نیم مردہ سیاسی جماعتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا سیاسی منظر نامہ عجب پیچ و خم سے عبارت ہے۔ ملک اور عوام کو کٹھن ترین چیلنج درپیش ہیں لیکن داخلی سیاست پر سکتہ طاری ہے۔ صورتحال متحرک سیاسی عمل کی متقاضی ہے، لیکن سیاست سے وابستہ کوئی نمایاں فرد، عمل تو درکنار، لب کشائی سے بھی قاصر ہے۔

پاکستان میں سیاست کی تنزلی کی ایک وجہ یہاں کی سیاسی جماعتوں کا زوال ہے۔ کسی بھی معاشرے میں سیاسی عمل، سیاسی جماعتوں کے اقوال و افعال سے نمو اور حرکت پاتا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون ملک گیر اثر کی حامل جماعتیں ہیں۔ تحریک انصاف سیاسی و انتظامی امور سے نابلد حکمران جماعت ہے، جب کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی حزب اختلاف کی جماعتیں ہیں۔ نون لیگ ملک بھر مین اثر و نفوذ رکھتی ہے، لیکن خصوصی طور پر پنجاب میں اسے وسیع تر عوامی حمایت حاصل ہے۔

نون لیگ تحریک انصاف اور وزیراعظم کی سب سے بڑی ناقد ہونے کے باوجود، حکومت سے تنگ عوام کی قیادت کرنے سے قاصر ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران اور حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت ہے۔ اسے ماضی میں غریب عوام کی بڑی اکثریت کی تائید و حمایت حاصل رہی ہے، اور آج بھی ملک کے طول و عرض میں کم یا زیادہ اثر انگیزی کی حامل ہے، لیکن مہنگائی اور بدانتظامی سے نڈھال عوام کی راہنمائی کرنے کے لئے تیار نہیں۔

یہ امر بھی توجہ طلب ہے کی حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں انتقامی کارروائیوں کی زد پر ہیں۔ حکومت حزب اختلاف کو ناپید کرنے کی کوشش میں ہے، لیکن حزب اختلاف حقیقی مزاحمت نہیں کر رہی۔ موجودہ سیاست کا یہ پہلو بھی بڑا دلچسپ ہے کہ نون لیگ کو پنجاب میں عوام کی واضح حمایت حاصل ہے، لیکن وہ حکومت مخالف کوئی تحریک نہیں چلانا چاہتی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی گزشتہ چند سالوں سے پنجاب کے عوام کی تائید کھو چکی ہے، اور یہاں نون لیگ کی نیم دلانہ سیاست کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، عوام کو قیادت فراہم کر کے، پنجاب میں کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے، لیکن وہ ایسا نہیں کر رہی۔

ان دونوں جماعتوں کو عوام کے حکومت مخالف جذبات کو بھڑکانے میں بظاہر کوئی امر مانع نہیں، لیکن پھر بھی یہ جماعتیں حکومت سے نجات کے منتظر عوام کی راہنمائی کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یقیناً ان کی اس بے عملی کی وجہ وہ رکاوٹیں ہیں جنہوں نے انہیں بے دست و پا کر رکھا ہے۔ اور یہ مجبوریاں خود ان جماعتوں کی داخلی کمزوریاں ہیں۔

کسی بھی دوسرے ملک کی طرح ہمارے ہاں بھی سیاسی بساط حکومتی جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ ( اس مضمون میں بیسیوں چھوٹی جماعتوں کا ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ جو عوامل بڑی جماعتوں کے انحطاط کا سبب ہیں، کم یا زیادہ فرق کے ساتھ وہی عوامل دیگر جماعتوں پر بھی منطبق ہیں ) ہر جماعت کا کوئی دائرہ عمل ہوتا ہے، جس میں شامل لوگ اس جماعت کا تخاطب ہوتے ہیں، اور انہیں کی حمایت، اس جماعت کو قوت فراہم کرتی ہے۔

تحریک انصاف کا حلقہ انتخاب ایسے نوجوانوں پر مشتمل ہے جو شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں۔ یہ نوجوان تاریخ و سیاست سے نابلد، عمران خان کا پرستار کلب ہیں، جو ہر ایک معاملے میں فقط جذباتی سوچ اور عمل کے حامل ہیں۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد تقریباً ہر شعبہ میں مایوس کن کارکردگی کے باعث یہ جماعت عوام کی حمایت سے محروم ہو چکی ہے۔ تحریک انصاف اقتدار کے حصول اور اب اس کو برقرار رکھنے کے لئے مقتدرہ کی محتاج ہے۔ اس جماعت نے اس حقیقت کو چھپانے کی بھی کبھی کوشش نہیں کی، بلکہ مخالفین کو مرعوب کرنے کے لئے اکثر اس کا اظہار کرتی رہتی ہے۔

نون لیگ کا حلقہ اثر کاروباری طبقہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ جماعت روایتی اقدار کی حامی ہے۔ عدالتی حکمنامے کے تحت وزارت عظمی سے نواز شریف کی بے دخلی کے بعد اگرچہ اس کی قیادت نے مقتدرہ کے کردار پر کسی حد تک تنقید بھی کی، لیکن ان کا جوش خطابت وقتی رعایتوں کے حصول تک محدود رہتا ہے اور عوام کو درپیش حقیقی مسائل کے تذکرے سے عاری ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی روایتی طور پر معاشرے کے نچلے طبقات کی ترجمان رہی ہے، لیکن اب وہ بات بھی نہیں رہی۔ بلاول بھٹو زرداری اگرچہ بجا طور پر وزیراعظم کو سلیکٹڈ قرار دیتے ہیں لیکن سلیکٹڈز کی نشاندہی سے مسکرا کر اجتناب برتتے ہیں۔

حزب مخالف کی جماعتیں بے کس و لاچار مظلوم عورت کی طرح ہر موقع پر چیخ چیخ کر مظالم کی دہائی دیتی نہیں تھکتیں، لیکن ریاستی اداروں پر بار ہا عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے باوجود، نجانے کس سے انصاف کی طالب ہیں۔ خیر تھوڑی بہت سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ یہ بیچارے کس کی توجہ کی تمنا دل میں رکھتے ہیں۔ حکمران جماعت حکومت کرنے کے لئے اور حزب اختلاف کی جماعتیں مخالفت کی حد معلوم کرنے کے لئے، مقتدرہ کی جنبش ابرو کی منتظر رہتی ہیں۔

اس تابع فرمانی کی وجہ بھی سب کو معلوم ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں کہنے کو جداگانہ شناخت رکھتی ہیں لیکن عملی طور پر سب کا حال یہ ہے کہ مخصوص مفادات کے ہاتھوں خود کو گروی رکھ چکی ہیں۔ یاد رہے کہ سرمایہ داری پر مبنی معاشروں میں جمہوریت ہمیشہ مصنوعی ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت میں تمام ریاستی ادارے، اپنی ہیئت کے اعتبار سے ہی، حکمران طبقات کے مفادات کے محافظ ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اداروں کی بنیادیں بہت زیادہ کھوکھلی ہیں، اور سیاسی جماعتیں چونکہ قومی کردار سے عاری ہیں، لہاذا ان کے مفادات شرمناک حد تک محدود ہیں، اور بہت سستے میں بکنے کی عادی ہیں۔

سیاسی دیوالیہ پن کی دوسری لیکن اہم ترین وجہ مقتدرہ کی ہوس اقتدار، اس کے حصول، اور اس پر قابض رہنے کے لئے اس کی حکمت عملی کی کامیابی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد سے ہی مقتدرہ سیاسی عمل کی ناکامی کے لئے سرگرم ہو گئی تھی۔ اس کشمکش کے دوران اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کے حق حکمرانی کے لئے بڑی اہم پیش رفت تھی، لیکن اس حکومت کی معزولی اگر جمہور کے لئے بڑی پسپائی تھی تو ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل، عوام کے حق سیاست پر بہت ہی کاری ضرب تھی۔ اس کے بعد ریاستی امور پر مقتدرہ کی گرفت کافی مضبوط ہو گئی۔

ضیاالحق کی موت کے بعد جمہوریت کی نام نہاد بحالی کے دوران بھی چوہے بلی کا کھیل جاری رہا، جسے 1999 میں باقاعدہ لپیٹ دیا گیا۔ سیاست میں عوام کی شمولیت کی خفیف امید سے بھی، دن کی روشنی میں سرعام قتل عمد کے ذریعے، جان چھڑا لی گئی۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے تاحال، گو اب بھی حکومت کا انتخاب عوام کی رائے سے ہی کیا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت اب کھلا راز بن چکی ہے کہ دراصل اقتدار کی باگیں مقتدرہ کے آہنی شکنجوں میں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مقتدرہ کی اثر انگیزی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ موجودہ غیر مقبول حکومت کی تنزلی کے بعد بھی کسی قابل ذکر سیاسی بہتری کے امکانات مخدوش ہیں۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں مقتدرہ حکومت کرنے کا آئینی اختیار بھی حاصل کر لے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ، اقتدار پر مقتدرہ ہی قابض رہے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چلو جو بھی ہے، کم از کم اقتدار کی کشمکش سے تو جان چھوٹے گی، اور حکمرانی کا قضیہ طے پا جائے گا۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ خوش فہمی دیر پا ثابت نہیں ہو گی۔

کیونکہ فطرت کا اصول ہے کہ حالات کبھی جوں کے توں نہیں رہ سکتے۔ ان میں سدھار اتا ہے یا پھر بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی زبوں حالی دراصل سیاسی عمل کی تنزلی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے زوال کی علامت ہوتی ہے۔ حقیقی سیاسی عمل کا منقطع ہونا، ریاستی ڈھانچے کے لئے نہ صرف خطرناک ہے، بلکہ مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ میں بالکل بھی قنوطیت پسند نہیں ہوں۔ میرا مقصد مایوسی پھیلانا ہرگز نہیں، لیکن کیا کیا جائے کہ یہی حقیقی سیاسی صورتحال ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments