پنڈورا لیکس

ملک میں اس وقت مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں لوگ خط غربت سے نیچے سرک رہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ اخبارات میں فاقوں سے مجبور افراد کی خودکشی کی خبریں پڑھنے کو نہ ملیں۔ انہی دنوں لیکن سات سو سے زائد پاکستانی شہریوں جن میں سیاستدان جرنیل بیوروکریٹ تاجر اور میڈیا مالکان سمیت اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات شامل ہیں، کی بیرون ملک آف شور کمپنیوں کا سراغ ملا ہے۔
یہ تفصیلات دنیا بھر کے صحافیوں کی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس نے پنڈورا لیکس کے نام سے جاری کی ہیں۔ اس دستاویز کی تیاری کے لیے 117 ممالک کے چھ سو صحافیوں نے سوا کروڑ فائلوں پر مسلسل دو برس محنت کی جس کے بعد یہ تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔ عام تاثر یہی ہے کہ آف شور کمپنیاں فراڈ رشوت اور منی لانڈرنگ کا پیسہ چھپانے اور ٹیکس بچانے کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ اس بات کو تقویت اس لیے بھی ملتی ہے کہ کیونکہ آف شور کمپنیاں بنانے والے اکثر افراد کا تعلق تیسری دنیا کے ممالک سے ہوتا ہے اور یہ اپنی غیر قانونی دولت چھپانے کے لیے ان ممالک کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جہاں ٹیکس قوانین نرم اور ذرائع آمدن کے متعلق زیادہ چھان بین نہ کی جاتی ہو۔
کچھ لوگ اب کہہ رہے ہیں کہ آف شور کمپنیاں قائم کرنا کسی بھی طرح غیر قانونی عمل نہیں۔ اس کے حق میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مثالیں دی جا رہی ہیں اور سمجھایا جا رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمائے کے تحفظ اور زیادہ منافع کمانے کا موقع دینے کے لیے اس فعل کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ بات درست ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آف شور اکاؤنٹ کا قیام بذات خود کوئی جرم یا غیر قانونی عمل نہیں۔ کون سی آف شور کمپنی جائز ہے اور کون سی نا جائز اس کا مگر فیصلہ ہونا چاہیے۔
یہ فیصلہ تحقیق کے بعد ہی ہو سکتا ہے کہ آف شور کمپنی بنانے کے لیے رقم کہاں سے آئی اور اس کی منتقلی کس طریقے سے ہوئی اور اس کے مالک نے ملکی قوانین کے مطابق اس رقم پر ٹیکس ادا کیا یا نہیں۔ کچھ عرصہ قبل پانامہ پیپرز کے نام سے بھی اسی طرح کی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔ پنڈورا لیکس کے بعد جو لوگ یہ دلیل پیش کر رہے ہیں اس وقت انہوں نے بہت ہنگامہ مچایا تھا اور کہا تھا کہ جن پاکستانی شہریوں کے نام ان پیپرز میں شامل ہیں ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور نا جائز دولت اکٹھی کر کے بیرون ملک چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس دباؤ کا نتیجہ تھا یا کوئی اور مقصد بہرحال تمام ملکی ادارے پانامہ پیپرز میں چار سو سے زائد پاکستانیوں کے ناموں کو چھوڑ کر صرف نواز شریف کے خلاف کارروائی پر یکسو ہو گئے۔
ان تحقیقات میں لیکن نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں نکلا اس کے باوجود اقامہ کو بنیاد بنا کر انہیں وزارت عظمی سے فارغ کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ نواز شریف چونکہ وزیراعظم ہیں لہذا احتساب ان کی ذات سے شروع ہو گا لیکن انہیں سزا سنانے کے بعد باقی ناموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پانامہ پیپرز کو ہی بھلا دیا گیا۔ اب اس کے سوا کیا سمجھا جائے کہ اس سارے ہنگامے کا مقصد صرف نواز شریف کو وزرات عظمی سے فارغ کرنا تھا ورنہ پانامہ پیپرز میں سامنے آنے والے ان چار سو چھیالیس ناموں میں سے کسی اور شخص کو بھی سزا ملتی۔
اب سامنے آنے والی پنڈورا لیکس میں پانامہ لیکس کے مقابلے میں زیادہ پاکستانی شہریوں کے نام ہیں۔ اس وقت وزیراعظم کی کرسی پر بھی پانامہ لیکس کے وقت سب سے زیادہ شور مچانے والے عمران خان براجمان ہیں۔ یہ عمران خان ہی تھے جو آف شور کمپنیوں کو کرپشن چھپانے کا ذریعہ قرار دے کر سپریم کورٹ تک گئے تھے۔ اب عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں بظاہر پنڈورا لیکس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں سامنے آنے والے تمام ناموں کے خلاف بلا امتیاز تحقیقات ہوں گی۔
لہذا اب عمران خان کا فرض بنتا ہے کہ فوراً پانامہ طرز کی جے آئی ٹی تشکیل دیں اور جن لوگوں کے نام پر آف شور کمپنیاں سامنے آئی انہیں عہدوں سے ہٹا کر ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کریں۔ لیکن اس بات کا بالکل امکان نہیں کہ کسی کے خلاف کوئی سنجیدہ تحقیقات ہوں گی کیونکہ ان پیپرز میں جن کے نام سامنے آئے ہیں ان میں سے بیشتر وزیراعظم کے نہایت قریب ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کا نام نہیں لیا جا سکتا۔ موجودہ حکومت اور وزیراعظم کا ریکارڈ بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ احتساب ان کی نظر میں صرف سیاسی مخالفین کی پگڑی اچھالنے کا نام ہے۔
ورنہ شوگر اسکینڈل، گندم چینی اسکینڈل، ادویات اسکینڈل تیل اور ایل این جی اسکینڈل کسی منطقی انجام تک ضرور پہنچ جاتے۔ اس مرتبہ بھی اگر عمران خان نے اپنے ان ساتھیوں اور چند طاقتور لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جن کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں تو ان کے ”صاف ستھرے“ امیج سے متعلق جن لوگوں کے دل میں خوش گمانی باقی ہے میرے خیال میں اب وہ ختم ہو جانی چاہیے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی میں جو اضافہ تجویز کیا گیا تھا اس لحاظ سے آنے والے دنوں میں اس کی قیمت میں کم از کم پندرہ روپے کا مزید اضافہ متوقع ہے۔ گزشتہ ہفتے بجلی کے یونٹ کی قیمت بھی ایک مرتبہ پھر بڑھائی گئی ہے اور عنقریب گیس کی قیمتیں بھی بڑھنے والی ہیں۔ یہ تمام بنیادی ضرورت کی اشیاء ہیں اور جب ان کی قیمت بڑھتی ہے تو خودبخود ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔
پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافے کا جواز حکومت کے پاس یہ ہے کہ مطلوبہ مقدار میں براہ راست ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جس کے بعد یہ طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یوں عام آدمی دہرے عذاب سے گزرتا ہے یعنی ایک طرف اسے مہنگائی مارتی ہے تو دوسری جانب اشرافیہ کی ٹیکس چوری بھی اسے بھرنا پڑتی ہے۔ اس بات میں وزن ہے کہ وائٹ کالر کرائم پکڑنا نہایت مشکل کام ہے لیکن کم از کم جن افراد کی بھاری بھرکم جائیدادوں کا سراغ ملا ہے ان سے درست ٹیکس وصولی کرلی جائے تو مہنگائی میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

