کیا سارے اساتذہ "ہیپی ٹیچرز ڈے” کا پیغام وصول کرنے کے اہل ہوتے ہیں

کیا سارے اساتذہ ”ہیپی ٹیچرز ڈے“ کا پیغام وصول کرنے کے اہل ہوتے ہیں؟
کیا سارے اساتذہ اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں؟ اگر کر رہے ہیں تو یہ معاشرہ اخلاقی و تعلیمی سطح پہ زوال پذیر کیوں ہے؟
اساتذہ کے عالمی دن پہ طلبا کی طرف سے نیک تمنائیں وصول کرنا تو بہت خوش کن اور اعزاز والی بات ہوتی ہے لیکن کیا استاد کے مقام پہ پہنچنا آسان ہے؟
صرف پڑھا دینا کافی ہے یا پڑھانے کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے؟
میں نے جب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا تھا تو کوشش ہوتی تھی اپنی ذاتی زندگی و عادات یونیورسٹی سے باہر چھوڑ کر جاؤں۔ یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہوئے میں استاد بن کر داخل ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ پڑھاتے ہوئے صرف میرے لفظ نہیں، میرا لہجہ میرے اطوار بھی طلبا پہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ پڑھاتے ہوئے طلبا کے لیے اپنی پسند ناپسند ایک طرف رکھ کر ان سے برابری کی سطح پہ پیش آنا بھی مشکل امر ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ ان کو جو پڑھایا جا رہا ہے، اس پڑھائی کا حق ادا کرنا ضروری ہوتا تھا۔ وہ علم جو ان تک پہنچانا مجھ پہ فرض تھا، اسے احسن طریقے سے ان تک پہنچانا میری ہی ذمہ داری تھی۔ پھر اس سب کے بعد استاد ہونے کی حیثیت سے ان کی اخلاقی اور معاشرتی تربیت میں بھی حصہ ڈالنا ضروری ہوتا تھا۔
استاد ہونا آسان ہے لیکن استاد بن کر دکھانا کسی طور بھی آسان نہیں ہوتا۔ میں نہیں جانتا کہ میں نے ان سب حقوق کو کس حد تک ادا کیا مگر میں نے اپنی طرف سے ان کو ادا کرنے کی پوری کوشش ضرور کی۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں جب استاد بنا تو اپنا جی جان لگا کر طلبا کی تعلیمی و اخلاقی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔
مدعا یہ ہے کہ اگر آپ استاد ہیں تو کیا آپ طلبا کے حقوق پورے کر رہے ہیں؟ کیا آپ ان کی اخلاقی و تعلیمی تربیت کرنے کا حق ادا کر رہے ہیں؟
کیا آپ اساتذہ کے عالمی دن پہ ”ہیپی ٹیچرز ڈے“ کا پیغام وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں؟
کیا آپ بطور استاد اپنے اوپر فخر کر سکتے ہیں؟
اگر نہیں کر سکتے تو ”ہیپی ٹیچرز ڈے“ کے پیغام پہ خوش ہونا کافی نہیں۔ اپنی ذمہ داری سمجھیے، اپنے فرائض سمجھیے۔ وہ جو آپ کی شاگردی میں دے دیے گئے ہیں، ان کی ذہنی و علمی سطح کو بہتر کیجیے۔ اخلاقی و معاشرتی اطوار میں زوال پذیر اس معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیجیے۔ مستقبل کے معماروں کو اس قابل بنائیں کہ آپ فخر سے انھیں اپنا شاگرد کہہ سکیں۔ اپنے طلبا کو اس قابل بنائیں کہ وہ اس وطن، اس معاشرے کو ذلت کے گڑھوں سے نکال کر بلندی کی طرف لے جا سکیں۔
اس قابل بنیے کہ ہیپی ٹیچرز ڈے کا پیغام ملنے پہ فخر اور طمانیت سے سینہ چوڑا کر سکیں۔
میں اپنے استادی کے دورانیے میں غیر ارادی طور پہ رہ جانے والی کمیوں کوتاہیوں پہ اپنے طلبا سے معذرت خواہ ہوں۔ اور اپنے سارے اساتذہ کا شکرگزار ہوں جو مجھے علم دینے اور اس مقام تک پہنچانے کا وسیلہ بنے۔ دعا گو ہوں ان سب اساتذہ کے لیے بھی جو اپنے حقوق پورے کرتے رہے اور ان سب کے لیے بھی جو اپنے حقوق سے غافل رہے۔
”ہیپی ٹیچرز ڈے“

