ایک پیغام۔ میرے اساتذہ کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارے! آج تو ٹیچر ڈے ہے۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا، صبح دفتر پہنچ کر مجھے بڑی شدت سے احساس ہوا۔ کاش میں بھی اپنے بچوں کو بتا پاتی کہ آج ٹیچر ڈے ہے۔ کاش وہ بھی اپنی ٹیچر کے لیے پھول، کارڈ یا پھر چاکلیٹ لے کر جاتی اور بڑے فخر سے کہتی ”ہیپی ٹیچرز ڈے“ ۔ لیکن میں خود اپنے ٹیچرز کے لیے کیا کر رہی ہوں، میں نے اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کیوں نہیں کیا؟ شاید اس لیے کہ ہمارے وقتوں میں یہ ٹیچر ڈے ہی نہیں ہوا کرتا تھا، ہر دن ہر کسی کے لیے ہوا کرتا تھا لیکن اب ہم دنوں میں تقسیم ہو گئے ہیں، اب ہمارے پاس وقت کہاں ہے؟ اسی لیے تو کبھی ماں کے لیے ایک دن، کبھی باپ کے لیے ایک دن اور کبھی ٹیچر کے لیے ایک دن۔ خیر ہر دن مناتے مناتے ہم اپنے باقی دنوں کو بھول جاتے ہیں جہاں پر یہ سبھی رشتے ناتے اور تعلق ہم سے ہر روز وابستہ ہوتے ہیں لیکن ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔

لیکن جب ٹیچر کی بات کی جائے تو یہ وہ واحد رشتہ ہے جوا نسان کی زندگی میں نہایت اہم ہے۔ بات اگر سکول کی ہو تو استاد ہمارے صرف اساتذہ ہی ہیں لیکن جب بات سیکھنے کی ہو تو پھر ہماری ماں، والد، پھر سکول اساتذہ، ہمارے اہل و عیال اور یہ معاشرہ سب ہی شامل ہو جاتے ہیں جو فرد کی شخصیت کو سنوارنے یا بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہاں! یہ بگاڑ بھی ایک فعل ہے جو شخصیت میں پرو دیا جاتا ہے اور معاشرے کو تباہ کرنے میں سرگرم ہو جاتا ہے۔

کاش اس بگاڑ کے حل کے لیے بھی استاد مقرر کر دیے جائیں یا پھر استاد اتنے قابل ہو جائیں کہ بگاڑ ہی نہ آ سکے۔ اب غلطی کس کی اور قصور کس کا یہ معلوم نہیں لیکن جو اچھا ہو اس کا سہرا استاد کے سر اور جو برا ہو گیا وہ معاشرے کا قصور۔ استاد کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں یہ تو محض ایک پیشہ ہے یہ کب ان کا فرض بنا؟ یہ تو ایک ذریعہ معاش ہے یہ کب ان کی ذمہ داری بنی؟ اور اگر ذمہ داری بن بھی جائے تو استاد بے چارہ کیا کرے اس کو کب کسی نے سمجھایا کہ شخصیت اور کردار کو بھی سنوارنا ہے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ضروری ہے اور محض کورس کی کتابیں پڑھا دینے سے تعلیم مکمل نہیں ہوتی۔

اس کے لیے خود کو پرکھنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔ جو کہ نہایت ہی مشکل ہے۔ تعلیم کے رکھوالے خود کو مہا سمجھنے لگے ہیں، سرکاری سکولوں کے غریب بچے ان کے مرہون منت ہیں اور پرائیویٹ سکولوں میں امیر والدین بھی ان ہی کے مرہون منت ہیں کہ ان ہی کی بدولت ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ رہے گا۔ یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے محض سکول اور تعلیمی ادارے کو ہی سیکھنے کا مرکز سمجھا ہوا ہے جس سے باہر نکل کر ہم زندگی کے سب اصولوں اور قول و فعل سے عاری ہیں۔

بحر حال، زندگی اچھے اور برے تجربات کا ہی نچوڑ ہے۔ اس سب کو بھول کر میں بھی آج اس ٹیچر ڈے پر میں بھی اپنے تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ میری زندگی کی کامیابیوں اور کامرانیوں میں ان کا ایک اہم کردار رہا ہے اور یہ تحریر ان تمام اساتذہ کے نام ہے جنہوں نے میری تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کیا:

محترم اساتذہ کرام!

میں بہت فخر سے بتانا چاہتی ہوں کہ آپ کی شاگرد میں ایک کامیاب ڈویلپمنٹ پروفیشنل کے طور پر کام کر رہی ہے اور افراد کی استعداد کاری کے لیے نصاب کی تیاری میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ویسے تو میرا ہر دن ایک استاد کو یاد کرتے گزرتا ہے، لیکن کچھ اساتذہ ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔ مس زیبا، میری پہلی ٹیچر جب میں روتے روتے سکول پہنچی تو کتنی ہی محبت اور شفقت سے انہوں نے مجھے بٹھایا تھا ان کی ایک بیساکھی اور سیاہ رنگ کا بیگ جس میں سے وہ ہر روز کچھ ٹافیاں بچوں میں تقسیم کر دیتی تھیں، آپ نے مجھے شفقت سکھائی، مس صفیہ، ایک با اعتماد اور با رعب شخصیت، پہلی کلاس میں ہی لفظوں کے جوڑ توڑ کے ساتھ زندگی کی اونچ نیچ سکھا دی تھی، رنگ برنگے کپڑے اور سرخ لپ اسٹک گواہ تھی کہ وہ زندگی کو پرلطف انداز میں گزارنا چاہتی ہیں۔

مس مریم، آپ کی انتھک کوششوں سے ہی ہم سب کے رزلٹ میں بہتری آئی تھی، مجھے آج بھی اپنا ٹاپ کرنا یاد ہے۔ کلاس 7 کی مس سائرہ، چٹان جیسی سخت لیکن دل موم کی طرح نرم تھا، میرے سکول چھوڑنے پر کتنا آبدیدہ ہوئی تھیں آپ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں، اپنے گھر کا ایڈریس تک دے دیا تھا کہ ملنے آتی رہنا مجھ سے تم میری کلاس کی ہی نہیں میری اپنی بچی ہو۔ ہاں وہ ایڈریس میں نے آج بھی سنبھال کے رکھا ہوا ہے سکول چھوڑنے کے چار سال بعد ، ایک بار ملنے بھی گئی ڈرتے ڈرتے بیل بجائی کتنے ہی وہم اور خیالوں کے بعد انہوں نے دروازہ کھولا تو لگا جیسے کوئی فلم کا سین ہو، گلے لگا لیا فوراً لیکن نام بھول گئی تھیں وہ میرا۔

گھر جا کر معلوم ہوا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ تن تنہا زندگی گزار رہی ہیں اور سکول کے بچے ہی ان کے بچے اور تعلیم ہی ان کی زندگی تھی۔ تعلیم مکمل کی تو بہت سے کورسز کیے، تربیتیں لیں اور پیشہ ورانہ فن سیکھنے کے لیے مزید کچھ اساتذہ کے زیرسایہ رہنے کا موقع ملا جن میں اختر صاحب، آصف صاحب اور یاسر نذر صاحب کا نام قابل ستائش ہے کہ جنہوں نے پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھنے کا سلیقہ سکھایا، وقت کی پابندی سے لے کر معیار اور کردار کی بلندی تک پہنچنا آپ سے ہی سیکھا۔

میرے آج کے اساتذہ میں سلیم جہانگیر، بختیار احمد نبیل صاحب، رابعہ خان، شاہد رسول قاضی صاحب اور شکیل چوہدری صاحب کا نام میرے لیے قابل فخر ہے۔ میں خاص طور پر محترم سلیم جہانگیر صاحب کو بطور استاد بیان کرنا چاہوں گی جو کہ ہمہ وقت کام کے ساتھ ساتھ فرد کی پیشہ ورانہ رہنمائی، مذہبی ترویج اور صوفیانہ طریقت کو فروغ دیتے ہیں۔ فلسفہ اور تجربات کو بیک وقت بیان کرتے ہیں۔ شکریہ ان سب کا جو میری زندگی میں بطور استاد وقت گزار چکے ہیں اور جنہوں نے مجھے اپنے نقش قدم پر چلنے اور اپنے علم سے مستفید ہونے کا اعزاز بخشا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments