کٹّے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی زمیندار کی بھینس نے دودھ دینا بند کر دیا، زمیندار بڑا پریشان ہوا۔
اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا۔ ڈاکٹر نے ٹیکے لگائے لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔

تھک ہار کر وہ بھینس کو شاہ جی کے پاس لے گیا، شاہ جی نے دھونی رمائی، دم کیا، پھونک ماری، لیکن وہ بھی بے سود رہی۔ بھینس کو کوئی فرق نہ پڑا۔

اس کے بعد وہ بھینس کو کسی سیانے کے پاس لے گیا۔ سیانے نے دیسی ٹوٹکے لگائے، لیکن وہ بھی بے کار ثابت ہوئے۔

آخر میں زمیندار نے سوچا کہ شاید اس کا کھانا بڑھانے سے مسئلہ ٹھیک ہو جائے۔ تو وہ اسے ماں جی کی خدمت میں لے گیا، ماں نے خوب کھل بنولہ کھلایا، پٹھے کھلائے، کسی چیز کی کسر نہ چھوڑی۔ لیکن بھینس نے دودھ دینا شروع نہ کیا۔

لاچار ہو کر وہ اسے قصائی کے پاس لے کر جانے لگا کہ یہ اب کسی کام کی نہیں تو، چلو ذبح ہی کروا لوں، راستے میں اسے ایک سائیس ملا۔

سائیس بولا: پریشان لگتے ہو۔
زمیندار نے اپنی پریشانی بیان کی۔
سائیس نے کہا: تم کٹا کہاں باندھتے ہو؟
زمیندار بولا: بھینس کی کھرلی کے پاس۔
سائیں نے پوچھا: کٹے کی رسی کتنی لمبی ہے؟ زمیندار بولا: کافی لمبی ہے۔

سائیس نے اونچا قہقہہ لگایا اور بولا: سارا دودھ تو کٹا چنگ جاتا ہے، تمہیں کیا ملے گا، کٹے کو بھینس سے دور باندھو۔

قومی اسمبلی اور سینٹ کی 50 کمیٹیاں ہیں۔ اور ہر کمیٹی کا ایک چیئرمین ہے۔ ہر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری پر 1994 ء میں 2، 2 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ ہر چیئرمین ایک لاکھ ستر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتا ہے۔ اسے گریڈ 17 کا ایک سیکرٹری، گریڈ 15 کا ایک اسٹینو ٹائپسٹ، ایک نائب قاصد، 1300 cc کی گاڑی، 600 لیٹر پٹرول ماہانہ، ایک رہائش، رہائش کے سارے اخراجات بل وغیرہ اس کے علاوہ ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ اجلاسوں پر لگنے والے پیسے، دوسرے شہروں میں آنے جانے کے لئے فری جہاز کی ٹکٹ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ کمیٹیاں اب تک کھربوں روپوں کا دودھ ”چنگ“ چکی ہیں۔

اگر ان کٹوں کی رسی کو کم نہ کیا گیا تو یہ اجلاس اسی طرح جاری رہیں گے اور یہ کٹے ایسے ہی کھربوں روپوں کا دودھ ”چنگتے“ رہیں گے۔ کیا پیٹ پر پتھر باندھنے اور کفایت شعاری کے لیے اقوال زریں صرف عوام کے لئے ہیں؟

اسی طرح 1170 اراکین قومی، صوبائی اسمبلی وسینیٹ پر آنے والے اخراجات بھی اربوں روپے سالانہ ہیں۔ وزیروں، مشیروں اور چمچوں کے اخراجات الگ ہیں۔ پروٹوکول کے اخراجات الگ ہیں۔ فیملی کے اخراجات الگ ہیں۔ سب ہی قومی خزانے سے جاری کیے جاتے ہیں۔

قومی خزانہ خالی ہونے کا واویلا کرنے والے اگر وزیروں، مشیروں کی فوج کی کم کر دیں، چمچوں اور ضیافتوں پر آنے والے فضول اخراجات پر نظرثانی کر لیں تو بہت سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ایک غریب ملک کو کس چیز کی ضرورت ہے، اسی کے مطابق کام کیا جائے تو خزانے پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

جتنا پیسہ پاکستان میں مواصلاتی نظام کی بحالی پر خرچ ہوتا ہے اتنا شاید ہی کسی اور منصوبے پر خرچ ہوتا ہے۔ ایک سڑک تعمیر کی جاتی ہے۔ ایک مہینے بعد پھر اس کی کھدائی شروع کر دیتے ہیں، معلوم ہوتا ہے پانی کی لائن ڈال رہے ہیں۔ پھر مہینے لگ جاتے ہیں۔ پھر وہ تعمیر ہوتی ہے اس کے بعد پھر ایک دو مہینے بعد گیس کی لائنوں کے لیے کھود دی جاتی ہے۔ اگر یہی کام ایک ہی وقت میں کر لیے جائیں تو قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

کرپشن، کرپشن، کرپشن نے قومی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ قرضے کے سود کو اتارنے کے لیے قرضہ در قرضہ لینا مجبوری بن چکا ہے۔ اگر کرپشن کے جن کو قابو کر لیا جائے اور مافیا کو لگام ڈال دی جائے کہ قومی خزانے کا بے دریغ اور فضول استعمال ناقابل قبول ہے، عبرت کا نشان بنانے کے لیے ایسے لوگوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے تو معاملات خود ہی بہتر ہونا شروع ہوجائیں گی۔ مگر سب سے پہلے مثال سیٹ کرنی ہوگی ورنہ زبانی جمع خرچ سے کوئی فائدہ نہیں!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments