تمباکو نوشی انسانیت پر ایک دھبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی زندگی کی حقیقت بھی کیا کمال کی چیز ہے۔ اگر احساس ہو جائے تو انسان ہر ایک قدم سوچ سوچ کر رکھیں۔ مگر احساس بھی تو ایک جاندار چیز کو ہوتا ہے۔ بے جان چیز کو احساس کہاں سے ہو گا۔ اور جاندار چیز میں ہی روح ہوتی ہے۔ اور اگر اس کا ضمیر زندہ ہو گا تب ہی تو یہ اندازہ کر پائے گا کہ جو میں کام کر رہا ہوں۔ جو میں حرکات کر رہا ہوں کیا اس سے معاشرے میں کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوگی۔ مگر کسی حد تک یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔

ان کو اپنی زندگی میں اپنی ذات کا حصہ بنانے کے لیے انسان کو نفسی خواہشات کو بالکل ختم کرنا پڑتا ہے۔ تب ہی ہمارے اندر احساس کا مادہ بیدار ہونے کی جسارت کرتا ہے۔ سوموار کا دن تھا صبح کا آغاز مالک العظیم کے نام کے ساتھ شروع کیا۔ اور اس دور میں صبح اٹھ جانا ہی بہت بڑا جہاد ہے۔ خیر میں غسل وغیرہ کر کے وضو بنایا اور سیدھا مسجد کی طرف چل گیا۔ مسجد میں چند ایسے بزرگ ہیں جو ہر روز فجر کی نماز باجماعت پڑھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

اور اس دن میں بھی وقت پر ان بزرگوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے میں شامل ہو گیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد تلاوت قرآن مجید کی اور دعا مانگنے کے بعد واک کرتے ہوئے صبح صادق کی ٹھنڈی ہوا کے مزے لیتے ہوئے اپنے گھر واپسی پہنچا۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ناشتے کا بندوبست کیا اور ساتھ میں ایک کپ چائے کا بنایا اور سکون کے ساتھ چائے کے مزے لے لے کر پیتا رہا۔ میں نے سوچا کہ افضل میاں اب تک آپ نے اپنے ذاتی کام مکمل کر لیے ہیں۔

اور جلدی سے دفتر جانے کی تیاری کرو یہ نہ ہو کہ ہفتے کے پہلے دن ہی آپ لیٹ ہو جائیں۔ میں گھر سے روانہ ہو گیا تھوڑی دیر بعد جب میں دفتر پہنچا اپنا کام شروع کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک محترم دفتر میں تشریف لائے۔ انہوں نے پیار بھرے لہجے میں سلام کیا میں بھی اپنی کرسی سے اٹھ گیا اور گلے ملا حال چال پوچھنے کے بعد میں اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد میری نظر میرے کولیگ پر پڑی انہوں نے میری طرف بڑے معصومانہ انداز میں دیکھتے ہوئے اپنی بائیں جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ لمحوں جیب میں ہاتھ مارنے کے بعد ماچس اور ایک عدد سگریٹ نکال لیا۔

میرے کولیگ نے حسرت بری نگاہوں کے ساتھ مجھے دیکھنا شروع کیا اور میرا جواب نہ ملنے پر۔ ماچس سے ایک تیلی نکالی اور ماچس سے اس کو رگڑا جیسے ہی آگ جلی تو محترم نے سگریٹ کو اپنے کالے کالے ہونٹوں کی زینت بنایا اور کش لگانا شروع کر دیا۔ میں نے بھی سوچنا شروع کر دیا اور حیران ہو گیا کہ یار آج تو دفتر میں وہ کام ہو گیا جس کے بارے میں نے اپنی زندگی میں سوچا ہی نہیں تھا۔ میں نے صبر کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ یار آج برداشت کرتے ہیں۔

مگر سگریٹ کا دھواں اور کہاں میں ایسے لگتا تھا جیسے میں ایلین کا رہنے والا ہوں۔ پھر بھی میں نے اپنے آپ کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی مگر پتہ نہیں میرے مزاج کو اس دن میری بات کی سمجھ کیوں نہیں آئی۔ اور میں یکلخت آواز میں بولا ( بھائی سگریٹ پلیز) ۔ میری زبان سے ان لفظوں کا نکلنا تھا کہ بھائی صاحب تو غصے سے کالے ہو گئے کیونکہ خون تو ان میں تھا نہیں جس سے ان کے جلد سرخ ہوتی۔ اور اچانک دفتر سے باہر چلے گئے مجھے لگا یار افضل لگتا ہے بندہ صبح صبح ہی ناراض ہو گیا ہے۔

بہت افسوس کی بات ہے۔ لیکن جیسے کیسے میں نے اپنے آپ کو مطمئن کیا اور سوچا کہ یار میں نے کوئی بات بھی اخلاق سے گری ہوئی نہیں کی تو پھر یہ عظیم الشان انسان محترم اعلی کس بات پر ناراض ہو کر چلے گئے۔ اسی دوران میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر یہ ایک سگریٹ 8 × 14 کے دفتر کے ماحول کو آلودہ اور خراب کر سکتی ہے تو بات سوچنے والی ہے۔ کہ ایسے ہی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں لوگ سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ تو ایسے میں اس سگریٹ کے دھوئیں کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہو گے۔

اور اب تو ہمارے ملک پاکستان کی آبادی بھی 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس وقت میرے ذہن میں خیال آیا اور میں نے اپنے اندازے کے مطابق ایک مثال سوچی کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر۔ دو کروڑ لوگ ایک سگریٹ بھی پیتے ہیں اور یہ دو کروڑ لوگ اگر دن میں 20 سگریٹ پیتے ہیں۔ میرے خیال سے اگر ہم 20 × 2، کروڑ کریں تو جواب آئے گا چالیس کروڑ یعنی 40 ملین سگریٹ ایک دن میں پیے جاتے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان سے نکلنے والا دھواں کی کیا مقدار ہوگی جو بنا کسی مقصد اور فائدہ کے فضا میں شامل ہو جاتی ہے۔

یہ ایک ایسا خطرناک دھواں ہے جو انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کے سگریٹ کے دھوئیں سے اونٹوں، ناک، گلہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کے ساتھ انسانی وجود کو متاثر کرتی ہے۔ انسانی زندگی کے ہر دور میں سگریٹ کے دھوئیں کے منفی اثرات مرتب ہوتے آئے ہیں۔ اور آئین پاکستان کے تحت ہم بات کریں تو 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ بیچنا قانونا جرم ہے۔ عوامی جگہوں، دفاتر، پارک، سیاحی مقامات پر سگریٹ کے استعمال پر پابندی ہے۔

بلکہ تمباکو سے بننے والی ہر چیز پر پابندی ہے۔ سوائے ان مخصوص مقامات پر۔ جہاں سگریٹ پینے کے لیے جگہ مختص کی گئی ہو۔ مگر ہمارے معاشرے میں تو قانون نام کی کوئی چیز ہی نہیں ملتی جسے بھی سگریٹ کا نام لے کر بات کریں وہ محترم عمر بھر کے لئے سلام لینا بھی گوارا نہیں کرتا ہے۔ آخر اس سگریٹ کے استعمال سے وہ کیا چیز پیدا ہوتی ہے جو ملک کی ترقی کے لئے لازم و ملزوم رکھی گئی ہے۔ اور ہم اس بات سے بھی خوب واقف ہیں کہ سگریٹ پینے والے سے زیادہ سگریٹ کا دھواں اس کے ساتھ والے انسان کو متاثر کرتا ہے۔

مگر ہم ذرا بھی سوچنا گوارا نہیں کرتے ہیں۔ بظاہر ہم ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ مگر اندر سے ہم ایک دوسرے کے قاتل ہیں۔ کوئی کسی کی خوشیوں کا قتل عام کرتا ہے۔ کوئی کسی کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے عزت نفس کا قتل عام کرتا ہے۔ آخر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں اور کیوں نہیں سوچتے ہیں کہ کلمہ طیبہ پڑھنے والا ہر شخص ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کرتا ہے۔ اور اس کا دنیا پر آنے کا مقصد بھی ایک ہی ہے۔ مگر افسوس ہم وہ کام کرتے ہیں۔

جو ہماری ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ ہماری ملکی سالمیت پر بھی آنچ آنے کا سبب بنتی ہے۔ خدا کے واسطے سوچیں اور ایک ہو جائیں۔ اور اس موذی بیماری سے بچیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا اور خوش گوار ماحول بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ تب ہی ہمارے معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہو گا اور دنیا پر اچھے الفاظ کے ساتھ ہم اپنا نام برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments