آئیے ہاتھ اُٹھائیں ہم بھی

ہمارے خاندان کی ایک شاخ، بہت پہلے جالندھر سے رحیم یار خان کی تحصیل ، صادق آباد منتقل ہوئی۔ مضبوط مذہبی رجحان کے ناطے ایک رشتہ دارد ینی مدرسے کے انچارج بنے۔ ہر سال درس گاہ کے لیے عطیات وصول کرنے ، دورے پر نکلتے تو ہمارے پاس عارف والا شہر آتے ۔ اُن کی آمد پر گھر کا ماحول بدل جاتا ۔ شفیق انسان تھے۔ محبت اور اپنائیت کی مہربان چمک سے آنکھیں روشن رہتیں۔ ایوب خان کی حکومت

Read more

مختار مسعود، ڈاکٹر عبدالسلام اور پنجابی زبان

سول سروس آف پاکستان کے رُکن اختر سعید صاحب کئی سال پہلے ریٹائر ہو گئے۔ وہ لکھنے پڑھنے کے شوقین، سرکاری ملازمت کے جاہ و منصب سے خاص لگائو نہیں رکھتے تھے۔ پنجاب کے سابق گورنر مرحوم غلام جیلانی صاحب نے باغِ جناح میں قائد اعظم لائبریری بنائی تو اختر سعید کو لائبریری سے عشق ہو گیا۔ وہ خاص اجازت لے کر لائبریری سے منسلک ہوئے۔ 1986ء میں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ اُنہوں نے اختر سعید صاحب

Read more

اے مردِ مجاہد جاگ ذرا

مُجھے اِس بات پر فخر ہے کہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کے دوست اور کلاس فیلو، مسعود اسلم اور صلاح الدین ستی، پاکستان فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ مسعود اسلم، کارگل میں بہادری سے دُشمن کا مقابلہ کرنے پر ستارۂ جرات کے حق دار ہوئے۔ اُنہوں نے پشاور کور کمانڈ کی، نیب لاہور ریجن کے چیف اور ریٹائرمنٹ کے بعد میکسیکو میں سفارت کی ذمہ داری نبھائی۔ صلاح الدین ستی راولپنڈی کور کے کمانڈر بنے۔ کمال عزیز

Read more

انڈین آرمی سے پاکستان کی قومی فوج

انڈین آرمی کی تاریخ میں پہلی جنگ عظیم ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ 1857 ء کے بعد بغاوت کا خدشہ ختم ہو چکا تھا اور افواج دل جمعی سے تاج برطانیہ کا حکم بجا لاتیں۔ مورال بلند رکھنے کے لیے جنگ عظیم اول میں تیرہ ہزار فوجیوں کو مختلف اعزازات دیے گئے۔ جنگ کے دوران پالیسی تبدیل کر کے ہندوستانی فوجیوں کو سب سے بڑے فوجی اعزاز ”وکٹوریہ کراس“ کا اہل بھی قرار دیا گیا۔ سب سے پہلے ضلع

Read more

کر گیا سرمست مُجھ کو…

’’بالِ جبریل ‘‘کی ورق گردانی کرتے ہوئے کل اِس مصرعے پر پہنچا، ’’کر گیا سر مست مُجھ کو ٹوٹ کر میرا سبُو‘‘ تو نظر وہیں ٹھہر گئی۔ حافظے کے توشہ خانے سے، ماضی کا ایک واقعہ یاد آیا جو قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گا۔ ڈی ایم جی گروپ میں چنائو کے بعد، راقم مارچ 1977ء کے دوران، جوڈیشل اور ریونیو ٹریننگ کے لیے سیالکوٹ تعینات ہوا۔ اُن دنوں تنخواہ چھ سو روپے تھی۔ خوش قسمتی سے ہائی

Read more

عمران خان اور اسپورٹس پالیسی

عمران خان ملک کے سربراہ بنے تو اُمید پیدا ہوئی کہ ایک کھلاڑی وزیر اعظم، پاکستان میں پہلی دفعہ ایک مربوط اور جامع اسپورٹس پالیسی کی بنیاد رکھے گا۔ بیشتر قومی قائدین کی طرح، عمران خان کی سوچ بھی اُن کے تجربات سے متاثر تھی۔ عمران خان، ایچی سن کالج سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے رُکن بنے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے بعد، ووسٹر شائر کائونٹی کی نمائندگی کی۔ انگلستان میں کائونٹی کرکٹ کا پس منظر قارئین کے لیے دلچسپی کا

Read more

خُدا تراش لیا اور بندگی کرلی…

آج کا عنوان 1968ء میں بنی فلم، انوکھی رات کے ایک نغمے سے مستعار لیا ہے۔ پچاس برس سے اُوپربیت گئے، مگر آج بھی حافظے میں یہ بول محفوظ ہیں، ’’اب آگے جو بھی ہو انجام دیکھا جائے گا، خُدا تراش لیا اور بندگی کر لی‘‘۔ یہ الفاظ اُس وقت یاد آتے ہیں جب انسانوں کا گروہ، اپنے لیڈر سے اندھی عقیدت میں سرشار، عقل سے عاری طرزِعمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ دانشور تاریخ سے مثالیں ڈھونڈ کر بتاتے ہیں

Read more

نیلسن منڈیلا، قائداعظم اور مؤثر انتظامیہ

جب نیلسن منڈیلانے 1994ء کے دوران، سائوتھ افریقہ میں اقتدار سنبھالا تو قائد اعظم کی وفات کو چوالیس برس گزرچکے تھے۔ دونوں لیڈر اپنے ملکوں کے بانی قائد اور دُور رس عقل و فہم کے مالک تھے۔اِس تحریر میں ملک کی انتظامیہ کے حوالے سے دونوں عظیم شخصیتوں میں ایک قدرِ مشترک کا تذکرہ ہو گا۔ سائوتھ افریقہ کی نسل پرست حکومت نے مقامی سیاہ فام آبادی کی مقبول سیاسی جماعت، افریقن نیشنل کانگریس پر 1960ء میں پابندی لگائی۔ اُس

Read more

انتظامیہ اور وزارتِ خارجہ

پاکستان میں انتظامیہ کے زوال پر تحریروں کا سلسلہ، مرحوم ظفر الاحسن، آئی سی ایس کے حوالے سے شروع ہوا۔ قارئین کی دلچسپی دیکھ کر، اِسی موضوع پرایک اور کالم ’’انتظامیہ کا فولادی ڈھانچہ، نسلا ٹاور کیسے بنا‘‘ ،تحریر کیا۔ اِسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، گزشتہ دنوں اُن آئی سی ایس افسران کا تذکرہ ہوا جو انتظامی عہدوں کو تیاگ کر عدلیہ کا حصہ بنے۔ قارئین کے رد عمل سے احساس ہوا کہ بیشتر کو علم نہیں تھا کہ

Read more

سماج کی رگوں میں آتش گیر مادہ

میں اپنے ایک بے تکلف دوست کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو قالین پر بے شمار چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔ ٹافیاں، جُوس کے ڈبے اور طرح طرح کے کھلونے ۔ دوست کی سترہ سالہ بیٹی کا چہرہ، نو عمری کے جوش سے تمتما رہا تھا۔ ’’ سوری انکل ! میں یتیم بچوں کے لیے تحفوں کے پیکٹ تیار کر رہی ہوں۔ کل کلاس فیلوز کے ساتھ orphanage(یتیم خانہ) جانے کا پروگرام ہے۔‘‘ میرے دوست نے فخر سے بیٹی کو

Read more

کھوسہ برادران اور عطیۂ فیض

کمپیوٹر کے جدید دور میں جب خطاطی معدوم ہو چکی، ناصر محمود کھوسہ نے مقدس آیات اور صوفیانہ کلام پر مشتمل 393 صفحات کی کتاب ”عطیۂ فیض“ اپنے ہاتھ سے لکھ کر والدین کو منفرد انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان کے والد فیض محمد کھوسہ اور والدہ عطیہ فیض نے گورنمنٹ کالج اور کنیئرڈ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ والد نے قانون کی ڈگری کے بعد ڈیرہ غازی خان سے وکالت کا آغاز کیا۔ آخری عمر

Read more

سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

گزشتہ برس، 3 دسمبر کی وہ خنک سہ پہر مشکل سے بھولے گی۔ اچانک ٹیلی وژن کی سکرین پر، مضطرب ہجوم اور دھُواں اُٹھنے کے مناظر دکھائی دیے۔ کچھ ہی دیر میں یہ روح فرسا خبر ملی کہ ایک سری لنکن انجینئرپریانتھاکمارا کو توہینِ مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم نے بے دردی سے ہلاک کر دیا۔ راقم کا سیالکوٹ سے تعلق، سرکاری نوکری کے دوران، دومرتبہ اِس شہر میں تعیناتی اور یہاں کی برآمدی صنعت میں دلچسپی کی وجہ

Read more

عمران خان کی ڈھاکہ سے واپسی کے بعد

وزیراعظم عمران خان نے ایک دفعہ حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے، مارچ 1971کے دوران، ڈھاکہ میں کھیلے گئے کرکٹ میچ کا تذکرہ کیا تھا۔ چند دن پہلے بنگلہ دیش کی ٹیم نے نیوزی لینڈ کی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ میچ جیتا تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ 19سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ٹورنامنٹ کا فائنل، شاید آخری میچ تھا جو مغربی پاکستان کی کسی ٹیم نے ڈھاکہ میں کھیلا۔ مجھے یہ میچ اس لیے بھی یاد ہے کہ

Read more

شفقت محمود اور جیمز کاروِل

صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا تو نتائج حکومت کی توقع کے مطابق نہیں تھے۔ پشاور ویلی کے اضلاع میں حیرت انگیز طور پر‘ جے یو آئی (فضل الرحمان گروپ)نے میدان مار لیا۔ انتخابی میدان میں ناقص کارکردگی پر وزیرِ اعظم نے پارٹی تنظیمیں تحلیل کر کے نئے عہدیداروں کا تقرر کر دیا۔ اِس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ میں ہمہ جہتی کا فقدان اور نامناسب اُمیدواروں کے چنائوکو ناکامی کا

Read more

اپنی کمزوری، دُشمنوں کے ہاتھ

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے سوئٹزر لینڈ میں ہم جنسوں کی شادی اور محترمہ سعیدہ حسین وارثی کے انٹرویو سے مجھے ہارورڈ یورنیورسٹی کے ایک پروفیسر کی ایک بہت گہری بات یاد آئی، جس کا پاکستان کے مستقبل سے گہرا تعلق ہے۔ پہلے سوئٹزر لینڈ کا ذکر۔ یورپین ممالک میں شخصی آزادیوں کا چلن بہت پرانا ہے۔ مذہبی اور سماجی لحاظ سے اِن آزادیوں کی ایک ناپسندیدہ شکل سرکاری سطح پر ہم جنس پرستوں کے درمیان ازدواجی تعلقات کی

Read more

جسٹس اطہر من ﷲ کا حُسن آرزو

گزشتہ دنوں عاصمہ جہانگیر کی یاد میں ہونے والی کانفرنس اچانک سیاسی رنگ اختیار کر گئی۔ اِس تبدیلی کے محرک عدلیہ بحالی کی تحریک میں فعال کردار ادا کرنے والے‘ ایک وکیل علی احمد کُرد تھے۔ اُن کے پُر جوش مگر متنازع خطاب نے شرکاء کی تقریروں کا رُخ تبدیل کر دیا۔ مقررین میں چیف جسٹس اسلام ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ بھی تھے۔ اُنہوں نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی عدالتی تاریخ کے اہم موڑ یاد دلائے۔ ذکر

Read more

موہن بھگوت کی تکلیف

ہندوستان کی انتہا پسند جماعت، راشٹریا سیوک سنگھ ’’آر ایس ایس‘‘ کے سربراہ موہن بھگوت نے 26نومبر کو ایک تقریب میں کہا کہ ہندوستان کے بٹوارے کا دُکھ دائمی ہے اور یہ تکلیف، اِس تقسیم کے خاتمے سے ہی رفع ہو سکتی ہے۔ 27نومبر کو حکومت پاکستان نے ردِ عمل دیا کہ یہ سوچ ایک ایسے شخص کی ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو کر تخیلاتی دُنیا میں رہتا ہو۔قارئین کو علم ہے کہ آر ایس ایس 1925میں وجود

Read more

زندگی بھیک میں نہیں ملتی

وہ لوگ جو اخبار پڑھنے اور ٹیلی وژن دیکھنے کے عادی ہیں انہیں خوشگوار خبریں کم ہی پڑھنے اور دیکھنے کو نصیب ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی سچائی اور غیرجانبدار تجزیوں کی کمی نظر آتی ہے بلکہ یہ پلیٹ فارم جہالت اور جھوٹ کے بیوپاریوں میں مقبول ہو چکا ہے۔ میڈیا پر پابندیاں اور حقیقت چھپانے کا رواج بھی پرانا ہے مگر بات ہو رہی ہے اچھی خبروں کے فقدان کی۔ حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ اتوار دو ایسی

Read more

زخم کے بھرنے تلک…

قلم اٹھایا تھا کہ کوچۂ سیاست کے پیچ و خم پر بات کرتے ہوئے ’قارئین کو اس خطے کی سیاست کا تاریک پہلو دکھایا جائے۔ عنوان کی تلاش تھی اور خیال کی آوارگی نے غالب کا ایک شعر یاد دلایا۔ مرزا فرماتے ہیں ”زخم کے بھرنے تلک‘ ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا“ ۔ اردو شاعری کی روایت کے مطابق ’غالب اہل دل کے زخموں کو تازہ رکھنا چاہتے تھے۔ عنوان اس لیے موزوں پایا کہ اہل سیاست میں ایسے

Read more

سرجیکل اسٹرائیک۔ فائدہ کسے پہنچے گا

چند دن پہلے ہندوستان کے وزیر داخلہ نے پاکستان کو خبردار کیا کہ ہندوستانی فوج آزاد کشمیر کے اندر گھُس کر فوجی کارروائی کرے گی۔ بھارتی حکومت ایسے حملوں کو سرجیکل اسٹرائیک کا نام دیتی ہے۔ اِس دھمکی کا پس منظر گزشتہ چند دنوں میں کشمیری حریت پسندوں اور ہندوستانی فوج کے درمیان جھڑپیں ہیں، جن میں سات ہندوستانی فوجی مارے گئے۔ اُنہوں نے پاکستان کو یاد دلایا کہ ہم پہلے بھی سرجیکل اسٹرائیک کر چکے ہیں اور پاکستان آئندہ

Read more

شاہ رُخ خان کا بیٹا اور سندھ پولیس

3  ستمبر کو سوشل میڈیا پر خبر آئی کہ شاہ رُخ خان کے بیٹے آریان خان کو منشیات کے قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ علم ہوا کہ ممبئی سے ایک عالیشان لگژری جہاز سینکڑوںمسافروں کو تفریحی مقام گوا لے جا رہا تھا۔ اِس مختصر بحری سفر کے لئے، جہاز کے مختلف درجوں کا ٹکٹ، ساٹھ ہزار سے چار لاکھ انڈین روپوں کے درمیان تھا۔ جہاز جونہی ساحل سے دُور، بحیرہ عرب کے پانی میں پہنچا

Read more

طالبان کا ذہنی ارتقا؟

پہلی دفعہ ’’ذہنی ارتقا‘‘ کی اصطلاح مرزا غالب پر ایک تنقیدی مضمون میں نظر سے گزری۔ مصنف کے خیال میں زبان پر استعداد اور شاعری کے اسرار و رموز کی فہم پر غالب کو اِس قدر ناز تھا کہ مشکل پسندی پر مائل ہو گئے۔ اِس روش پر تنقید کے جواب میں فخر سے کہتے ’’گر نہیں ہیں میرے اشعار میں معنی‘ نہ سہی‘‘۔ غالب کے ذہنی ارتقا کا سفر کلکتہ سے شروع ہوا۔ بنگال میں اُردو شاعری کے قدر

Read more

دی پارٹی از اوور

مجھے کالم نگاری کی طرف برادرم سہیل وڑائچ نے مائل کیا۔ اُن کے ساتھ شناسائی کی ابتدا 1993ء کے دوران استنبول میں ہوئی۔ میں اُن دنوں قونصل جنرل تعینات تھا۔ نئے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی حکومت بنا چکی تھی۔ کشمیری مسلمانوں کی حالت ِ زار پر دُنیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ایک وفد ترکی بھیجا گیا۔ برادرم سہیل وڑائچ اُس وفد کے ساتھ بطور صحافی تشریف لائے۔ وفد میں نوابزادہ نصر اللہ خاں ، سردار ابراہیم مرحوم

Read more

قومی ترانہ، دھن پر لکھے بول اور ساحر لدھیانوی کی داستان

گزشتہ ہفتے پاکستان کے قومی ترانے سے متعلق، کابینہ ڈویژن کے مرتب کردہ کتابچے کی بنیاد پر کالم لکھا۔ نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹرکی محترمہ رخسانہ ظفر کے ترتیب دیئے ہوئے اِس کتابچے کا پیش لفظ راقم نے سیکرٹری کی حیثیت میں لکھا تھا۔ اِس کالم پر قارئین کے ردِعمل سے میری معلومات میں اضافہ ہوا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ پولیس سروس کے رُکن جناب الطاف قمر اسی موضوع پر ایک جامع مضمون قلم بند کر چکے ہیں، جس میں کابینہ

Read more

پاکستان کا قومی ترانہ کیسے منظور ہوا

بہت کم لوگوں کو احساس ہو گا کہ کابینہ ڈویژن کے پاس پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ایک انمول خزانہ محفوظ ہے۔ پاکستان کی پہلی کابینہ کی اوّلین میٹنگ سے لے کر آج تک کے تمام اجلاسوں کی رُوداد، واقعات کی صحیح تصویر دکھاتی ہے۔ ہماری انتظامی تاریخ کے مدوجزر کو سمجھنے کے لئے اس سے بہتر معلومات فراہم نہیں ہو سکتیں۔ اِس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے دو اداروں، نیشنل آرکائیوز (National Archives) اور نیشنل ڈاکومینٹیشن ونگ (National

Read more

کامیاب جمہوریت کا فارمولا؟

یہ مئی 1991ء کی بات ہے۔ نواز شریف وزیرِ اعظم پاکستان تھے۔ غلام حیدر وائیں (مرحوم) وزیر اعلیٰ پنجاب اور شاہ محمود قریشی اُن کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے۔ راقم محکمہ خزانہ میں ایڈیشنل سیکرٹری تعینات تھا۔ ایک روز اپنے دفتر میں موجود تھا کہ دروازہ کھلا اور پسینے میں شرابور، ایک ممبر اسمبلی کمرے میں داخل ہوئے۔ اُن کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ پارہ چڑھا ہوا تھا۔ سخت غصے کے عالم میں اُنہوں نے فائل میز پر

Read more

ڈالر کے پَر کون کاٹے گا؟

پچھلے چند ہفتوں میں ڈالر کی اُونچی اُڑان نے سب پاکستانیوں کے ذہن میں سوال کھڑے کر دیئے۔ عوام کی اکثریت اقتصادی امور کی مشکل گتھیوں کو نہیں سمجھتی مگر میڈیا پر اہل علم کے تبصرے اُنہیں پریشان کر رہے ہیں۔ عام حالات میں بھی، عوام محدود آمدن اور ضروری اخراجات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ہمہ وقتی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ اور اب ماہرین اُنہیں خبردار کر رہے ہیں کہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے والا

Read more

عوامی اُمنگوں کا ترجمان فیصلہ

’’پانی کے ذخائر کی تعمیر حسبِ موقع اور عملی ضرورت کے مطابق ہے۔ انسانی بقا اور پاکستانی معیشت کے لئے اِن تعمیرات کا کوئی نعم البدل نہیں۔… زندگی کا حق، بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کے ذخائر صرف معیار بلند کرنے کے لئے نہیں بلکہ زندگی کا تانا بانا اِنہی کے دم سے قائم ہے۔ اِسی بناء پر آئین کے آرٹیکل 184(3)کو آرٹیکل 9کے ساتھ ملا کر

Read more

عوام کے سیاسی شعور میں بہتری جمہوری ارتقا کا اشارہ ہے

عوام کے سیاسی شعور کی جانچ ایک مثال سے شروع کرتے ہیں۔ انور کمال کا گھرانہ، اُن کی بیگم اور تین بچوں پر مشتمل تھا۔ وہ شہر کے خوشحال علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ بڑا بیٹا اکائونٹس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد برسرِ روزگار تھا۔ شادی کے بعد بیوی اور ایک بچے سمیت، والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ چھوٹا بیٹا اور بیٹی زیرِ تعلیم تھے۔ انور کمال پیشے کے لحاظ سے تاجر اور ایک مصروف کاروباری

Read more

آبی معیشت، مشکل فیصلے کون کرے گا

گزشتہ سردیوں کے دوران شمالی علاقوں میں برف باری معمول سے کم رہی۔ پنجاب اور سندھ کے میدانوں میں، مئی کے اوائل سے ہی شدید گرمی شروع ہوئی اور بارش بھی کم برسی۔ دریائوں میں پانی کی آمد معمول سے کم ہونے پر منگلا اور تربیلا میں پانی کی سطح نیچے آگئی۔ نہروں میں پانی کم ہوا تو کسان پریشان اور زرعی پیداوار متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔ اِن حالات میں اہلِ دانش آبی مسائل پر غور اور اِن

Read more

بنگلہ دیش آگے کیسے نکلا؟

میرے کئی دوست حیرت سے پوچھتے ہیں کہ بنگلہ دیش، ملبوسات(گارمنٹس) کی برآمدات میں ہم سے آگے کیسے نکلا۔ اُن کی سوچ کے پیچھے یہ گمان ہے کہ خام مال میسر ہو تو اشیاء برآمد کرنا سہل ہو جاتا ہے۔ اُنہیں علم ہے کہ بنگلہ دیش میں کپاس پیدا نہیں ہوتی۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش نے 1980ء کی دہائی میں گارمنٹس کی برآمدات شروع کیں جبکہ ہم نے بنگلہ دیش سے تیس سال پہلے مغربی پاکستان

Read more

تریپن روپے کی بچت

اسٹیٹ بینک آف پاکستان سال میں کئی بار، عوامی اطلاع کے لئے، ملکی معیشت کی جائزہ رپورٹ جاری کرتا ہے۔ چند ماہ پیشتر اُس کی رپورٹ میں پاکستان کے آبی مسائل کی طرف توجہ دلائی گئی۔ تجویز کیا گیا کہ پانی کی قیمت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ معاشی جائزے میں پانی کی قیمت میں اضافے کا مشورہ، بروقت اور خوش آئند ہے۔ ماہرین متفق ہیں کہ ’’پانی کی معیشت‘‘ اچھی حالت میں نہیں۔ سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔

Read more

شوکت عزیز، بنکاری اور برآمدات

وزیرِ اعظم کی میٹنگ کا ماحول عمومی طور پر تنائو کا شکار رہتا ہے۔ اِس تنائو میں مزید شدت اُس وقت آتی ہے جب کسی وزارت کو اہم مسئلوں پر وزیرِ اعظم سے فیصلے درکار ہوں۔ وزیرِ اعظم کی میٹنگ میں خزانہ اور منصوبہ بندی کے علاوہ دُوسری متعلقہ وزارتوں کے وزراء اور سیکرٹریوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم تمام شرکاء سے رائے لینے کے بعد فیصلہ سُنا دیتے ہیں۔ 2007ء کے اوائل میں میری تعیناتی وزارتِ

Read more

ہماری برآمدات کیوں نہ بڑھ سکیں

شاہد خاقان عباسی کی کابینہ نے آخری دنوں میں برآمدی مراعات کے جاری پروگرام کی مدت میں اضافہ کر دیا۔ حالات کے مطابق شاید یہ ضروری تھا مگر خوشی نہیں ہوئی۔ کب تک عارضی امداد کا سہارا درکار رہے گا۔ یہ مسئلہ ایک طویل مدتی لائحہ عمل کا متقاضی ہے۔ پاکستان کی برآمدات کے فروغ سے میرا پرانا تعلق ہے۔ استنبول میں بطور قونصل جنرل یہی کام کیا۔ کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن میں ڈائریکٹر رہا۔ ایکسپورٹ پروموشن بیورو میں وائس چیئرمین

Read more

ہم پیچھے کیوں رہ گئے؟

گزشتہ کالم میں چار ممالک کی مثال دی تھی، جو ایشین ٹائیگرز کہلائے۔ اُن وجوہات کا بھی ذکر ہوا جن کی بناء پر ہم ایشین ٹائیگرز کا راستہ نہیں اپنا سکے۔ سرد جنگ کے زمانے میں، اِن چاروں ملکوں میں یا تو فوج حکمران رہی یا امریکی نگرانی میں جمہوریت کو ایک مخصوص دائرے تک محدود کر دیا گیا۔ اِس دوران اندرونی اور بیرونی ذرائع سے سرمایہ کاری کے عمل کی بھرپور انداز میں اعانت جاری رہی۔ اِسی وجہ سے

Read more

ایشیا کے ٹائیگرز اور پاکستان

خلوصِ نیت سے سمجھتا ہوں کہ ہر پاکستانی کا دل، ملکی ترقی کے لئے دھڑکتا ہے۔ ہم چاہے کسی شعبے یا ادارے سے تعلق رکھتے ہوں، وطن کی محبت سے سرشار ہیں۔ چاہتے ہیں کہ پاکستان جلد از جلد معاشی اور سماجی ترقی کی منازل طے کرے۔ ہم دوسری قوموں کو ہم پلہ سمجھتے ہیں، خود سے برتر نہیں۔ ہم اِس بات پر بھی نالاں ہیں کہ دُوسرے ملک جو ہمارے ساتھ آزاد ہوئے، ہم سے آگے نکل گئے۔ ہم

Read more

تاش کی گڈی میں جوکر

جون 2012ء کی ایک گرم سہ پہر تھی۔ ایوان صدر سے فون موصول ہوا۔ خلاف توقع، دوسری طرف احمد مختار بول رہے تھے۔ اُنہوں نے بتایا کہ وہ صدر پاکستان کے کمرے سے بات کر رہے ہیں۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ چند دن پہلے احمد مختار کووزارتِ دفاع سے ہٹا کر، پانی اور بجلی کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ اُنہوں نے اطلاع دی کہ مجھے سیکرٹری وزارت تجارت سے تبدیل کر کے پانی اور بجلی کی ذمہ داری دی جا چکی

Read more

گھوڑا تجزیہ سن کر نہیں دوڑتا

گورنمنٹ کالج لاہور 1970ء کی دہائی میں روشن خیال تعلیمی ادارہ تھا۔ خوف کی فضا سے آزاد، اُستاد اور شاگرد کھل کر اظہار خیال کرتے۔ ایم اے کے دوران، حامد یامین ڈار ہمیں مائیکرو اکنامکس پڑھاتے تھے۔ بہت روشن دماغ اُستاد تھے۔ کئی سال امریکہ میں رہے۔ سیاحت کا شوق تھا۔ اقتصادیات کی مشکل گتھیوں کو آسان فہم انداز میں سمجھانے کا فن جانتے تھے۔ اِس غضب اُستاد کی بہت عزت تھی۔ ماشاء اللہ ڈار صاحب، آج کل بھی درس

Read more

’اوپر‘ سے حکم آیا ہے

چند دن ہوئے، امیرِ جماعت اسلامی، جناب سراج الحق کے ایک بیان نے سیاسی ہلچل میں اضافہ کر دیا۔ اُن کے مطابق، صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، جناب پرویز خٹک نے کہا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ دینے کا حکم ’’اوپر‘‘ سے آیا ہے۔ سراج الحق صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ’’اوپر‘‘ سے خٹک صاحب کی کیا مراد تھی۔ نہ ہی بتایا کہ ُانہوں نے پرویز خٹک سے مزید استفسار کیوں نہیں کیا؟ البتہ سراج الحق

Read more

آج آپ کونسا نیا اسکینڈل لائے ہیں؟

گزشتہ کالم کی آخری سطر میں قارئین سے ان الفاظ میں وعدہ کیا تھا ’’کرپشن کی لوک داستانیں کیسے جنم لیتی ہیں، فروغ پاتی ہیںاور کس طریق، معاشی ترقی کا راستہ روکتی ہیں؟ اس کا ذکر آئندہ کالم میں کیا جائے گا۔ ‘‘ آج لکھنے بیٹھا تو سامنے ٹیلی وژن پر حالات حاضرہ کا تجزیاتی پروگرام شروع ہو رہا تھا۔ کچھ ماہرین اپنے چہرے پر علم و حکمت کی سنجیدگی طاری کئے نظر آئے۔ ایک خوش شکل لڑکی، خوشگوار مسکراہٹ

Read more

کرپشن کی لوک داستانیں

یہ 1989ء کا واقعہ ہے، میں ان دنوں سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔ چھٹی کا دن تھا۔ گھر کے دفتر میں وہ کاغذات پڑھ رہا تھا جن پر عام دنوں کی مصروفیت میں غور کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ کھڑکی سے باہر، دسمبر کی چمکیلی دھوپ میں ایک گاڑی گھر کے اندر داخل ہوتے دکھائی دی۔ دفتر کے سامنے رکی تو ایک بارہ تیرہ سال کا نوجوان لڑکا نیچے اترا۔ میں اُسے پہلی دفعہ دیکھ

Read more

نیلم جہلم منصوبہ- نشیب و فراز کی عجب کہانی

آزاد کشمیر میں مظفر آباد کے قریب نیلم اور جہلم دریا آپس میں ملتے ہیں۔ پہلی دفعہ اِس ملاپ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ دریائے نیلم کا نیلگوں پانی جہلم سے علیحدہ، اپنے دھارے میں بہتے ہوئے بہت خوبصورت دکھائی دیتا۔ اُن دنوں آزاد کشمیر کی حکومت اسکول کے بچوں کو سیاحت کی سہولتیں فراہم کرتی تھی۔ آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری مرحوم عبدالحق سہروردی کے صاحبزادے، عزیز الحق، کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ہم جماعت تھے۔ اِس

Read more