کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے ہیرو نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھاری منٹو کے ادبی مذہب کا ہو یا یوسفی کے، معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں دکھ، تکلیف، رنج دیکھے گا تو سطروں میں بھی شادیانے نہیں بجا سکے گا۔ پھر وزیراعظم چاہے کتنا ہی ہینڈسم ہو، ادارے کتنے ہی وفا شعار ہوں، لکھاری رنج ہی لکھے گا۔ کتنے ہی وظیفے پڑھ پھونکیے، شراب کی بوتل سے دودھ نہیں نکلے گا، آگ راحت نہیں بخشے گی، نیم شہد نہیں اگلے گا۔

آپ جیسا بیج بوئیں گے ویسا ہی پھل کاٹیں گے۔

نائن الیون سے پہلے کی بات ہے، ہم اسکول پڑھنے جاتے تھے۔ اسکولوں میں تعلیم سے زیادہ تربیت اہم سمجھی جاتی تھی۔ دہشت گردی کا نشان نہیں تھا۔ ہر طرف اسکولوں کی بسیں دوڑتی نظر آتی تھیں۔ آئے روز تقاریب کا انعقاد ہوتا اور ہم بڑھ چڑھ کر ان میں حصہ لیتے تھے۔

ایٹمی دھماکوں کے کامیاب تجربے کے بعد 28 اکتوبر یوم تکبیر کے طور پر منایا جانے لگا۔ ہمیں خواہش ہوئی کہ ہم بھی تقریر کریں۔ نصیر صاحب مرحوم سے گزارش کی کہ تقریر لکھ دیجیے۔ آپ نے تقریر کو عنوان دیا، یوم تکبیر، یوم بدر کی تجدید۔ خلاصہ یہ کہ کثیر تعداد کے سامنے مختصر تعداد کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر ہماری قوم نے فضائے بدر پیدا کی، اور فرشتے نصرت کے لیے قطار اندر قطار امنڈ آئے۔

سال گزرا، یوم تکبیر کی تقاریب پھر سے آن پہنچیں۔ سی ٹی بی ٹی کی بحث چل رہی تھی شاید۔ مکرمی مرحوم نصیر صاحب نے اس بار تقریر کا عنوان باندھا، ایٹم بم، ضامن امن۔

پھر ایک اور برس گزرا، ابھی عبدالقدیر خان صاحب پر کوئی الزام وارد نہیں ہوا تھا۔ نصیر صاحب اقبال کے بڑے دلدادہ تھے، عنوان باندھا، اقبال کا مرد مومن۔ یہ پہلی بار تھا کہ ہمیں مرد مومن اور خان صاحب کا تعارف ملا۔ عمر میں ابھی ہم بمشکل 13 برس کے ہوئے تھے۔ حضرت اقبال کے بحر بے کراں سے خاص واقف نہ تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی تصویر بھی پہلی دفعہ اس قدر غور سے دیکھی تھی۔ الغرض مرحوم نصیر صاحب نے مرد مومن کی تمام تر خصوصیات کا جائزہ پیش کر کے ثابت کیا کہ اقبال کا مرد مومن نطشے کے سپر مین کی طرح کوئی ذہنی اختراع نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی روح ہے، جو آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی صورت ہم سب کے سامنے زندہ و جاوید کھڑی ہے، اور جب جب ضرورت پڑے گی، کسی نہ کسی صورت تندی ء حالات مخالف کا سامنا کرنے آ جائے گی۔

ڈاکٹر صاحب کو مرد مومن گردانا گیا یا نہیں، قوم کا ہیرو ضرور مانا گیا۔ برسا برس، محسن پاکستان اور محافظ پاکستان پکارا جانے لگا۔

مگر پھر دور وہ آیا، ہمیں احساس ہو گیا کہ اب ہمیں خان صاحب کی ضرورت نہیں ہے۔ پس پردہ بھی اب وہ ہماری خواہشات کے غلام نہیں۔ بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک دنیا بنتے جا رہے ہیں، قوم کے لیے جرات اور ہمت کا نشان بن رہے ہیں، اور ان کا قد دراز ہوتا جا رہا ہے، آہستہ آہستہ انہیں پردے سے پس پردہ دھکیلا جانے لگا۔ ڈاکٹر صاحب نے شور مچایا، احتجاج ریکارڈ کرایا، پورے پاکستان سے دعاؤں کی درخواستیں کیں، مگر بے یار و مددگار اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

صبح صبح ہر طرف سے ٹویٹس کا سیلاب آنے لگا۔ جن لوگوں سے کبھی خان صاحب کا نام بھی نہیں سنا تھا، وہ لوگ بڑھ چڑھ کر ثابت کر رہے ہیں کہ خان صاحب کو جتنی ان سے محبت تھی، کسی سے نہیں تھی۔

انسان کی فطرت میں مفاد پرستی اس قدر کوٹ کوٹ کے بھری جا چکی ہے کہ کسی کو قبر تک بھی چھوڑنے جاتا ہے تو پورا زور لگاتا ہے کہ کسی طرح ثابت کر دے کہ اس مرنے والے آدمی کی قربت میں سب سے پہلا نام میرا ہے۔ سو اس کے جانے کے بجائے میرے احساس محرومی پر رنج کیا جائے۔

آپ دیکھیے تو صحیح، ہر پیغام فقط یہ بتا رہا ہے کہ پیغام کنندہ کا ڈاکٹر صاحب سے کتنا گہرا تعلق تھا، یا ڈاکٹر صاحب اسے کس قدر اہمیت دیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب خود کیسے آدمی تھے، اس پر بات کرنا ہے بے معنی سمجھا جا رہا ہے۔ اور اگر کوئی ڈاکٹر صاحب کے مصائب کا تذکرہ کر رہا ہے، تو فقط اداروں اور حکومت کو گالی دینے کے لیے۔

اور حکومت اور اس حکومت کے وزراء۔ چراغ لے کر بھی تلاش کیجئے، مجال ہے کسی تعزیتی پیغام میں ڈاکٹر صاحب کو قوم کا ہیرو کہا گیا ہو۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے بزور آواز مغرب کو بتا رہے ہوں کہ دیکھ لیجیے ہم نے قوم کو واضح کر دیا ہے کہ یہ کوئی ہیرو نہیں تھا۔ بس ایک سائنس دان تھا جس کی خدمت پر ہم اس کی تعریف کر چکے۔ اب اسے جلد دفن کر دیا جائے اور دوبارہ اس کا ذکر نہ کیا جائے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں، کہ ڈاکٹر صاحب کو قومی سطح پر قومی ہیرو ڈکلیئر کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے جانے پر ان کی خدمات پر، ان کی زندگی پر روشنی ڈال کر اپنی قوم کے خوبصورت اوصاف کا تذکرہ کریں، بتائیں کہ قوم اپنے ہیروز کی قدر دان ہے۔ مگر لکھاری منٹو کے ادبی مذہب کا ہو یا یوسفی کے، معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں دکھ، تکلیف، رنج دیکھے گا تو سطروں میں بھی شادیانے نہیں بجا سکے گا۔ پھر وزیراعظم چاہے کتنا ہی ہینڈسم ہو، ادارے کتنے ہی وفا شعار ہوں، لکھاری رنج ہی لکھے گا۔ کتنے ہی وظیفے پڑھ پھونکیے، شراب کی بوتل سے دودھ نہیں نکلے گا، آگ راحت نہیں بخشے گی، نیم شہد نہیں اگلے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments