یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی: لندن کی ایک تقریب کا احوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک پاکستان کے دوران کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ کے طالبعلموں نے وطن پرستی کے جذبہ سے سرشار ہو کر now or never یعنی اب نہیں تو کبھی نہیں کہ عنوان سے قیام پاکستان کا مقدمہ پیش کیا ان طلبہ میں چوہدری رحمت علی اسلم خٹک اور دیگر طلبہ شامل تھے۔

برطانیہ میں پاکستانی طلبہ ایک کثیر تعداد میں زیر تعلیم ہیں وہ دوران تعلیم ملک کی فلاح و بہتری اور روشن مستقبل کے لئے فکر مند رہتے ہیں لیکن فکر مندی سے آگے بڑھ کر کیا عملی طور پر کچھ کیا جائے اس پر غور و حوض کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

چند دہائیوں قبل برطانیہ کی مشہور زمانہ یونیورسٹی میں پاکستانی طلبہ نے پاکستان سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔ ان میں سے بہت سے طلبہ عملی زندگی میں مختلف شعبہ زندگی میں نمایاں عہدوں پر فائز ہوئے۔ کچھ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہی درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔ ملالہ یوسف زئی کا جب آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو وہ بھی اس سوسائٹی کی ممبر بن گئی۔

ڈاکٹر عدیل ملک ڈاکٹر طلحہ اور برطانیہ کے معروف وکیل ہارون نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستان پروگرام کے تصور کو عملی شکل پہنانے میں دن رات محنت کی۔

دنیا کے با اثر اور طاقتور ممالک کلچرل سفارت کاری کے ذریعے اپنے ملک پر تحقیق کو فروغ دینے کے لئے بیرونی ممالک میں ایسے مراکز اور فورم قائم کرتے ہیں جس کے ذریعے ان کے ملک کا تاثر بہتر ہو اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو۔

امریکہ کا امریکن سینٹر جرمنی نے گوئٹے انسٹیٹیوٹ برطانیہ نے برٹش کونسل اور چین نے کنفوشیس انسٹیٹیوٹ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی بیرونی ممالک میں پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کی اہمیت سے باخبر تھے انہوں نے آکسفورڈ کیمبرج ہائیڈلبرگ کولمبیا یونیورسٹی میں پاکستان چیئر بھی قائم کیں۔

لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس معاملہ میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہ کی۔ اب حال یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر مقامات پر یہ پاکستان چیئر خالی پڑی ہیں۔

ان چئیر کے بجائے اگر آکسفورڈ یونیورسٹی کے پاکستان پروگرام کی طرز پر امریکہ یورپ اور چین میں پاکستان پروگرام شروع کیے جائیں تو پاکستان کے لئے اس کے مثبت فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

برطانیہ میں 1980 کی دہائی میں آغا حسن عابدی مرحوم نے لندن میں اردو مرکز قائم کیا۔ معروف شاعر افتخار عارف نے اردو مرکز کے ذریعے اردو ادب کو مغرب میں متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ الطاف گوہر مرحوم نے صحافتی محاذ سنبھالا اور لندن سے ایک انگریزی جریدہ شائع کرنا شروع کیا۔ کچھ بینکنگ اسکینڈلز کی وجہ سے ان سرگرمیوں کو جاری رکھنا ممکن نہ رہ سکا۔

اب آکسفورڈ یونیورسٹی کے ان نوجوانوں کی کاوشوں کے ذریعے آدھے ملین پاؤنڈ کی ایک خطیر رقم جمع ہو گئی ہے جس میں برطانیہ اور پاکستان کی معروف کاروباری شخصیات لمز یونیورسٹی کے سید بابر علی ملالہ یوسفزئی پاکستان کے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے بیٹے بھی شامل ہیں کا تعاون بھی شامل ہے۔

پاکستان کے مختلف ادارے اور وزارت خارجہ پاکستان کا بیرونی دنیا میں مثبت تاثر اجاگر کرنے کے لئے کروڑوں ڈالر زرمبادلہ خرچ کر رہا ہے لیکن اتنے وسائل کے باوجود مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔

اس ضمن میں حکومت پاکستان کو آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ نوجوانوں سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی حکومتی فنڈ یا وسائل کے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

ارباب اختیار کو اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ بیرون ملک مقیم اور سیز پاکستانی پاکستان کے لئے کتنا بڑا اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں بس انہیں ایک سمت مہیا کرنے کی ضرورت ہے ان کے وسائل اثر و رسوخ پاکستان کے لئے استعمال ہونے چاہیے ناکہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں مذہبی جماعتوں فرقوں کے چھوٹے موٹے مفادات کے لئے۔

دی آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی میں پبلک ڈپلومیسی کے حوالے سے یقیناً یہ ایک بڑا قدم ہے۔

آکسفورڈ پاکستان پروگرام (او پی پی) کے نام سے شروع ہونے والے اس اقدام کا مقصد یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پاکستان سے متعلقہ مختلف سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہے۔

ان سرگرمیوں میں مستحق طلبہ کے لیے وظائف کا اہتمام کرنا، پاکستان کے فیکلٹی ممبرز کے لیے وزٹنگ فیلوشپ فراہم کرنا اور پاکستان میں خصوصی لیکچرز کا اہتمام شامل ہے۔

یہ پروگرام آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر عدیل ملک، ایروسپیس میٹیریلز کے لیکچرر ڈاکٹر طلحہ جے پیرزادہ اور معروف وکیل ہارون زمان کی تخلیق ہے۔ اس کاوش میں آکسفورڈ کے دو سابق طلبہ مناہل ثاقب اور ڈاکٹر محسن جاوید کا بھرپور تعاون بھی شامل ہے۔

اس پروگرام کو آکسفورڈ یونیورسٹی، لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اور پاکستان میں برطانوی سفارتخانے کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ اس کے لیے پاکستان کے کاروباری افراد اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے لاکھوں پاؤنڈز فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے چانسری ہال میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے اس پروگرام کا رسمی آغاز کیا گیا۔

اب اس تقریب کا احوال پڑھئے

لمز کے بانی سید بابر علی نے اپنے کلیدی خطاب میں اس قدم کو تاریخی کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی طلبہ کے لیے بڑی پیمانے پر مواقع میسر آئیں گے۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی آغاز سے ہی اس پروگرام کو سپورٹ کرتی رہی ہیں، انہوں نے ایک بڑے سکالرشپ پروگرام کا اعلان کیا جس کے ذریعے ہر سال کم ترقی یافتہ پس منظر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کو ہر سال آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے گا۔

آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والے 21 پروفیسرز اور فیلوز اس موقع پر موجود تھے جن میں آکسفورڈ کالجز کے چار پرنسپلز اور ہیڈز شامل تھے۔ ان میں دی گارجین کے سابق ایڈیٹر اور لیڈی مارگریٹ ہال کے رخصت ہونے والے پرنسپل ایلن رسبرجر، حالیہ پرنسپل پروفیسر کرسٹین جیرارڈ، لنیکر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر نک براؤن، وولفسن کالج کے صدر سر ٹم ہچنز، آکسفورڈ یونیورسٹی کے انٹرنیشنل انگیجمنٹ آفس کے ڈائرکٹر ایڈ ناش اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں انڈرگریجویٹ ایڈمشنز کی ڈائرکٹر سارا خان شامل تھے جبکہ رہوڈز ہاؤس کی وارڈن ایلزبتھ کس نے اس تقریب میں ورچوئل شرکت کی۔

اپنی تقاریر میں یونیورسٹی کے سینئیر ممبرز نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ اس کے ذریعے نہ صرف آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے ادارے میں پاکستان سے متعلقہ تعلیمی سرگرمیوں کو مدد ملے گی بلکہ کم نمائندگی رکھنے والی کمیونیٹیز کو اس کے ذریعے یونیورسٹی تک رسائی میں سہولت فراہم ہو گی۔

پراسپیکٹ میگزین کے آنے والے ایڈیٹر ایلن رسبرجر نے اس اقدام کو عملی شکل دینے پر پروگرام ٹیم اور ملالہ یوسفزئی کے جذبے کی تعریف کی۔ یونیورسٹی کے سینئیر ممبرز نے پاکستان اور آکسفورڈ کے تاریخی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کا خصوصی تذکرہ کیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر عدیل ملک نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ابھی تک سیکیورٹی، شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے محدود چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں پر آغاز سے ہی اسلام اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر مباحث کا آغاز ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں شہریوں کے حقوق اور سیاسی و معاشی اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے اداراتی سطح پر متحرک جدوجہد جاری ہے۔

انہوں نے پاکستان میں تیزی سے وسیع ہوتے متوسط طبقے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کی توجہ حاصل کرتی سرمایہ کاری پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس ملک میں جمہوریت کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں خون بہایا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عدیل ملک نے او پی پی کی ٹیم کے ساتھ نیشنل ساورنٹی اینڈ ڈیولپمنٹ کے عنوان سے ایک تحقیقی اقدام کا بھی اعلان کیا۔ جسے آکسفورڈ کے لنکن کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے محمد علی جوہر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

اس موقع پر پاکستان میں پہلے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے فرزند احمد سلام نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے والد زندہ ہوتے تو وہ اس کے زبردست حامی ہوتے۔

تقریب کے دوران اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کا ریکارڈ کیا گیا پیغام بھی سنایا گیا جس میں انہوں نے آکسفورڈ پاکستان پروگرام کو برطانیہ اور پاکستان کے درمیان موجود تعلیمی رشتوں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم 16 لاکھ پاکستانی دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کا ملک تعلیم کے میدان میں پاکستان کو مزید مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان نے کہا کہ یہ پروگرام مستحق پاکستانی طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے او پی پی کے لیے ہائی کمشن کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر کئی متمول پاکستانیوں نے پروگرام کے لیے مالی تعاون کی یقین دہائی کرائی، پاکستان میں ٹریٹ گروپ آف کمپنیز کے سی ای او سید شہریار علی نے اپنی مرحوم خالہ کے سید نیلوفر مہدی کے نام سے گریجویٹ سکالرشپ کا اعلان کیا جو پانچ سال تک جاری رہے گا۔ اسی طرح دادا بائی گروپ کے ڈائریکٹر عبدالغنی دادا بائی نے ہر سال ایک محمد اقبال لیکچر کو سپانسر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزٹنگ سکالرز پروگرام کی سپورٹ کا اعلان بھی کیا۔

اسماعیل گروپ آف انڈسٹریز کے ڈائرکٹر حامد اسماعیل نے پاکستان کی سرکاری یونیورسٹیوں سے ہر سال ایک فیکلٹی ممبر کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی آنے کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا۔

حکومت پاکستان کے ٹیکس محتسب کے ادارے کے سابقہ فیڈرل سیکرٹری احمد اویس پیرزادہ زمبابوے میں فرائض کی ادائیگی کے دوران انتقال کر جانے والے ڈاکٹر احمد بلال شاہ کی یاد میں جمال سکالرشپ پروگرام کا اعلان کیا۔

لندن کے کر امویل ہسپتال کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر طارق زمان نے سالانہ گریجویٹ سکالرشپ کے لیے فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کیا، اسی طرح اریب چوہدری نے پاکستان سے ایک طالبہ کو سپانسر کرنے کا اعلان کیا، آکسفورڈ بزنس کالج کے ڈائرکٹر سرور خواجہ نے پانچ برس کے لیے گریجویٹ سکالرشپ کے لیے فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کیا۔

تقریب کے دوران لندن ہیج فنڈ ویسٹرج مارکیٹس کے شریک بانیان شامل ملک اور عمر سلمان نے پاکستان پر ایک ریسرچ کو فنڈ کرنے کا اعلان کیا۔

متعدد سینئیر پروفیشنلز اور کاروباری افراد نے زوم کے ذریعے تقریب میں شرکت کی، ان میں سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ حامد یعقوب، فیروز سنز لمیٹڈ کے سی ای او عثمان وحید، کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن مسز راحت کونین شاہ، سابقہ وفاقی سیکرٹری فائنانس آصف باجوہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جیل عباس جیلانی شامل تھے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments