ولادیمیر زیلنسکی صاحب، آئیں ہم افغانوں کے مہمان بنیں

زیلنسکی ٹرمپ کا میڈی شو دیکھ کر ہم نے خان بابا کو فون لگایا اور پوچھا، خان جی یہ امریکیوں نے اپنے مہمان ”اداکار“ کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔ آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ خان بابا نے اپنی کان پھاڑ آواز میں امریکیوں کے بارے میں چند نازیبا کلمات کہے اور پھر کہا، تم زیلنسکی کو بولو، وہ امریکہ ذلیل ہونے کیوں جاتا ہے، وہ ہم افغانوں کا مہمان بنے۔ پوری دنیا افغانوں اور پختونوں کی مہمان

Read more

آج کے بچے، کل کی قوم

ہماری گلی کی صفائی کرنے والوں کو اکثر شکایت رہتی ہے ہمارے گھروں کا کچرا، کوڑا دانوں سے باہر بکھرا ہوتا ہے جس سے اُنہیں صفائی کرنے میں دِقت پیش ہے اور اُن کے وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ ہم اِسی پریشانی کا شکار تھے کہ وہ کون ہے جو ہمارے کوڑے کو بکھیر دیتا ہے جب کہ ہم اسے سلیقے سے پلاسٹک کے بیگز میں بند کر کے باہر رکھتے ہیں۔ میرا گمان تھا کہ شاید گلی کے

Read more

دنیا کی افواج: قوم سازی میں ایک لازوال کردار

دنیا کی افواج ہمیشہ قومی سلامتی اور دفاع کی علامت رہی ہیں، لیکن ان کا کردار صرف میدان جنگ تک محدود نہیں۔ قدرتی آفات، انسانی بحران اور دیگر چیلنجز کے دوران افواج نے خود کو قوم سازی کے ایک مضبوط ستون کے طور پر پیش کیا ہے۔ افواج کی منظم، وسائل سے بھرپور اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کی صلاحیت قوم کو نہ صرف استحکام دیتی ہے بلکہ اجتماعی ترقی کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ قدرتی آفات قوموں

Read more

پھولن دیوی: ایک بھیانک خواب

کل رات دیر گئے میرے گھر کے دروازے پر زور سے دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو چند پولیس والوں کواپنے سامنے کھڑا پایا۔ وہ کچھ گھبرائے ہوئے اور بہت جلدی میں تھے۔ میں نے پوچھا، میرے گھرپر اتنی زور سے دستک، اوروہ بھی اتنی رات گئے، کیا وجہ ہے؟ آپ کو لوگوں کے آرام کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہ شریفوں کا محلہ ہے۔ میرے پڑوسی، میرے بارے میں کیا سوچیں گےکہ رات کے پچھلے پہر میرے دروازے پر

Read more

ادھر ہم، ادھر تم: نیا بیانیہ

ادھر ہم، ادھر تم کا نعرہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب ہے جو پاکستان کے مخصوص سیاسی پس منظر اور حالات کے بعد سامنے آیا۔ اس نعرے کی پیچھے درد اور بیانیے کی تاریخ بڑی ہولناک ہے۔ بھلا کب کوئی کسی کو یہ بتاتا ہے کہ بس اب بہت ہو گیا، اب ہماری راہیں جدا ہونے والی ہیں، ہمارے درمیان تفریق کی واضح لکیر کھنچی جانے والی ہے۔ بھلا کوئی کسی کو کب یہ جتلاتا ہے کہ ہمیں تم

Read more

یہ وقت شراب کا پیالہ توڑ کر توبہ کرنے کا ہے!

مشہور روایت ہے کہ مغل سلطنت کے بانی بابر نے لودھیوں کے خلاف آخری جنگ لڑنے سے پہلے اپنا شراب کا پیالہ توڑا اور مہ نوشی سے تو بہ کر لی، جس کے نتیجے میں اسے جنگ میں جیتنا نصیب ہوا۔ بادشاہوں کی تاریخ کبھی بھی قابل بھروسا نہیں ہوتی کیونکہ وہ مخصوص نقطہ نظر اور بیانیے کی ترویج کے لیے لکھی اور پروان چڑھائی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں تو غیر جانبدار تاریخ لکھنے کا رواج کم

Read more

امریکہ میں ایک انسانی پناہ گاہ کی اندرونی کہانی

 یہ کہانی امریکہ کی ایک ایسی انسانی پناہ گاہ کی ہے جسے ایک متوسط طبقے کا خاندان اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہا تھا۔ یہ داستان ایک ایسی انسانی پناہ گاہ کی ہے جس کی چھت کے سائے تلے گزرے چند ہفتوں اور راتوں نے کسی مجبور کی زندگی اور زندگی کے بارے اس کا نقطہ نظر ہی بدل ڈالا۔ عبدالرحمن کو زندگی ایسے موڑ پر لے آئی جہاں اسے بے رحم موسم اور بے درد زمانے سے بچنے

Read more

ایک ناکام باپ

یہ کہانی ایک ایسے انسان کی ہے جو اپنی زندگی میں تمام کامیابیوں کے باوجود اپنے آپ کو ایک ناکام انسان سمجھتا تھا۔ اُس نے ایک کامیاب انسان بننے کی تگ و دو میں اپنے تمام انسانی رشتے کمزور کر لیے تھے، اِتنے کمزور جو اُس لمبی سیڑھی کی طرح ہوں جو جتنی اونچی اور لمبی ہو، اُتنی ہی کمزور ہوجاتی ہے، اُس کی سختی اور مضبوطی برقرار نہیں رہتی ۔ وہ بہت زیادہ خم دار ہو جاتی ہے۔ امریکہ

Read more

امریکی جیل میں قید ایک حسینہ کی کہانی

کرسٹی اور اس کے بوائے فرینڈ کو جب دس سال کی قید سنائی گئی تو اس کے بیٹے کی عمر تقریباً اڑھائی سال تھی۔ اس کے وکیل نے عدالت عالیہ سے استدعا کی اس کی مؤکلہ کی سزا میں کمی کی جائے کیونکہ وہ ایک معصوم بچے کی ماں ہے اور اس کی تربیت کے لیے جیل کا ماحول مناسب نہیں ہو گا۔ کرسٹی کا جرم اتنا سخت تھا کہ عدالت نے نہ صرف وکیل کی اپیل مسترد کر دی

Read more

عالمی خفیہ اداروں کے سربراہی اجلاس کی فرضی کارروائی

یہ سات ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کا اجلاس تھا۔ اجلاس کیا تھا، یہ تو ایک قسم کی گول میز کانفرنس تھی۔ جس میں سب چیف ایک گول میز کے گرد بیٹھے خطے میں آنے والے حالات پر کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا سوچ رہے تھے۔ اس میٹنگ کے میزبان ملک کو سب کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت حاصل تھی۔ وہاں کی ایجنسی کا چیف، میزبانی کے فرائض نبھانے کے ساتھ ساتھ اجلاس کی چیئرمینی کا فریضہ

Read more

آخر امریکہ اور مغربی دنیا پاکستان سے کیا چاہتے ہیں؟

امریکہ بہادر کی افغانستان سے پسپائی، دنیا میں اس کی جگ ہنسائی، چین سے جاری رسہ کشی اور وہاں اندرون ملک سیاست میں بھونچال آنے کے بعد ، اب وہ ایسی راہیں تلاش کرنے کا متلاشی ہے جس سے عالمی سطح پر اس ساکھ دوبارہ بحال ہو سکے۔ اس کے اتحادیوں کے درمیان اعتماد بڑھے۔ تیسری دنیا کے ممالک کا چین کی جانب بڑھتا جھکاؤ کم ہو اور ان میں توازن ہو۔ امریکہ اور مغربی دنیا میں بگڑتی معاشی صورتحال

Read more

میں ہوں مغرب کا المیہ!

انسانی معاشرے میں آئے روز کئی المیے جنم لیتے ہیں۔ کبھی ان کی نوعیت انفرادی ہوتی ہے تو کبھی گروہی۔ غاروں کے زمانے سے لے کر جدید ٹیکنالوجی کے دور تک، چشم فلک نے کئی انسانی المیے دیکھے۔ غلامی، قتل و غارت گری، جبر و استبداد، لوٹ ماری، عزتوں کی پامالی، یہ سب انسانی المیوں کی بھیانک شکلیں ہیں۔ سادہ معاشرے کے مسائل بھی سادہ تھے۔ جب سے معاشرتی ترقی کو صنعتی پہیے لگے ہیں تو زندگی میں عجب سی

Read more

خوابوں کا امریکہ

جنوری 2009 ء کی ایک یخ بستہ رات کے پچھلے پہر، اپنی ریشمی رضائی میں مزے کی نیند سوتے ہوئے، اس نے خواب دیکھا کہ وہ امریکہ کے نومنتخب صدر باراک اوباما سے ایک گرم جوش مصافحہ کر رہا ہے۔ یہ خواب دیکھنے سے کچھ روز قبل 20 جنوری 2009ء کو اس نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا، ”آج جمہوریت پسندوں کے لیے فتح کا جشن منانے کا حقیقی دن ہے۔ آج دنیا کی واحد

Read more

مرغابیوں کے غول میں، ایک گونگی بطخ

متجسس طبعیت، دوہرے کردار اور ڈرپوک شخصیت کا مالک جمعہ خان ہر ویک اینڈ پر مے خانے جاتا تھا لیکن وہاں اس نے کبھی شراب نہیں پی۔ وہ شیشے کے گلاس میں کوک انڈیل کر پیتا رہتا اور سب دیکھنے والوں کو یہی تاثر دیتا کہ وہ بھی بہتی گنگا سے سیراب ہو رہا ہے۔ اگر کاؤنٹر پر گلاسوں میں مے انڈیلنے والی اس سے پوچھتی کہ سر کون سا برینڈ چاہیے تو وہ بہانہ بناتا کہ میں نامزد ڈرائیور

Read more

ایک اپاہج بیٹی

وہ روسٹم پر کھڑی سب سے اپنے مستقبل کے خواب اور منصوبے شیئر کر رہی تھی۔ کانفرنس کے تمام شرکاء بڑے انہماک سے اس کی جد و جہد زندگانی کی کہانی سن رہے تھے۔ اس کی باتیں سن کر پہلے حاضرین نے خوب تالیاں بجائیں، لیکن اس دوران وہ مرحلہ بھی آیا جب تالیوں کے بجنے کی آواز آنا بند ہو گئی، ہال میں مکمل سکوت چھا گیا اور سامعین تالیاں بجانے کی بجائے آنسو بہا رہے تھے۔

Read more

سلطنت امریکہ میں کس کا راج چلتا ہے؟

تاریخ انسانی میں کئی عظیم سلطنتوں کا ذکر سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے لیکن کسی بھی سلطنت میں اصل طاقت کا سرچشمہ کون رہا، وہاں کس کا راج چلتا تھا، یہ سوالات اپنی جگہ بڑے دلچسپ ہیں۔ ماضی میں شخصی حکومتیں قائم رہیں اس لیے وہاں کے حکمران کا فرمان حرف آخر ہوتا تھا لیکن جدید معاشرے میں لوگوں پر حکومت کرنے کا تصور بدل رہا ہے۔ اب بھی دنیا کے اکثر ممالک میں آمریت کا راج ہے، وہ چاہے ایک فرد یا خاندان کی صورت میں ہو یا پھر کسی ایک پارٹی کے طور پر۔ مگر امریکہ جیسی دنیا کی سب بڑی مضبوط جمہوری، معاشی اور فوجی مملکت میں کس کا راج چلتا ہے، آئیے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

Read more

امریکی یاروں کے قصے!

ایک انسان کی زندگی کے گرد کئی دائرے ہوتے ہیں اور وہ انہی دائروں میں مقید اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔ پہلا دائرہ خاندان، پھر اردگرد کا ماحول اور وسیب، پھر اس کا اپنا وطن اور سب سے بڑا دائرہ انسانیت کا رشتہ ہے جو عالمی سطح پر محیط ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ بس ایک یا پھر چند دائروں تک محدود رہنا پسند کرتے ہیں اور کنویں کے مینڈک کی طرح بس اسی کو اپنی کل کائنات

Read more

بے گھری کی لعنت

وہ اپنے بوائے فرینڈ کے کندھوں پر سر رکھ کر زار و قطار رو رہی تھی اور درد بھرے لہجے میں کراہتے ہوئے کہہ رہی تھی، ہنی، مجھے نہیں جینا۔ یہ دنیا رہنے کے قابل جگہ نہیں۔ بس مجھے مرنے دو۔ اس کا بوائے فرینڈ اسے تسلی دے رہا تھا، سویٹ ہارٹ، ایک نوکری چلی گئی تو کیا ہوا، تم اتنی پڑھی لکھی ہو، سمارٹ ہو، خوبصورت ہو، تمہیں کوئی بھی اچھی ملازمت مل جائے اپنے دل کو تسلی دو

Read more

کہانی ایک یہودی خاندان کی جو بکھر گیا

یہ کہانی ہے، امریکہ میں بسنے والے یہودی خاندان کے بچے، آئزک کی۔ آئزک کی ماں کتھولک عیسائی اور اس کا باپ یہودی تھا۔ اس کی چھوٹی بہن بھی تھی۔ وہ چاروں ایک بڑے اور خوبصورت گھر میں رہتے۔ آئزک کا باپ، مقامی یونیورسٹی میں ریاضی کا پروفیسر تھا اور اس کی ماں ایک بنک میں بطور مینجر کام کرتی تھی۔ باپ کے یہودی النسل ہونے کی وجہ سے یہ خاندان اپنے آپ کو جیوش کہلوانا پسند کر تا مگر

Read more

الف غین کی طرح غائب ہونا !

سو شل میڈیا بھی کیا چیز ہے، نت نئی اصطلاحیں سیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ہمارے دوست روف کلاسرا نے سپریم کورٹ کے سامنے خود سوزی کے واقعہ پر اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ شائع کی جس پر ان کے کسی چاہنے والے نے بڑا دلچسپ کمنٹ لکھا جس پر میں کافی دیر غور کرتا رہا کہ موصوف اصل میں کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس سماجی ویب سائٹ کے دانشور نے لکھا کہ ”ہمارا ملک اشرافیہ کے

Read more

مہاجرت کا درد

مسافر خان دن بھر لاہور سے آئے اپنے دوست ڈاکٹر ریاض کے ساتھ ہیوسٹن شہر کے قریب واقع امریکہ کے خلائی پروگرام ناسا میں سیر کرتا رہا۔ اس نے وہاں کے میوزیم میں انسانوں کی بنائی ہوئی حیرت انگیز ایجادات اور مشینوں کا مشاہدہ کیا جن کی مدد سے وہ چاند پر اپنا جھنڈا گاڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہوتا رہا کہ نسل انسانی کا مستقبل اب محفوظ ہو چکا ہے۔ اسے خوف لاحق

Read more

ہوم بیسڈ سکولنگ۔ بچیوں کی تعلیم کا ایک قابل عمل حل

اگست 2014 ء کا آخری ہفتہ چل رہا تھا ہم نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ آفس میں ایک بڑے کانفرنس ہال میں کھڑے بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کر رہے تھے۔ وہ ہال دنیا بھر سے آئے ہوئے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں، انسانی حقوق اور تعلیم نسواں کے لیے متحرک ایکٹیوسٹ اور ڈیویلپمنٹ کے ماہرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جب ہم نے اپنی تحقیق پر مبنی کچھ حوالہ جات

Read more

سٹیٹ کنٹرولڈ میڈیا کا ٹھپہ

پاکستان میں نئی مجوزہ میڈیا اتھارٹی کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اس کی تفصیلات کیا ہیں وہ ابھی تک کوئی نہیں جانتا حتی کہ چڑیا والی سرکار نے بھی اپنے ٹی وی شو میں یہی رونا رویا کہ ان کے پاس بھی اس حوالے کوئی مستند خبر نہیں۔ شاید ان کی چڑیا بھی وہاں پر نہیں مار سکتی جہاں اس قانون کے خدو خال وضع کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا

Read more

ضرورتوں کے رشتے

وہ تینوں دوست بل گیٹس کے شہر Seattle کے نواحی قصبے میں ایک کرائے کے مکان میں مقیم تھے۔ سبھی ساتھیوں کو ان کی سماجی و معاشی ضرورتوں نے جوڑ رکھا تھا۔ لیکن جب ضرورتیں خواہشات میں ڈھل گئیں تو ہر ایک اپنی ذات کا سوچنے لگا۔ شاید مادیت پسندی اپنے مفاد کے علاوہ کچھ سوچنے ہی نہیں دیتی۔ وہ مشترکہ ضرورت کے تحت ایک چھت تلے رہے، پھر بظاہر مخلص دکھائی دینے والے دوست، تسبیح کے دانوں کی طرح

Read more

امریکہ میں اس کی پہلی نماز!

وہ امریکہ کے شہر ٹیکساس میں واقع مسجد النور کے ایک کونے میں بیٹھا اونچی اونچی آواز میں گڑگڑا کر زار و قطار رو رہا تھا۔ وہ اپنی کسی خطا پر رب سے معافی کا خواستگار تھا۔ مسجد میں آنے والے باقی سب نمازی ظہر کی نماز پڑھ کر جا چکے تھے۔ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک گیا اور اپنا سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنے والے مہربان

Read more

امریکہ کی افغانستان سے پسپائی: ایک نئی جنگی حکمت عملی!

جنگی امور کے ماہرین اور تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ عثمانیہ سلطنت کی مشہور زمانہ فوج ینی چری نے اپنی Tactical Retreat کی حکمت عملی کی وجہ سے کئی جنگیں جیتیں اور اپنے دشمن کو سرپرائز دیا۔ کسی حکمت کے تحت میدان جنگ سے پسپائی اختیار کرنے کے دوران دشمن فوج کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کے مقابلے میں کھڑی فوج، کسی خوف یا ڈر کی وجہ سے جلدی میں اپنا ساز و سامان تک

Read more

ایک پاکستانی باغی گلوکار کی کہانی

وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جہاں موسیقی سے لطف اندوز ہونے والے تماش بین تو بہت تھے مگر وہاں گانا گانے اور ڈھول بجانے والوں کو ڈوم اور میراثی کہہ کر حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے برہمن قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس موسیقی کے دلدادہ آدم زادے کو بچپن ہی سے یہ پڑھایا جا رہا تھا کہ موسیقی سننا ہمارے مذہب میں حرام ہے۔ موسیقی کی کمائی سے پلنے والا جسم جہنم کی

Read more

تین شوہروں کےتین بچے اور ایک اکیلی امریکی ماں

یہ کہانی ایک ایسی ماں کے گرد گھومتی ہے جو اپنے ایسے تین بچوں کو پال رہی تھی جن کے باپ الگ الگ ہیں۔ امریکہ میں لاکھوں عورتیں، اپنے دو یا اس سے زیادہ شوہروں کے بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ امریکہ میں ازدواجی ناچاقی، بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے جھگڑوں سے سوتیلا پن پروان چڑھ رہا ہے۔ وہاں ایک بچے کو اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں کئی سوتیلے رشتوں سے نباہ کرنا پڑتا ہے۔ سوتیلا باپ یا

Read more

امریکہ میں پہلا قانونی نشہ

اس کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ کس جوش و جذبے کے ساتھ امریکی نوجوان اپنی اکیسویں سالگرہ مناتے ہیں۔

اکثر امریکی نوجوان جن کی عمر اکیس سال ہونے کو ہو وہ کسی بھی نائٹ کلب یا بار میں جا کر اپنی سالگرہ کا جشن بڑے دھوم دھڑلے سے مناتے ہیں۔ مہ کشی کی لذت سے شاید وہ پہلے بھی آشنا ہوں مگر اب وہ کھلے عام اور دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر شراب نوشی کر سکتے ہیں۔ بہت سارے منچلے امریکی نوجوان اپنے اکیس سال ہونے کے دن کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں اور اس کو بھر پور طریقے سے مناتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ بار میں جاتے ہیں یا اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ مل کر خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں۔

ریچل کی زندگی کا بھی وہ دن آ چکا تھا جب وہ شہر کے کسی بڑے کلب میں جا کر سب کے سامنے مے نوشی کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس دن، وہ تنہا تھی۔ وہ دن ریچل کی زندگی میں کوئی حقیقی خوشی کا دن نہیں تھا۔ وہ چوری چھپے اور اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر شراب پہلے بھی پی چکی تھی لہذا شراب اس کا مسئلہ نہیں تھا

Read more

پراکسی جنگوں کا نیا زمانہ اور کتے سے سور کے شکار کی پالیسی

یہ جنوری کا مہینہ تھا ہم نارتھ ویسٹ کی ایک امریکی ریاست کے کسی بڑے جم کی جکوزی میں بیٹھے نیم گرم پانی سے اپنی دن بھر کی تھکن اور سردی دور کر رہے تھے۔ باہر ہلکی ہلکی برفباری کا منظر دیکھنے اور اندر گرم پانی میں بیٹھنے اور جسم کو ٹکورنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اتنے میں ایک بوڑھا امریکی میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ وہاں کچھ اور لوگ بھی تھے بس میں ہی سب سے مختلف نظر آ رہا تھا، ایسے ہی جیسے مرغابیوں کے غول میں کوئی بطخ بیٹھی ہو۔

Read more

اگر یہ کتا امریکہ میں گم ہوتا تو!

آج کل پاکستانی میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر کسی کمشنر صاحب کے کتے کی گمشدگی کے حوالے سے بڑی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ چونکہ آج کل میں امریکہ میں گزرے ماہ و سال کی یادداشتیں لکھ رہا ہوں تو سوچا لگے ہاتھوں اس موضوع پر بھی کچھ قلم بند کیا جائے۔ میں نے پالتو جانوروں کے لیے جو پیار اور دیکھ بھال امریکہ کی سوسائٹی میں دیکھی وہ قابل ذکر ہے۔ پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں گم ہونے والا

Read more

شکریہ ماں! آخر کار ہمارے جنم دن کا قضیہ حل ہوا

ویسے کاغذوں میں ہماری تاریخ پیدائش 16 جون لکھی گئی ہے جو مڈل سکول تک 15 جون تھی۔ پھر ملتان انٹر میڈیٹ بورڈ کے کسی کلرک کی غلطی کی وجہ سے وہ 16 جون بن کر ہماری میٹرک کی سند کا حصہ بن گئی جو اب تک ہمارے نام اور شناخت کے ساتھ چپکی ہوئی ہے لیکن پچھلے سال ہی یہ انکشاف ہوا کہ دراصل ہم 31 جولائی کو پیدا ہوئے۔

مجھے اپنی سالگرہ منانے کا کوئی اتنا شوق نہیں رہا اور نہ ہی ہمارے زمانے میں اس کا اتنا رواج تھا۔ بس زندگی میں ایک مرتبہ اپنی سالگرہ دھوم دھڑکے سے منانے کا اہتمام کیا مگر پردیس میں اور وہ بھی اپنی خوشی سے زیادہ دوستوں سے ملاقات کا بہانہ تھا۔

Read more

امریکہ کے اصلی ہیر اور رانجھا

وہ دونوں شہر کے مشہور کالج میں پڑھتے تھے۔ لڑکے کا باپ ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل تھا اور ان کا خاندانی پیشہ سپاہ گری تھا۔ لڑکی کا باپ ایک امیر بزنس مین اور ایک بڑے کسینو کا مالک تھا۔ لڑکے کا نام رچرڈ تھا۔ وہ دراز قد، سنہری بال، نیلی آنکھیں اور مردانہ وجاہت رکھنے والا خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ پیار بھرا دل رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھا پینٹر بھی تھا۔ وہ اپنی ایک کالج فیلو Native American

Read more

ایک قوم، ایک نصاب: مگر کچھ سوال ابھی باقی ہیں

پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ قومی ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے رہا ہے۔ یہاں 1947 ء میں پہلی تعلیمی کانفرنس سے لے کر 1972 ء تک کوئی واضح تعلیمی پالیسی ہی نہیں رہی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس سیاسی جماعت نے 1972 ء میں پہلی قومی تعلیمی پالیسی متعارف کروائی جس میں زیادہ زور اس بات پر دیا گیا تھا کہ ملک میں شرح خواندگی کو بڑھایا جائے اور ملک کے بچوں کو

Read more

کون روئے گا تیرے مرنے کے بعد !

آج کل روبن شرما کی کتاب Who Will Cry When You Die؟ ہمارے زیر مطالعہ ہے جس میں مصنف نے زندگی کی مقصدیت پر کئی سوال اٹھائے ہیں اور اس نے بڑی بڑی کارپوریشنز کے سی۔ ای۔ اوز کی ورکشاپ میں بھی یہ سوال پوچھا کہ زندگی میں ہماری تمام تر کامیابیوں کے باوجود کیا ہم نے کبھی اس سوال پر غور کیا ہے کہ جب ہم اس دنیا میں نہیں ہوں گے تو کون کون ہمیں یاد کر کے

Read more

اسرائیلی سافٹ وئیر: کیا ایک اور پاناما سیکنڈل سر اٹھانے جا رہا ہے؟

اپریل 2016 میں پاناما لیکس کے سیکنڈل نے دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ کئی سربراہان حکومت اپنے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد 2016 ء میں ہی صدر ٹرمپ کے پہلے الیکشن کے دور ان بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں کے خلاف خبریں باہر آنا شروع ہو گئیں کہ وہ شہریوں کا ڈیٹا بیچ کر الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلے وکی لیکس کا معمہ بھی خبروں کی

Read more

امریکہ میں قربانی کے بکرے کا احوال

عید قربان میں ابھی چند دن باقی تھے کہ سلیم اور شدو بھائی نے قربانی کی رسم ادا کرنے کے لیے ایک بکرے کی تلاش شروع کر دی۔ وہ دونوں دوست امریکہ کے ایک دوردراز قصبے اور میکسیکو بارڈر کے قریب گیس سٹیشن اور کنوئینس سٹور میں ملازم تھے۔ وہ اچھے دوست اور اپنے خاندان سے دور، چھڑوں کی جیسے زندگی بسر کر رہے تھے۔ دونوں اکثر عید پر چھٹی لیتے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر عید کی خوشیاں مناتے۔ لیکن اب کی بار، باس نے انہیں عید کی رخصت دینے سے انکار کر دیا۔ سلیم ذرا مذہبی رجحان رکھنے والا تھا لہذا اس نے اپنی محنت کی کمائی سے قربانی کے لیے ایک بکرا خریدنے کی ٹھانی۔

Read more

امریکہ میں در پیش پرائیویسی کے مسائل

امریکی ریاست ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن میں شہریوں کو درپیش پرائیویسی کے مسائل پر ایک سیمینار جاری تھا۔ اس ورکشاپ میں ماہر ین نفسیات اور قانون، مقامی دانشور، شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والی انجمنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ اس تقریب میں شامل سبھی لوگ باری باری اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے لیکن شہریوں کی پرائیویسی کو لاحق خطرات کے حوالے سے چند شرکاء کی آراء اور تبصرے بڑے دلچسپ تھے جو اس کہانی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ بالخصوص سیمینار میں شامل ایک خاتون جولیا کی کہانی جس نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کر کے وہاں موجود سب شرکاء کو چونکا دیا۔

Read more

امریکہ میں گلیوں کے فنکار

اس روز مسٹر ٹام بہت مایوس تھا۔ وہ سارا دن ڈاؤن ٹاؤن کے بڑے شاپنگ مال کے سامنے بیٹھ کر اپنا ساز بجاتا رہا لیکن کسی راہگیر نے اسے ٹپ دینا تو کجا اس کی جانب نظر بھر کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ وہ ایک اچھا ڈرمر تھا اور امریکہ کے 60 s اور 70 s کے مشہور گانوں کی دھنوں کے ساتھ بہت خوبصورت انداز میں اپنا ڈرم بجایا کر تا تھا۔ وہ وہاں ہر آنے جانے والے

Read more

امریکہ میں مہا بھارت

یہ کہانی، امریکہ میں بسنے اور کام کرنے والے عظیم بھارت نژاد امریکی شہریوں کی ہے جو اپنے، دھرم، ارتھ، کام اور موکش کے اصولوں پر چلتے ہوئے، امریکہ میں مہا بھارت جیسی مہاکاوی کی نت نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ بھارت کے یہ سپوت، اپنے وطن، اپنی ثقافت اور نظریے کی جنگ تلواروں، نیزوں، برچھی یا بندوق کی مدد سے نہیں بلکہ اپنے علم، ہنر، محنت اور اخلاق سے جیت رہے ہیں۔ وہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں

Read more

ڈرم سرکل: امریکہ کا موسیقار قبیلہ

امریکی قوم موسیقی کی بڑی دلدادہ ہے۔ امریکہ کے موسیقاروں نے دنیائے موسیقی میں نئے رجحان متعارف کروائے۔ امریکہ کے کئی گلوکار آج بھی لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن کر دھڑکتے ہیں۔ امریکہ والوں کی میوزک سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر امریکی شہری کے گھر میں بجانے کو کوئی نہ کوئی، چھوٹا بڑا ساز یا سازینہ ضرور موجود رہتا ہے۔ چاہے وہ گیٹار ہو، ڈرم سیٹ ہو، افریقی ڈھول ڈی جنبے ہو، بانسری یا پھر شمالی یا جنوبی امریکہ کے روایتی آلات موسیقی ہوں۔

Read more

ایک دراز قد امریکی حسینہ

الزبتھ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ گوری رنگت، نیلی آنکھیں، سنہرے بال، دراز قد اور چست بدن رکھنے والی الزبتھ کا شمار اپنے سکول کی خوبصورت ترین لڑکیوں میں ہو تا تھا۔ قدرت نے حسن کی دولت کے ساتھ ساتھ اسے ذہانت کی نعمت سے بھی نوازا ہوا تھا۔ اس کی پرورش ایک متوسط، روایتی اور قدامت پسند امریکی خاندان میں ہوئی جہاں اس نے معاشرت کے اعلٰی اسلوب سیکھے۔ زندگی کے تمام مراحل بڑی کامیابی کے ساتھ

Read more

کہانی ایک بڑے امریکی بنگلے کی!

یہ کہانی ایک ایسے بڑے امریکی بنگلے کی ہے جہاں خوشیاں ہمیشہ چند ہفتوں کی مہمان ہوتی ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے اکثر پاکستانی اور بھارتی نژاد صاحب ثروت لوگ بڑے بڑے بنگلوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ کہانی ایک بھارتی نژاد امریکی، رام شرما کی ہے جو اپنی آنکھوں میں بڑے بڑے سپنے سجائے خوابوں کی سرزمین امریکہ جا پہنچا۔ وہاں اس نے اپنی محنت اور لیاقت سے خوب پیسہ کمایا اور جلد ہی واشنگٹن سٹیٹ کے ایک

Read more

امریکہ میں مہاجرین کی اولادیں

امریکہ میں مہاجرین کی تین قسم کی اولادیں آباد ہیں۔ ایک وہ جن کے آبا و اجداد نے امریکہ کو دریافت کیا اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر دنیا میں ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی۔ مہاجرین کی اس پہلی قسم کی اولاد کے لیے رسمی تعلیمی ادارے بنائے گئے جہاں وہ اپنے آباء کی تاریخ پڑھتے اور سیکھتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں، جن کے آبا و اجداد کو امریکہ میں ایک غلام کی حیثیت سے لایا گیا لیکن

Read more

ایک منہ بولی امریکی ماں

یہ کہانی ایک سفید فام امریکی ماں، ٹریسا اور اس کے منہ بولے بیٹے پرکاش نرائن کی ہے۔ ٹریسا نے اپنی جوانی کی زندگی آزاد خیالی میں گزاری لیکن اس نے اپنی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے لیے ایک خاوند کا انتخاب کیا، اور پھر اپنی زندگی کی انتالیس بہاریں اسی مرد کے ساتھ بتا دیں۔ خداوند کریم نے انہیں ایک خوبصورت بیٹی ڈیانا اور ایک بیٹے رابرٹ سے نوازا تھا، ڈیانا بڑی ہو کر امریکی فوج میں

Read more

سب سے پہلے

ہم انسانوں کی زندگی میں کچھ ناں کچھ، کوئی ناں کوئی سب سے پہلے، سب سے مقدم اور سب سے اہم ضرور ہوتا ہے۔ ہم اپنی چھوٹی بڑی خوشیوں کے موقع پر کسی ناں کسی کو یاد کرتے ہیں جیسے ایک خدا کا ماننے والا کسی نعمت کے ملنے پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔ ایسے ہی جیسے ایک ماں پہلا نوالہ لینے سے قبل اپنے بچوں کو یاد کرتی ہے یا کسی امتحان میں فرسٹ آنے والا

Read more

ایک ہندو کی رگوں میں مسلما ن کا خون

دہلی کے ہندو مسلم فسادات کے دوران ایک غریب مسلمان سبزی فروش نوجوان نے بھاگ کر ایک ہندو کے گھر پناہ لی۔ یہ 2020 ء کا اوائل تھا اور کسی سیاسی مسئلے پر دہلی میں ہر طرف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے جلد ہی انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہندو انتہا پسندوں کے ایک جتھے نے مسلمانوں کے بازار کو ہر طرف سے گھیر لیا اور بے دردی سے سب کو مارنا شروع کر دیا۔

Read more