خادم حسین چاکرانی: اچھڑو تھر کے پھول کی لاہور میں پھیلتی مہک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوجوان خادم حسین چاکرانی کا گاؤں سکھر سے اچھڑو تھر کے کنارے پر تعلقی صالح پٹ میں آتا ہے۔ تھوڑے سے گھروں پر محیط گاؤں ’گلن خان چاکرانی‘ میں کوئی سکول نہیں تھا مگر اس کے والد شہباز ڈنو اور بڑا بھائی کی خواہش تھے کہ خادم حسین پڑھے، اس لئے خادم کو گاؤں کے قریب ایک قصبے کہ سکول میں داخل کروایا گیا۔

اس قصبے کے شروع میں موجود ایک قدآور نیم کا درخت اور اس کا احاطہ پورے گاؤں کے بچوں کے لئے گوشہ عافیت تھا۔ کیونکہ یہ ہی گاؤں کا سکول تھا اور اس کے پتے اس اسکول کی چھت، خادم حسین بھی دیگر بچوں کے ساتھ گھر سے روزانہ ایک چٹائی یا رومال لاتے اور درخت کے نیچے بچھا کر بیٹھ جاتے۔ اس سکول کا ماسٹر اور سارے بچے صبح سے دوپہر تک نیم کے سائے سے ساتھ ساتھ بیٹھنے کی جگہ تبدیل کرتے جاتے مگر تعلیم جاری رہتی۔ خادم حسین کے گاؤں اور اس قصبے کے سکول درمیاں دو میل کا صحرا پڑتا تھا یہ صحرا خالد حسین نے کیسے پار کیا یہ الگ داستان ہے۔

خادم حسین چاکرانی سکول کے بعد دوسرے قریبی گاؤں کے ہائی سکول پڑھنے کو تو پہنچا، مگر روزانہ شام کو وہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں جاتا، محنت مزدوری کرتا، بکریاں چراتا، بھینسوں کے لیے چارا لاتا اور رات کو لالٹین کی روشنی میں پڑھتا رہتا۔ خادم حسین کا والد اپنی کمائی کا آدھا حصہ اس کی تعلیم پر خرچ کرتا رہا، اور نوجوان خادم حسین میٹرک کے بعد اسلامیہ کالج سکھر پہنچ گیا، جہاں سے فائنل کرنے کے بعد انہوں نے زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا، اور سکھر کو چھوڑ کر گاؤں واپس جانے کے بجائے لاہور چلا آیا۔

خادم حسین چاکرانی خوش قسمت تھا اس کو پاکستان کی بہترین پنجاب یونیورسٹی میں ایل ایل بی میں میرٹ پر داخلہ مل گیا۔ اب اس کا مقابلہ ملک بھر سے میرٹ پر آئے سینکڑوں نوجوانوں سے تھا۔

”پنجاب یونیورسٹی کے ابتدائی دو سال میرے زندگی کے سب سے اہم سال تھے، اس دوران میں نے پڑھائی میں اتنی محنت کی جتنی پہلے 12 سالوں میں نہیں کی تھی۔“ خادم حسین ان دونوں کو نہایت جذباتی انداز میں بیان کرتے ہیں۔

خادم حسین چاکرانی کا کہنا ہے کہ ”لاہور دانش پرور شہر ہے، اور پنجاب یونیورسٹی ہیروں کو تراشنے کا کام کرتی ہے، اگر میں پنجاب یونیورسٹی نہ آتا تو شاید اچھڑو تھر میں کہیں گم ہو جاتا۔ پنجاب یونیورسٹی میں میری سب سے پسندیدہ جگہ یہاں کی لائبریریاں ہیں، مجھے استادوں کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے لائبریری انچارج جناب ہارون عثمانی نے پرکھا، تراشا اور سنوار کر چمکا دیا۔ زیادہ پڑھنے کا یہ فائدہ ہوا کہ میں نے لکھنا بھی شروع کر دیا، اس عمل میں میرے دوستوں نے بھی میری بہت مدد کی۔“

خادم حسین چاکرانی اس وقت ایل ایل بی کے تیسرے سال میں ہے اور ایک عدد کتاب لکھ کر چھپوا چکے ہیں۔ کتاب کا نام رکھا ہے ”آ تجھ کو بتاؤں راز زندگانی“ اور اس کتاب کو اپنے بابا سائیں، امی جان اور بڑے بھائی امیر گل کے نام منسوب کیا ہے۔

اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ کتاب ایک نوجوان نے باقی نوجوانوں کے لیے لکھی ہے، کتاب کا بڑا حصہ نوجوان خادم حسین چاکرانی کی اپنی آپ بیتی پر مشتمل ہے۔

خادم حسین کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے ’سندھ اسٹوڈنٹس کونسل کے زیر اہتمام اس کتاب کے حوالے سے ایک نشست ہوئی جس میں خادم حسین نے کمال گفتگو کی۔ وہ ایک شاندار مقرر ہیں، اپنی رائے کو دلیل سے پیش کرنے کا فن جانتے ہیں، باتوں میں روانی اس کے علم اور دانش کو آشکار کرتی ہے۔

میں نے اس کتاب میں زیادہ زور اس بات پر دیا ہے کہ ’نوجوانوں کو کچھ خاص کرنا چاہیے‘ اور نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دراصل ہر کام خاص ہی ہوتا ہے، اگر وہ سچائی، دیانت اور محنت سے کیا جائے۔ میں نے اس کتاب میں اپنی آپ بیتی کے ساتھ ساتھ ملک کے سماجی، اقتصادی، سیاسی اور دیگر موضوعات کو بھی شامل کیا ہے، ہر بابت کے آخر میں مسائل کو حل کرنے کا پورا کام قاری پر نہیں چھوڑا مگر ان مسائل کو حل بھی پیش کیے ہیں۔ باقی ابواب میں سماج میں عورت کا کردار، مذہب، تاریخ، صوفی ازم، اسلامی ثقافت، تحریک آزادی اور آزادی کے بعد ملک کے حالات جیسے مضامین بھی شامل ہیں۔ ”

خادم حسین چاکرانی سمجھتے ہیں کہ دین اسلام پر مکمل عمل، ملک پاکستان سے وفاداری، اپنے تمدن، تاریخ اور دھرتی سے جڑت اور عشق کے سوا ہم بحیثیت قوم ترقی کے زینے نہیں چڑھ سکتے ”

خادم حسین چاکرانی کی کتاب کے پیش لفظ نامور دانشور امجد اسلام امجد نے لکھے ہیں۔ امجد اسلام امجد نے خادم حسین کے بارے میں لکھا ہے کہ ”وہ ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں، جہان معلومات کی وسعت اور ان کے اندرونی تفاوات کہیں ٹک کر کھڑے ہو نے نہیں دیتے مجھے پورا یقین ہے کہ اس کے اندر ایک اچھا نثر نگار اور معاشرے کا نباض بننے کی تمام خوبیاں موجود ہیں، اور وہ بہت آگے تک جانے کی اہلیت رکھتا ہے۔“

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب نیاز احمد اختر صاحب نے سوشل میڈیا پر خاص طور پر خادم حسین اور اس کی کتاب کی تعریف کی ہے۔ جس کے بعد لاہور کی دوسری اہم ’لیڈس یونیورسٹی‘ کے وائس چانسلر نے اس کتاب کے حوالے سے ایک خاص تقریب کا انعقاد کیا، جو نوجوان خادم حسین اور پنجاب یونیورسٹی کے لیے باعث عزت و تکریم بنا۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس کتاب پر ایک مختصر ڈاکومنٹری بنا کر شاندار کام کیا۔

خادم حسین چاکرانی واقعی کمال شخصیت کے مالک ہیں محنت کرنا اس کا جنون بن چکا ہے۔ خادم حسین نے 2019 ع میں نوجوانوں کے ایک پلیٹ فارم Young Peace and Development Corps کے زیراہتمام یونیورسٹی آف لاہور میں ہونے والے نیشنل پالیسی میکنگ کمپیٹیشن میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ پولیس ریفارمز جیسے اہم موضوع پر پالیسی بنا کر اول پوزیشن بھی حاصل کی۔

خادم حسین سے ملاقات میں ہم نے ان کو شاندار مزاج اور طبعیت کا مالک پایا۔ ایسے نوجوان پاکستان کے اندر قومی یکجہتی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سندھ کے اس شہزادے خادم حسین چاکرانی کا کہنا ہے کہ ”ہم اپنے والدین کے سوا کچھ نہیں، والدین ہمارے مرشد ہیں، ان کی دعا ہی ہماری راستوں کی روشنی ہے۔“ خادم حسین چاکرانی کا خواب ہے کہ وہ اپنے گاؤں میں عورتوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لئے ایک شاندار ادارہ قائم کرے، کیونکہ صرف عورت ہے سماج کو سماج کو ترقی دے سکتی ہے، جس سماج مین عورت کو اپنے حقوق میسر نہ ہوں اس سماج کر بکھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

نوجوان زندہ آباد۔ پاکستان پائندہ باد


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments