کیا عورت مرد کا چار عورتوں کے ساتھ سونا برداشت کر سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی نفسیات بڑی گنجلک چیز ہوتی ہے جس کا سرا ڈھونڈنے کی جستجو میں سگمنڈ فرائیڈ کارل یونگ، کارل روجرز نے اپنی زندگیاں تیاگ دیں اور موجودہ دور میں بھی ماہر نفسیات انسانی ذہنی گتھیاں سلجھانے میں مصروف عمل ہیں، انسانی ذہن ایک ایسی مشین ہے جو ہر وقت حرکت میں رہتی ہے جس دن اس میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو انسان ابنارمل ہو جاتا ہے ہے اور جب یہ رسپانس دینا بالکل بند کر دیتا ہے تو انسانی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اکثر اوقات ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد ایک تقسیم عورت کو بالکل برداشت نہیں کرتا، غیرت کے نام پر قتل کرنا اسی زاویہ کی ایک کڑی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت تقسیم شوہر کو برداشت کر سکتی ہے؟ چونکہ اس کے اختیار و رتبے کو مختلف حیلے بہانوں سے دبا دیا جاتا ہے اور وہ تو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی، عورت سے خائف یہ معاشرہ جب بچی کو نکاح نامے پر دستخط کرنے کے لئے فارم تھماتا ہے تو اس میں سے خلع والی شق کو پہلے ہی مٹا دیا جاتا ہے یعنی عورت کے دماغ کی کہیں بتی نہ روشن ہو جائے کیونکہ جس دن اس کے دماغ کی بتی جل گئی تو بڑے بڑے مسائل پیدا ہوجائیں گے؟ میں شروع میں ہی اس بات کی وضاحت کر دوں کہ میں چار شادیوں کو مذہب کے اینگل سے ڈسکس نہیں کر رہا بلکہ میں اس تصور انسانی کو نفسیات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

بے شک آپ اچھے خاصے صاحب حیثیت ہوں اور ایک ہی وقت میں چار بیویوں کو الگ الگ گھروں میں ٹھہرا کر مکمل نان و نفقہ بھی مہیا کر رہے ہوں اس کے باوجود بھی خوش ہیں یا نہیں اس بات کو جانچنے کا پیمانہ کیا ہے؟ تصور کیجیے ایک دن آپ ایک بیوی کو چوم چاٹ رہے ہوں اور باقی دن دوسروں کے ساتھ یہی عمل دہراتے ہیں تو کیا ان خواتین کے اندر یہ نیچرل سوچ پیدا نہیں ہو گی کہ جو کام وہ رات میرے ساتھ کر رہا تھا وہی آج میری سوکن کے ساتھ کر رہا ہے تو کیا ان کی نفسیات میں منفی رویہ جنم نہیں لے گا؟

ایسی نفسیات کا جنم لینا ایک فطری رویہ ہے اور حسد و جلن ایک انسانی جبلت ہوتی ہے۔ ایک مرد کا چار بیویوں کے ساتھ بستر شیئر کرنے یہ جو عمل ہے وہ کیا عورت کی نفسیات پر اچھا تاثر ڈالتا ہے یا برا؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے اور اس پس منظر کو ہمیں نفسیات کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ آرڈر یا اسٹک کے زور پر جانوروں کو سدھایا یا جاتا ہے انسانوں کو نہیں۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ کوئی بھی مرد یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی بیوی ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ سوئے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت یہ برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا شوہر چار عورتوں سے بستر شیئر کرے؟

اس بات کی آگہی کہ میرا شوہر جو رات کو میرے ساتھ کر رہا تھا وہ آج میری سوکن کے ساتھ کر رہا ہے تو کیا یہ سوچ ایک عورت میں کس قسم کے رویے کو جنم دے گی؟ جیلسی، بے چینی، بدگمانی، برتاؤ میں فرق اور پیار میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوں گے اور ایسا ہونا ایک فطرتی عمل ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں انصاف ممکن ہو پائے گا؟ انسانی زندگیاں کوئی مذاق نہیں ہوتی اور نہ ہی دو انسانوں کا عمر بھر کے لئے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا عمل غیر سنجیدگی کا متحمل ہو سکتا ہے، انسانی رشتے بڑے گنجلک ہوتے ہیں اور جب ان میں تناؤ آتا ہے تو زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں اور خاص طور پر بچوں کی نفسیات پر بہت برا اثر پڑتا ہے، والدین کے غیرسنجیدہ رویوں اور فیصلوں کا خمیازہ ساری عمر بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ہمارے جیسے معاشرے میں تو مرد دوسری شادی کی دھمکی کو pressure tactic کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ اس کی بیوی سیدھی رہے اور نافرمانی کرنے کا خیال ہی دل سے نکال دے، ہماری اکثر خواتین تو اپنی نجی زندگی بہت ہی ڈرے اور سہمے ہوئے انداز سے گزارتی ہیں کہ کہیں اس کا شوہر دوسری شادی نہ کر لے، اکثر اوقات تو انہیں اپنے شوہر کی موبائل ہسٹری میں بہت کچھ مل جاتا ہے جس سے یہ سمجھنے میں انہیں زیادہ دیر نہیں لگتی کہ شوہر محترم گھر سے باہر بھی منہ مارتے پھرتے رہتے ہیں مگر وہ اس ڈرامے کا ڈراپ سین اپنے شوہر کے سامنے ڈسکس کرنے سے ڈرتی ہے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ انہیں دوسری شادی کرنے کی دھمکی سننے کو ملے گی، خواتین کے سر پر دو تلواریں ہمیشہ لٹکی رہتی ہیں طلاق اور دوسری شادی۔

المیہ یہ ہے کہ یہ استحصالی چکر اس کے ساتھ اس کے اپنے گھر سے شروع ہو جاتا ہے اس مکروہ جال سے بچتی بچاتی وہ اپنے شوہر کے گھر پہنچ جاتی ہے جہاں ایک بار پھر اسے اپنے جینے کی جنگ لڑنا ہوتی ہے۔ ( وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ) جیسی استعاراتی بھول بھلیوں کو استعمال کر کے عورت کو خوب مکھن لگایا جاتا ہے، صنف نازک جیسی تشبیہات دے کر اور بہلا پھسلا کر مردانہ سماج اپنی ان سکیورٹی کو تحفظ دینے کی کوشش کرتا ہے، المیہ یہ ہے کہ جہاں عورت آپ سے حق لینے کی آواز اٹھاتی ہے تو آپ کی غیرت جاگ جاتی ہے۔

یہ غیرت کس چڑیا کا نام ہے آج تک پتہ نہیں چل سکا شاید یہ وہ منافقت کا نقاب ہے جسے مرد اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے پہنتا ہے۔ میری نظر میں چار شادیوں کے تصور کو نفسیاتی بنیادوں پر پرکھا جائے تو اس کے اثرات عورت کی شخصیت پر کوئی زیادہ اچھے نہیں پڑتے بلکہ وہ نفسیاتی طور پر مسخ ہو جاتی ہے، اس اہم موضوع پر بات ہونی چاہیے اور خاص طور پر خواتین کو کھل کر سامنے آنا چاہیے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
5 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments