گڑ کنٹرول قانون نے شوگر انڈسٹری کو کیسے طاقت ور کیا؟


ریاست پاکستان وجود پذیر ہونے کے ایک روز بعد ہی ملک کے حکمرانوں نے نوآبادیاتی عہد کی طرح قوم دشمن اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر بالاتر طبقات کے اقتصادی مفادات کے پہرہ دار کا کردار نبھایا، ملک کی پہلی کابینہ نے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت پر لگائے جانے والے اعتراضات کو سچ ثابت کر دکھایا یعنی لیگ کی قیادت جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی محافظ ہے۔

پاکستان بنتے ہی صنعت کاروں کو فوائد پہنچانے کے لیے گڑ کنٹرول آرڈر نافذ کر دیا گیا اور کسان، کاشت کار کی گردنوں کے عوض شوگر انڈسٹری کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ جناح صاحب کی کابینہ کے وزیر راجہ غضنفر علی نے بہ طور وزیر خوراک یہ آرڈر نافذ کیا، یونینسٹ پارٹی چھوڑنے اور رئیس خاندان سے وابستگی کی بناء پر راجہ غضنفر کو مسلم لیگ نے اہم حکومتی عہدوں سے نوازا تھا۔ بہرحال پرو برٹش راج نظریات رکھنے والی لیگی قیادت نے پاکستان میں نو آبادیت کی طرز پر ریاست کی نشوونما کے بیج بوئے۔ معاشی غارت گری کے لیے برطانیہ نے اپنی انڈسٹری کو تحفظ دینے کے لیے ہندستان میں ایسے قوانین رائج کیے تھے جس سے یہاں کی صنعتوں پر بھاری ٹیکس لگائے گئے، ہندستان میں صنعتی پروڈکشن کو غیر قانونی قرار دیا گیا چنانچہ گڑ کنٹرول آرڈر پوسٹ کالونیل ریاستی ڈھانچہ کی تشکیل میں معاون بنا۔

ہندستان میں جاگیر دار طبقات پیدا کرنے کے لیے برطانوی سرکار نے بندوبست دوامی کا قانون رائج کر کے زمین کے ملکیتی حقوق اور لگان کا نیا ضابطہ مقرر کر کے بنگال کے کسانوں کا معاشی قتل عام کیا بالکل ویسے ہی جناح صاحب کی حکومت نے مذکورہ آرڈر کے ذریعے سرمایہ دار طبقات کو کسان کے مقابلے پر طاقت ور بنایا۔ میرے لیے یہ ہمیشہ باعث تشویش رہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گڑ کی پروڈکشن صنعتی بنیادوں پر نہیں ہوتی اور صحت کے لیے مضر ہونے کے باوجود چینی کی پروڈکشن، شوگر انڈسٹری کو اربوں روپے کی سبسڈی یا چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کے یکم اکتوبر کے فیصلہ نے اس استبدادیت کا پردہ چاک کر دیا جس کی بنیاد گڑ کنٹرول آرڈر میں پیوست تھی۔ یہ آرڈر کیا ہے؟ یوں سمجھیے یہ امریکی ورلڈ آرڈر کی طرز پر پاکستانی اشرافیہ کا آرڈر تھا جو عدالت نے آئین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا ہے۔

گڑ کنٹرول آرڈر کے تحت بیوروکریسی کو یہ اختیار سونپ دیا گیا کہ چینی کی پیداوار بڑھانے کے لیے گنے کو اپنی حدود سے باہر فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کاشت کار، گنے کی پیداوار اپنے علاقہ کی شوگر مل کو دینے کا پابند ہو گا، اور کاشت کار اپنا گنا گڑ بنانے کے لیے کسی کو دینے کا مجاز نہیں ہو گا۔ اس آرڈر میں یہ حکم جاری ہوا کہ بذریعہ ریل، ٹرانسپورٹ یا پانی کے راستہ سے گڑ کی تجارت کرنے پر پابندی ہوگی، ذاتی استعمال کی غرض سے ایک جگہ سے دوسری جگہ گڑ بھیجنے کے لیے حکومت سے پرمٹ حاصل کرنا لازمی ہو گا۔

نوآبادیاتی عہد کے استحصالی نمونہ پر مبنی ظلم و استبداد کا یہ قانون 72 سال سے پاکستان میں نافذ رہا جسے اب عدالت نے منسوخ کر دیا ہے۔

جسٹس شاہد جمیل کی عدالت میں چینی کی قیمتوں کے تعین پر دائر کیس کی سماعت کے دوران ہی جج کو بتایا گیا کہ حکومت بیوروکریسی کے ذریعے سے کسانوں کو ہراساں کرتی ہے جب بھی کوئی کسان اپنے ہی کاشت کیے ہوئے گنے سے گڑ یا شکر تیار کرنے کی کوشش کرے تو اس پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے جب کسانوں کی ہراسانی کی وجوہات قانونی تناظر میں پیش کرنے کا استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ گڑ کنٹرول آرڈر کی تلوار کسانوں کی گردنیں کاٹنے کے لیے لٹکائی گئی ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران فیصلہ سنایا کہ یہ آرڈر دستور پاکستان کی شق 18 کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے تحت ہر پاکستانی کو کاروبار کرنے کا دستوری حق حاصل ہے۔ عدالت نے گڑ کنٹرول آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا اور حکومت کو حکم جاری کیا کہ گڑ یا شکر کی صنعتی پیمانے پر تیاری کرنے والے کسانوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں ہوگی۔

اس فیصلہ پر جسٹس شاہد جمیل کی عدالت میں موجود کسانوں نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ ریاستی سطح پر کسان کش پالیسی نے قومی اشرافیہ اور قومی وسائل کی لوٹ مار کرنے والے طبقات کے چہروں پر قانون کی آڑ میں لگے نقابوں کو پھاڑ دیا گیا ہے۔

شوگر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 13 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر رقبے پر گنے کی کاشت کی جا رہی ہے اور سات برسوں میں گنے کی کاشت میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جب 16 اگست 1947 ء میں گڑ کنٹرول آرڈر کے ذریعے سے شوگر انڈسٹری کو تحفظ فراہم کیا گیا تو اس وقت پاکستان میں 2 شوگر ملز تھیں اور 1970 ء تک اس کی تعداد صرف 4 تھی یعنی ہزاروں کاشت کاروں کے اقتصادی استحصال کرنے کے بعد ان ملز مالکان کو اقتصادی فوائد دیے گئے۔ کیا سات دہائیوں تک ملک کے کسانوں، کاشت کاروں کو معاشی جبر کی چکی تلے رگڑنے کا ریاست معاوضہ ادا کر سکتی ہے؟

آج پاکستان میں 89 شوگر ملز ہیں، جنوری 2019 ء سے لے کر مارچ 2020 ء تک شوگر ملز نے حکومتی سبسڈی کے باعث 85 ارب روپے منافع کمایا یعنی پانچ ارب 70 کروڑ روپے ماہانہ منافع کمایا گیا۔ 89 شوگر ملز کے مالکان کی تعداد 20 کے قریب ہے یعنی 20 سرمایہ داروں نے قومی دولت لوٹی جس میں سب سے زیادہ بنیفیشری سیاست دان بشمول شریف خاندان، زرداری خاندان، جہانگیر ترین خاندان ہیں جن کی ملکیت میں 50 فیصد شوگر ملز ہیں، سیاست میں بظاہر ایک دوسرے کے دشمن تاہم اقتصادی مفادات کے تحفظ میں مضبوط گٹھ جوڑ رکھتے ہیں۔ شوگر انڈسٹری سے وابستہ سیاست دان، سرمایہ دار اور بیوروکریسی کی اس تکون نے مل کر لاکھوں کسانوں و کاشت کاروں کا معاشی استحصال کیا۔

پاکستان میں گڑ کنٹرول آرڈر کے منسوخ ہونے پر، اب کسانوں اور کاشت کاروں کو اس ظلم و استبداد کے نظام سے بازیاب کرایا گیا ہے جس سے اب یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر گڑ کی پیداوار ہوگی اور انسانی صحت کو تباہ کرنے والی چینی اور قارونی خصلتوں کے حامل شوگر انڈسٹری کے مالکان کی اجارہ داری سے نجات ملے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو گڑ یا شکر کی پیداوار کے لیے چھوٹے پیمانے پر سبسڈی دینی چاہیے تاکہ سماج کا نچلا طبقہ معاشی ترقی حاصل کر سکے۔

Facebook Comments HS