قادر یار۔ کلاسیکی پنجابی شاعری کا ایک منفرد نام


قادر یار کا پنجابی کلاسیکی شاعری میں ایک منفرد مقام ہے۔ ان کا اصل نام قادر بخش تھا۔ وہ ایمن آباد کے ایک نزدیکی گاؤں ً مچھی کے ًکے سندھو جاٹ زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کا سال 1802 ء مانا جاتا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کی مسجد سے حاصل کی۔ پنجابی چونکہ ان کی مادری زبان تھی اس پر انھیں عبور حاصل تھا جبکہ عربی اور فارسی بھی تھوڑی بہت جانتے تھے۔ ان کو اوائل عمری میں ہی قصے کہانیاں اور اسلامی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اسلامی تاریخ اور عشقیہ داستانوں میں ان کی دلچسپی ان کے مطالعہ کے شوق کو ظاہر کرتی ہے۔ انھیں اپنے ان پڑھ ہونے کا احساس بدرجہ اتم تھا، اسی لئے آپ معراج نامہ میں لکھتے ہیں

جوڑ معراج مرتب کیتا جو کجھ ساتھوں سریا
میں دہکان بے علم وچارا دوش نہ چاہے دھریا

کچھ محققین نے ان الفاظ کو ان کے ان پڑھ ہونے کا اعتراف جانا ہے لیکن کچھ کی نظر میں یہ ان کا اپنے بارے میں عاجزی و انکساری کا اظہار ہے۔ قادر یار اپنے بچپن میں روایتی زمینداری کے کاموں میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ زیادہ وقت قصے کہانیاں پڑھنے میں گزار دیتا تھا۔ اس وجہ سے وہ اکثر اپنے والد اور بڑے بھائی بہادر بخش کے غضب کا شکار ہوتا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ نظمیں لکھنے، پھر بیکار رہنے اور زمینداری میں اپنے بڑوں کا ہاتھ نہ بٹانے پراس کو اکثر باپ اور بڑے بھائی کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑتا۔ باپ کی وفات پر اسے بیکار ہونے اور زمینداری کا کام نہ کرنے کی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑا تو وہ گاؤں کے باہر واقع کنویں کے پاس ایک چھوٹی سی کٹیا بنا کر اس میں رہنے لگا۔ اس کٹیا میں بیٹھ کر اس نے روزہ نامہ لکھا، معراج نامہ لکھا، قصہ پورن بھگت اور دوسرے قصے مرتب کیے۔

کچھ محقق اس بارے میں ایک اور کہانی بتاتے ہیں جس کے مطابق گاؤں کی ایک گوری رضیہ کو نوجوان اور خوبصورت قادر یار سے پیار ہو گیا تھا۔ لیکن وقت کی گردش نے رضیہ کو قادر یار کے بھائی بہادر بخش کی تیسری بیوی بنا دیا۔ شادی کے بعد رضیہ نے قادر یار کے انکار کے باوجود اس سے رسم و راہ بڑھانے کی کوشش کی جس میں ناکامی پر وہ غصے میں قادر یار سے بدلہ اور انتقام لینے کی آگ میں جلنے لگی۔ رضیہ نے قادر کے خلاف بے جا الزامات لگا کر اپنے خاوند کے کان بھرنے شروع کر دیے۔

پھر اس نے قادر یار پر زیادتی کا الزام لگایا۔ قادر یار نے اپنے بھائی اور گاؤں والوں کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہی لیکن انہوں نے اس کی کوئی بات نہیں سنی اور اسے پہلے گھر اور پھر گاؤں سے نکال دیا۔ ایسے میں وہ اور کہاں جاتا، اس نے اپنے ہی گاؤں سے باہر واقع کنویں کے پاس پیپل کے درخت کے نیچے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنائی اور اس میں رہنے لگا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قادر کو گھر سے نکلوانے میں اس کی بھابھی رضیہ آلہ کار بنی۔ گھر اور گاؤں سے نکلنے پر نوجوان قادر یار کو بہت سی ذہنی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا، شاید اسی وجہ سے قادر یار نے قصہ پورن بھگت لکھا کیونکہ اس کی طرح پورن بھگت کو بھی اس جیسے حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

گاؤں سے باہر کنویں پر اکیلے رہنے کے دوران قادر یار نے بہت سے قصے کہانیاں پڑھیں۔ گاؤں کی گوریاں پانی بھرنے اپنی گھاگریں لے کر اکثر اس کنویں پر آتیں۔ کنویں کے ساتھ پیپل کا ایک بڑا درخت تھا جس وجہ سے اس کا نام پیپل والا کھوہ پڑ گیا۔ کھوہ پنجابی زبان

میں کنویں کو کہتے ہیں۔ اسی پیپل کے پیڑکی چھاؤں میں بیٹھ کراس نے قصہ پورن بھگت لکھا۔ سردار ہری سنگھ نلوا کو یہ منظوم قصہ اتنا پسند آیا کہ اس نے پیپل والا کنواں اور اسے کے اردگرد کی ساری زمین قادر یار کے نام کر دی۔

مولانا مولا بخش کشتہ اپنی کتاب ً پنجابی شاعراں دا تذکرہ ً میں لکھتے ہیں کہ قادر یار کو ایک پرانے شاعر حافظ مراد کا لکھا ہوا نور نامہ پڑھ کر شعر لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ پہلے انہوں نے ایک روزہ نامہ لکھا پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ و علیہ و آلہ و سلم کے معراج کے واقعے کو ایک منظوم شکل دے کر معراج نامہ لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے قصہ پورن بھگت لکھا جو اس وقت کی سکھ اور ہندو آبادی میں بہت زیادہ مشہور ہوا۔ اپنی شاعری میں انہوں نے لفظوں کو اپنی مرضی سے استعمال کیا ہے۔ ان کا لفظوں کا چناؤ بہت سادہ اور زبان بہت بھلی ہے جو دل کو کھینچتی ہے۔

قادر یار ایک پرہیزگار، متقی اور عبادت گزار مسلمان تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی عمر میں روزہ نامہ لکھا اور پھر تیس سال کی عمر میں معراج نامہ لکھا۔ جو ان کے راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کا ثبوت ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کسی بھی دوسرے مذہب کے لئے تنگ نظر نہیں تھے۔ بلا شبہ وہ پہلے پنجابی شاعر تھے جنہوں نے پورن بھگت کا قصہ منظوم کیا اور اس کو ایک لافانی بنا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے قصہ سو ہنی مہینوال منظوم کیا جو فنکارانہ نقطہ نگاہ سے قادر یار کی ایک بہترین تخلیق ہے حالانکہ یہ قصہ پورن بھگت جیسی مقبولیت حاصل نہ کر سکا۔

انہوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مشہور جرنیل سکھ سردار ہری سنگھ نلوا کے کہنے پر اس کی وار لکھی۔ یہ وار یا جنگ کے گیت ہری سنگھ کی تعریف کے لئے منظوم کیے گئے۔ اس وار میں نلوا کی کابل کی مہم پیش کی گئی ہے جس میں سکھ فوج کی بہادری اور برتری کو سراہا گیا ہے۔ اس نظم میں ہری سنگھ نلوا کو ایک لڑاکا اور بہادر فوج کے تجربہ کار سپہ سالار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں انہوں نے ً وار رانی کو کلیاں راجہ رسالو ً لکھی۔ پورن بھگت کی طرح اس کہانی کا تعلق بھی سیالکوٹ سے تھا۔ کو کلیاں سیالکوٹ کے راجہ رسالو کی رانی تھی۔ راجہ رسالو سیالکوٹ کے راجہ سلوان اور رانی لونا کا بیٹا تھا جو پنجاب کا حکمران بنا۔ وہ ایک بہادر اور انصاف پسند حکمران تھا جس وجہ سے پنجاب میں ایک بہادر اور عادل حکمران کے طور پر جانا جاتا تھا۔

قادر یار مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کم عمر عم عصر تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پنجاب میں جاگیرداری نظام کا دور دورہ تھا۔ پروفیسر نرنجن سنگھ تسنیم اپنی کتاب ً قادر یار، ہندوستانی ادب کے معمار ً میں لکھتے ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں فن و ادب اور کلچر کو دوام ملا۔ مہاراجہ کی سیکولر پالیسی کی وجہ سے شاعروں اور ادیبوں کی مہاراجہ کے دربار میں پذیرائی ہوئی۔ انھیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع ملا۔ پنجابی زبان کی بہت زیادہ ترویج ہوئی لیکن فارسی پھر بھی عدالت کی زبان رہی۔

سیاسی پختگی کی وجہ سے قصہ خوانی کا رواج ہوا۔ ریاست میں سیاسی استحکام نے طویل قصہ خوانی کی ترویج کے لئے مناسب ماحول فراہم کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب جاگیردار عشق و محبت کے قصے، بہادری اور شجاعت کی کہانیاں سننا چاہتے تھے۔ اس دور کے زیادہ قصے یا تو ہیر رانجھا۔ مرزا صاحباں۔ سوہنی مہینوال، شیریں فرہاد کی معروف محبت کی کہانیوں یا پھر راجہ رسالو، ہری سنگھ نلوا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بہادری اور سیاسی کارناموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں رجحانات کے ساتھ ساتھ تیسرا رجحان سنیاسوں کو مناسب تسلیم کیا گیا جس سے اخلاقی راست بازی کے جھنڈے کو برقرار رکھنے والے اشخاص کو اہمیت ملی۔

آپ نے اوائل نوجوانی میں معراج نامہ لکھا۔ انہوں نے معراج نامہ کی تکمیل پر ایک شعر لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ حضور کے وصال کے بارہ سو سینتالیس سال بعد میں نے یہ معراج نامہ منظوم کیا ہے۔

بارہ سو سنتالی سالاں پاک نبی دے پچھوں
ایہہ مذکور بنایا یارو ویکھ معارج وچوں

معراج نامہ کے آغاز میں انہوں نے اللہ تعالی کی حمد بیان کی ہے اور اس کے بعد مدحت رسول ﷺ بیان کرنے کے بعد معراج نامہ شروع کیا

ہے۔
ا اللہ خالق رازق مالک قدر ت سندا والی آدم ؑ جن ملائک ہر شے در تے نت سوالی
اوہ رحمت دا دریا الٰہی بے پرواہ کہاوے ظاہر باطن قدرت اس دی کجھ حساب نہ آوے
میں کجھ خبراں علموں پایاں قدرت نال سنائیں جا نجا الف اکلا آہا ناں سی شام صباحیں
نہ آسمان نہ زمیاں دوزخ نہ سن ایڈ سرشتے نا شب روز نہ آتش پانی نہ سن حور فرشتے
جدوں کیتا رب نور نبی ﷺ دا ظاہر فضل کمالوں اسم محمد ﷺ کہیا ا لہٓی میموں حیوں دالوں
پھیر نبی ﷺ دے نوروں کیتا کل ظہور الٓھی جو کچھ نورنامے وچ لکھیا جانو سچ گواہی
ایڈا فضل نبی ﷺ تے کیتا آپ اللہ حق تعالیٰ وچہ قرآن لکھی خوشخبری ذکر معراجے والا
پاک محمد ﷺ بندے اتے فضل خداوند چاہیا مسجد اقصٰے مکے تائیں راتیں سیر کرایا
تھوڑی رات حساب پلاں دی بہتی رات نہ آہی مسجد اقصٰی جا پہنچا یا قدرت نال الٓھی

ا اللہ تعالیٰ سب کا خالق، سب کو رزق دینے والا اور سب جہانوں کا مالک ہے۔ سب انسان، فرشتے اور چیز اس کے گھر کی سوالی ہے۔ اللہ تعالیٰ رحمت کا دریا ہے۔ لیکن بے پرواہ کہلاتا ہے۔ اس کے ظاہر اور باطن دونوں اس کی قدرت ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ میں نے کچھ خبریں تو علم سے پائیں اور رب کی قدرت سے سب کو سنائیں۔ اس وقت صرف اللہ تعالی کی ہی ذات تھی۔ آسمان نہیں تھا یہ زمین نہیں تھی۔ نہ دوزخ تھا اور نہ ہی جنت۔

نہ دن اور نہ ہی رات، نہ آگ اور نہ پانی، اور نہ ہی فرشتے اور حوریں تھیں۔ جب اللہ تعالی نے حضور اکرم ﷺ کا نور ظاہر کیا تو اسے م، ح اور دملا کر محمد کا نام دیا۔ پھر اللہ تعالی نے ساری دنیا بنائی۔ جو کچھ بھی نور نامہ میں لکھا ہوا ہے اسے سب سچ جانیں۔ اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ پر اپنا فضل و کرم کیا اور قرآن میں انھیں معراج اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک بندے پر اپنا کرم کیا اور انھیں مکہ سے مسجد اقصیٰ تک رات کو سیر کرائی۔ رات کا تھوڑا حصہ باقی تھا جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آپ کو مسجد اقصیٰ میں پہنچا دیا۔

معران نامہ قادر یار مطبوعہ ملک محمد دین ناشر کتب لاہور کے پینتالیس صفحے ہیں اور ہر صفحے میں تیس سے زیادہ اشعار ہیں۔ منظوم معراج نامے میں حضور کی معراج کا پورا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ معراج کے بارے میں ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں اور ہمیں اس کی ساری تفصیل یاد ہے۔ قادر یار معراج کے بارے میں لکھتے ہیں۔

سال بونجہ عمر نبی دی آہی اوس دیہاڑے ہویا جدوں معراج نبی دا کلمے دی بادشاہی
ماہ رجب دا آہا مہینہ ہویا جدوں فصل سی اکس بزرگ روایت کیتی ماہ ربیع الاول سی

اس دن حضور اکرم ﷺ کی عمر باون سال تھی جب نبی صلعم کا معراج ہوا اور اسلام کی سربلندی ہوئی۔ جب یہ فضل الیٰ ہوا تو رجب کا مہینہ تھا۔ ایک بزرگ نے روایت کی ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ معراج نامہ کا منظوم اختتام کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔

جوڑ معراج مرتب کیتا جو کجھ ساتھوں سریا میں دہقان بے علم وچارا دو س نہ چاہے دھریا
دم دم فکر دلے وچہ کر کے برکت نال الٰہی مروارید زمرد چن لے تحفہ چیز بنائی
دل وچ فکر نبی سرور دا ہور خیال بھولایا چھوٹی عمرے سر پر سختی ایہہ معراج بنایا
کر کے ختم معراج نبی نوں بعد درود پہنچاناں جیکو حرف اسانوں بخشے ہوس فضل رباناں
قادر عاجز عاصی بندہ صفت بناون والا برکت کلمے پاک نبی دی اجر دیوے حق تعالیٰ

آپ بڑی عاجزی سے کہتے ہیں کہ مجھ سے جو کچھ ہوسکا اپنی سمجھ کے مطابق الفاظ جوڑ کر معراج نامہ ترتیب دیا ہے۔ میں بیچارا کسان اور کم علم ہوں اس لئے مجھ سے گلہ نہ کریں۔ اللہ تعالی کی برکت سے میں نے بڑی غور و فکر سے مروارید اور زمرد جیسے قیمتی الفاظ چن کر یہ تحفہ بنایا ہے۔ معراج نامہ منظوم کرتے وقت دل سے دنیا کے سب خیالات نکال کر صرف نبی ﷺ اکرم کا خیال دل میں بسا کر میں نے یہ کام کیا ہے۔ چھوٹی عمر میں سخت محنت کر کے میں نے یہ معراج نامہ منظوم کیا ہے۔ آپ اس معراج نامہ کو پڑھ کر درود شریف پڑھ کر حضور کی خدمت میں پیش کریں اور کچھ الفاظ میری بخشش کے لئے بھی فرما دیں تو آپ پر اللہ تعالی کا کرم ہو گا۔ قادرا اللہ تعالی کا ایک عاجز اور گنہگار سا بندہ ہے۔ نبی ﷺ کے کلمے کی برکت سے اللہ تعالی اسے اجر عطا فرمائے۔

بنیادی طور پر قادر یار کی شاعری میں مقصدیت ہے وہ اپنے کلام کے ذریعے اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے قصہ پورن بھگت منظوم کرتے وقت ہندو قدیم روایات کے متعلق لکھتے ہوئے کہیں بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اپنے تقوی اور پاکیزگی کے پیغام کو ہر گھر تک پہنچانے کے پیش نظر ایک ہندو قصے کا انتخاب کیا جس کے ہندو اکثریت والے معاشرے پر اثرات کافی حد تک یقینی تھے۔

قصہ پورن بھگت۔

پرانی بات ہے کہ سیالکوٹ میں ایک ہندو راجہ سلوان کی بادشاہی تھی۔ راجہ سلوان کی دو بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی اچراں سے راجہ سلوان کے ہاں بڑی منتوں اور مرادوں کے بعد بیٹا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے پورن رکھا۔ پنڈتوں نے پورن کی جنم کنڈلی دیکھ کر راجہ سلوان سے کہا کہ شہزادے کا محل میں رہنا اس کے لئے خطرناک ہو گا، اس لئے اسے بارہ سال تک محل اور اپنے آپ سے دور رکھیں۔ پنڈتوں کی اس ہدایت پر پورن شہزادے کو تک محل سے دور ایک جگہ پر رکھ کر اس کی پرورش کی گئی۔

اس دوران بوڑھے راجہ سلوان نے ایک نیچی ذات کی جوان لڑکی لونا سے دوسری شادی کر لی۔ جب پورن جوان ہو کر اپنے محل میں واپس آیا تو وہ ایک اونچا لمبا خوبصورت جوان بن چکا تھا۔ جب وہ اپنی دوسری ماں لونا کو ملنے اس کے محل میں گیا تو جوان پورن کو دیکھ کر لونا کے دل میں ہوس کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے پورن کو اپنے نزدیک آنے کو کہا اور اس سے اپنی پیاس بجھانی چاہی۔ شہزادے نے اسے اپنی ماں سمجھتے ہوئے اس کی بات نہیں مانی اور اس سے جان چھڑا کر اس کے محل سے آزردہ واپس آ گیا۔

راجہ سلوان کے لونا کے محل میں واپس لوٹنے پر لونا نے پورن شہزادے کی شکایت لگاتے ہوئے بادشاہ سے کہا کہ جوان پورن نے اس کے محل میں آ کر زبردستی اس کی عصمت دری کرنے کی کوشش کی ہے۔ بوڑھا راجہ سلوان جو پہلے ہی لونا کے زیر اثر تھا، یہ سن کر غضبناک ہو گیا اور اس نے سزا کے طور پر نے پورن کے ہاتھ پاؤں کٹوا کر اس کے مسخ شدہ جسم کو جنگل میں ایک کنویں میں پھینک دیا۔

بارہ سال تک پورن اس کنویں میں پڑا رہا۔ ایک دن ایک مشہور جوگی گورو گورکھ ناتھ نے شولاک سے واپسی پر اس کنویں کے پاس سے قیام کیا۔ کنویں کے اندر سے پورن کی آواز سن کر گورو کے چیلوں نے اسے کنویں سے نکالا۔ گورو نے اس کا علاج کیا اور اسے اپنا بھگت بنا دیا۔ پورن نے اپنی ریاضت سے بہت جلد بہت سی روحانی طاقتیں حاصل کر کے بڑی شہرت حاصل کر لی۔ لونا کی ابھی تک کوئی اولاد نہ تھی۔ پورن بھگت کی شہرت سن کو وہ راجہ سلوان کے ساتھ اس کے پاس آئی۔

پورن بھگت نے اسے شہزادے کی پیدائش کی پشین گوئی کی۔ اس پر وہ اس کی بہت ممنون ہوئی تو پھر پورن بھگت نے لونا سے اس کے بیٹے پورن کے بارے میں سچی بات پوچھی۔ حیران اور شکرگزار لونا نے جب اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ پورن بے گناہ تھا اور اس نے اس پر غلط الزام لگایا تھا تو پورن نے اپنی شناخت ظاہر کر دی۔ راجہ نے پورن سے بادشاہی میں واپس آنے کی التجا کی لیکن پورن نے ان سے کہا کہ بادشاہی نئے شہزادے کا حق ہے۔ اسے اب بادشاہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پورن نے اس

کے بعد اپنی ساری زندگی بھگتی میں اس کنویں کے پاس گزار دی۔ راجہ سلوان نے اس کنویں کے پاس ایک بہت بڑا کمپاؤنڈ تعمیر کروایا۔ جس کے کھنڈرات ابھی باقی ہیں۔ اب بھی بہت ساری بے اولاد خواتین اولاد کے لئے اس جگہ پر حاضری دیتی ہیں۔

قادر یار نے جو قصہ پورن بھگت منظوم کیا اس میں پانچ طویل سی حرفیاں ہیں اور ان پانچ سی حرفیوں میں سے ہر ایک میں تیس تیس بند ہیں۔ سی حرف پنجابی کی ایک خاص صنف ہے جو کسی دوسری ہندوستانی زبان میں نہیں پائی جاتی۔ پروفیسر حمیدا اللہ شاہ ہاشمی اپنی کتاب ً سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو ً میں سی حرفی کے بارے میں لکھتے ہیں ً

سی حرفی پنجابی شاعری کی ایک قدیم اور مقبول صنف ہے جس میں حروف تہجی یا حروف ابجد کے حساب
سے شعر کہے جاتے ہیں۔ ابجد کے تیس حروف کی رعایت سے الف سے ی تک، ہر حرف سے شروع
ہونے والے لفظ کے لحاظ سے بند لکھا جاتا ہے پرانے شعرا میں سے اکثر کا کلام اسی صنف میں ملتا ہے۔
سی خرفی میں نہ صرف عشقیہ اور متصوفانہ دونوں قسم کے مضامین بیان کیے جاتے ہیں بلکہ اس میں دوسرے
موضوعات کے ساتھ بھی طبع آزمائی کی جاتی ہے۔ بعض شعرانے یہ صنف جنگ نامے، نعت اور داستان
کے لیے بھی استعمال کی ہے۔ ً سی ً فارسی زبان کا لفظ ہے جو تیس () کے معنی دیتا ہے۔ سی حرفی یعنی
تیس حرفوں والی نظم۔ اس میں ہر شعر یا بند نئے حرف سے شروع ہوتا ہے۔ ً
قادر یار نے قصہ پورن بھگت کا آغاز اس بند سے کیا۔
الف آکھ سکھی سیالکوٹ اندر پورن پت سلوان نے جایا ای
جدوں جمیا راجے نوں خبر ہوئی سد پنڈتاں وید پڑھایا ای
باراں برس نہ راجیا منہ لگیں ویکھ پنڈتاں ایہہ فرمایا ای
قادر یار میاں پورن بھگت تائیں باپ جمدیاں ای بھویرے پایا ای

کہتے ہیں کہ سیالکوٹ کے راجہ سلوان کے گھر پورن نام کا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ جب راجہ کو اپنے ہاں بیٹا پیدا ہونے کی خبر ملی تو اس نے ہندو مذہب کے مطابق پنڈتوں کو اپنے محل میں بلا کر ان سے عبادت کروائی۔ پنڈتوں نے شہزادے کی جنم کنڈلی دیکھ کر راجہ سلوان سے کہا کہ کہ بارہ سال تک شہزادے کو اپنے پاس نہ رکھنا۔ ورنہ شہزادے کی جان کو خطرہ ہے۔ قادر یار پورن بھگت کو پیدا ہوتے ہی باپ نے اپنے سے جدا کر کے دوسری جگہ بھیج دیا۔

جب شہزادہ پورن بارہ برس محل سے دور گزار کر جوان ہو گیا تو پنڈتوں نے اسے اپنے محل آنے کی اجازت دے دی۔ شہزادے کا محل میں اپنی سوتیلی ماں سے جب سامنا ہوا تو اس کی سوتیلی ماں لونا اس پر فریفتہ ہو گئی اس کیفیت کو قادر یار نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

ص صفت نہ حسن دی جائے جھلی رانی ویکھ کے پورن نوں ترت مٹھی
صورت نظر آئی راجا بھل گیا سر پیر تائیں اگ بھڑک اٹھی
دلوں پتر نوں یار بنایا سو اس دی ثابتی دی وچوں لج ٹٹی
قادر یار تریمت ہنسیاری لگی ویکھ وگاونے ندی پٹھی

مردانہ وجاہت سے بھرپور اور کڑیل جوان پورن شہزادے کو دیکھ کر رانی لونا حیران رہ گئی۔ اسے اپنا راجہ بھول گیا اور ہوس کی آگ اس کے سرتاپے

میں جاگ اٹھی۔ اس نے دل میں اپنے بیٹے کو اپنا یار بنا لیا اور ہوس ناکی کی ندی میں بہہ گئی۔ اس نے ماں بیٹا کا رشتہ بھلا کر شہزادے کو دل سے اپنا عاشق کا درجہ دے دیا۔ ہوس کی ماری رانی بیٹے کو اپنا عاشق بنا کر دریا کو الٹا بہانے پر تیار ہو گئی۔

قصہ سناتے ہوئے قادر یار نے اللہ تعالی کی قدرت بھی بیان کی ہے، یہ پنجابی بولنے والوں سے اکثر میں نے سنی ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔

ک کرم جاں بندے دے جاگدے نی رب آن سبب بناؤندا ای
سروپاء نپہا اؤندا قیدیاں نوں دکھ دے کے سکھ دکھاؤندا ای
رب بے پرواہ بے انت ہے جی اوہدا انت حساب نہ آؤندا ای
قادر یار پھر ثابتی ویکھ اس دی رب حق نوں چا پچاؤندا ای

جب بندے کے اچھے دن آتے ہیں تو اللہ تعالی اس کے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ قیدیوں کو سر سے پاؤں تک باندھ دیتا ہے۔ پہلے دکھ دے کر اس کے بعد سکھ دیتا ہے تو بندہ دکھ بھول جاتا ہے۔ ہمارا رب سدا سے بے پرواہ ہے۔ اس کا کوئی حساب نہیں ہے۔ قادر یار اللہ تعالی کی قدرت اور اس کا انصاف دیکھو کہ وہ ہر حق دار کا حق اس تک پہنچا دیتا ہے۔

پورن بھگت کا قصے کا اختتام کرتے ہوئے اپنے اختتامی بند میں کچھ اس طرح کرتے ہیں۔
یاد کیتا پورن ماؤں تائیں بچہ کیتا ا ی قول قرار پورا
سدھ منڈلی دے وچ جوگی وڈا ہن ملیا ہے ناتھ جی گرو پورا
بھرم بھید بھاگے میرے جنم دے جی مکت ہو بے کنٹھ جا پہنو چوڑا
قادر یار قصہ پورن بھگت والا تسیں لوکو ایتھے ہویا پورا

قادر یار وہ پہلا شاعر تھا جس نے پورن بھگت کا قصہ منظوم کیا۔ سردار نرنجن سنگھ تسنیم اپنی کتاب ً قادر یار، ہندوستانی ادب کے معمار ً میں لکھتے ہیں کہ یہ قصہ قادر یار نے صرف سولہ دنوں میں منظوم کر لیا تھا۔ یہ افسانوی قصہ عام پڑھنے والوں اور سمجھ دار قارئین میں یکساں طور پر مقبول ہوا۔ اس قصہ کے منظوم کرنے پر سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوا نے خوش ہو کر انعام کے طور پر اس گاؤں کا ایک کنواں اور اس کے آس پاس کی زمین قادر یار کے نام کر دی تھی۔ اسی کنویں پر قادر یار ایک کٹیا بنا کر اکیلا رہتا تھا۔ قصہ مشہور ہونے کی وجہ اس کا روشن اور افسانوی انداز تحریر تھا جس میں اس نے سادہ اور عام فہم زبان استعمال کی تھی اور عام طور پر نرم اور سیدھے سادھے بیان کی بجائے استعاروں کا سہارا لیا۔ آپ نے 1892 ء میں وفات پائی۔

حوالہ جات۔

اس مضمون کی تیاری میں وکییپیڈیہ اور انٹرنیٹ کے علاوہ مندرجہ ذیل کتابوں اور مضامین سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔

1) پنجابی شاعراں دا تذکرہ مصنفہ مولانا مولا بخش کشتہ۔ مطبوعہ عزیز پبلشرز۔ لاہور۔
2) معراج نامہ۔ شاعر قادر یار۔ مطبوعہ ملک محمد دین اینڈ سنز۔ لاہور

Qadir Yaar – Makers of Indian Literature by Professor Niranjan Singh Tasneen, Published by Sahiyta Academy, New Dehli. India.

Facebook Comments HS