پردہ دری نہیں، پردہ پوشی
مسلم لیگ نون کے مرکزی راہنما اور سابق گورنر سندھ زبیر عمر سے منسوب نازیبا ویڈیو وائرل ہے اور بڑے پیمانے پر زیر بحث ہے۔ ہمارے ملک میں وقتاً فوقتاً عوام ”اور“ خواص ”کی غیر اخلاقی اور بے ہودہ ویڈیوز کا وائرل کیا جانا کوئی قباحت نہیں جانی جاتی اور ایسا کرنا“ عین ثواب کا کام ”سمجھا جاتا ہے۔ یہ گناہ ناکردہ انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح سے بڑے اہتمام کے ساتھ کیا جانا معمول ہے۔ گناہ اور بدکاری جیسے قبیح افعال قابل گرفت تو ہیں لیکن کسی کی کسی بھی قسم کی کمزوری، غلطی، برائی اور گناہ کی ٹوہ لگانا، اسے عام کرنا اور اس کی تشہیر کرنا اپنی جگہ برے افعال اور گناہ ہے۔
اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ“ مسلمان وہ ہے جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں ”کسی کی تضحیک کرنا، مذاق اڑانا، رسوا کرانا اور معاشرے کی نظروں سے گرانا بھی گناہ ہے اور برائیوں کو اچھالنا اور اس کی تشہیر کرنا بھی ممنوع ہے۔“ اسلام ہمیں غیر مناسب باتوں کو اچھالنے کی بجائے چھپانے کا درس دیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم پردہ دری کے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں جب کہ ہمیں ہمارے رسول صلى اللہ علیہ و سلم نے پردہ پوشی والا مقدس ماحول بنانے کا حکم دیا تھا ”
رسول اللہ صلى اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے مومن بھائی کے عیوب کو دیکھ کر چھپا لیتا ہے تو اللہ اسے بدلے میں جنت عطا فرمائیں گے۔“
احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں اپنا مزاج ایسا بنانا چاہیے کہ ہم دوسروں کے عیوب کو جگہ جگہ نہ بتاتے پھریں۔ ہمیں عیب گوئی سے بھی شریعت منع کرتی ہے اور عیب جوئی سے بھی۔
اس حوالے سے اسلام میں اتنی حساسیت موجود ہے کہ کوئی زنا جیسے قبیح ترین گناہ کا واحد عینی گواہ ہے لیکن چار گواہ پیش کرنے سے قاصر ہے تو اسے چپ رہنے کا حکم ہے وگرنہ معاملے کو عام کرنے پر اسے تہمت اور الزام لگانے سے تعبیر کر کے باقاعدہ سزا دی جائے گی۔ اس حوالے سے صاحب تفہیم القرآن نے بہت خوبصورت انداز میں تشریح فرمائی ہے۔
”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔
سورة النور حاشیہ نمبر : 6
”اس حکم کا منشا یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کی آشنائیوں اور ناجائز تعلقات کے چرچے قطعی طور پر بند کر دیے جائیں، کیونکہ اس سے بے شمار برائیاں پھیلتی ہیں، اور ان میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس طرح غیر محسوس طریقے پر ایک عام زنا کارانہ ماحول بنتا چلا جاتا ہے۔ ایک شخص مزے لے لے کر کسی کے صحیح یا غلط گندے واقعات دوسروں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ دوسرے اس میں نمک مرچ لگا کر اور لوگوں تک انہیں پہنچاتے ہیں، اور ساتھ ساتھ کچھ مزید لوگوں کے متعلق بھی اپنی معلومات یا بد گمانیاں بیان کر دیتے ہیں۔
اس طرح نہ صرف یہ کہ شہوانی جذبات کی ایک عام رو چل پڑتی ہے، بلکہ برے میلانات رکھنے والے مردوں اور عورتوں کو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں کہاں کہاں ان کے لیے قسمت آزمائی کے مواقع موجود ہیں۔ شریعت اس چیز کا سد باب پہلے ہی قدم پر کر دینا چاہتی ہے۔ ایک طرف وہ حکم دیتی ہے کہ اگر کوئی زنا کرے اور شہادتوں سے اس کا جرم ثابت ہو جائے تو اس کو وہ انتہائی سزا دو جو کسی اور جرم پر نہیں دی جاتی۔ اور دوسری طرف وہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے وہ یا تو شہادتوں سے اپنا الزام ثابت کرے، ورنہ اس پر اسی کوڑے برسا دو تاکہ آئندہ کبھی وہ اپنی زبان سے ایسی بات بلا ثبوت نکالنے کی جرات نہ کرے۔
بالفرض اگر الزام لگانے والے نے کسی کو اپنی آنکھوں سے بھی بد کاری کرتے دیکھ لیا ہو تب بھی اسے خاموش رہنا چاہیے اور دوسروں تک اسے نہ پہنچانا چاہیے، تاکہ گندگی جہاں ہے وہیں پڑی رہے، آگے نہ پھیل سکے۔ البتہ اگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں تو معاشرے میں بیہودہ چرچے کرنے کے بجائے معاملہ حکام کے پاس لے جائے اور عدالت میں ملزم کا جرم ثابت کر کے اسے سزا دلوا دے۔“
”اجتماعی“ طور پر کون لوگ ایسی مکروہ ویڈیوز بناتے ہیں پھر ان مکروہ ویڈیوز کو لیک کراتے ہیں یہ اہم ترین پہلو ضرور ہے۔ نظر ایسا آتا ہے کہ یہ قبیح کام بہت منظم انداز اور اہتمام کے ساتھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرایا جاتا ہے۔
چودھری نثار کے اس بیان میں بہت کچھ چھپا ہوا ہے۔
”میں نے اس وقت کہا تھا کہ اداروں سے ٹکراؤ کی سیاست نہ آپ کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ لیکن پارٹی کے چاپلوسوں سمیت کچھ خوشامدی صحافیوں نے ایک بچی کو مزاحمت کی علامت کہہ کر گمراہ کیا اور پھر اس بچی نے نون لیگ کو ویڈیو لیک بنا دی اور آج نتیجہ سب کے سامنے ہے“
بالکل واضح مطلب یہ ہے کہ اس ملک کی اشرافیہ اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا پر ہے۔ غیر اخلاقی تعلقات رکھنا معمول کی بات ہے اور اسے کوئی گناہ سمجھتا ہی نہیں۔ زنا بالرضا کو تو سند جواز فراہم کیا جا رہا ہے اور اسے تو غیر اخلاقی، قبیح اور کریہہ عمل سمجھا ہی نہیں جاتا جو ایک خطرناک، تشویش ناک اور قابل غور معاملہ ہے۔ لبرل انتہاپسند طبقہ اسی سوچ، طرز عمل اور بیانیے کا پرچارک اور محافظ ہے۔
اسی عادت بد، بے گام خواہش اور لذت پرستی کی کمزوری کو بھانپتے ہوئے انھیں جال میں پھنسانا آسان ترین حربہ ہے۔ کوئی سیاست دان ہے، بیوروکریٹ ہے، جج ہے، کاروباری ہے، مذہبی ہے یا کوئی دوسرا ”کام کا بندہ“ اسے دانا ڈال کر پھنسانا اور بوقت ضرورت اس کا ”صدقہ“ کرنا قوم کے ”عظیم تر مفاد“ میں عین قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ ”فرشتوں“ کے پاس یہی محفوظ ”عکس بندی“ اور ریکارڈ کا خوف بڑوں بڑوں کو مفاہمت کی راہ دکھلاتا ہے۔ سینئر تجزیہ کار انصار عباسی کا کہنا تھا کہ ”مجھے ایک دفعہ خاتون پارلیمنٹرین اور مرد پارلیمنٹیرین کی انتہائی غیر مناسب ویڈیوز دکھائی گئیں تھیں جن دیکھ کر میں ڈر گیا اور وہ ویڈیوز میں نے ڈیلیٹ کر دیں تاکہ میری وجہ سے یہ آگے کسی اور کو نہ چلی جائیں“
”ریکارڈ روم“ میں اچھا خاصا مواد ”بحق سرکار“ محفوظ ہے جونہی کوئی مرغا اذان دینے کے لئے منہ اوپر اٹھانے کی حماقت کر لیتا ہے تو پوٹلی سے ایک دانہ نکال کر آگے ڈال دیا جاتا ہے جو حلق ہی میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ زبان بندی کا کارگر نسخہ یہی بداعمالیوں اور بد اخلاقیوں کا محفوظ ”ورثہ“ ثابت چلا آ رہا ہے۔ اشرافیہ کا بدکردار اور بداخلاق ہونا اور ان کی خباثتوں کا عام ہونا معاشرے کی اخلاقی تنزلی کا بھی ایک بڑا سبب ہے۔ حکمرانوں کے اعمال اور افعال کا براہ راست اثر رعایا پر ضرور پڑتا ہے اور ایسا ہونا بالکل یقینی ہے۔
”الناس علی دین ملوکھم“ ”عوام الناس اپنے حکمرانوں کے نظریات کے تابع ہوتے ہیں۔“ بہت ظلم کرتے ہیں وہ لوگ جو ادنٰی مفادات کی خاطر لوگوں کو رسوا بھی کراتے ہیں اور معاشرے کو گندا اور بدبودار کرانے میں بھی اپنا حصہ ڈال کر اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔
نبی کریم صلى اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد مبارک نصیحت، راہ نمائی اور تنبیہ کے لئے کافی ہے۔
”جو کسی دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب اور گناہوں کو چھپا لیں گے اور جو شخص لوگوں کی پردہ دری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو گھر بیٹھے ذلیل اور رسوا کر دیتا ہے۔ “


