عمر شریف، ہم سا ہو تو سامنے آئے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوشیاں بانٹنے والا، رنگ بکھیرنے والا، مرنجاں مرنج، تیز طرار، ہر فن مولا عمر شریف۔

عمر شریف جو صرف ایک شخص نہیں بلکہ اپنی ذات میں محفل تھا۔ عمر شریف ایک ایسا بہروپیا تھا جو کرداروں میں ڈھل کر احساسات میں سما جاتا، اور ڈرامہ ختم ہونے کے دیر بعد تک بھی کہیں نہاں خانہ دل میں رچا شادمانی کا سامان کرتا۔ میں نے شعروں کا سفر کرنا سنا تھا لیکن مزاح کیسے سفر کرتا ہے، یہ معجزہ عمر بھائی نے کر دکھایا۔

جہانگیری کسی اکیلے کے بس کا روگ نہیں۔ اس جدل میں ایک قابل و بھروسے مند ساتھی کا ہونا مطلق ضروری ہے۔ پھر چاہے آپ عظیم الشان سیزر ہی کیوں ناں ہوں، معتمد مارک انٹونی ازحد لازم ہے۔

بے مثال معین اختر کو لازوال انور مقصود ملے، اور دلربا و دلکش جنید جمشید کو صوفی منش شعیب منصور۔

لیکن انہیں زمانوں میں بے خانماں کراچی کے خاک و نیست کی گٹھری سے عمر شریف کا کردار وجود پایا۔ وہ کردار جو بت شکن تھا، وہ کردار جو فرہاد کی طرح اپنی راہ خود تراشتا تھا، وہ کردار جو رابن ہڈ کی طرح غریبوں کا مسیحا تھا۔ وہ کردار جسے اپنے سفر میں انور و شعیب کا بوجھ بھی خود ہی ڈھونا تھا اور معین و جنید سی لاج بھی رکھنی تھی۔

عمر بھائی کو پی ٹی وی نے جگہ ناں دی تو وہ سٹیج پر آئے اور بادل و طوفان بن کر چھا گئے۔ وہ اس لڑکپن کی محبت کی طرح پنپ گئے جسے چھپانا ناممکن اور چھٹانا کفر۔

عمر شریف نے اپنی حیثیت منوانے کے لئے اکیلے انتھک سفر کیا ہے۔ گلی کے نکڑ اور دکان کے تھڑوں سے ڈرائنگ روم کے فیملی ٹائم تک کا یہ سفر عمر بھائی کے حوصلے و قابلیت کی سند ہے۔

میں نے لفظ بے تاج بادشاہ کا عین اگر کسی شخص کو دیکھا، تو وہ اسی لالو کھیتیے کو دیکھا!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمران الزمان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments