ددی بائی مگھیانے والی کی تجوری اور پینڈورا پیپرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایوب حکومت نے عبداللہ حسین کو "اداس نسلیں” لکھنے پر 1963ءمیں آدم جی ادبی ایوارڈ سے نوازا تو گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان کالاباغ سخت ناراض ہوئے۔ ان کا ردعمل قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت میں درج کر رکھا ہے۔ ہم اخبار میں بر بنائے بد زبانی نقل نہیں کر سکتے۔ زرعی زمین، مونچھ، حکمرانی اور صلبی اولاد کی لایعنی دنیا میں بسنے والے دریائی ٹھیکیدار کو ادب کی کیا سمجھ ہو سکتی تھی۔ عبداللہ حسین کو فحش نگار قرار دینے والا اگر آج حیات ہوتا تو اسے اسد محمد خان پڑھایا جاتا۔ شاید جان لیتا کہ زندگی اور ادب فحش نہیں ہوتے۔ فحاشی کو جہالت، غربت، آمریت اور ناانصافی میں ڈھونڈنا چاہیے۔ اسد محمد خان کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر ہم پاکستان میں رہتے اور اردو لکھ پڑھ سکتے ہیں تو اسد محمد خان کا فکشن پڑھنا زندگی کے فرائض کفایہ میں شامل ہے۔ اسد محمد خان کی ایک سگنیچر کہانی ہے، "نصیبوں والیاں”۔

نیپئر روڈ کے نسبتاً غریب کنجر پاڑے کے ایک بالا خانے کی نائیکہ ددی بائی مگھیانے والی ایک رات اچانک مر گئی۔ کوٹھے پر موجود پانچ لڑکیوں، بالو، نگینہ ، روزی، چمپا اور جمیلہ کی برسوں پر پھیلی بیس ناخن کی کمائی ددی بائی کی تجوری میں رکھی ہے اور تجوری کی چابی ددی بائی کے ایک مبینہ رشتے دار بشیر داروغے کے پاس ہے جسے جھنگ یا ایسی ہی کسی جگہ سے آنا ہے۔ اس دوران بلڈنگ کے ایک غیر معزز رہائشی مینا داروغے نے عارضی طور پر معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔ ددی بائی کی آنکھ بند ہوتے ہی اس گھونسلے کے پنچھیوں کی آنکھیں بھی بدل گئی ہیں۔ سب کو بشیر داروغے کا انتطار ہے کہ تجوری کھلے اور وہ اپنی جمع پونجی اٹھا کر چمپت ہوں۔ کسی کے زیور تجوری میں رکھے ہیں تو کسی نے ہزاروں روپے کی امانت ددی بائی مرحومہ کے پاس رکھوائی تھی۔ دو چار روز بعد ایک خاص آن بان سے بشیر داروغہ کی آمد ہوتی ہے۔ تعزیت کے نام پر برادری جمع ہوتی ہے۔ اصل مدعا گواہوں کی موجودگی میں تجوری کھولنا ہے۔ بڑے اہتمام سے تجوری کی چابی کی حوالگی اور وصولی کی رسم ادا ہوتی ہے۔ تجوری کھلتی ہے۔ وہاں ایک گوٹے کناری سے بنے بے قیمت تاج اور تھیٹر کے چند پرانے اشتہارات کے سوا کچھ نہیں رکھا۔ جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی…. ہوا یہ کہ ددی بائی کی خبر ملتے ہی داروغہ بشیر نے داروغہ مینا سے ساز باز کر کے تجوری کا صفایا کر دیا تھا۔ ددی بائی نے اپنی پروردہ لڑکیوں کو عاشقوں کی جیب کاٹنا سکھایا تھا، باقی کاروبار حیات کی ان غریب بچیوں کو کیا خبر تھی، زندگی بھر جن کی راتیں ہنگامہ خیز اور دن بیوہ کی مانگ جیسے گزرے تھے۔

بڑا ادب اخبار کی خبر نہیں ہوتا لیکن ادب اخبار کی خبر سمجھنے کی تربیت ضرور دیتا ہے۔ دنیا بھر کے صحافیوں کی غیر سیاسی تنظیم انٹر نیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس نے تمام ممالک میں فراڈ، ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ کی مدد سے آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے اور ناجائز اثاثے بنانے والی اشرافیہ کے بارے میں ایک دستاویزی تحقیق جاری کی ہے۔ 117 ممالک کے 600 صحافیوں نے سوا کروڑ دستاویزات پر دو برس تک عرق ریزی کر کے دنیا بھر کے حکمرانوں، معروف شخصیات، کاروباری افراد، سرکاری اہل کاروں کا کچا چٹھا بیان کیا ہے۔ جاننا چاہیے کہ اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے والے عام طور پر ایسے ممالک میں اثاثے بناتے ہیں جہاں ٹیکس کے قوانین نرم ہوں نیز دولت کے ذرائع کے بارے میں زیادہ تردد نہیں کیا جاتا۔ ایک دلچسپ مشاہدہ یہ سامنے آیا ہے کہ اس تحقیق کی روشنی میں مبینہ مجرم افراد کی بھاری اکثریت ان ممالک سے تعلق رکھتی ہے جہاں آمریت یا غیر شفاف حکمرانی کا چلن پایا جاتا ہے۔ اس فہرست میں مستحکم جمہوریتوں سے تعلق رکھنے والے یورپ کے بہت کم سیاسی رہنما پائے گئے ہیں۔ یہ البتہ معلوم ہو گیا کہ ’دیپ اونچے مکانوں میں ہمارے خوں سے جلتے ہیں‘۔ دولت ہم غریبوں کی مگر کاخ و قصر ترقی یافتہ ملکوں میں رونق دیتے ہیں۔

اس جم ندامت میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے اور سات سو پاکستانی نام سامنے آئے ہیں جن میں وزرا سمیت سیاست دان، تاجر، صنعت کار، میڈیا مالکان اور ریٹائرڈ عسکری افسران کے اسمائے گرامی ملے ہیں۔ حیرانی اس پر ہوئی کہ پاکستان کے سب سے بڑے ڈاکو آصف زرداری کا نام نظر نہیں آیا۔ پاکستان کے سب سے بڑے چور نواز شریف کا نام اس فہرست میں نہیں ملا۔ ففتھ جنریشن وار فیئر میں وطن فروشی کے مستند مجرم صحافی بھی پھسڈی نکلے۔ مغرب کا ایجنڈہ بیچنے والے لبرل اور ہماری خاندانی اقدار کے دشمن جمہور پسندوں کے آف شور اثاثے بھی نہیں مل سکے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان نااہلوں کا کل اثاثہ یہ وطن اور یہاں بسنے والے تہی دست عوام ہی ہیں۔ عسکری قیادت پر انگشت نمائی کی جسارت تو ہم بکاؤ صحافی نہیں کر سکتے، یہ تو بتایا جا سکتا ہے کہ سیاست دانوں میں سے وہی نام بے نقاب ہوئے ہیں جو الیکٹ ایبلز کہلاتے ہیں نیز دھوپ کی پہلی کرن دیکھتے ہی سیاسی وفاداریاں بدل لیا کرتے ہیں۔ خاطر جمع رکھیے، ہم آئی سی آئی جے کے محتاج نہیں۔ ہم جب اور جہاں چاہیں، اقامہ برآمد کر سکتے ہیں، منی لانڈرنگ کے ثبوت شہ زور گاڑیوں میں لاد کر لا سکتے ہیں، اور اگر ضروری ہو تو وڈیو وغیرہ سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم صوابدیدی اختیار کی پناہ میں ہیں، ہم نے اپنے اطراف میں قومی مفاد کی فصیل اٹھا رکھی ہے، آپ کی سلامتی کے نام پر ہمارے اثاثے سلامت ہیں۔ اگر تاریخ کے ہر موڑ پر آپ کی تجوری خالی نکلتی ہے تو اس میں ہمارا کیا دوش۔ آپ جیسی نصیب جلی مخلوق کے لئے داروغہ بشیر کا یہ جملہ کافی ہے، ’ساری زندگی اِناں…. نصیباں والیوں نے اپنی وہ کرا کرا کے پےہا (پیسہ) کٹّھا کیتا سی۔ تے ہن، لو جی، تجوری خالی پئی ہے۔ بھاگاں والی، بالکل خالی….”


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments