اماں کا سکھلایا انوکھا سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری زندگی میں آنے والے سب کرداروں میں سب سے انوکھا کردار میری ماں کا تھا۔ ہر موقع پر چاہے خوشی ہو یا غمی اپنی ایسی منطق بیان کرتی تھیں کہ پورے کا پورا منظر بدل جائے۔ منفی سوچ کی عکاسی کرتیں تو لگتا کہ ان کی زندگی میں کوئی مثبت پہلو ہی نہیں اور مثبت خیال سامنے رکھتیں تو یوں لگتا کہ چراغ اٹھائے ہمارے آگے آگے دوڑتے ہوئے ہمیں راستہ دکھا رہی ہیں۔

ایک ایسا انوکھا سبق اور انوکھی سوچ جو انہوں نے ذہن میں نقش کی، میں کبھی بھول نہیں پاؤں گی۔ یوں تو بہت سے سادہ سے سبق ماں نے انوکھے سے سکھلائے مگر ماں کا اپنی بیٹی کو یہ سبق سکھانا مجھے سب سے اچھا لگا۔

اماں کے ساتھ ہم باہر کھانا کھانے، شاپنگ کرنے اور سیرو تفریح کے لیے اکثر نکلتے تھے۔ ایک بار پارک میں بیٹھے کسی انجان مزدور کے بار بار میری طرف دیکھنے پہ مجھے غصہ آنے لگا۔ تین چار بار نظر انداز کرنے کے باوجود ان صاحب کے دیکھنے میں کوئی کمی نہ آئی تو میں غصے میں بڑبڑانے لگی کہ کس قدر فضول جگہ ہے کہ لوگ آپ کو آپ کی مرضی کے خلاف دیکھتے ہیں جب کہ آپ غیر مطمئن محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ اماں نے آرام سے جواب دیا کہ خدا نے اسے بھی دو آنکھیں دی ہیں اور اسے بھی پورا حق ہے کہ وہ ہر اس شے اور ذی روح کو دیکھے اور بار بار دیکھے جو اسے بھاتی ہے اور پر کشش لگتی ہے۔

اماں نے پوچھا کیا تم لوگوں کو بار بار نہیں دیکھتی جو تمہیں اچھے اور پر کشش لگتے ہیں؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ انہیں تمہارا بار بار دیکھنا غیر مطمئن محسوس کرا رہا ہو مگر تم پھر بھی بار بار دیکھتی ہو؟ تب مجھے یاد آیا کہ ایسا تو کئی بار ہوا ہے تو کیا ان سب نے بھی اتنا ہی برا محسوس کیا ہو گا جتنا آج میں ان صاحب کے دیکھنے پر محسوس کر رہی ہوں۔ اماں کو غلط ثابت کرنے کے لیے میں بولی کہ اماں آپ کیا عجیب بات کر رہی ہیں۔ اماں خاموش رہیں۔ اس کے بعد بھی جب کوئی مجھے میری مرضی کے خلاف دیکھتا تو مجھے برا محسوس ہوتا۔

وقت بدلا اور اماں دنیا سے پردہ کر گئیں، ان کے جانے کے بعد پوری دنیا بدل گئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی کہی ہر عام بات خاص لگنے لگی۔

ایک روز ڈرائیونگ کرتے کسی سگنل پہ رکی اور سامنے سے سواریوں والی ویگن گزری اور اس کا کنڈکٹر مجھے دیکھتے، مسکراتے ہوئے اور ہاتھوں کے اشارے سے میری تعریف کرتے گزرا۔ مجھے غصہ آنے ہی لگا تھا کہ امی کی کہی ہوئی بات یاد آ گئی اور میں مسکرا دی اور دل میں بولا دیکھ لو، دیکھ لو، خدا نے تمہیں آنکھیں بھی دی ہیں اور حق بھی دیا ہے سو دیکھ لو، مجھے برا نہیں لگ رہا۔ تمہاری آنکھوں اور ہاتھوں سے مکمل پیغام پہنچا ہے مگر مجھے صرف خاموشی سے دیکھنا آتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments