ننھے مزدور ہمارا مستقبل ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچے جو کسی ملک کا سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں، جب حالات سے مجبور ہو کر ہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یقیناً اس معاشرے کے لئے المیہ وجود پا رہا ہوتا ہے۔ یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر ناسور بن کر سماج کا چہرہ داغ دار اور بدصورت کر دیتا ہے۔ پاکستان میں معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے ہر چھوٹے بڑے شہر، دیہی علاقوں میں اس المیے کو جنم دے رکھا ہے۔

پوری دنیا کو ہی چائلڈ لیبر کی لعنت کا سامنا ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ ایک سماجی ضرورت بن گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت کے سبب غریب لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی کام پر لگا دیں تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ جب بچوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے تو وہ اپنے خاندانوں سے دور رہنے اور سخت محنت کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔ کم عمر گھریلو ملازمین اور دیگر دکانوں ورکشاپس پہ کام کرنے والے بچوں پہ تشدد، زیادتی، جنسی ہراسانی اور درندگی کے افسوسناک واقعات سامنے آتے ہیں۔

چائلڈ لیبر کے ذریعے بچوں کا استحصال عالمی سطح پہ بھی ناقابل قبول ہے اور اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ کم عمری میں ہی بچوں سے مزدوروں کروانے سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پہ نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً 15 کروڑ 20 لاکھ بچے ( چھ کروڑ چالیس لاکھ لڑکیاں، 8 کروڑ اسی لاکھ لڑکے ) اور ہر دس میں سے ایک بچہ مزدوری کر رہا ہے اور ان میں سے آدھے (سات کروڑ تیس لاکھ) ایسے کام کرتے ہیں جو ان صحت کے لیے خطرناک اور نقصان دہ ہیں۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا تخمینہ ہے کہ چالیس لاکھ سے زائد بچوں کو جبری مشقت پہ مجبور کیا جاتا ہے جبکہ 15 کروڑ مزدوری کرنے والے بچوں میں آدھے سے زیادہ کی عمر 5 سے 11 سال کے درمیان ہے۔ پاکستان میں غربت کی وجہ سے اکثر کم عمر بچے گھروں میں کام کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ شہر روزگار کے لئے آتے ہیں ان میں اکثریت بے ہنر اور کم تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے گھریلو کام واحد آپشن ہوتا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق پاکستان میں کم از کم 8.5 ملین گھریلو ملازمین ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

والدین کی اکثریت غربت اور پسماندگی کی وجہ سے کم عمری میں بچوں کو کام پہ بھیجتے ہیں اور ایسے بچوں کی اکثریت سکول سے دور ہوجاتی ہے۔ کم عمری میں ہی ان کا استحصال شروع ہو جاتا ہے جو ان کے لئے جسمانی و ذہنی طور پہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ خاص طور پہ لڑکیوں کو گھروں میں کام کے لئے اسمگل کر کے لایا جاتا ہے۔ گھروں میں کام کرنے والے یہ بچے عام معاشرے سے پوشیدہ ہوتے ہیں، اسی طرح جانے کتنے ہی پھول جن کے نازک ہاتھوں میں کتابوں کھلونوں کی جگہ اینٹ اور سیمنٹ جیسی چیزیں ہوتی ہیں اور بچپن سے ان کی معصوم چہروں پہ مسکراہٹ کی بجائے تفکر کے آثار نمایاں ہوتے ہیں یہ بچے جنہیں ہم چھوٹا کہتے ہیں یہ اپنے گھر کے بڑے ہوتے ہیں ان کی بھی معصومانہ خواہشات ہوتی ہیں لیکن وقت اور حالات انہیں بچپن سے کھینچ کر بڑا کر دیتے ہیں۔ ہم مکمل طور پہ ان کی پرورش کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تو نہ سہی لیکن ہم ان کے لئے کم از کم کچھ تو کر ہی سکتے ہیں اگر کوئی بچہ مزدوری کرتا ہوا دیکھیں تو کم سے کم اس سے ایک مسکراہٹ کا تحفہ دیتے جائیں۔

ہم جو پیسے فضول میں اڑا دیتے ہیں ان میں سے کچھ بچا کر ایسے ننھے مزدوروں میں تقسیم کر دیا کریں لیکن احسان کا گمان نہ ہو کیونکہ نیکی کر کے آپ ان کا نہیں خود کا بھلا کر رہے ہیں۔ بچے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں اگر آپ انہیں اس دلدل سے نکال نہیں سکتے تو کوشش کریں کہ ان کو آپ کی طرف سے کوئی تکلیف بھی نہ ہو۔ حکومت نے جو پالیسیاں بنائی ہیں ان سے ننھے مزدوروں کو واقف کرائیں تاکہ اگر وہ احسان نہیں لینا چاہتے تو کم از کم خود کے لئے راہ ہموار کر لیں۔

بچے قوم کا مستقبل ہیں اور اس مستقبل کو بگاڑنا سنوارنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ملک کے ان معماروں کی مدد کریں اور ہو سکے تو ان کے ہاتھوں میں کتابیں تھمائیں تاکہ یہ ملک کی ترقی میں حصہ دار بن سکیں۔

تحریر: زبیر احمد


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زبیر احمد، راولپنڈی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments