یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا پہلا شمارہ چھپا۔ ادب سے گہرا لگاؤ رکھنے والے نوجوان طالب علموں، سنجیدہ خواتین اور بوڑھوں نے میرے ساتھ چھپنے والے ہمنواؤں کو ایک ایک کر کے کتاب گھر سے خریدنا شروع کیا۔ کتابوں کی الماری میں بالکل کونے میں الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی خریدنے والا مجھ پر ایک نگاہ بھی نہ ڈالتا اور میرے ساتھیوں کو میرے سامنے پیار سے اٹھاتا اور ان کی قیمت ادا کرنے، ادائیگی والے میز کی طرف بڑھ جاتا۔ میں ہر بار اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتی کہ ہر چیز کے آگے آنے اور نمایاں ہونے کا ایک وقت ہوتا ہے اور یقیناً میرا وقت بھی آئے گا۔
ایک روز جب کہ میں اپنے ساتھیوں کے پہلو میں بیٹھی ان کی کہانیاں سن رہی تھی ، میں نے ایک خاتون کو اپنے سامنے سے کئی بار گزرتے دیکھا اور پھر وہ ہماری طرف پلٹیں اور مجھے اپنے دونوں نازک ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ اس مہربان لمس کو شاید میں کبھی نہ بھول پاؤں کیونکہ میری زندگی میں واحد یہی پہلا اور آخری ناقابل فراموش مہربان لمس ہے۔
Read more