ایندھنی سبیلیں اور فی سبیل اللہ سواریاں
ہم مزدور پیشہ ہیں۔ کدال چلاتے ہیں یا قلم، انگلیاں (کلیدی تختے پر) ، زبان چلاتے ہیں یا کہ ہمارا دماغ ہی چلا ہوا ہے ؛ اس بات کو چھوڑیے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ مہینے کہ آخری چند ایام میں ہم اس کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کام پر جائیں یا گھر پر بیٹھے رہیں؟ کیوں کہ ہمارے پاس ذاتی سواری نہیں ہے، اور ان ایام میں نام نہاد عوامی سواریوں کا کرایہ بھی نہیں بچتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا اکیلے انسان کا مسئلہ نہیں ہو گا، یقیناً یہ ہم جیسے بہت سارے ملازمت پیشہ لوگوں کا مسئلہ ہے۔
ایسے میں کئی بوجھ بجھکڑ مشورہ دیں گے ”لے لو سواری کس نے روکا ہے؟“
صاحبو ہم سچ مچ کی سواری کی بات کر رہے ہیں حرا مانی کے گیت ”سواری“ کی نہیں کہ سنا، پسند کیا اور ڈاؤن لوڈ کر لیا! مشورہ دینے والے بوجھ بجھکڑ صاحب میرے موٹر سائکل سوار ناصح، آپ کیوں نہیں موٹر سائکل کے بجائے فراری لے لیتے۔ یا پجارو وغیرہ؟
علاوہ ازیں ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ موبائل اور موٹر سائکل تو جوں توں کر کے لے ہی لیتے ہیں لیکن بیلنس اور ایندھن کے لیے پریشان ہوتے ہیں کہ کیسے بھروائیں کہاں سے بھروائیں! ؟ آپ میں سے بہت سے حضرات نے وہ ویڈیو ضرور ملاحظہ فرمائی ہوگی جس میں کہ ایک بزرگ خاتون کار کے پیٹرول کے لیے چندہ مانگتی نظر آ رہی تھیں۔
ہم ہمیشہ سے تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو سنتے آئے تھے لیکن موجودہ دور میں تیل کی یہ دھار تیر و تلوار کی دھار کی سی تیزی سے ایک ساتھ لاکھوں لوگوں کے پیٹ کاٹتی جا رہی ہے۔
یہ مسئلہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حیاتیاتی ایندھن مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے باوجود اس کے کہ پاکستان میں تیل و گیس کے اپنے وسیع ذخائر موجود ہیں اور سندھ کا اس میں بڑا حصہ ہے۔ اور مملکت خداداد امدادی۔ معاف کیجیے گا اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تیل بطور خیرات، صدقات، امداد، فطرہ و زکوۃ اور قرض بھی دستیاب ہے۔ جبکہ وطن عزیز میں کسی کو بھی متبادل ایندھن کی نہ تو کسی کو ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی اس کی اہمیت سے آگاہ ہے اور نہ ہی اس کے حصول ہی کی کوئی قابل ذکر کوشش نظر آتی ہے۔
اگرچہ یہ کام ”سرکار با۔ مدار“ کا ہے کہ وہ تیل کی رسد و طلب اور قیمت وغیرہ پر نظر رکھے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ صاحب جو کہ فرماتے تھے کہ، ”بجلی اور پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اضافی پیسہ وزیراعظم کی جیب میں جاتا ہے۔“ انہوں نے اپنے اس قول زریں سے رجوع فرما لیا ہے اور فرماتے ہیں کہ، ”پاکستان میں ایندھن آج بھی سب سے زیادہ سستا ہے۔“
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا تیل تو مفت ہی نکلتا ہے!
اب ہمیں سرکار سے تو کوئی امید نہیں سو ہمیں مجبوراً ان مخیر حضرات کی طرف دیکھنا پڑتا جن کو جناب شیخ محمد ابراہیم ذوق نصیحت فرما گئے ہیں کہ:
نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا
پل بنا، چاہ بنا۔ مسجد و تالاب بنا
جی جناب وطن عزیز میں مخیر حضرات کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ جن کو کہ نام منظور ہے اور وہ فیض کے اسباب بناتے پھرتے ہیں۔ پل بناتے ہیں، کنویں، مسجدیں اور تالاب۔ اسکول اسپتال اور مدارس کا نہ تو ذکر اس شعر میں نہ ہی اس شہر میں (نہ ہی ملک میں ) ؟ البتہ جس چیز کا ذکر اس شعر میں نہیں کیا گیا ہے وہ تاج محل اور اس قبیل کی چیزیں ہیں۔ جو کہ حکمرانوں کے ہی نام کا سبب ہیں اور ان سے فیض بھی حکومتیں ہی اٹھا سکتی ہیں!
رہے اسکول و مدارس اور شفاخانے سو اس قسم کی جو کچھ تھوڑی بہت بے فیض تعمیرات ہیں ان میں سے اکثر کفار و مشرکین کی ہیں۔ جیسے کہ این جے وی اور ڈی سی ٹی او اسکول اور آرام باغ وغیرہ۔ البتہ ان مشرف بہ اسلام کرنے کا فرض خوبی سے نبھایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ رام باغ کو مشرف بہ اسلام کر آرام باغ بنایا گیا ہے وغیرہ۔
اور آج کل تو قدم قدم پر کھانا کھلانے والے مخیر حضرات لوگوں کو کھانا بھی کھلا رہے ہیں۔ اس سے ایک طرف ان کا مسئلہ حل ہوا جو کھانے کے لیے جیتے ہیں اور دوسری طرف کچھ ان کا بھی جینے کے لیے کھاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں مخیر حضرات کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ملک ترقی کرے یا نہ کرے لیکن ان کا نام بنا رہے اور ان کے اسباب فیض کا سلسلہ بھی جاری رہے سو اس کے لیے ترقی کی نہیں بلکہ اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ ملک میں خیرات، صدقات اور زکوۃ لینے والوں کی بہت بڑی تعداد ہمیشہ مہیا و میسر رہے، اور اس کے لیے وہ ہر قسم کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور کارخانے اور درس گاہیں یا کھیل کے میدان وغیرہ بنانے کہ بجائے لوگوں کے لیے فیض کا اور اپنے لیے عیش کا سامان بناتے رہیں۔
سو ان فیض کا سامان بنانے والوں سے ہماری بھی اتنی سے گزارش ہے کہ وطن عزیز کے نامور فیاض و جواد حضرات ہم اگرچہ ابھی تک اس درجے تک نہیں پہنچے کہ آپ صاحبان کے دسترخوان پر آئیں لیکن مہینے کے آخر میں اس چیز کی ضرورت کو ضرور محسوس کرتے ہیں کہ آپ حضرات ایندھن سے محروم سواروں کے لیے ایندھن کی خیراتی سبیلیں قائم کریں اور سواریوں سے محروم لوگوں کے لیے خیراتی صدقاتی زکواتی سواریاں مہیا ہوں جن سے کہ سواریوں اور کرایوں سے محروم لوگ فیض اٹھا پائیں اور آپ بھی جو کہ بہت سارا مال کما رہے ہیں مزید بہت بہت بہت سا مال اور نام کمائیں اور ہم جیسے خیر اندیشوں کی دعائیں بھی پائیں جن کی آپ کو کوئی خاص ضرورت تو نہیں!

