سینیٹری ورکرز کے حقوق بھی انسانی حقوق ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینٹری ورکرز وہ لوگ ہیں جو ہمارے بازاروں، شہروں اور قصبوں کو صاف رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں، سرکاری حکام اپنے شہروں کی صفائی کے لیے لوگ بھرتی کرتے ہیں۔ صفائی کا کام سب سے زیادہ تکلیف دہ اور خطرناک کاموں میں سے ایک ہے، خاص طور پر لاہور میں، مناسب طریقہ کار اور تربیت کے فقدان کی وجہ سے سینیٹری مزدوروں کے کام کرنے کے حالات خراب ہیں۔

ایک سینیٹری ورکر پرویز مسیح کا کہنا ہے کہ ”جب میں 25 فٹ گہرے گٹر میں اترتا ہوں تو مجھے نہیں معلوم کہ میں واپس زندہ سلامت آؤں گا یا نہیں۔“ زیادہ تر گٹر اور مین ہول زیر زمین 15 سے 25 فٹ گہرے ہوتے ہیں۔ ”ہمارے کارکن رسی کی مدد سے ہاتھوں میں بالٹی لیے ہوئے مین ہولز میں اترتے ہیں۔ انہیں بند سیور لائنوں کو صاف کرنا ہوتا ہے۔ گٹروں اور مین ہولز کو غیر مقفل کرنے کے دوران وہ مختلف بدبودار اور زہریلی گیسوں کا سامنا کرتے ہیں۔

“ محمد علی نے سی ایچ آر ای ٹیم کو بتایا۔ وہ علاقہ جہاں وہ کام کرتا ہے صنعتی زون ہے جہاں بہت سے کارخانے چلتے ہیں۔ فیکٹری مالکان دھاتوں کی کٹائی اور تطہیر کے لیے مختلف کیمیکل استعمال کرتے ہیں۔ یہ کیمیائی مادے اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ زہریلے مواد جلد کی شدید بیماریوں کا باعث بنتے ہیں اور سینیٹری ورکرز کو مختلف صحت کے مسائل کا شکار بناتے ہیں۔

پرویز مسیح یوسی 23 کی جوزف کالونی میں رہتے ہیں جو کہ 23000 آبادی پر مشتمل لاہور کی سب سے گھنی یونین کونسل ہے۔ جوزف کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں صرف چار سیور ورکران ہیں۔ گٹروں میں اترتے وقت مزدوروں کو مناسب آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں چہرے کا ماسک، آکسیجن سلنڈر، گیس ڈٹیکٹر، ڈرائی سوٹ اور جوتے شامل ہیں جو بدقسمتی سے ان کے پاس نہیں ہیں۔

محمد علی نے ٹیم کو بتایا، ”تین سال ہو چکے ہیں کہ ہمیں کام کی وردی اور جوتے فراہم نہیں کیے گئے۔“ جب وہ بھری ہوئی گٹر لائنوں کو صاف کرتے ہیں تو ان کی زندگی خطرے اور خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ کاکروچ کے غولوں سے گھیرے جاتے ہیں، اور دوران صفائی ان کے اوپر بیت الخلاء سے آنے والا پیشاب اور فضلہ آتا ہے۔

سینٹر فار لاء اینڈ جسٹس کی طرف سے شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 2019 میں کام کے دوران 70 سیور کارکنوں کی موت ہوئی۔ سیور لائنوں کو غیر مقفل کرتے ہوئے زہریلی گیسوں کی موجودگی سے بھی اموات ہوتی ہیں۔ ”گٹروں میں کام کرنے والا 32، 000 ماہانہ وصول کرتا ہے سوائے 10، 000 کے اضافی رسک الاؤنس کے۔ دوسرے سینیٹری ورکرز اس سے بہت کم وصول کرتے ہیں۔ “ اس تنخواہ کے ساتھ، میں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا ”پرویز نے مزید کہا۔

صرف سیور لائنز اور گٹروں کو صاف کرنے والے ہی سرکاری طبی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں، باقی کارکنان اس سہولت سے استفادہ نہیں حاصل کر سکتے۔

ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سینیٹری ورکرز میں 80 فیصد مسیحی ہیں جبکہ باقی 20 فیصد نچلی ذات کے سمجھے جانے والے ہندو اور مسلمان ہیں۔ سینیٹری ورکرز کے لیے کام کے اوقات اور مناسب طریقہ کار نہیں ہے۔ اگرچہ، روزانہ کے اوقات کار آٹھ گھنٹے ہیں، لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ مثال کے طور پر، جب بارش ہوتی ہے تو انہیں کسی بھی حادثے سے بچنے کے لیے موقع پر موجود رہنا پڑتا ہے، چاہے انہوں نے اپنی آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی انجام دی ہو۔ انہیں اوور ٹائم کام کے لیے معاوضہ نہیں دیا جاتا جو کہ ”جبری مزدوری بغیر معاوضے“ میں آتا ہے جو کہ غیر قانونی اور قابل سزا جرم ہے۔

ممتاز مریم ایک مسیحی بیوہ ہیں اور ان کا شوہر طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے دو ماہ قبل اپنی بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا اور ان کی موت ہو گئی۔ ”ایک بار، میں اپنی بیٹی کے ساتھ شاپنگ کے لیے بازار گئی، ایک سٹور کے دروازے پر دو نوجوان لڑکوں نے طنزیہ انداز میں ہمیں چوڑھے پکار رہے تھے“ ۔ وہ جو کام انجام دیتے ہیں اس کی خطرناک نوعیت کے باوجود، وہ مذہب کے ساتھ ساتھ ذات کی بنیاد پر بھی امتیازی سلوک کا شکار رہے ہیں۔

سب سے پہلے، پچھلے سال جولائی میں ملٹری نے ایک اشتہار ایک اخبار میں شائع ہوا تھا جس میں یہ ذکر کیا گیا تھا کہ ’صرف مسیحی ہی درخواست دے سکتے ہیں‘ ۔ لہذا یہ ثابت ہوا کہ امتیازی سلوک کی حوصلہ افزائی ریاستی سطح پر کی جاتی ہے۔ دوم، سینیٹری ورکرز BPS۔ 1 (بنیادی تنخواہ اسکیل 1 ) میں بھرتی ہوتے ہیں اور اسی سکیل میں ہی ریٹائر ہوتے ہیں۔ برسوں کی سروس (خدمت) کے باوجود، اعلی سکیلز کے لئے ان کو ترقی نہیں دی جاتی ہے۔ آخر میں، اب مسلمانوں کو اس پیشے میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔ وہ سیور لائنوں میں اترنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو پاک اور صاف تصور کرتے ہیں اسی لیے انہیں اس شعبے میں مناسب عہدے دیے جاتے ہیں اور ان کو اچھی جگہ تعینات بھی کیا جاتا ہے۔

سینیٹری ورکرز کے لیے بہت سے مسائل ہیں۔

1) مثال کے طور پر ریٹائرڈ سینٹری ورکرز کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ نہیں ہے۔ جب وہ ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کے عہدوں پر دوسرے لوگوں کا قبضہ ہوجاتا ہے۔

2) زیادہ تر سینیٹری ورکرز کچی آبادیوں میں رہتے ہیں کیونکہ دیگر کارپوریشنوں کی طرح ان کی کوئی سرکاری رہائشی کالونیاں نہیں ہیں۔

3) وہ معاشرے میں ناقابل قبول ہیں اور انہیں ان کے کام کی وجہ سے اچھوت اور کم ذات والے سمجھے جاتے ہیں۔

ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ سینیٹری ورکرز کے مسائل پر فوری ایکشن لیا جائے۔ ایل ڈبلیو ایم سی اور واسا کو چاہیے کہ وہ تمام مطلوبہ آلات کی فراہمی کو یقینی بنائے جو انہیں بہتر اور محفوظ کام کرنے کے لیے درکار ہیں۔ انہیں سرکاری رہائش اور طبی امداد کی فراہمی مستقل بنیاد پر دی جائے۔ ایل ڈبلیو ایم سی کو ورکرز کی سکیلز میں ترقی کی پالیسی اپنانی چاہیے، تاکہ اتھارٹی کے ذریعہ ان کے استحصال ختم ہو جائے۔ ہر سینٹری ورکر کی تنخواہ 70،000 سے کم نہیں ہونی چاہیے، ان کی صحت کے مسائل خصوصاً سانس کی بیماریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تنخواہیں بڑھانی چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عطا اللہ خان ناصری خیل کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments