کہتے ہیں کہ برا وقت پوچھ کر نہیں آتا، اب چاہے سفر موٹر وے سے کیا جائے یا جی ٹی روڈ سے منزل بالآخر گوجرانوالہ ہی تھی۔ آج پھر ایک اور واقعہ ہو گیا، ابھی کل ہی تو ایک پھول جلا تھا، دھواں ابھی بھی اٹھ رہا تھا، دل بے چینی سے سلگ رہا تھا کہ ہائے کس کافر نے یہ ظلم ڈھا یا اور اس ماں کے کلیجہ کو کیسے اور کب قرار آئے گا؟ اس پاک شہزادی کا کیا قصور تھا؟ ان گنت سوال دماغ میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک ماں اور اجڑ گئی، عزت خاک میں مل گئی اور منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی درندگی کا سامنا کر نا پڑ گیا۔
آخر اس لاچار کا کیا قصور تھا؟ شاید ناقص العقل تھی اسی لیے ہوس کا نشانہ بن گئی؟ یا شاید ایک شہری کو ریاست کا تحفظ نہیں ملا۔ اور جب ملا تو بہت سے سوالات کا سامنا، تجاویز کا پلندا، گھڑی کی سوئی سے لے کر پٹرول کی سوئی تک کی نوک جھوک، جس میں وہ بے چاری خود کو بے گناہ ثابت کرتے کرتے تھک کر چور ہو چکی گی۔
Read more