ارشاد بھٹی میں آپ کو نہیں جانتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری کبھی ارشاد بھٹی سے ملاقات ہوئی، نہ دوستی اور نہ ہی ان کے شہر سے میرا کوئی تعلق ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ اپنے پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں چار یا پانچ ہفتے بعد ان سے موبائل پر واسطہ پڑتا ہے، اگر ان کے لیے آسان ہوتا ہے تو میری درخواست پر ہمیشہ ”بھائی کے لیے حاضر“ کہہ دیتے ہیں اور ممکن نہیں ہوتا تو شائستگی سے منع کر دیتے ہیں۔

اس سے زیادہ نہ بھٹی صاحب کو میں جانتا ہوں نہ وہ۔ اتنا ضرور ہے کہ سلیم پاشا نے 2019 میں ہم سب پر ایک آرٹیکل لکھ کر ہمیں بھٹی صاحب سے متعارف کروایا اور وہ تعارف ذہن پر نقش ہو گیا۔ چند روز پہلے ملک کے مشہور صحافی جاوید چوہدری نے اپنے یو ٹیوب چینل کے لیے ارشاد بھٹی کا انٹرویو کیا اس کو سننے کے بعد ارشاد بھٹی کے لیے عزت دل میں اور بڑھ گئی۔

اس مضمون کو اگے بڑھانے سے پہلے میں یہ بتاتا چلوں کہ میں ارشاد بھٹی کے علمی، سیاسی نقطہ نظر کی نہ ترویج کر رہا ہوں نہ ان میں سب سے مجھے اتفاق کرتا ہوں۔ ان کے خیالات سے اختلاف اپنی جگہ پر جو سفر ارشاد بھٹی نے طے کیے ہیں وہ ہم سب کے لیے نہ صرف اہم ہے پر ایک سبق بھی ہے

سلیم پاشا ارشاد بھٹی کے سفر کے ابتدا میں جو نقشہ کھنچ رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ارشاد بھٹی کی زندگی کے سفر کی شروعات ان تمام شدید مشکلات سے ہوئی جن کا اندازہ صرف وہ لگا سکتا ہے جو اس سے گزرا ہو۔ جاوید چوہدری کے انٹرویو میں انہوں نے خود بتایا کہ ایک وقت کی روٹی کھا لینے کے بعد اس بعد کا کوئی اندازہ نہ ہوتا تھا کہ دوسرے وقت کی روٹی کب ملے گی، اسکول میں ٹافیاں بیچنے سے سبزی بیچنے تک کا سفر یقیناً مشکل نہیں بلکہ بے حد مشکل رہا ہو گا۔

وقت کے پہیے کو اگر تھوڑا تیز گھوما لیں اور اب جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ صحافت کی اس دنیا میں جہاں بڑے بڑے جید لوگ کہیں کھو گئے وہاں ارشاد بھٹی نے ایک خاموشی سے ایک مقام حاصل کیا ہے۔ لوگوں ان کو سنتے ہیں۔ مجھے ایک دن صحافت سے ہی جوڑے ایک دوست نے کہہ ارشاد بھٹی اچھا بولتے ہیں لگتا ہے ہمارے دل کی آواز سن کر بول رہے ہوں۔ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ ارشاد بھٹی کسی پروگرام میں آنے سے پہلے اس ٹاپک پر کام کرتے ہیں، نوٹس بناتے ہیں اور پھر پروگرام میں بات کرتے ہیں۔

اس وقت میرا موضوع یہ تھا کہ ایک شخص جس نے تعلیم بھی بہت مشکل سے مکمل کی ہو، وہ ایک لمبی مسافت طے کر کے پاکستان میں ایک جانا مانا نام بن گیا ہے، اگر ارشاد بھٹی یہ سفر طے کر سکتا ہے تو ہمارے بہت سے دوست جو ان تمام مسائل کی وجہ سے دبک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ بھی چاہیں تو اس سفر میں اپنا نام بنا سکتے ہیں۔ آپ کے سیاسی خیالات کچھ بھی ہوں اگر آپ کے پاس دلیل اور شائستگی ہو تو آپ کی بات میں اثر آ جاتا ہے اور ارشاد بھٹی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نوید ناظم جتوئی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments