اے کیو خاں اور ہم

پہلے پہل تو یقیں ہی نہ آیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کیونکہ کچھ ایام قبل ان کی موت بارے انتہائی غلیظ پروپیگنڈا کیا گیا تو ڈاکٹر صاحب نے خود ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنی موت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی حیات ہیں۔ دشمن ان کی موت کی خبریں پھیلا کر سازش کرتا ہے لیکن وہ مزید ماہ و سال جی کر ان کے خون جلاتے رہیں گے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے ہم سے بے وفائی کی اور دشمن کی بجائے ہمارا خون چلا کر اپنے آخری سفر کو نکل گئے۔
ڈاکٹر صاحب بلاشبہ ہم لوگوں نے آپ کے ساتھ بہت دغا کی ہے لیکن یہ آپ کی ایک بے وفائی کھلتے پھولوں کو مرجھا گئی ہے۔ آج ان کی وفات پر حکومتی و اپوزیشن نمائندوں کے تعزیتی میسجز پڑھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم بے حد منافق پائے گئے ہیں۔ وہ کافی عرصہ علیل رہے لیکن کسی بھی وزیر مشیر یا سیاسی نمائندے نے ان کی عیادت تو کجا ان کی صحتیابی کے لیے بیان تک نہیں دیا۔ یہی میڈیا جو ہر بلٹن میں عمر شریف صاحب کے بارے کئی دن تک خبریں چلاتا رہا، اے کیو خاں کے بارے ان کے منہ سے ایک حرف نہ نکلا۔
ہمارے حکمران بھی دولت اور اقتدار کے نشے میں مست منافقت کے آخری درجے کو چھوتے رہے ہیں۔ ظفر جمالی مرحوم (سابق وزیر اعظم) کے مطابق مشرف ڈاکٹر صاحب کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا لیکن انہوں نے بطور وزیراعظم انکار کر دیا جس بنا پر یہ قبیح حرکت نہ ہو سکی۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو شہید نے بھی اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آئیں تو ان کو تفتیش کے لئے امریکی ایجنسی کے حوالے کر دیں گی۔ نواز شریف (سابق وزیر اعظم) نے امریکی دباؤ پر ان کو نظر بند کیے رکھا۔ عمران خان نے اس یوم تکبیر پر امریکی صدر کی کال کا تو انتظار کیا لیکن اے کیو خاں کو اس ناقابل تسخیر ملک بنانے پر ان کا شکریہ ادا کرنا گوارا نہ کیا۔ ہماری منافقت تو یہ بھی ہے
ہماری بے حسی اور بے شرمی کی انتہا تو یہ بھی تھی کہ مشرف نے باقاعدہ طور پر ان کے خلاف ایک پروپیگنڈا کیا۔ ان کے کہنے پر لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے منتخب کردہ چند صحافیوں کے ایک گروپ کو بلایا اور انھیں ڈاکٹر خان کی غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی دینے کے الزام میں ڈاکٹر اے کیو کو 31 جنوری 2004 کو گرفتار کر لیا گیا۔ چار فروری کو پاکستان ٹیلی ویژن پر انھوں نے ایک بیان پڑھا جس میں انھوں نے ان کارروائیوں کی تمام ذمہ داری قبول کر لی جبکہ فوج اور حکومت کو بری الذمہ قرار دے دیا۔
اگلے دن صدر پرویز مشرف نے انھیں معافی دے دی لیکن 2009 تک انھیں ان کے گھر میں نظربند رکھا گیا۔ ہم اپنے محسنوں کے ساتھ اس قدر بے مروتی کرتے ہیں لیکن مرنے پر انہوں ان کے لئے تعزیتی بیان، اعزازات سے نوازنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں سینئر جرنلسٹ سہیل وڑائچ کے اس سوال پر کہ آپ کو کسی بات کا افسوس بھی ہے؟ ، پر ڈاکٹر اے کیو خان کا بیان دل دہلا دینے والا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ اس قوم کے لئے کام کر کے انہیں افسوس ہوا جنہوں نے ان کو کیا صلہ دیا۔
آج ڈاکٹر خان ہمارے درمیان موجود نہیں ہے لیکن ان کی خدمات اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ لیکن ہمارا المیہ ہے کہ ہم مرنے کے بعد لیجنڈز بناتے ہیں اور پھر سرکاری اعزاز میں سپرد خاک کر دیتے ہیں۔
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

