8اکتوبر 2005۔ قیامت صغریٰ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں۔


انسان کی زندگی میں کچھ حادثات ایسے ہوتے ہیں جن کے نقوش بہت دیر تک بلکہ ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔ انسان نہ چاہ کر بھی ان سے جان نہیں چھڑا سکتا اور وہ کسی نہ کسی طرح لاشعور سے مسلسل دماغ میں ارتعاش پیدا کرتے رہتے ہیں۔

اہل پاکستان کے لیے بالعموم اور اہل کشمیر کے لیے بالخصوص ایسا ہی واقعہ آج سے ٹھیک 16 سال قبل اس وقت پیش آیا جب ایک بھونچال نے شہر کے شہر مٹی کے ڈھیر بنا کر رکھ دیے اور چند لمحوں میں لاکھ سے زائد انسانی جانیں لقمہ اجل بن گی۔

راقم اس وقت آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ کمپیوٹر سائنسز کا طالبعلم تھا۔ یہ وہ دن تھا کہ جب ابھی پاکستان میں لوڈ شیڈنگ اس حد تک نہیں بڑھی تھی کہ ہفتے کو بھی چھٹی کر دی جاتی۔ ہمارا نیا سمیسٹر شروع ہوئے محض چند دن ہی ہوئے تھے اور اس سے پہلے ہمیں دو ماہ کی گرمائی تعطیلات تھی۔ خلاف معمول زلزلہ سے ایک دن قبل میں مظفرآباد سے اپنے گھر آیا ہوا تھا وگرنہ اگر مظفرآباد میں ہوتا تو شاید یہ تحریر نہ لکھ پاتا۔

رمضان المبارک کی تیسری سحری اور نماز فجر کے بعد حسب معمول واپس سو گیا۔ میری چارپائی ہمارے کچے گھر کے کمرے میں کھڑکی کے بالکل ساتھ تھی۔ میں خواب خرگوش میں ہی تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری چار پائی کو جھولے میں جھو لایا جا رہا ہو۔ اتنے میں کچھ اور آوازیں بھی کا نوں میں پڑی تو جھٹکے سے کھڑکی کھول کر قمیض کے بغیر ہی چھلانگ لگا کر اگلی چھت پر ابھی ایک پاؤں ہی رکھا تھا اور دوسرا ہوا میں ہی تھا کہ نیچے سے چھت 50 فٹ دور جا چکی تھی اور اس پر موجود ایک عدد کرسی 3 کھیت پھلانگ کر نیچے جا چکی تھی۔ گھبراہٹ میں دوبارہ پاؤں صحن پر رکھے ہی تھے کہ مکان کی دیواریں گرنا شروع ہو گئیں اور میں نے باہر کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔

بڑی مشکل سے ایک سیدھے کھیت میں پہنچا جہاں باقی گھر والے بھی موجود تھے۔ ارد گرد اور آمنے سامنے کے گھروں سے گرد و غبار کے بادل اٹھ رہے تھے۔ ہر طرف شور و چیخیں برپا تھیں۔ اب فکر تھی تو چھوٹی بہن اور بھتیجی کی جو کہ کالج و سکول میں گئی ہوئی تھیں۔ ہم بھاگے دوڑے گھر کے قریب موجود سکول میں پہنچے تو پتہ چلا کہ بچے اس وقت سکول کے باہر کھلی جگہ پر پڑھ رہے تھے اس لیے سکول کے اندر کوئی بھی بچہ موجود نہیں تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا اتنے میں ارد گرد کے ایریاز سے بھی خبریں آنا شروع ہو گی کہ اس جگہ اتنے لوگ شہید ہو گے، کچھ ملبے کے نیچے دبے ہیں۔ پڑوس میں سید رضا شاہ صاحب کی بیٹی بھی ملبے تلے تھی اس کو نکالا۔

پورا دن کھلے آسماں تلے ایک گراؤنڈ میں گزارا۔ وقتاً فوقتاً آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا جو خوف ہراس میں مزید اضافہ کر دیتا۔ عصر کے وقت ایسی خوفناک بارش شروع ہوئی کہ جس نے رہی سہی کسر بھی ختم کر دی۔ بڑی مشکل سے درختوں کے نیچے چھپ چھپ کر وہ ٹائم گزارا۔ البتہ اللہ کا شکر ہے کہ کسی نے بھی روزہ نہیں توڑا اور شام کو ارد گرد گھوم پھر کر کسی نے افطاری کی کسی نے نہیں۔

میرے دیگر رشتہ دار جن کو یہ پتہ نہیں تھا کہ میں گھر ہوں وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں مظفرآباد میں موجود تھا اور آزاد کشمیر یونیورسٹی جو کہ بری طرح تباہ ہو گی تھی اس میں میرا بھی کام تمام ہو گیا ہے۔ اس وقت موبائل بھی اتنے عام نہیں تھے سو کمیونیکیشن کا نظام بھی نہیں تھا۔

مجھے اب فکر تھی تو مظفر آباد کی اور بالخصوص یونیورسٹی کی کیونکہ وہاں میرے بہت سے دوست شہید اور زخمی ہو چکے تھے۔ ایک دن اور گاؤں میں گزارا اور پھر مظفرآباد آ گیا۔ وہ شہر جس کو میں چند دن قبل ہنستا بستا چھوڑ کر گیا تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ جگہ جگہ ملبہ، خون کے نشانات اور اس سے آنے والی ایک سپیشل قسم کی بدبو دہشت میں اضافہ کر رہی تھی۔ پہلے تو پورے شہر کا چکر لگایا میرے ساتھ میرے دوست اور فیلو محسن منشاد عباسی بھی تھے، کافی سارے کلاس فیلوز کے جس جگہ گھر ہوتے تھے وہاں گئے لیکن ہر جگہ مٹی کا ڈھیر ہی ملا۔

شام کے وقت یونیورسٹی گراؤنڈ میں آئے تو وہاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھی موجود تھے۔ گراؤنڈ میں ایک خیمہ بستی قائم ہو چکی تھی، ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم یہاں موجود بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے الخدمت فاونڈیشن نے 2 ٹینٹ دیے اور ہم نے وہاں ایک خیمہ سکول شروع کر دیا جس میں مختلف کلاسز کے بچوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا۔

اسی دوران ان لوگوں کو سحری و افطاری کا بھی ہم اہتمام کرتے جو کہ الخدمت فاونڈیشن اور سیور فوڈز کے تعاون سے کرتے۔ رمضان المبارک کا مہینہ جاری تھا اور اب عید بھی قریب آ رہی تھی، لیکن کیسی عید؟ مجھے گھر سے فون آیا کہ آپ عید پر گھر آ جائیں لیکن اسلامی جمعیت طلبہ نے یہ عید زلزلہ زدگان کے ساتھ ہی منانے کا اعلان کیا تھا اور پورے پاکستان سے لوگ آ رہے تھے، اس لیے میں نے بھی یہی فیصلہ کیا۔

پورے پاکستان سے لوگوں نے خیمہ بستیوں میں رہنے والے لوگوں کے بچوں کے لیے عید تحائف جمع کر کے لائے جو ہم نے عید سے قبل یونیورسٹی گراؤنڈ اور چہلہ میں موجود خیمہ بستیوں میں تقسیم کیے۔ میری زندگی میں یہ وہ پہلی عید تھی جو گھر سے باہر گزر رہی تھی لیکن پھر بھی میں بہت خوش تھا۔

عید کی نماز مرحوم قائد قاضی حسین احمد کی امامت میں ادا کی اس کے بعد دوبارہ ان لوگوں میں عید تحائف و دیگر سامان تقسیم کرنے لگ گئے۔ اس موقع پر میں ناظم جموں کشمیر اسلامی جمعیت طلبہ برادر شاہد اختر [مرحوم] کو یاد نہ کروں تو بات مکمل نہیں ہوتی، ان کی قیادت میں ہم نے یہ سارا کام کیا۔ اللہ شاہد بھائی کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

اسی دن شام کو شاہد بھائی کے ساتھ ہی ہم لوگ گھر کی طرف روانہ ہوئے ہمارے ساتھ برادر میر محمد، ہارون الرشید، اور وسیم عباسی تھے۔

عید کے بعد کچھ دن گزارنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ہم لوگ مظفرآباد میں تھے۔ اب یہ فیصلہ ہوا کہ یہ بچے جو کہ نویں اور دسویں جماعت میں تھے یہاں نہیں پڑھ سکتے اس لیے اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں رہائشی سکول جو کہ ان کے امتحانات تک قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے کھاریاں، میر پور اور کوٹلی میں یہ سنٹرز کھولے گے۔

میں بھی دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کھاریاں ضلع گجرات میں قائم اس سکول میں چلا گیا۔ وہاں کے لوگوں نے بالعموم اور جماعت اسلامی اور اسلامی جمیعت طلبہ نے بالخصوص بہت تعاون کیا۔ تقریباً تین ماہ تک 80 سے زاہد بچوں کی رہائش، طعام اور دیگر ضروریات پوری کی اور ان کو وہاں کے بہترین سکول میں تعلیم دی گئی۔

اتنے میں ہماری یونیورسٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ عارضی طور پر اسلام آباد منتقل کیا جائے سو ہماری کلاسز بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں 11 فروری 2006 سے دوبارہ شروع ہوئیں۔ رہائش کے لیے فیض آباد کے مقام پر موجود ایک ہاسٹل دیا گیا جہاں ہم لوگ مفت رہائش اور طعام پر رہے۔ اس دوران ہم اپنے ان ساتھیوں کو بہت مس کرتے رہے جو چند ماہ قبل ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ 2 سمیسٹر وہاں گزارنے کے بعد ہم دوبارہ مظفرآباد آ گئے اور نو تعمیر شدہ یونیورسٹی میں بقیہ تعلیم مکمل کی۔

آج اس سانحے کو سولہ سال گزر چکے لیکن وہ لمحات آج بھی ہماری یادوں سے محو نہیں ہو سکے۔ بچھڑنے والے آج بھی یاد آتے ہیں۔

بس اللہ سے یہ دعا ہے کہ اللہ ان کے درجات کو بلند کرے اور ہمیں ایسی ناگہانی آفات سے محفوظ رکھے۔
[