دریائے نیلم کے سنگم پر موجود جنت نظیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا ہے لیکن آج میں ذکر کروں گا وادی کشمیر میں موجود ضلع نیلم کے بارے میں۔ ضلع نیلم آزاد کشمیر ایک خوبصورت ترین ضلع ہے جو نیلم ویلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مظفر آباد سے دس کلو میٹر کے بعد شروع ہونے والی یہ خوبصورت وادی دریائے نیلم کے سنگم پر موجود ہے۔

کیرن سے لے کر تاؤ بٹ تک محیط یہ خوبصورت وادی دریائے نیلم کے اطراف پھیلی ہوئی ہے جو چھوٹے چھوٹے سیاحتی مراکز پر مشتمل ہے، ناران کاغان اور ہنزہ گلگت کی طرف جانے والے راستوں پر رش سے تنگ سیاحوں کے لیے یہ بہترین سیاحتی مقامات ہیں جس پر سیاح آسانی سے اپنی متعین کردہ منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

بارہ اگست کو اسلام آباد سے نیلم ویلی کی طرف سفر کرنے کا اتفاق ہوا تقریباً سات گھنٹے کی مسلسل ڈرائیو کرنے کے بعد کیرن کے مقام پر پہنچا، کیرن لائن آف کنٹرول پر موجود ایک چھوٹا سا بازار ہے اور اس کے اطراف میں مقامی آبادی ہے، اس خوبصورت سیاحتی مرکز پر ایک ہی ٹائم میں آزاد کشمیر اور جموں کشمیر کی اذانوں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں جو ایک خوبصورت احساس پیدا کرتی ہیں ان دونوں سرزمینوں کے درمیان میں لہریں کھاتا ہوا دریائے نیلم ان دونوں کو تقسیم کرتا ہے۔

اگلے دن وہاں سے وادی نیلم کی تحصیل شاردہ کی طرف سفر جاری کیا تین گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد شاردہ کا خوبصورت نظارہ تھکن کو دور کر دیتا ہے شاردہ دریائے نیلم اور دریائے سرگن کے سنگم پر موجود ایک سیاحتی مرکز ہے جہاں پر دو دریا آپس میں ملتے ہیں وہاں کی مقامی آبادی نہایت ہی خوش اخلاق اور مہمان نواز ہے۔ تیرہ اگست کی رات تقریباً گیارہ بجے ہم دریائے نیلم کے عقب میں موجود لگی چارپائیوں پر بیٹھ کے ڈنر کر رہے تھے کہ اچانک سے انڈیا فورسز کی طرف سے گولہ باری شروع ہو گئی، اتنی شدید گولہ باری شروع ہوئی کہ سیاح حواس باختہ ہو گئے اور ادھر ادھر بھاگنے لگے دریں اثنا وہاں موجود گیسٹ ہاؤس کی انتظامیہ نے فوراً تمام سیاحوں کو گیسٹ ہاؤس کی بیسمنٹ میں موجود حفاظتی مورچوں میں منتقل کر دیا۔

تمام سیاح حواس باختہ تھے گولہ باری کا سلسلہ تقریباً ایک بجے کے قریب رکا تو تمام سیاحوں کو اپنے اپنے رومز میں منتقل کر دیا گیا۔ صبح ہوتے ہیں مقامی آبادی میں وزٹ کیا جس پر وہاں پر کافی نقصان ہوا تھا کافی گھر جل چکے تھے اب پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر ہو چکا ہے جس کے بعد اب نیلم ویلی سیاحوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ نیلم ویلی آنے والے وقت میں بہت بڑا سیاحتی مقام بن سکتا ہے اگر آزاد کشمیر کی گورنمنٹ نے نیلم ویلی کی سیاحت کو فروغ دیا۔

اس کے علاوہ نیلم ویلی کی سیاحت میں بہت سے ایشوز ہیں جن کو پھر کسی دن ذکر کروں گا جن میں خاص کر انٹرنیٹ سروسز کا اور روڈ کا ہے۔ نیلم ویلی میں کسی بھی جگہ کوئی بھی موبائل نیٹ ورک نہیں کام کرتا ماسوائے ایس کام کے۔ اگر روڈ اور انٹرنیٹ کے مسائل کو حل کر دیا گیا تو آنے والے چند سالوں میں نیلم ویلی سیاحت میں ایک عظیم باب بن کر ابھرے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments