جنرل شفاعت اور را کی سازش
اتوار کو آئی سی آئی جے نے پوری دنیا میں 1 کروڑ 19 لاکھ دستاویزات پر مبنی پنڈورا پیپرز شائع کیے جس میں پوری دنیا بھر کے اہم عہدوں پر متمکن شخصیات اور تاجر اور فنکاروں کے نام آئے کہ کیسے آفشور کمپنیز اور اثاثے دیگر ممالک میں بنائے جو بظاہر کالے دھن سے بنائے گئے ہیں۔ ان دستاویزات میں 700 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں جن میں اس بار حکومتی وزراء اور اپوزیشن کے افراد کے ساتھ ساتھ کم از کم فی الحال تک 11 جنرلز اور ایک ائر مارشل کا نام بھی شامل ہے کہ انہوں نے یا خود یا ان کے اہل خانہ کے افراد نے آفشور کمپنیز اور جائیداد کی صورت میں اثاثے بنائے ہیں اور مبینہ طور پر یہ کالا دھن ہے کیونکہ انہوں نے آئی سی آئی جی کو جوابات نہیں دیے رابطہ کرنے کے باوجود۔
ان میں سے ایک نام لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفاعت شاہ کا ہے جو آمر اور صدر پرویز مشرف کے دور میں ان کے ملٹری سیکریٹری اور کور کمانڈر لاہور بھی رہ چکے ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں انکشاف ہوا کہ جنرل صاحب نے اپنی اہلیہ کے نام پر لندن میں فلیٹ خریدا ہے وہ بھی جو مشہور بھارتی ہدایتکار کے آصف جنہوں نے شہرہ آفاق فلم مغل اعظم کی ہدایتکاری کی تھی ان کے بیٹے نے اپنا فلیٹ جنرل صاحب کی اہلیہ کے نام پر منتقل کیا۔ 1965 سے عائد پابندی جس کے تحت بھارتی فلموں کی پاکستان کے سینما اور تھیٹرز میں نمائش پر پابندی تھی، 2008 میں وہ پابندی ہٹی مگر اللہ جانے کہ اس پابندی اٹھوانے میں انہوں نے کوئی حصہ ڈالا یا نہیں۔ ان کا نام آنے کے محض تین گھنٹے کے بعد جنرل صاحب نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹیوٹ کیا کہ آئی سی آئی جے جھوٹ بول رہا ہے اور انہوں نے جائز طریقے سے پیسے کمائے اور منتقل کیے اور تمام ان کی چیز آرمی بورڈ کو بھی پتا ہے اور ڈکلیئرڈ ہیں اور یہ ان کی کردار کشی کی مذموم کوشش ہے اور اس کردار کشی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سازش ہے۔
جنرل صاحب نے اپنے فلیٹ کا یہ جواز دیا کہ انہوں نے لاہور ڈی ایچ اے میں جو ان کا کمرشل پلاٹ تھا وہ بیچ کر فلیٹ خریدا۔ آئی سی آئی جے کے مطابق جنرل صاحب کا فلیٹ 12 لاکھ ڈالر کی مالیت کا ہے۔
اس کے بعد تو جنرل صاحب کو ریپلائی لوگوں نے کیے جس میں آپ کا یہ خاکسار بھی شامل تھا اور میں نے بھی یہ سوال کرنے کی جسارت کی کہ ایسا کون سا کمرشل پلاٹ تھا ڈی ایچ اے لاہور میں جس کو بیچ کر ملینز آف پاؤنڈز کا فلیٹ خریدا جاتا ہے اور یہ بھارت ہمیشہ جنرل صاحب جیسے پاکباز اور دیانت دار افراد کے خلاف ہی کیوں سازش کرتے ہیں حالانکہ جنرل صاحب تو ریٹائرڈ ہیں۔ میں نے مزید کہا تھا کہ جب سرعام پکڑے جاتے ہیں تو را کے کور کے پیچھے چھپ کر اپنے آپ کو پاکباز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا وہ مطیع اللہ جان صاحب نے اسے آر ٹی کر دیا تو وہ بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ جنرل صاحب کا میں مشکور ہوں کہ انہوں نے ریپلائی کیا اور تب بتایا کہ وہ کمرشل پلاٹ تھا اور میں مارکیٹ پرائس دیکھوں۔
مگر ماشاءاللہ جنرل صاحب کے فیز بھی میرے اس ریپلائی پر امڈ آئے اور جنرل صاحب کو گلوریفائی کرنے کی کوشش کرتے رہے اور جنرل صاحب کی بات کو صداقت کا علمبردار قرار دیا اور بتانے لگے کہ نہیں ہو سکتا تھا اور یہ ہو سکتا تھا۔ مگر جنرل صاحب نے یہ بتایا کہ 5 لاکھ پاؤنڈ کا فلیٹ خریدا اور اس کی بنیادی وجہ ان کے بیٹے کی تعلیم اور روپیہ کی بے قدری تھی۔ جنرل صاحب نے مزید فرمایا کہ مالیہ پلٹزر کی یہ سازش تھی کیونکہ وہ دو سال بھارت میں رہ چکی ہے۔
جب عبدالمعیز جعفری جو سماء ٹی وی پر شو کرتے ہیں جب انہوں نے جنرل صاحب سے پوچھا کہ آئی سی آئی جے کے دستاویزات میں تو مالیہ پلٹزر کا نام نہیں ہے تو جنرل صاحب نے بتایا کہ وہ سپین کی ایک فری لانس صحافی ہے اور یہ اس کی اور مارگوٹ گبز کی مشترکہ سازش ہے۔
میں آپ کے سامنے ایک بات رکھنا چاہتا ہوں۔ یہاں ان پچھلے 13 سالوں میں ایک بیانیہ گھڑا گیا کہ سیاستدان تو ملک کا خزانہ لوٹ کر کھا گئے ہیں اور انہیں پاکستان سے کوئی محبت نہیں اور صرف پاکستان سے ان کا تعلق اقتدار حاصل کر دولت لوٹ کر بیرون ملک بھیجنا ہوتا ہے۔ میں جنرل صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جنرل صاحب! آپ تو اس ملک کے سپوت ہیں اور اس دھرتی پر مر مٹنے والا جذبہ رکھتے ہیں تو آپ کا بیٹا کیوں لندن میں مقیم ہے اور آپ کو پاکستانی روپیہ سے محبت نہیں کہ ذرا سی بے قدری پر اپنے پیسوں کو بے قدر ہونے سے بچانے کے لئے آپ نے لندن میں فلیٹ خرید لیا؟ یہ کیا دوہرا معیار ہے؟ جواب دیں آپ اس سوال کا بھی۔
دوسری بات جنرل صاحب! یہ فری لانس صحافی کو پوری دنیا میں آپ سے کوئی ذاتی عناد یا رنجش ہے جو آپ کا نام آیا اور آپ کی کردار کشی مہم کی گئی؟ اور اگر کوئی صحافی کوئی صحافتی ذمہ داری نبھانے کے لئے کسی ملک میں رہ لیں کچھ عرصہ تو اس کا مطلب وہ اس ملک کی خفیہ ایجنسی کے آلہ کار بن کر صرف آپ جیسوں کے خلاف سازش کرتے ہیں؟ اور جنرل صاحب! آپ لوگ ہی کہتے ہیں کہ ملک کی دولت لوٹنے نہیں دیں گے اور ملک آپ جیسوں کے محفوظ ہاتھوں میں تھا تو پھر اپنی دفعہ جواب دینے سے کیوں کترا رہے ہیں؟ اگر آپ سچے ہیں تو پلاٹ اور فلیٹ کے کاغذات عوام کے سامنے رکھیں اور بینک ٹرانزکشنز بھی پبلک کر دیں ویسے آپ کی تنخواہ میں بیٹے کے تعلیمی اخراجات ادا کرنا مشکل کام ہے۔
اور یہ اس موجودہ حکومت پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وہ کیا جنرل شفاعت جیسے کرداروں کو بھی کٹہرا میں کھڑا کر کے ان سے جواب طلبی کرے گی؟ یا ان جیسوں کے لئے قانون الگ ہے یا یہ مقدس گائے ہیں؟ وزیر اعظم تو آئے روز قانون کی بالادستی اور ریاست مدینہ اور حضرت عمر کی مثالیں دیتے ہیں۔ اب اللہ نے ان کو موقع دیا ہے اور انہیں چاہیے کہ ان کے خلاف انکوائری کریں کیونکہ قانون تو کیس دیکھتی ہے فیس نہیں۔
میرا آپ سب کو بھی پیغام ہے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ کرپشن جرم ہے اور کوئی بھی ہو وہ قانون سے بالاتر نہیں اور قانون اور عوام کے تابع اور جوابدہ ہیں۔ تو میرے وہ بھائی جو مجھے اینٹی سٹیٹ قرار دینے کا تردد کر کے میرے ٹیوٹ کے نیچے آئے تو ان سے بھی درخواست ہے کہ آپ لوگوں کے بقول کرپشن ایک ناسور ہے اور ملکی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے اور کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے تو آئیں نا مل کر کرپشن کے خلاف جہاد کریں اور سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ جنرل شفاعت جیسوں سے بھی پوچھے کہ مے فیئر میں 30 لاکھ پاؤنڈ کا فلیٹ آپ نے کیسے لیا؟
کن ذرائع آمدن سے لیا؟ جنرل شفاعت کے خلاف بھی تو ایک جے آئی ٹی کی تشکیل کا مطالبہ کریں اور عدالت جا کر کیس کرتے ہیں۔ افراد کے خلاف تنقید اور ان سے جواب طلبی ادارہ کے اوپر نا ہی تنقید ہے اور نا کوئی سازشی مہم اور ایک اور التماس ہے کہ جواب دیا کریں ہر بات کو بھارت اور را کی سازش قرار نا دیا کریں کیونکہ پھر آپ تو ہر دفعہ ناکام ہو جاتے ہیں اور دشمن کی سازش کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس بات پر سوچیں کہ ادارہ کے کور اور دشمن کی خفیہ ایجنسی کے کور کے پیچھے چھپنے کے بجائے جواب دیں کیونکہ آپ لوگوں کے ہی وہ سنہرے فرمودات تھے کہ اگر چوری نہیں کی تو تلاشی دینے سے کیوں گھبرا رہے ہو؟


