قائد اعظم کی پاکستانیوں کے نام چٹھی

میرے پیارے پاکستانیو! دنیا میں کافی قومیں پاگل پن کر رہی ہیں پر تم سب تو بالکل باؤلے ہو گئے ہو۔ میں خط لکھنے کا قائل نہیں کیوں کہ پڑھنا، لکھنا سوچنا یہ اس قوم سے کہیں دور چلا گیا ہے۔ اب کوئی سوشل میڈیا ٹائپ کی چیز ہے جو میرے پاکستانیوں کے لیے حرف آخر بن گئی ہے۔ اس پر جو ہوتا ہے اس پر ایمان یقین محکم سب کر لیتے ہیں۔ میں خط کیوں لکھ رہا ہوں؟ کافی

Read more

ایجنسیوں کا بندہ

مملکت پاکستان میں جہاں عالم فاضل، ذہین فطین، دانشمند، معاشی ماہر، بین الاقوامی تعلقات کے ایکسپرٹس، کھیلوں پر عبور رکھنے والوں کی کمی نہیں وہاں ایک اور مخلوق ہے جو بہت آسانی سے وافر تعداد میں مل جاتی ہے وہ ہیں ”ایجنسیوں کا بندہ“ ۔ پاکستان کے کسی شہر کسی قصبے کسی دیہات، کسی قریہ کسی کوچے چلے جائیں وہاں کوئی ملنگ کوئی تھوڑا ذہنی کمزور یا نفسیاتی مسئلہ کا شکار گھومتا پھرتا، گالیاں دیتا، ننگ دھڑنگ نظر آئے اس

Read more

اچکن کی محبت میں

اپنے پیارے ملک پاکستان میں لباس کی دنیا میں اچکن نے جو مان مرتبہ، عزت وقار، شہرت اور منزلت پائی وہ کسی اور لباس کے حصہ میں نہ آ سکی۔ آپ مجھ سے اتفاق نہ کرنا چاہیں تو آپ کی اپنی مرضی، اگر آپ کنوارے ہیں تو آپ کو اچکن کی اہمیت کا خود اندازہ ہو گا اور شادی شدہ ہیں تو میں سو دلیلیں دے دوں آپ کو اچکن غیر اہم ہی لگے گی۔ مذہبی طور پر اچکن/ شیروانی

Read more

جوتا کہانی

میں ایک جوتا ہوں، میری کہانی تھوڑی طویل پر دلچسپ ہے۔ آج میں اپنی کہانی اپنے پیارے وطن پاکستان میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔ جو عزت اور شہرت مجھے یہاں نصیب ہوئی ہے شاید ہی کہیں کسی کو اتنی عزت ملی ہو۔ پاکستان میں ہر عمر میں انسان کا جوتے سے ایک گہرا تعلق بنا رہا ہے۔ بچپن میں ماں باپ، استاد تعلیم اور تربیت کے لیے جہاں اور بہت سے جدید طریقے استعمال کرتے ہیں وہاں مکمل روایتی

Read more

لیڈری کا کریش کورس

پاکستان میں اگر آپ مستند لیڈر اور ملک کے تمام مسائل کو اپنی کرشمہ ساز شخصیت سے حل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو معیشت، سیاست پر عبور ہو یہ نا ہو، آپ نے حکمرانی کی الف ب سیکھی نہ بھی ہو، بین الاقوامی تعلقات کا کبھی سنا بھی نہ ہو ان سب کا کوئی مسئلہ نہیں، صرف یہ چند الفاظ یا جملے آپ سیکھ لیں، ہمارا ماضی اور مستقبل بتاتا ہے کہ یہ الفاظ اور جملے آپ کے ہر وقت

Read more

ارشاد بھٹی میں آپ کو نہیں جانتا

میری کبھی ارشاد بھٹی سے ملاقات ہوئی، نہ دوستی اور نہ ہی ان کے شہر سے میرا کوئی تعلق ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ اپنے پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں چار یا پانچ ہفتے بعد ان سے موبائل پر واسطہ پڑتا ہے، اگر ان کے لیے آسان ہوتا ہے تو میری درخواست پر ہمیشہ ”بھائی کے لیے حاضر“ کہہ دیتے ہیں اور ممکن نہیں ہوتا تو شائستگی سے منع کر دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہ بھٹی صاحب کو

Read more