یہ منہ اور مسور کی دال


دنیا بھر میں جاری ہونے والے پنڈورا پیپرز کے ہنگامے میں دفتر پہنچ کر اخبارات کا مطالعہ کیا۔ تو ہر اخبار نے وزیراعظم صاحب کے بیان کی شہ سرخی لگائی تھی۔ وزیراعظم صاحب نے پنڈورا پیپرز میں آنے والے ناموں کے خلاف تحقیقات کا اعلان فرمایا ہوا تھا۔ عمران خان کے اس اعلان پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ جو آپ لوگوں کے بھی گوش گزار کرتا چلوں۔

جب راجہ رنجیت سنگھ لاہور پہ قابض ہوا تو دہلی کے در بار سے وابستہ کئی ماہرین فن نے اپنی قسمت آزمانے کے لیے دربار کا رخ کیا، ان ہی اہل فن میں ایک باورچی بھی تھا، جس کے کھانوں کی لذت دور دور تک مشہور تھی۔ اس کے ہاتھ کی بنی مسور کی دال جو ایک بار کھا لیتا ہمیشہ یاد رکھتا۔

یہ بھی لاہور قسمت آزمانے پہنچا، رنجیت کے در بار میں رسائی حاصل کی اور تجربے کے طور پر مسور کی دال بارہ مسالوں کے ساتھ پکائی۔ یہ دال محل میں اتنی پسند کی گئی کہ ملکہ معظمہ کی طرف سے رنجیت کو پیغام پہنچا، اسے شاہی باورچی مقرر کیا جائے اور تا حکم ثانی مسور کی دال ہی پکے گی۔

مہینہ بھر تو دال کے چٹخارے رنجیت سنگھ نے لئے۔ مگر جب مہینے بعد باورچی خانے کا بل راجہ کو پیش کیا گیا تو وہ غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ جلدی سے باورچی کو بلا بھیجا اور دریافت کیا کہ اتنا خرچ تو گوشت پہ نہیں آتا جتنا تو نے دال پکانے میں لگا دیا۔ باورچی نے رنجیت سنگھ کے غصہ کو بھانپ کر التجائیہ انداز میں کہا کہ جناب دال میں بارہ مسالے ڈالے جاتے ہیں خرچہ تو آئے گا۔ یہ سننا تھا کہ راجہ نے باورچی کے برطرفی کے احکامات جاری کر دیے۔

مایوس باورچی نے لاہور چھوڑا، کہیں اور قسمت آزمائی کے لیے چل دیا۔ ادھر ملکہ کے سامنے وہی گھسے پٹے قسم کے کھانے آئے تو سخت احتجاج کیا اور باورچی کو واپس لانے تک بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئیں۔ راج دلاری ملکہ کی حالت دیکھ کر راجہ نے سپاہی دوڑائے اور فوری باورچی کو ڈھونڈ کر لانے کا حکم صادر کیا۔

سیالکوٹ کے قریب باورچی کو سپاہیوں نے گھیر لیا اور در بار میں حاضری کا حکم شاہی سنایا۔ باورچی نے جب راجہ کا نام سنا تو اس نے طنزیہ کہا، یہ منہ اور مسور کی دال۔ تو جناب عمران خان صاحب جو قول و فعل کے تضاد کا چلتا پھرتا نمونہ ہیں، کی طرف سے تحقیقات کا اعلان بھی دراصل ایسا ہے۔ جناب عمران خان صاحب آپ کے چہیتے لوگوں، یا یوں کہیے کہ آپ کا خرچہ پانی چلانے والوں کا نام ان پیپرز میں آیا ہے۔

چلو آپ اپنے چہیتے وزیرخزانہ جن کو آپ بڑے چاؤ کے ساتھ ملکی معیشت کو ترقی پر ڈالنے کے لئے لائے اور چودھری مونس الہی، جن کو آپ کو مجبوری کے طور پر کابینہ میں شامل کرنا پڑا۔ ان کو تو ہٹا دیں گے، دکھاوے کے لئے شوگر کمیشن کی طرح کا کوئی کمیشن بنا ڈالیں گے۔

مگر جناب وزیراعظم صاحب جو باقی 700 افراد جن میں آپ کو فنڈنگ کرنے والے عارف نقوی ہوں یا پھر سابق جرنیلز، ائر مارشلز اور ان کے اہلخانہ ہوں۔ ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ان کے خلاف آپ اپنے وعدہ کے مطابق کوئی کارروائی کریں گے؟ کیا واقعی ایسا ہو گا؟

اس بات کا جواب میں اور میرے علاوہ ہر ذی شعور کے پاس ہے یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اور اس کی تصدیق تو آپ کے بیان کی اس لائن میں موجود ہے ”حکومت پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کی تحقیقات کرے گی“ ۔ یہاں پاکستانیوں سے مراد تو ہم عوام یا دوسرے لفظوں میں کیڑے مکوڑے ہی ہوں گے۔

ورنہ 700 افراد میں سے اکثر تو بیرون ملک مقیم ہیں اور وہیں اپنے کاروبار کر رہے ہیں۔ جو پاکستان میں موجود ہیں بھی تو ان کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی مصیبت تو آپ کبھی بھی نہیں مول لیں گے۔ کیونکہ آپ کے سامنے سابق وزیراعظم نواز شریف کی مثال موجود ہے۔ وہ بھی سویلین برتری کے خواب لئے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنا کر انہیں جیل میں ڈالنے کی غلطی سرزد کر بیٹھے تھے۔

خان صاحب ویسے بھی آپ کو استعفی دے دینا چاہیے، کیونکہ علیم خان صاحب کے تو آپ ہیلی کاپٹر اور گاڑیاں استعمال کرتے رہے۔ رہی بات عارف نقوی صاحب کی تو آپ نے برملا اعتراف کیا کہ آپ کو ابراج گروپ کی جانب سے فنڈنگ کی جاتی رہی ہے۔

ویسے بھی سسلین مافیا جس کی آپ کی مثالیں دیتے وہ بھی یہی کرتے تھے۔ وہ اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے سیاستدانوں پر سرمایہ کاری کرتے تھے۔ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ جس سے ان کے بارے میں عمومی تاثر اچھا بن جاتا تھا۔

اب کے اگر ان لوگوں کے خلاف تحقیقات شروع ہوئی تو ان کے تو بینیفشریز میں سب سے پہلا نام آپ کا آئے گا۔ آپ کے ہی طے کردہ اصولوں کے مطابق یہ مفادات کا تصادم ہو گا۔ آپ جس کرسی پر براجمان ہیں اس پر رہتے ہوئے تحقیقات کرنے والے ہر ادارے پر اثر انداز ہوں گے۔

Facebook Comments HS