دیوانِ غالب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(آغا گل بلوچستان سے اردو فکشن کی آبرو ہیں۔ "دیوان غالب” ایسی کہانی ہے جو نسلوں کی نفسیات بدل کے رکھ دیتی ہے۔ بولان کی سنگی چٹانوں سے برآمدہ برگ سبز)

سیاہ مجلد دیوانِ غالب کو میں بہت سینت سینت کر رکھتا ہوں۔ مقدس کتابوں کی طرح اس پر کپڑے کا غلاف چڑھا رکھا ہے۔ اس لیے اس کی چرمی جلد تو دکھائی ہی نہیں دیتی۔ بعض دوست میری لائبریری میں دیوانِ غالب تک رسائی حاصل کر بھی لیں تو مقدس کتاب سمجھ کر عقیدت سے بوسہ لے کر اور آنکھوں سے لگا کر واپس رکھ دیتے ہیں۔ مقدس کتابوں کو ہم آنکھوں سے لگانے اور چوم کر واپس رکھنے کے عادی ہیں۔ مقدس کتابیں خوبصورت غلافوں اور بوسے لینے کے لیے ہیں، پڑھنے اور عمل کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ لیکن دیوانِ غالب عقیدہ کے لیے تو بہرحال نہیں ہے۔ مجھے چرمی جلدوں سے نفرت سی آتی ہے، کراہت محسوس ہوتی ہے، چمڑی کی بُو آنے لگتی ہے۔ دیوانِ غالب سے میرا لڑکپن وابستہ ہے۔یہ دیوانِ غالب میرے والد بابک اور ان کے دوست باران کی نشانی ہے۔ جب کبھی چرمی جلد پر ہاتھ پھیرتا ہوں تو لہو کی سی بو محسوس ہونے لگتی ہے۔ جیسے کتاب کے ہر صفحے پر چمڑی منڈھی ہو، کھال چپکی ہو۔ جیسے خون میں بھیگی کتاب زندہ ہو، مگر بول نہ سکتی ہو۔ وفادار چیزیں بولتی بھی کہاں ہیں۔ دل نہیں بولتا، جگر نہیں بولتا۔ اپنی تمام تر وفا کے باوصف کتا نہیں بولتا۔

ان دنوں امتحانات قریب آر ہے تھے۔ دھیرے دھیرے دبے پاﺅں۔ مجھ سے زیادہ بابک پریشان تھے کہ اگر ان کا اکلوتا بیٹا میرٹ پر نہ آیا تو سرکاری نوکری نہیں ملے گی۔ خود تو پڑھے لکھے نہیں تھے مگر مجھے لائق بنانے کی دھن میں رہتے۔ میرے استادوں سے بھی خوشگوار تعلقات رکھتے۔ کوئی دکان پہ چلا آتا تو جلدی سے دودھ پتی چائے منگواتے۔ میری تعلیم اور کلاس میں درجے کا بہ اصرار پوچھا کرتے۔ عموماً سرشام اردو کے استاد میر صاحب چلے آتے۔ بابک سے ان کی گاڑھی چھنتی۔ میر صاحب کا تعلق دہلی سے تھا۔ نہایت ہی نستعلیق زبان تھی، منجھی ہوئی، نکھری ہوئی۔ مزاج میں نرمی۔ مگر ایک عجیب سی تمکنت تھی۔ کبھی عامیانہ گفتگو نہ کی۔ غصہ آیا بھی تو پی گئے۔ بابک ان کے سخت معترف تھے۔

ایک روز باتوں ہی باتوں میں میر صاحب نے بتلایا کہ امتحان کے لیے دیوانِ غالب بھی پڑھنا ہو گا۔ ورنہ نمبر کم ملیں گے۔ میر صاحب نے غالب کی بڑی تعریف کی۔ اتفاقاً وہیں پہ دینیات کے معلم بھی تشریف فرما تھے۔ انھیں غالب مخالفت کا شوق تھا، بولے :

”میرصاحب ! غالب شعائر اسلامی سے دور تھے۔ کسی کافر پہ ان کا دم نکلتا تھا۔ پڑھنا ہو تو اقبال پڑھیے۔ کیا بات ہے۔“

میر صاحب گویا ہوئے : ”اقبال کی طرح اگر غالب بھی محلہ بلی ماروں کی بجائے بھائی پھیرو یا بھاٹی گیٹ میں پیدا ہوتے تو ان کا دن منایا جاتا۔ ان پر تحقیق ہوتی۔ جوش بڑا شاعر ہے، کبھی اس کا نام سنا ہے، نصاب میں بھی شامل نہیں۔ “

دینیات کے معلم برافروختہ ہو گئے ۔ ان کی تسبیح کی گردش میں جارحیت کے آثار پیدا ہونے لگے ۔ بابک بڑے سمجھدار تھے جھٹ مہنگے سگریٹ کا پیکٹ پیش کیا۔ معلم نے چند کش لیے تو ان کے چہرے کا کھچاﺅ دُور ہونے لگا۔ اردو کے دو سو نمبر تھے اور اردو ہمیں آتی نہ تھی۔ داغ نے بھی اعلان کر رکھا تھا کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے۔ ان دنوں اردو کا بڑا چرچا تھا۔ اردو سیکھنے کا واحد ذریعہ میر صاحب کی ذات گرامی تھی۔ سرشام بابک سے گپ شپ کے بعد ہم دکان کے آخری کونے میں جا بیٹھتے۔ میر صاحب کرسی پر براجمان ہوتے اور میں کسی بوری پر بیٹھ جایا کرتا۔ خصوصاً چاولوں کی بوری پر بیٹھنا خاصا آرام دہ ہوتاتھا۔ ہمارے قصبے میں کتابوں کی ایک ہی دکان تھی۔ جس میں یا تو عشقیہ قصوںکی کتابیں ملتیں یا پھر مذہبی کتابیں۔ جانے کیوں ہمارا سارا ادبی سرمایہ صدیوں سے عشقیہ شکل ہی میں کیوں منتقل ہوتا رہا ہے۔

بابک کے پاس دیوانِ غالب تلاش کرنے کا سہل نسخہ تھا۔ سودا تول کے ہر گاہک سے آخر میں سوال کرتے :

”دیوانے غالب ہے آپ کے پاس؟ دیوانے غالب کہاں سے مل سکے گا“؟

اکثر گاہک تو انکار میں سر ہلا دیا کرتے کہ وہ کسی دیوانے کو نہیں جانتے۔ چاہے غالب ہو یا کوئی اور۔ بعض اوقات ازراہِ ہمدردی کئی گاہک استفسار بھی کرتے۔ ”دیوانے غالب نے کیا ادھار دینا ہے؟ آج کل ہوش مند رقم نہیں لوٹاتے، دیوانوں کا تو ذکر ہی کیا۔“

بابک کہاں ہمت ہارنے والے تھے۔ مجھے ڈر تھا کہ قصبے میں ان کی تکرار سے کہیں ان کا اپنا نام ہی دیوانِ غالب نہ پڑ جائے۔ مگر خیر ہوئی کہ ایک روز پتہ چلا کہ دیوانے غالب ان کے دوست باران کے پاس موجود ہے۔ باران ایک ریٹائرڈ ٹیچر تھے۔ دن میں کسی نجی سکول میں پڑھاتے اور سہ پہر میں ایک لمبی واک کے لیے نکل جاتے۔ اس لیے ان کا ہاتھ آنا مشکل ہوتا۔ بابک نے پیغام بھجوایا کہ جمعہ کے دن ہم ان کے پاس آئیں گے ، نمازِ جمعہ کے بعد۔ کیونکہ باران چھٹی کے روز بھی واک پر جایا کرتے تھے۔ ان کی اولاد نہیں تھی۔ بیوی اونچا سنتی تھی۔ شام کو ٹی وی لگا کر بیٹھ جایا کرتی اور گھنٹوں ٹی وی دیکھتی ۔ آواز اس تک پہنچ نہیں پاتی تھی لہٰذا پسند و ناپسند کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔

ان دنوں جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی تھی۔ ہمارے فوجی حاکم میں ضرورت رشتہ والے اشتہاروں کی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ دیندار، نیک چلن، پابند صوم و صلوٰة وغیرہ وغیرہ۔ وہ جمعہ کے احترام میں سب کچھ بند کروا دیتا تھا۔ پولیس اور صلوٰة کمیٹی والے ڈنڈے لیے پھرتے، ہر چیز بند ہو جایا کرتی۔ دفاتر، دکانیں، کھوکھے، میڈیکل سٹورز، کلینک، ہوٹل، تندور اور پنکچر کے اڈے ۔ نماز کے لیے بے تحاشا صفیں بچھا بچھا کر مصروف ترین سڑکیں بھی بند کر دی جاتیں۔ ٹریفک ڈسٹرب ہو کر رہ جاتی اور نتیجتاً پورے شہر میں بدحواسی پھیل جاتی۔ صرف ہوائیں آزاد رہتیں اور ہاتھوں میں ریت کے ذرے تھامے شہر بھر کو اس منافقت پر سنگسار کیے پھرتیں۔ بابک کو ڈسٹ الرجی تھی۔ شہر کا شہر بند کر دینے پر سخت جھینکتے۔ ان گرد آلود جھکڑوں سے تو انھیں اللہ واسطے کا بیر تھا۔ ان کا بس چلتا تو اپنے ہاتھوں سے ہوا کی کلائیاں مروڑ دیتے۔

جمعہ کے روز ایسا ہی کرفیو کا سماں تھا۔ ہُو کا عالم تھا۔ شہر پر گرد آلود ہواﺅں کا تسلط تھا۔ گلی گلی ڈنڈوں والے دوکانیں بند کروا رہے تھے کہ ہم پاپیادہ باران کے گھر پہنچے۔ اس نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ تان دیوانِ غالب پر ٹوٹی۔ باران گھر کے اندر سے دیوانِ غالب اٹھا لایا۔ بابک نے بیتابی سے جھپٹ لیا۔ ”تو یہ ہے دیوانِ غالب“ الٹ پلٹ کر دیکھا، پھر مجھے تھما دیا۔ سیاہ جلد، فن خطاطی کا شاہکار، دبیز کاغذ، سنہری حاشیہ۔ کتاب کیا تھی حسن طباعت کا نمونہ تھی ۔ سیاہ چرمی جلد اپنی بہار دکھا رہی تھی۔

”باران تم نے ذکر کیا تھا کہ دیوانے غالب تمہارے جہاد کی نشانی ہے وہ کیسے؟“

”بتاتا ہوں“ باران نے چائے پیالوں میں انڈیلی۔

”جب ملک تقسیم ہوا ، میں ان دنوں کمسن تھا۔ ایک بھی کافر ہلاک نہ کر سکا۔ ہندوﺅں کی دکانیں بند پڑی تھیں، گھروں کے باہر بھی تالے پڑے تھے۔ جیسے تیسے وہ نکل نکل کر بھاگ رہے تھے۔ کچھ بدستور چھپے ہوئے تھے کہ حالات نارمل ہوں تو معمول کی زندگی گزاریں۔ ہم بچوں نے بھی جتھے بنا رکھے تھے۔ ہندوﺅں اور مسلمانوں میں بظاہر فرق نہیں ہوتا۔ ایک سے لوگ ہیں، ایک سے چہرے، لباس، رسم و رواج بھی ایک سے ہیں۔ زبان بھی ایک سی بولتے ہیں۔ ایک سے بد شکلے ہیں۔ مگر ہمیں بزرگوں نے ہندوﺅں کی ایک واضح نشانی سمجھا رکھی تھی۔ جانتے ہو ناں؟“

میری موجودگی میں باران اشاروں، کنایوں میں گفتگو کر رہا تھا۔

”ہم ہندوﺅں کی مقفل دکانوں کے پٹ کھینچ کھانچ کر کسی دبلے پتلے لڑکے کو اندر داخل کر دیتے ۔ وہ ہمیں گُڑ شکر اور ٹافیاں وغیرہ پکڑاتا رہتا۔ بعد میں خو دبھی کسی طور باہر نکل آیا کرتا۔ ہم یہ مالِ غنیمت سمیٹ کر مجاہدانہ شان سے گھروں کو لوٹتے۔ جو پہلے تھے غازی وہ غازی کہاں ہیں۔ بڑے اچھے دن تھے۔ بڑی بے فکری تھی۔ سکول بھی بند پڑے تھے۔ بڑی تفریح رہتی۔ بعض اوقات کچھ رقم بھی ہاتھ لگتی جسے ہم اسلامی مساوات کے تحت آپس میں تقسیم کر لیا کرتے۔ ایک روز ہماری فوج ظفر موج کا کسی کوچہ سے گزر ہوا۔ ہم نے دیکھا مجاہدین نے ایک شخص کو اس کے گھر کی دہلیز پر ہی جکڑ رکھا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں اس کے بال ہیں تو کسی کے ہاتھ میں کان، کوئی ہاتھ مروڑے کھڑا ہے تو کوئی بازو قابو کیے اور وہ شخص ہے کہ رنگ زرد پڑ چکا ہے ، آواز نکل نہیں رہی، پیاسے بکرے کی طرح منمنائے جا رہا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ اتنے میں کسی پڑھے لکھے مجاہد نے حکم دیا ”کلمہ پڑھو“ ، ”کونسا کلمہ پڑھوں؟“ وہ ہکلاتے ہوئے بولا۔

”کیا مطلب ؟ کم بخت کیا کلمے ایک سے زیادہ ہیں“

”ہاں“ وہ کانپتی ہوئی آواز میں گھگھیانے لگا ”کلمے چھ ہیں“ مجاہدین سخت متعجب ہوئے۔ ”ہائیں؟ کلمے چھ ہیں؟“ سب نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اچانک آوازیں ابھریں۔ ”کافر ہے جھوٹ بولتا ہے۔ ایک کلمہ ہے، ایک خدا ہے۔ یہ چھ کلمے کہاں سے لے آیا“

ایک بقراط بولا : ”کلمہ میں پانچ ارکان اسلام شامل کر کے چھ بول رہا ہے“ ایک کمزور دل مسلمان بولا ”ہاں بھائی موت کو دیکھ کر تو کافروں کے ہاتھ پاﺅں بھی پھول جاتے ہیں۔ ایک کا چھ بنا دیتے ہیں۔“

”اچھا تو پہلا کلمہ سناﺅ جو ہم کو آتا ہے“

”بسم الہ الرحمن الرحیم۔ پہلا کلمہ طیب“ طیب معنی پاک لا الہ ….

”خاموش رہو“ کوئی گرجا، جس سے کلمہ پڑھنے والے کی آوازڈوب گئی۔ اس میں بولنے کی سکت ہی نہ رہی۔ اس کے خشک ہونٹ کپکپا رہے تھے مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔ جیسے بغیر سوئی کا گراموفون۔

وہی نووارد پھر گرجا ”بھائیو اس کا ختنہ دیکھو“

بہت سے ہاتھ متحرک ہو گئے، پھر قہقہے گونج اٹھے، گرفتار کے منہ سے بے معنی آوازیں نکلنے لگیں۔ مجمع احساس فتح مندی سے چلا اٹھا۔ ”ہندو ہے“ آدھ انچ کھال اس کی موت کا سبب بن گئی۔ ہم کودتے پھاندتے اس کی لاش کو روندتے گھر میں داخل ہوئے۔ سبھی مکان پر ٹوٹ پڑے اور مالِ غنیمت سمیٹنے لگے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا چیز سستی ہے اور کیا مہنگی۔ کیا اٹھاﺅں اور کیا چھوڑوں۔ ایک بڑے ہال میں پیانو پڑا تھا۔ جس کے اوپر یہ کتاب دھری تھی۔ میں نے کتاب اٹھائی اور بھاگ نکلا کہ کوئی مجھ سے چھین ہی نہ لے۔ کیونکہ سامان کے لیے چھینا چھپٹی بھی ہو رہی تھی“

”باران رک کر خلا میں گھورتا رہا۔ بابک نے دوبارہ اس کا پیالہ چائے سے بھر دیا۔

” کئی برس بعد وہی دیوانِ غالب مجھے ایک صندوق میں پڑا مل گیا ۔ میں نے اسے چھوا تو محسوس ہوا کہ جلد پر منڈھی چمڑی کسی انسان کی ہے۔ اچانک مجھے لہو کی بو آنے لگی۔ یوں لگا کہ کوئی کلمہ طیبہ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں نے گھبرا کر دیوانِ غالب بند کر دیا، میرے ہاں اولاد بھی نہیں ہوئی۔ کیا قدرت چاہتی ہے کہ مجھ جیسے انسانوں کی نسل بھی آگے نہ چلے۔“

بابک گھبرا سے گئے ۔ باران خاموشی سے چائے پیتا رہا۔ یوں لگا جیسے وہ کسی اور وقت میں داخل ہو چکا ہو۔ کھلی کھڑکی سے گرد آلود ہواﺅں کا ریلا در آیا اور ہمیں سنگسار کرنے لگا۔

باران کی طبیعت بوجھل ہو چکی تھی، اس نے دیوانِ غالب مجھے تھما دیا۔ ”لو بیٹا ! میرا تحفہ اپنے پاس رکھنا۔ کبھی یاد آﺅں گا مگر کھال کے چکر میں نہ پڑنا۔ آدھ انچ چمڑی ہو یا نہ ہو، تم انسان اور انسانیت کا خیال رکھنا۔“

برس ہا برس گزر گئے لیکن جانے کیوں اس دیوانِ غالب کو چھوتے ہی طبیعت مکدر ہونے لگتی۔ حتیٰ کہ میں نے اس پر کپڑے کا غلاف چڑھوا دیا۔ اس دنیا میں تو یوں لگتا ہے کہ چمڑی ہی کا راج ہے۔مجھے اس روز ناقابلِ برداشت صدمہ ہوا جب میرے ہی پڑوس میں نوبیاہتا دلہن ، چندا“ یہی کوئی بیس بائیس برس کی، سہاگ رات کے اگلے ہی روز کنوئیں میں کود گئی۔ اس کا شوہر رواج کے مطابق خنجر لیے کمرے میں داخل ہوا۔ صدیوں پرانا رواج ہے کہ دولہا کو خنجر بدست حجلہ عروسی میں بھجوایا جاتا ہے۔ حالانکہ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر دولہا کو خنجر دیا جاتا ہے تو دولہن کو دو خنجر دیے جائیں تاکہ وہ بھی اپنی تسلی کر لے۔ کیونکہ مرد تو کیکڑے کی طرح دونوں طرف سے چلتے ہیں۔ چندا کی پاکیزگی سے قطع نظر دولہا کو جس چمڑی کی تلاش تھی وہ نہ مل سکی یا اس کی وہاں تک رسائی ہی نہ ہو سکی۔ اس نے خنجر تو خیر نہ چلایا کہ اس میں اتنی سکت نہ تھی مگر جانے زبان سے کونسے نشتر چلائے کہ منہ اندھیرے دلہن کنوئیں میں کود گئی، زیورات کے ساتھ عروسی جوڑے میں۔ جب لڑکیاں اندھی، لولی ، لنگڑی اور اپاہج پیدا ہو سکتی ہیں تو بنا کسی مخصوص چمڑی کے بھی تو پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہزاروں برس سے دلہنیں محض ایک جھلی کے لیے قتل ہوتی آئی ہیں اور قتل ہوتی رہیں گی۔ لوگ ناخن بڑھا لیتے ہیں ، بال بڑھا لیتے ہیں، داڑھی بڑھاتے ہیں مگر کھال ، چمڑی یا جھلی تو کوئی نہیں بڑھاتا بلکہ وہ تو پیدا ہی ایسے ہوتا ہے یا اس کے ساتھ یا پھر اس کے بغیر۔

ایسی سوچوں سے مجھے خوف آنے لگتا ہے کہ کہیں میرے ذہن میں ننھی منی سی کھال تو سر نہیں نکال رہی جو میری موت کا باعث بن جائے گی۔ میں سوچے چلا جاتا ہوں تو دیوانِ غالب سے لہو کی بو آنے لگتی ہے۔ تیز، بہت تیز، تب میں دیوانِ غالب غلاف میں لپیٹ کر لائبریری سے نکل جاتا ہوں۔ ایسی گھٹن ہونے لگتی ہے کہ گھبرا کر گھر ہی سے نکل جاتا ہوں۔ شہر کی سڑکوں پر گرد آلود اور چیختی ہواﺅں کے راج میں۔ ہوائیں جو ہمیں سنگسار کر دینا چاہتی ہیں۔

Latest posts by آغا گل (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آغا گل کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments