بے نام خط

انکار ہونے کا جواز وہاں بنتا ہے جب مانگنے کا اظہار کیا جائے۔ زندگی کے گزرے ان تمام سالوں نے مجھے اب سے پہلے اسی تجربے سے روشناس کرایا لیکن تمہاری محبت میں گرفتار ہونے کے انجان لمحے سے اپنے اندر اس کے اظہار کی ہمت پیدا کرنے تک میں اس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ زیادہ سے زیادہ انکار ہو گا اور میں اس انکار کو پورے کھلے دل سے قبول کروں گی لیکن مجھے زندگی بھر افسوس

Read more

ماضی کی بے پروائی اور احساس ندامت

پلوشہ نے کالج میں نیا نیا داخلہ لیا تو سکول میں بہت سے خشک ماہ و سال گزارنے کے بعد ، اسے زندگی میں آنے والا یہ بدلاؤ بہت سہانا لگا۔ وہ ماں سے کالج میں بیتے ہر لمحے کی روداد کا ذکر جیسے اپنا فرض منصبی سمجھ کر ادا کرتی تھی اور اس روداد کا ایک بار پھر سے مظاہرہ تب ہوتا جب میں دفتر سے گھر واپس لوٹتی اور اماں ایک ہی منظر کا دو بار تخیلاتی دنیا

Read more

غیر حقیقی کردار (5)

جب میرا سکول میں داخلہ ہوا تو شمعو ایک بار پھر امید سے تھی اور اس امید کے ساتھ کہ اس بار لڑکا ہی ہو گا۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی بھانجی فرزانہ کے ساتھ مل کر حاجی شیر مزار پہ حاضری کی منت مان چکی تھی۔ بھانجی نے اس امید کی کرن کو زندہ رکھنے کے لیے لڑکے کا نام زوہیب حسن سوچ کر اسے ایک پرچی پہ لکھ کر قرآن پاک میں بھی رکھ چھوڑا تھا۔ زوہیب

Read more

غیر حقیقی کردار۔ چوتھی قسط

شمعو نے بڑی دو بیٹیوں کو گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروایا ہوا تھا اور وہ بخوشی پڑھنے جاتی تھیں۔ استانی جی کا گھر سکول کی عمارت کے ساتھ ہی منسلک ہونے کی وجہ سے، دونوں چھٹی کے بعد ان کے گھر رک کر ٹیوشن بھی پڑھتیں اور استانی جی کے گھر کے کام بھی کرتیں۔ اکثر شام میں جب شمعو مجھے ان کو بلانے بھیجتی تو استانی جی اور ان کے شوہر، جن کو ہم سب ماموں جی

Read more

غیر حقیقی کردار۔ تیسری قسط

اگر الفاظ ان کہے چھوڑ دیے جائیں تو حادثات اور واقعات کا بہاؤ ساری زندگی کسی اور طرف رہتا ہے اور راستے میں پڑاؤ کرتے زندگی سے ہارتے ہوئے ہمیں اچانک ایک روز احساس ہوتا ہے کہ خاموشی کا بھی ایک مطلب تھا، وجہ تھی اور منطق تھا۔ مجھے نہیں معلوم ہم کسی کو اپنے بولنے کی وجہ سے پر کشش لگتے ہیں یا پھر اپنی خاموشی کی وجہ سے مگر اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم

Read more

غیر حقیقی کردار

میں نے اپنی زندگی میں جس قدر کردار دیکھے اور ان میں سے جن سے قریب سے شناسائی کا موقع ملا ان میں سب سے غیر حقیقی کردار شمیم اختر کا تھا۔ شمیم اختر ان لاکھوں کرداروں کی طرح بہت عام سا کردار ہے جو پیدا ہوتے ہی برا نصیب لے کر ہیں۔ شمعو پیدا ہوئی تو اپنی ماں کے اس دنیا سے چلے جانے کا سبب بنی۔ ابا نے خاندان کے کہنے پر دوسری شادی کر لی اور شمعو

Read more

اماں کا سکھلایا انوکھا سبق

میری زندگی میں آنے والے سب کرداروں میں سب سے انوکھا کردار میری ماں کا تھا۔ ہر موقع پر چاہے خوشی ہو یا غمی اپنی ایسی منطق بیان کرتی تھیں کہ پورے کا پورا منظر بدل جائے۔ منفی سوچ کی عکاسی کرتیں تو لگتا کہ ان کی زندگی میں کوئی مثبت پہلو ہی نہیں اور مثبت خیال سامنے رکھتیں تو یوں لگتا کہ چراغ اٹھائے ہمارے آگے آگے دوڑتے ہوئے ہمیں راستہ دکھا رہی ہیں۔ ایک ایسا انوکھا سبق اور

Read more

اٹھاسی سالہ شفیق بوڑھا جس کا مقالہ چوری ہو گیا تھا

ارشاد صاحب سے اگلی ملاقات پہ وہ کافی اداس اور معمول سے زیادہ خاموش دکھائی دیتے تھے۔ میں نے پوچھا بیٹے کو یاد کر رہے ہیں تو بولے میں نے تو کہا تھا کچھ دن اور رک جاؤ مگر اس کی یونیورسٹی دوبارہ شروع ہو چکی ہے کیونکہ وہاں پڑھاتا ہے۔ پھر بولے میرا ریسرچ آرٹیکل میرے بیٹے نے اٹھا لیا ہے کیونکہ جس کمرے میں لکھنے پڑھنے کا سارا سامان ہے یہ مسودہ بھی وہیں پڑا تھا اور بیٹے کے علاوہ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میں نے بہت تلاش کیا نہیں ملا۔ وہ اس آرٹیکل کو امریکہ میں اپنے نام سے پڑھائے گا۔

Read more

جونا گڑھ کی مسرت جہاں کی کہانی

یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کا خاندان جونا گڑھ ریاست کی سرداری کا علم دار تھا۔ چودہ سال کی عمر میں پاکستان بننے کے واقعے نے، اس خاتون کو اپنی نئی سرزمین پر تو پہنچا دیا مگر وہ اپنے بھائیوں اور عالی شان طرز زندگی سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔

پاکستان آنے کے فوراً بعد ان کے سسر کو احساس ہوا کہ فیصلہ غلط تھا اور انہوں نے تمام روابط کو استعمال کرتے ہوئے واپس ہندوستان جانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر مسرت جہاں کہتی ہیں، سیاست تب بھی چلتی تھی اور پہلے پہل قائداعظم سے ملاقات کا وعدہ کیا گیا جسے بعد میں ان کی بیماری کا حیلہ بہانہ کر کے وفا کیا گیا۔

Read more

مردانہ کووڈ وارڈ کی کچھ یادداشتیں

کووڈ وارڈ میں کسی اپنے کو لے جانے اور اس کا مددگار ہونے کی پہلی یاداشت ہر کسی کے لیے بہت اداس، تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتی ہے۔ مردانہ کووڈ وارڈ میں اپنے بھائی کی مددگار ہونے کی حیثیت سے میری پہلی یادداشت بہت کرب ناک ہے مگر ہر شام کے بعد صبح بھی آتی ہے۔ وارڈ کی پہلی صبح، بھائی کی طبیعت کافی سنبھل چکی تھی اور نو روز کے نہ ٹوٹنے والے بخار کے بعد جب ہم

Read more

خاکستر بن چکی کتاب کی کہانی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا پہلا شمارہ چھپا۔ ادب سے گہرا لگاؤ رکھنے والے نوجوان طالب علموں، سنجیدہ خواتین اور بوڑھوں نے میرے ساتھ چھپنے والے ہمنواؤں کو ایک ایک کر کے کتاب گھر سے خریدنا شروع کیا۔ کتابوں کی الماری میں بالکل کونے میں الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی خریدنے والا مجھ پر ایک نگاہ بھی نہ ڈالتا اور میرے ساتھیوں کو میرے سامنے پیار سے اٹھاتا اور ان کی قیمت ادا کرنے، ادائیگی والے میز کی طرف بڑھ جاتا۔ میں ہر بار اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتی کہ ہر چیز کے آگے آنے اور نمایاں ہونے کا ایک وقت ہوتا ہے اور یقیناً میرا وقت بھی آئے گا۔

ایک روز جب کہ میں اپنے ساتھیوں کے پہلو میں بیٹھی ان کی کہانیاں سن رہی تھی ، میں نے ایک خاتون کو اپنے سامنے سے کئی بار گزرتے دیکھا اور پھر وہ ہماری طرف پلٹیں اور مجھے اپنے دونوں نازک ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ اس مہربان لمس کو شاید میں کبھی نہ بھول پاؤں کیونکہ میری زندگی میں واحد یہی پہلا اور آخری ناقابل فراموش مہربان لمس ہے۔

Read more

ناقابل فراموش کردار

میں نے 2007 میں جب مرزا اطہر بیگ صاحب کا ناول ”غلام باغ“ پڑھنا شروع کیا تو ان کا لکھا بہت الگ، دلچسپ اور اچھا لگا۔ ناول چار اہم کرداروں کے گرد گھومتا ہے جس میں ایک خاتون اور تین مرد حضرات ہیں اور سب آپس میں گہرے دوست ہیں۔

کسی بھی ناول یا افسانے کو پڑھتے ہوئے، کوئی ایک کردار ہمیں بہت مانوس، قابل ترس اور اپنے جیسا لگتا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے جو کردار مجھے مانوس، قابل ترس اور اپنے جیسا لگا وہ ناصر تھا۔

Read more