شاہ رُخ خان کا بیٹا اور سندھ پولیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3  ستمبر کو سوشل میڈیا پر خبر آئی کہ شاہ رُخ خان کے بیٹے آریان خان کو منشیات کے قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ علم ہوا کہ ممبئی سے ایک عالیشان لگژری جہاز سینکڑوںمسافروں کو تفریحی مقام گوا لے جا رہا تھا۔ اِس مختصر بحری سفر کے لئے، جہاز کے مختلف درجوں کا ٹکٹ، ساٹھ ہزار سے چار لاکھ انڈین روپوں کے درمیان تھا۔ جہاز جونہی ساحل سے دُور، بحیرہ عرب کے پانی میں پہنچا تو نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے جوان، جو عام مسافروں کے رُوپ میں جہاز پر موجود تھے، حرکت میں آگئے۔ تلاشی شروع ہوئی اور مسافروں کے کمرے، ذاتی سامان ، جسم پر پہنے ہوئے کپڑے، جوتوں اور جُرابوں کو اُتروا کر کھنگالا گیا۔ جہاز کو واپس ممبئی کی بندرگاہ پر لایا گیا۔ صرف چند نوجوان حراست میں لئے گئے۔ اُن میں شاہ رُخ خان کا بیٹا آریان خان شامل تھا۔

بظاہر اِس واقعہ کا سندھ پولیس سے کوئی تعلق نہیں مگر کچھ واقعات پرانے وقتوں کی یاد دِلاتے ہوئے فکر کا دامن وسیع کر دیتے ہیں۔ میں نے سول سروس اکیڈمی سے ٹریننگ لینے کے بعد سیالکوٹ میں جب جُرم و سزا کے قانون کی عملی تربیت شروع کی تو ناتجربہ کار آنکھوں کے سامنے ایک نئے جہانِ حیرت کے دروازے کھُل گئے۔ اُن دِنوں ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کام کرنے والے مجسٹریٹ، فوجداری قوانین سے لیس ہوا کرتے تھے۔ مُجھے بھی ایک دفعہ 30 کے اختیارات رکھنے والے مجسٹریٹ کے ساتھ بیٹھ کر تربیت کے لئے، عدالت میں قانون پر عمل درآمد کا عملی مظاہرہ دیکھنا تھا۔ جو قارئین فوجداری کے قانون سے ناآشنا ہیں، اُن کی معلومات کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ جس فرد کے خلاف ایف آئی آر درج ہو یا قابلِ دست اندازی جُرم کا شک ہو، پولیس اُسے فوری گرفتار کر سکتی ہے۔ گرفتاری کی صورت میں وکیل کوشش کرتے کہ ملزم کو جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔ دُوسری طرف تفتیشی آفیسر اور پولیس کا محکمہ پورے جوش و خروش سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ۔ راقم الحروف، فوجداری قوانین کے تحت کی گئی کارروائیوں سے مکمل طور پر ناآشنا تھا۔ جلد ہی احساس ہوا کہ عدالتی کارروائی میں جسمانی ریمانڈ کا حصول پولیس کے لئے سب سے زیادہ حساس معاملہ ہوتا ہے۔ کئی دفعہ یہ احساس بھی ہوا کہ مجسٹریٹ صاحب نے پولیس افسروں کو خوش کرنے کی خاطر، ملزم کا ناجائز طور پر جسمانی ریمانڈ عنایت کیا ہے۔ تفتیشی آفیسر ایسے حکم پر خوش ہو کر زور دار سلیوٹ کرتا۔ ایک دِن مجسٹریٹ صاحب سے پولیس کی جسمانی ریمانڈ میں خاص دلچسپی کی وجہ پوچھی تو مُسکرا دیے۔ اُنہوں نےعدالت کے بعد ریٹائرنگ رُوم میں چائے کی پیالی پر بتایاکہ اگر پولیس کو جسمانی ریمانڈ نہ ملے تو تھانہ کیسے چَلے گا۔ بات پلے نہ پڑی تو اُنہوں نے مہربانی سے میری ناتجربہ کاری دیکھتے ہوئے، مزید وضاحت کی کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران، ملزم سے صرف پوچھ گچھ نہیں ہوتی بلکہ وہ مکمل طور پر تفتیشی آفیسر کی نظرِ کرم کا محتاج ہوتا ہے۔ ملزم کو چوبیس گھنٹے جگائے رکھنے ، بیٹھنے کے لئے کرسی، لیٹنے کے لئے بستر، جسمانی تشدّد، گھر سے کھانے کی فراہمی اور عزیز و اقارب سے ملاقات ،سب کچھ پولیس کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اِسی لئے جب انگریز نے ضابطۂ فوجداری مرتب کیا تو جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ مدت 14 دِن مقرر کی۔ پھر اُنہوں نے اپنی ایک آنکھ دباتے ہوئے رازدارانہ انداز میں کہا ’’ریمانڈ کے دوران، ملزم کو کوئی بھی سہولت دینا بہت اہمیت رکھتا ہے‘‘۔

اب آئیے سندھ حکومت کی طرف۔ چند ہفتے پہلے صوبائی حکو مت نے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے، 1934 کے پولیس رُولز میں ایک اہم ترمیم کی۔ نئے ضابطے کے تحت، تھانیدار یا تفتیشی آفیسر کے لئے ضروری نہیں کہ وہ ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف قابلِ دست اندازی الزام عائد ہونے کے بعد، اُسے فوری طور پر گرفتار بھی کرے۔ موجودہ ہدایت کے تحت، الزام کی تحقیق کے بعد،جرم کے سرزد ہونے اور ملزم کے خلاف شہادتیں دستیاب ہونے پر ہی حراست میں لینے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اب تفتیشی آفیسر کے لئے لازم ہے کہ وہ بہت سے الزامات میں گرفتاری سے پہلے، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے اجازت لے۔ خاص طور پر اُن الزامات کی صورت میں جو عام طور پر پولیس کی اعانت سے ایک فریق، دوسرے فریق کے خلاف عائد کرتا ہے۔ یہ ایک مُستحسن فیصلہ ہے۔ سندھ کے موجودہ چیف منسٹر اور آئی جی پولیس مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے یہ فیصلہ کیا۔

سندھ پولیس کی طرف سے 1934 کے پولیس رولز میں ترمیم کا خیال اِس لئے آرہا ہے کہ شاہ رُخ خان کے بیٹے آریان خان کے عدالتی فیصلے سے اِس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ الزام کا ثبوت اور شہادت دستیاب ہونے سے پہلے کسی شخص کی گرفتاری اور ریمانڈ دیا جانا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ منشیات کے حوالے سے جُرائم کی سنگینی کچھ اِس طرح ہے کہ سب سے کمتر جُرم منشیات کا استعمال ہے۔ اِس کے بعد خرید، پھر فروخت اور سب سے سنگین جُرم، منشیات کی تیاری اور پیداوار ہے۔ شاہ رُخ خان کے بیٹے کو گرفتار پہلے کیا گیا اور چوبیس گھنٹے پولیس کی حراست میں رکھنے کے بعد اُس کا طبی معائنہ ہوا۔ حالانکہ طبی معائنے سے منشیات کے استعمال کی شہادت ملنے کے بعد ہی گرفتاری کی نوبت آنی چاہئے تھی۔ پولیس نے عدالت سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کے وقت، عدالت کو بتایا کہ اُنہیں آریان خان کے موبائل فون پر دستیاب پیغامات سے منشیات کے استعمال کا ثبوت اور دُوسرے ملزمان کا علم ہو گا۔ حراست میں لینے کے چند گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر خبریں آنا شروع ہوئیں کہ آریان خان نے روتے ہوئے پچھلے چار سالوں سے منشیات استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ چند لمحوں بعد اِس خبر کا ذکر میڈیا چینلز پر بھی شروع ہو گیا۔ ہندوستان کی نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے سیکھ لیا ہے کہ کسی بھی زیرِ حراست ملزم کو عوام کی نظر میں بدنام کرنے کے لئے میڈیا کو استعمال کرنا کتنا سہل ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو جہاز کے مالکان کو بھی جرم میں ملوث کر کے گرفتار کرنا چاہتی تھی مگر ایک قانونی مجبوری حائل ہو گئی کیونکہ مسافروں، عملے اور جہاز میں لادے جانے والے سامان کی تلاشی ممبئی پورٹ اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہفتے کے روز جہاز کی مکمل تلاشی لینے کے باوجود، سوموار کو دوبارہ لی جانے والی تلاشی کے دوران، حیرت انگیز طور پر جہاز سے منشیات کی ایک بھاری مقدار برآمد ہوئی۔

حرفِ آخر تو یہی ہے کہ اگر سندھ حکومت کی طرف سے پولیس رولز میں ترمیم کی رُوح کے مطابق کارروائی ہوتی تو آریان خان کو پہلے شاملِ تفتیش کیا جاتا۔ طبی معائنے اور موبائل فون سے ملنے والی شہادت کے بعد ہی اِس کی گرفتاری کی نوبت آتی۔

بشکریہ روز نامہ جنگ


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر محمود

بشکریہ: روز نامہ دنیا

zafar-mehmood has 62 posts and counting.See all posts by zafar-mehmood

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments