھیل گئے آگے نہ جھیلنے دیں گے۔ وہ جواب پا گئے اسی لئے ان کے پاس اگلی نسل کے سوال کا جواب موجود ہے۔ مجھے یقین ہے جو علم انہیں حاصل ہے وہ اگلی پود کو منتقل ہو گا۔ وہ رنگوں کے معنی جان پائیں گے وہ پھول کے ساتھ کانٹوں کو بھی نگاہ میں رکھیں گے، مگر مایوس نہیں ہوں گے۔

مجھے یقین ہے وہ قدرت کے قریب ہوں گے۔
مجھے یقین ہے وہ زندگی جئیں گے۔
مجھے یقین ہے وہ لوگوں کو جینا سکھائیں گے۔
مجھے یقین ہے وہ نہ سننے کے غم سے آزاد ہوں گے۔
میں ان کی چھوٹی آنکھوں میں چمک، خلوص، نیک نیتی اور محبت دیکھ رہی ہوں۔

Latest posts by قرۃ العین اشرف (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قرۃ العین اشرف کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments