عالمی خفیہ اداروں کے سربراہی اجلاس کی فرضی کارروائی
یہ سات ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کا اجلاس تھا۔ اجلاس کیا تھا، یہ تو ایک قسم کی گول میز کانفرنس تھی۔ جس میں سب چیف ایک گول میز کے گرد بیٹھے خطے میں آنے والے حالات پر کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا سوچ رہے تھے۔ اس میٹنگ کے میزبان ملک کو سب کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت حاصل تھی۔ وہاں کی ایجنسی کا چیف، میزبانی کے فرائض نبھانے کے ساتھ ساتھ اجلاس کی چیئرمینی کا فریضہ بھی ادا کر رہا تھا۔ اس نے سب چیفس کو خوش آمدید کہنے کے بعد بتایا کہ ان کی میٹنگ کا ایجنڈا تبدیل ہو چکا ہے۔ ایجنڈے کو خفیہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر مخالف کیمپ تک ایجنڈے کی کاپی پہلے ہی پہنچ چکی ہے۔ اس لیے آج معمول کی کارروائی نہیں ہو گی بلکہ ہم اپنے باہمی مفادات کے عمومی مسائل پر بات کریں گے اور اس کے بعد اگلی کانفرنس کا فیصلہ کیا جائے گا۔
میزبان چیف نے اس غیر معمولی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے سب سے کہا کہ اس سے پہلے کہ ہم درپیش مسئلے کا حل ڈھونڈیں، آئیں پہلے ہم اپنی اپنی صلاحیتوں، کمزوریوں، نئے آنے والے مواقع اور ممکنہ خطرات پر بات کرتے ہیں تاکہ ان کو پیش نظر رکھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔ اس بعد ہر ایک چیف نے اپنی ایجنسی کی ایک ایک بڑی خوبی بتانا شروع کی۔ سب سے پہلے نے کہا، ہم دشمن کو مارتے ہیں اور اپنی مونچھ نیچے رکھتے ہیں۔
ساتھ بیٹھے ایک اور چیف نے اس بات پر قہقہہ لگایا اور بولا، پر تمہاری تو مونچھیں ہی نہیں ہیں۔ اس طنز پر گول میز کے گرد بیٹھے سب ایجنسیوں کی سربراہوں کی ہنسی نکل گئی لیکن انہوں اسے کنٹرول کیا۔ اتنے میں ایک اور ایجنسی کے سربراہ نے مونچھوں کا طعنہ دینے والے کو مخاطب کر کے کہا، غور سے دیکھو، شاید تمہیں ان کی مونچھیں دکھائی دینے لگیں۔ مونچھ تو دور کی بات، کچھ لوگوں کی داڑھی بھی ان کے پیٹ میں ہوتی ہے۔
داڑھی والی بات پر میٹنگ روم میں موجود سب چیفز کی ہنسی نکل گئی لیکن وہاں موجود ایک داڑھی والے چیف نے سنجیدگی سے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، بھائی ہماری داڑھی تو سب کے سامنے ہے۔ اب اگلے چیف نے اپنی ایجنسی کی خوبی بیان کی، ہم دشمن کو مارتے ہیں، پھر اس کے جنازے کو کندھا بھی دیتے ہیں اور اس کی میت پر چار آنسو بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس کی بات پر باقی تمام خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے مگر ایک بولا، آنسو بہانے سے پکڑے جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے کیونکہ اصلی رونے اور مگر مچھ کے آنسو بہانے میں فرق صاف واضح ہوتا ہے۔ تیسرا سربراہ بولا، ہم تو پھوٹ ڈلوا کر اور مخالفین کو تقسیم کر کے اپنا کام نکلوانے کے ماہر ہیں۔ چوتھے نے کہا، ہماری طاقت مکہ مارنے کی نہیں، بلکہ مکہ سہنے کی ہمت ہے۔
اجلاس میں شامل خفیہ ایجنسی کا پانچواں سربراہ اپنے ادارے کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے بولا، دشمن کو ہمارے رازوں، منصوبوں اور ارادوں تک پہنچنے کے لیے ہماری خفیہ زبان سیکھنی پڑتی ہے اور ہماری خفیہ زبان کے ماہرین کی تعداد تین سے زیادہ نہیں۔ وہی ہمارے رازوں کے امین اور ضامن ہیں۔ وہ کون ہیں، کہاں رہتے ہیں، کیا کرتے ہیں، کوئی بھی نہیں جانتا، حتی کہ میں بھی نہیں۔ اس بات پر ، گول میز کے گرد بیٹھے سب سربراہوں نے اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا اور پھر ایک دوسرے سے نظریں ملائیں۔ چھٹا چیف بولا، ہم سافٹ ویپن کا استعمال کرنا خوب جانتے ہیں اور اسی سے ہمارا چل جاتا ہے۔ اجلاس میں شامل ساتواں اور آخری چیف اپنی باری آنے پر گویا ہوا، ٹیکنالوجی ہماری آنکھ، کان، ہاتھ اور پاؤں ہے اور یہی ہماری طاقت کا راز ہے۔
جب سب ایجنسیوں کے سربراہ اپنی اپنی ایجنسی کی سٹرنتھ بتا چکے تو میزبان ادارے کے سربراہ نے کہا، ہم سب ایک دوسرے کی کمزوریوں سے خوب واقف ہیں، لہذا اس موضوع پر بات کرنے اور وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے، ہم خطے کی صورتحال سے پیدا ہونے والے نئے مواقعوں پر بات کرتے ہیں تاکہ ہمیں باہمی مفادات کو سمجھنے کا موقع ملے۔ پہلا سربراہ بولا، یہ بہترین موقع ہے، ہم مل کر اپنے مشترکہ دشمن کو مکمل طور پر کچل دیں، دوسرے نے کہا، دشمن کے دشمن کو اپنا دوست بنا کر مخالف کیمپ پر دباؤ بڑھانے کا یہ بہترین موقع ہمارے ہاتھ آیا ہے۔ تیسرا بولا، اس وقت خطے کے تمام آپشنز ہمارے کنٹرول میں ہیں۔
چوتھے سربراہ نے کہا، پانی میں حرکت تیز ہے، یہ مچھلیاں پکڑنے کا بہترین وقت ہے۔ پانچواں بولا، دشمن کے مصنوعی عکس کے خاتمے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ شیشہ توڑ کر مخالف کے امیج کو برباد کرنے کا یہی بہتر موقع ہے۔ چھٹے نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، یہ وقت اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور صلاحیتوں کی بحالی کا ہے۔ ساتواں سربراہ بولا، It is time، to be a masterful courtier۔ ہم سب کے لیے حالات پر مکمل کنٹرول حاصل کر نا ممکن نہیں، اس لیے بادشاہ بننے کی بجائے اس کام مشیر بن گزرا کیا جائے۔
میٹنگ میں شامل تمام شرکاء نے ساتویں سربراہ کی جانب نظر اٹھا کر دیکھا، شاید وہ کوئی سوال پوچھنا چاہ رہے تھے، لیکن اجلاس کی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے، میزبان ملک کے چیف کہا، آج کی میٹنگ کا آخری پوائنٹ، مشترکہ خطرے کی نشان دہی کرنا ہے جو کہ ہم سب پہلے سے ہی جانتے ہیں۔ اس لیے اس موضوع پر بھی بات کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔ آج کے اجلاس کی کارروائی یہیں ختم کرتے ہیں اور اگلی سربراہی کانفرنس کا ایجنڈا آپ کو بھیج دیا گیا ہے، آپ اسے دیکھ لیں اور آخر میں سوال و جواب کا مختصر سا سیشن ہو گا۔
میٹنگ ہال میں موجود سب سربراہوں نے اپنے ٹیبلٹ کھولے اور اگلے اجلاس کا ایجنڈا دیکھنے کے لیے اپنے اپنے برقی ڈبوں پر جھکے۔ وہاں موجود، زیرو زیرو سیون نما چیف نے جونہی اپنے ای میل کا پاس ورڈ، ری سیٹ کیا تو ساتھ بیٹھے دوسرے ایجنسی کے سربراہ نے اسے اشارہ کرتے ہوئے کہا، آپ کا پاس ورڈ سو فی صد محفوظ ہے۔ ڈبل او سیون اسے گھورا اور سوچنے لگا، یہ کیسے جانتا ہے کہ اس کا نیا پاس ورڈ سو فی صد محفوظ ہے۔ کیا وہ میری مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ اس کی پریشانی دیکھ کر ایک تیسرے سربراہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں، ایسا تو ہوتا ہے، ایسے کاموں میں۔ جب چوتھے نے دیکھا کہ تین ایجنسیوں کے سربراہ آپس میں کسی بات پر الجھ رہے ہیں تو اس نے سب کو شانت کرنے کی کوشش کی اور کہا آپس میں مت جھگڑو۔
ان چاروں کی باتیں سن کر پانچویں نے دل میں کہا، باسٹر، ہر وقت آپس میں لڑ کر ، اپنا وقت اور وسائل ضائع کرتے رہتے ہیں۔ اس کی پریشانی دیکھ کر چھٹا بولا، یار چھوڑ انہیں، تم اپنا کام کرو، انہیں انجوائے کرنے دو ۔ گول میز کے گرد بیٹھے مہمان ایجنسیوں کے سربراہوں کو آپس میں الجھتے دیکھ کر میزبان ایجنسی کا چیف بولا، امید ہے آپ سب نے اپنے اپنے پاس ورڈز ری سیٹ کر لیے ہوں گے۔ کوشش کریں، اس کی نوبت دوبارہ نہ آئے اور ہماری اگلی میٹنگ کا ایجنڈا اور اس کے مقام کی خبر مخالف کیمپ تک نہیں پہنچنی چاہیے۔ باقی، ہم سب ایک دوسرے کی نگرانی پر وقت ضائع کرنے کی بجائے، اپنے مشترکہ دشمن پر توجہ مرکوز رکھیں۔ اگر مخالف کی دس آنکھیں ہیں تو ہماری پاس چودہ ہیں۔ اپنی آنکھیں آدھی بند، آدھی کھول کر رکھیں۔ اب اگر کسی کا کوئی سوال ہے تو وہ پوچھ سکتا ہے۔
اجلاس میں شامل سب چیفس نے کہا، کوئی سوال نہیں۔ تمام سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔ بس اگلی میٹنگ میں ہمیں اپنی کمزوریوں اور آنے والے ممکنہ خطرات پر بھی کھل کر بات کرنی چاہیے۔ اس کے جواب میں، میزبان ایجنسی کے سربراہ نے کہا، کیا ساری باتیں آج ہی ختم کرنی ہیں، چلو آؤ، کچھ باتیں، چائے پیتے اور پکوڑے کھاتے ہوئے بھی کر لیتے ہیں۔ یوں ایجنسیوں کا یہ فرضی اجلاس ختم ہوا۔ سب مہمانوں نے مل کر چائے پی، پکوڑے کھائے، کچھ غیر رسمی گفتگو ہوئی اور آخر میں انہوں اپنے میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ٹی واز ویری فینٹاسٹک!


