ملکی ترقی کے لیے موثر بلدیاتی نظام کی بحالی ناگزیر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوریت کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہو۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ تب ممکن ہو گا جب عوام کو با اختیار کر کے حکومت میں شامل کیا جائے۔ بدقسمتی سے ملک عزیز کی آزادی کو 75 سال کا عرصہ گزر گیا لیکن اب تک جمہوریت کچھ با اثر خاندانوں کی سیاست تک محدود ہے۔ اب تک ملک عزیز میں عام آدمی بالخصوص نوجوانوں کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے بجائے رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ عوام کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے لیے صرف ایک ہی حل بچتا ہے وہ ہے بلدیاتی نظام کی بحالی اور اس کی فعالیت۔

بلدیاتی نظام ہر ملک کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد اور جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ فعال اور موثر بلدیاتی نظام ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر کارکردگی کی وجہ سے، لوکل باڈیز کا ملکی ترقی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ جب کہ جن ملکوں میں یہ نظام موجود نہیں یا فعال نہیں وہاں مقامی لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں اور وہ ممالک زوال پذیر ہیں۔

بلدیاتی نظام میں اختیارات اور انتظامی معاملات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوتی ہے جس سے جمہوری اقتدار اعلیٰ کی تعریف کے مطابق مقامی لوگ انتظامی امور اور اشتراکی ترقیاتی اپروچ کا حصہ بنتے ہیں۔ اختیارات، انتظامی امور اور ترقیاتی فنڈز کی نچلی (مقامی) سطح پر منتقلی کے ذریعے عوام کا با اختیار بنایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں مقامی انتظامیہ، مقامی مسائل کی محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر حل نکال سکتے ہیں۔ جبکہ محدود وسائل (فنڈز) کو اشتراکی ترقیاتی اپروچ کی بنیاد پر، بہتر طریقے سے علاقائی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔

موجودہ دور میں، سالانہ ترقیاتی پلان و ایم ایل اے فنڈ کو سیاسی بنیادوں پر مختص کیا جاتا ہے، جبکہ ان فنڈز کا صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگانے کے بجائے ووٹ خریدنے یا سیاسی کارکنان کو نوازنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فنڈز کو مقامی لوگوں کے مسائل اور موجود وسائل کے تناظر میں غیر سیاسی بنیادوں پر مختص کیا جا نا ضروری ہے۔ اس کا ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیے۔

ہر سال علاقائی بلدیاتی باڈی یا کمیٹی کے ارکان عوام کے ساتھ مشاورت کریں اور مسائل کی نشاندہی کریں۔ سب سے اہم اور بنیادی ضرورت یا مسئلہ کے حل کے لیے تجویز اسمبلی ممبران کے پاس جانی چاہیے، تاکہ وہ اسی بنیاد پر سالانہ ترقیاتی پلان /ایم ایل اے فنڈ کو مختلف مدات میں مختص کرسکے۔ اس کے علاوہ جب یہ عمل نچلی سطح پر نافذ ہوتا ہے تو یہاں سے عام لوگوں کی بہتر سیاسی تربیت ہوتی ہے اور وہ آگے کی سیاست کا حصہ بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک یونین کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر جب اچھا تربیت یافتہ ہو تو وہ عملی طور پر مستقبل میں اسمبلی / پارلیمنٹ کا حصہ بن کر اپنی صلاحیت ملکی ترقی کے لیے بروئے کار لا سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی یا غیر فعالیت کی وجہ سے اسمبلی ممبران ٹوٹی نلکا، تقرری تبادلے، چھوٹی چھوٹی اسکیموں اور تھانہ کچہری کی سیاست میں مصروف ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی ذمہ داری ”ملکی امور، قانون سازی و آئینی ترامیم، ترقیاتی بجٹ کا انتظام، پالیسی سازی اور اس کے موثر نفاذ“ کو نبھانے سے قاصر ہیں۔ چونکہ اسمبلی میں کم تعلیم یافتہ ممبران ہونے کی وجہ سے، اسمبلی ممبران بلدیاتی نظام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکے ہیں جبکہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم اور قانون سازی کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے وہ پرانی روایتی استحصالی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک گلی محلے کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسمبلی ممبران مقامی مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لاتی تاکہ ان کے سر سے ٹوٹی نلکا، تھانہ کچہری، تقرری تبادلہ اور سکیموں کا بوجھ ختم ہوتا اور وہ بھی دوسرے ممالک کے کے پارلیمنٹ ارکان کی طرح قانون سازی کرتے۔

بلدیاتی نظام عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا نظام مہیا کرتا ہے۔ حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ایک اہم کام فنڈز کا مناسب اور شفاف طریقے سے استعمال اور اس کی عوامی جوابدہی ہے۔ اس میں مقامی حکومتیں / باڈیز فنڈز کے شفاف خرچ اور آڈٹ کے ذریعے جوابدہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات میں یہ فنڈز سیاسی کارکنان کو نوازنے کے خرد برد کیے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے ریاستی شعبہ لوکل گورنمنٹ بھی اس کرپشن کا حصہ رہا ہے۔ جب تک بلدیاتی نظام نافذ اور فعال نہیں ہوتا تب تک اس خرد برد کو نہیں روکا جا سکتا۔

بلدیاتی نظام کیا ہے۔ اس کی ابتدا کب ہوئی۔ اس نظام کو پھلنے پھولنے کیوں نہیں دیا جا رہا۔ اس نظام کے آنے سے عوام یا نچلی سطح کے سیاسی کارکن اور خود سیاسی پارٹیوں کو کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔ یہ سب وہ سوالات ہیں جو ایک عام سیاسی کارکن کے ذہن میں اکثر اٹھتے ہیں لیکن وہ اپنے ذاتی مفاد یا سیاسی اکابرین / راہنماؤں کی ناراضگی کی ڈر کی وجہ سے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ (کیوں کہ سیاسی راہنماؤں کی نظر میں بلدیاتی نظام ایک ناقابل معافی جرم ہے ) ۔

یہ نظام کئی صدیوں سے دنیا میں رائج ہے۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان اسلامی ممالک میں معروف ہیں وہ 1990 کے عشرے میں بلدیاتی انتخابات سے استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔ انڈونیشیا میں بلدیاتی اداروں سے تربیت یافتہ جوکوویدو سربراہ مملکت کے منصب تک پہنچے۔ جبکہ بر صغیر میں انگریز دور 1846 سے کچھ حد تک لوکل باڈیز نے مختلف شکلوں میں کام کیا۔ 1947 میں پاکستان اور ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں یہ نظام موجود تھا اس کو ختم کر کے تمام اختیارات ختم کر دیے گے، ختم کی جانے والی کمیٹیوں کے ممبران اور چیئرمین کو بذریعہ الیکشن عوام منتخب کرتی اور سماجی بہبود کے 37 کاموں کو ان کمیٹیوں کے زیر انتظام کر دیا گیا جن میں سماجی بہبود، صحت، پانی، صفائی و دیگر بنا دی انفراسٹرکچر وغیرہ شامل تھے۔

ان کے ساتھ ساتھ کمیٹیاں 29 اشیاء پر ٹیکس لگانے کا بھی اختیار رکھتی تھیں، یہ سسٹم جب تک ایوب خان رہے چلتا رہا لیکن پہلی عوامی حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر اس نظام کو ختم کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لگا کر عنان حکومت سنبھالا تو انہوں نے اس نظام کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دیا جو اس سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاکستان میں دوبارہ بننے والی جمہوری حکومتوں نے اس نظام کا خاتمہ کر دیا۔

اس دوران جمہوری حکومتیں گزری لیکن کوئی بھی حکومت اس نظام کو دوبارہ بحال یا جاری رکھنے میں سنجیدہ نہ ہوئی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس نظام کو مزید تبدیلیوں کے ساتھ رائج کیا اب اس نظام میں چیئر مین اور وائس چیئرمین کی جگہ ناظم اور نائب ناظم نے لے لی۔ 2001 میں نئے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت لوکل باڈیز کے الیکشن کروائے گیا اور تمام اضلاع کو ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر اور ضلع ناظم کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو ضلع ناظم کے سپرد کر دیا گیا۔

پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بہت قلیل مدت کے لیے بلدیاتی نظام رائج رہا ہے لیکن کبھی بھی ان کو باقاعدہ اختیارات کنہیں ملے۔ 1960 میں جنرل ایوب اور پھر 1982 میں صدر ضیاء الحق کے دور میں یہاں بریگیڈیر حیات خان نے بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ دوبارہ 1986 اور 1991 میں یہاں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہوئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ان ادارہ جات کو توڑ دیا اور اس وقت سے لے کر آج تک دوبارہ یہ نظام بحال نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعتیں مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے کر بلدیاتی نظام کو بحال نہیں کیا۔

بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر ہونے کے بہت فوائد ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ ہر سال جو ہمارا ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، یا ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حد تک ہوتے ہیں وہ زمین پر نظر آئیں گے۔ اس نظام کے تحت ہر علاقے کی عوام کو اس علاقے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا علم ہو گا اور وہ اس بجٹ کے خرچ کے متعلق معلومات بھی رکھ سکیں گے۔ ممبران اسمبلی کا کام قانون سازی ہے چونکہ قانون سازی اور قومی سطح کی پالیسیز بنانا ہوتا ہے لیکن یہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان ممبران کو ٹوٹی، نلکا اور تبادلہ کی سیاست کرنی پڑتی ہے۔

بلدیاتی نظام بحال ہونے کی صورت میں یہ ممبران اسمبلی اپنے اصل کام کی طرف توجہ دے سکیں گے اور اس طرح قومی سطح پر اچھی پالیسیز مرتب کر سکیں گے اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ اس نظام کی بحالی کی صورت میں ہمیں اچھی اور باکردار قیادت مل سکے گی۔ چونکہ بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہو تا ہے۔ اور اس نظام سے اچھے اور قابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔ چونکہ پہلے کوئی بھی ممبر لوکل سطح پر اپنی پالیسیز دے گا اور ان پالیسیز سے اس علاقہ میں کیا ڈویلپمنٹ ہوئی ہے پھر اگر وہ ممبر لوکل باڈیز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے گا تو عوام علاقہ اس کی لوکل سطح کی کارگزاری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حق یا مخالفت میں با آسانی فیصلہ کر سکیں گے بلدیاتی نظام کی وجہ عام سیاسی کارکنان کی بھی حکومتی معاملات میں شراکت ہوتی ہے اور وہ کارکنان جو دن رات اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کو ان کی محنت کا ثمر بھی مل جا تا ہے، اور اس نظام کی بدولت سیاسی ورکرز کے متعلق عوام میں اعتماد بڑھے گا بلدیاتی نظام ہونے کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گا اور عوام بخوشی اپنے اس حق کا استعمال کریں گے۔

آزاد کشمیر میں بلدیاتی نظام کو ختم ہوئے پچیس سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ نام نہاد جمہوری حکمران عوام کو جھوٹے وعدے کر کے اقتدار کی جنگ میں مشغول ہیں۔ قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کو بحال کیا اور بلدیاتی انتخابات کروائے لیکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو نے والے جمہوری حکمران بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی اور صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے چھ ماہ سے ایک سال کا وقت دیا اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی خواجہ فاروق وزیر بلدیات کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود پچھلے دور کی طرح اس دفعہ عوام پر زیادتی کے مرتکب نہیں ہوں گے بلکہ وہ اس نظام کی بحالی کے ذریعے عوام میں اپنا مقام بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سول سوسائٹی، سماجی کارکنان، صحافی اور وکلاء بلدیاتی نظام کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

مصنف ”خرم جمال شاہد“ کا تعارف

خرم جمال شاہد ایک مصنف اور ریسرچر ہیں۔ انہوں نے سماجی مسائل، لوگوں کو بہتر سماجی خدمات کی فراہمی اور ڈویلپمنٹ پر ریسرچ پیپر لکھے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر ترقیاتی شعبے، سماجی مسائل اور سیاحت کے شعبے پر آرٹیکلز لکھے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بلاگز و دیگر ویب سائٹس کے لیے مواد لکھتے ہیں۔

خرم جمال شاہد ایک معروف نوجوان سماجی کارکن ہیں، وادی گریز نیلم، آزاد جموں وکشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ مینجمنٹ (ایم بی اے۔ فنانس) میں پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے کمزور لوگوں کو با اختیار بنانے اور ان کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے 2009 میں ایک سماجی ادارے ”ادارہ برائے پائیدار ترقی“ کی بنیاد ڈالی۔ 2009 سے اسی سماجی ادارے میں بطور چیف ایگزیکٹو افسر ہزاروں لوگوں کی زندگی میں بہتری لانے پر سرگرم عمل ہیں۔

وہ انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن رہے ہیں، اور پاکستان میں انسانی حقوق کی مختلف تحریکوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے 2013 میں بچوں کے حقوق کے لیے آزاد جموں و کشمیر میں چائلڈ رائٹس موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ لوگوں کو با اختیار بنانے کے لیے مختلف شعبہ جات (تعلیم، صحت، معاش، توانائی، پانی، ماحول اور حقوق) پے خدمات سرانجام دیے ہیں۔

خرم جمال شاہد ایک نوجوان سیاستدان بھی ہیں۔ عوامی حقوق کے لیے وہ ہر پلیٹ فارم پے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ وہ 2021 میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔ ایک سماجی و سیاسی کارکن ہونے کے ناتے انہوں نے نوجوانوں کو منظم کرنے اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے بانی رکن ”کشمیر یوتھ کونسل“ اور ”نیلم یوتھ فورم“ کا قیام عمل میں لایا اور آج یہ فورم عوامی حقوق کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خرم جمال شاہد کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments