کیا سیٹلائٹ سگنلز ٹیکنالوجی لاکھوں ایکڑ پہ کھڑے جنگلات کو آگ لگا سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خان صاحب نے جیب سے کچھ صدیوں پرانے سکے نکالے اور کہا، ”اکبر بھائی! یہ ہم نے موبائل فون میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے لورالائی کے کھنڈرات سے نکالے ہیں“ ۔ خان صاحب ڈیٹیکٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے زیر زمین پانی کی موجودگی کی گہرائی بتانے کا کام کرتے تھے۔ پہاڑی اور میدانی علاقوں میں کہیں تو پانی کم گہرائی میں مل جاتا تھا اور کہیں بہت زیادہ گہرائی میں ہوتا تھا جسے نکالنے پہ کسانوں کو بہت زیادہ اخراجات اٹھانا پڑتے تھے۔

وہ معاوضہ کے عوض ان صاحب کی خدمات حاصل کرتے اور وہ ڈیوائس کے سگنلز استعمال کر کے بتا دیتے کہ کون سی جگہ پہ پانی نسبتاً کم گہرائی میں ہے۔ خان صاحب اچھے وقتوں میں امریکہ چلے گئے تھے اور کم پڑھے لکھے ہونے کے باوجود انھیں کسانوں کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی میں بطور ہیلپر ملازمت مل گئی جہاں وہ کمپنی کے ٹیکنالوجیکل ڈیوائسز کا استعمال سیکھ گئے۔ کئی سالوں بعد پاکستان لوٹے تو کافی رنجیدہ تھے۔

میرا معمول تھا میں آفس کے قریب واقع ایک ڈھابے پہ ناشتہ کرنے جاتا تھا۔ وہاں ڈھابے کے ہال کے باہر درختوں کے نیچے بھی بڑی تعداد میں کرسیاں لگی ہوتی تھیں۔ کبھی تو میں گرم گرم خمیری روٹی کے ساتھ مکھن کا ناشتہ کرتا اور ساتھ چائے کے دو کپ پی لیتا اور کبھی دو پراٹھے، ایک آملیٹ اور ایک فرائی انڈا بنوا لیتا اور چنوں کا تھوڑا سا سالن بھی لے لیتا۔ اس وقت میرا مزاج تھا کہ ناشتہ ڈٹ کے کرتا، دوپہر کا کھانا ہلکا پھلکا اور رات کو کمپیوٹر پہ اپنا کام ختم کرنے کے بعد دس گیارہ بجے ڈنر کرتا۔

ڈھابہ پہ ہی خان صاحب سے علیک سلیک ہوئی جو دوستی میں بدل گئی۔ وہ امریکہ سے واپسی کے بعد دکھی اس لیے تھے کہ کئی سالوں تک وہ جو ڈالرز کما کے پاکستان اپنے بھائیوں کو بھیجتے رہے، بھائی اس سے کوئی پراپرٹی بنانے اور کاروبار کرنے کی بجائے اڑاتے رہے۔ الٹا وہ ناراض تھے کہ بڑا بھائی امریکہ سے مستقل واپس کیوں آ گیا۔ خان صاحب شکر کرتے تھے کہ پشتون قبائلی معاشرتی روایات والے معاشرہ میں مخالفت کے باوجود ان کی بیوی نے کسی نہ کسی طرح اپنی تعلیم مکمل کر کے گورنمنٹ ٹیچر کی جاب حاصل کر لی تھی اور اب اس خاتون کی تنخواہ سے ہی گھر کے کچن اور یوٹیلٹی بلز کے اخراجات چلتے تھے۔

ڈھابہ پہ ہی خان صاحب کا اٹھنا بیٹھنا دس افراد پہ مشتمل افغان مہاجرین کے ایک گروپ کے ساتھ بھی تھا۔ یہ تمام دس افراد ان پڑھ تھے لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ انھوں نے دبئی سے چائنا میڈ ایک چھوٹا سا پورٹیبل میٹل ڈیٹیکٹر منگوایا تھا جسے وہ سام سنگ موبائل فون کے ساتھ کنیکٹ کر کے پرانے کھنڈرات اور آثار قدیمہ والی جگہوں پہ زمین میں دفن صدیوں پرانے کھنڈرات اور زیورات ڈھونڈتے تھے۔ ان لوگوں کے ہاں سینہ بہ سینہ یہ داستان چلی آ رہی تھی کہ جب محمود غزنوی کے ہمراہ ان کے بڑے برصغیر پہ حملہ کرنے آتے تھے اور لورالائی سے گزرتے تھے تو مقامی لوگ لوٹ مار کے ڈر سے اپنے زیورات اور سکے مٹی کے برتنوں میں بند کر کے زمین میں دفن کر دیتے تھے۔ ان افغان مہاجرین نے پشتو زبان میں لکھی گئی پرانی کتابوں کی مدد سے اپنا ایک نقشہ بنایا ہوا تھا کہ محمود غزنوی کا برصغیر آنے جانے کا جو راستہ تھا، اس میں کھنڈرات اور آثار قدیمہ کہاں کہاں آتے ہیں؟

جب بے نظیر بھٹو صاحبہ کو شہید کیا گیا تو احتجاج کرنے والے کچھ افراد نے ریلوے لوکو موٹو انجنز اور ریلوے بوگیوں کو بھی آگ لگا دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریلوے انجنز کی کمی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت اپنے مقرر کردہ وقت کی بجائے گھنٹوں کے حساب سے تاخیر کا شکار ہو گئی۔ گرمیوں کی رات تھی، ٹرین اپنے مقررہ وقت سے بہت زیادہ لیٹ ہو چکی تھی۔ بہاول پور ریلوے اسٹیشن پہ لکڑی کے بنچ پہ اپنے سفری بیگ پہ سر رکھے میں لیٹا ہوا تھا۔

انتظار کی کوفت بھی عجیب بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔ ہر تھوڑی دیر بعد اپنا سر اٹھاتا اور ٹرین آنے والی سمت کی طرف نظریں دوڑاتا۔ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پہ ہی سب اسٹیشن ماسٹر کا کمرہ تھا۔ مسافر بار بار وہاں جاتے اور پوچھتے ”گاڑی اور کتنا لیٹ ہے؟“ وہ چڑ چڑا ہوا بیٹھا تھا۔ غالباً رات کے دو اڑھائی بج چکے تھے، میں بھی اٹھا اور جا کے اس سے پوچھا ”بھائی ٹرین مزید کتنا لیٹ ہے؟“ وہ پہلے ہی غصے سے ”پاگل“ ہوا بیٹھا تھا۔

کہنے لگا ”میں نے ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے ٹرین لانے کا ، آئے گی تو آئے گی نہ آئی تو بھاڑ میں جائے۔ دوبارہ میرے کمرے میں تشریف نہ لائیں“ ۔ اس وقت میں ایک میڈیا کے ادارے میں جاب کرتا تھا جس کی وجہ سے محکمہ ریلوے کے اعلٰی افسران کے ساتھ میری اچھی جان پہچان تھی۔ مجھے بھی تھوڑا غصہ آیا اور سوچا ابھی اس کے کسی افسر کو فون کر کے نیند سے اٹھا کے اس کی بات کرا دیتا ہوں پھر دوسرا خیال آیا، اس بیچارے کا تو کوئی قصور نہیں میں کیوں اس کے لیے ”چھوٹا فرعون“ بن جاؤں۔

میں خاموشی سے واپس بنچ پہ آ کے لیٹ گیا۔ ٹرین آئی، ائر کنڈیشنڈ بوگی کے فور سیٹرز کیبن میں داخل ہوا تو وہاں تقریباً ستر سالہ ایک بابا جی بیٹھے اپنے موبائل فون کی سکرین پہ کچھ پڑھنے میں مصروف تھے۔ مجھے دیکھ کے کہنے لگے ”آئیے، آئیے، ٹرین گارڈ نے بتایا تھا کہ بہاول پور سے ایک صاحب آئیں گے پھر آپ آرام کریں“ ۔ ان سے گپ شپ شروع ہوئی تو کہنے لگے کہ وہ امریکہ میں گاڑیوں کی فروخت کا کام کرتے ہیں۔ اپنا مشغلہ یہ بتایا کہ ایک تو اپنی ذاتی کار پہ اپنی بیگم کے ہمراہ پورے امریکہ اور یورپ کے کئی ملکوں کی سیر کر چکے ہیں، دوسرا اپنے موبائل فون میں موجود ہزاروں کتابوں کے مطالعہ سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔

کہنے لگے جب ریکوڈک اور سینڈک میں سونا نکالنے کی کھدائی کا کام شروع ہوا تو وہ اس کی اولین ٹیم میں بطور انجینئر لاہور سے گئے تھے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ جب جنرل ایوب خان بطور پاکستانی صدر امریکہ گئے تو صدر کینیڈی نے انھیں سیٹلائٹ کی مدد سے بنائے گئے نقشوں پہ مشتمل ایک فائل بطور تحفہ دی اور کہا کہ امریکی سیٹلائٹ نے آپ کے ملک کے اوپر سے گزرتے ہوئے سگنلز کاسٹ کیے تو ان سے پتہ چلا کہ زیر زمین سونے کے وسیع ذخائر ہیں جو ساٹھ کلو میٹرز لمبائی تک پھیلے ہوئے ہیں۔

احباب! ماضی میں زلزلے کبھی کبھی ہی آتے تھے لیکن گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ترکی، چلی، ایران اور پاکستان وغیرہ میں کثرت سے آنے لگے تو میڈیا میں ایک خبر نے گردش کی وہ یہ کہ امریکہ یا کسی سپر پاور ملک نے تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں کی آڑ میں بہت زیادہ گہرائی میں بورنگ کر کے زلزلہ کی فالٹ لائنز میں گیند کے سائز کے برابر چھوٹے چھوٹے ایٹم بم انسٹال کر دیے ہیں اور جب وہ کسی علاقے میں زلزلہ لانا چاہتا ہے تو سیٹلائٹ سگنلز سے وہ ایٹم بم بلاسٹ کرتا ہے جس سے اس علاقہ میں زلزلہ آ جاتا ہے۔

حال ہی میں ترکی کے جنگلات میں بڑے پیمانے پہ آگ لگی تو طیب اردگان حکومت نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس خوفناک آتش زدگی کے پس پردہ کسی دشمن ملک کی سازش ہے اور یہ کہ اس کے لیے کوئی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہے۔ ترک حکومت نے ڈھکے چھپے لفظوں اور اشاروں کنایوں میں ایک سپر پاور ملک کو اس کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔ ترک میڈیا سے آنے والی خبروں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ترک جنگلات میں سیٹلائٹ سگنلز سے کنٹرول ہونے والے ڈیوائسز رکھے گئے ہوں جو آتشزدگی کا سبب بنے ہوں۔

سوال یہ ہے کہ کیا سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ وہ زلزلے بھی لا سکتی ہے اور کسی علاقہ میں ٹیکنالوجی کے ذریعہ جنگلات میں آگ لگا دے جس سے وہاں خشک سالی جیسے حالات بن جائیں۔ رواں سال 2021 کی ہی بات ہے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے نام سے سائنسدانوں کی ایک کانفرنس یا سیمینار کہہ لیں اس کا انعقاد کیا۔ مجھے اس کی کوریج کے لیے بلایا گیا۔ میری نشست کے قریب باہر سے آئے ہوئے ایک مہمان سائنسدان بیٹھے ہوئے تھے جب انھیں اسٹیج پہ اپنی پریزینٹیشن دینے کے لیے بلایا گیا تو انھوں نے ایک بڑی اسکرین پہ گرافکس دکھائے اور دعوٰی کیا کہ ان کی فرم روسی ٹیکنالوجی کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں مصنوعی طریقوں سے بارشیں برسانے کا کام کرتی ہے۔ کہنے لگے کہ ایک بار ہم نے میگنیٹ ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال کر دیا تو دبئی میں اس قدر بارش ہوئی کہ گاڑیاں ڈوب گئیں۔

اچھا، کہا جاتا ہے کہ جب جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پہ ایٹم بم پھینکے گئے تو کا کر وچ پہ ایٹمی تابکاری کا اثر نہ ہوا۔ نتیجہ کے طور پہ ہومیوپیتھک ماہرین نے کاکروچ سے بنائی جانے والی دوا بلاٹا جو دراصل دمہ اور سانس کی بیماریوں کے علاج کے لیے دی جاتی تھی اسے ایٹمی تابکاری سے بیمار ہونے والے مریضوں کو بھی دینا شروع کر دیا۔

میرے ذہن میں ایک سوال ابھرتا رہا کہ مغرب کے مقابلہ میں مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی کے معاملہ میں پسماندہ کیوں رہ گئے۔ اس سوال کا جواب سائنس و ٹیکنالوجی کے موضوع پہ لکھے جانے والے میرے بلاگز پہ قارئین کی ایک تعداد کی تنقید اور سخت ردعمل نے دیا۔ میں نے ان کے کمنٹس کا تجزیہ کیا تو ان کا مائنڈ سیٹ یہ سامنے آیا کہ کچھ مسلمان قارئین تو سائنس و ٹیکنالوجی کو فتنہ اور کچھ کفر سمجھتے ہیں۔ کچھ قارئین نے لکھا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ٹیکنالوجی استعمال کر کے بارش لائی جا سکے۔ ایک سنگدل قاری نے تو سائنس و ٹیکنالوجی پہ لکھے جانے والے میرے ایک بلاگ کو ہی فتنہ قرار دیا، ان کے کمنٹس کا مفہوم تھا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی کوششیں دراصل مسلمانوں کے کچھ عقائد کے خلاف سازش ہے۔

اکبر شیخ اکبر کا موقف ہے کہ قرآن مجید استعاروں، علامتوں، اشاروں اور تمثیل کی زبان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے علم کو حاصل کرنے اور اس کے مثبت استعمال کا حکم دیتا ہے۔ اگر مسلمان دنیا نے اپنے خلاف سائنس و ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کو روکنا ہے تو پھر انھیں خود سائنس و ٹیکنالوجی کے علم سے مالا مال ہونا ہو گا ورنہ پھر ذلت و رسوائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments