پاکستان اور نظریہ پاکستان لازم و ملزوم ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں اور ایک مسلمہ حقیقت بھی ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ مسلمانوں کو ایک ایسے وطن کی ضرورت تھی جہاں پر انہیں آزادانہ طور پر دینی فریضے سرانجام دینے کی اجازت ہو اور ان کی ترقی میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اسی عظیم مقصد کے لیے شیخ علامہ محمد اقبال نے ایک تصور اور خواب پیش کیا اور قائد اعظم محمد علی جناح و دیگر رہنماؤں نے اسے حقیقی صورت دینے کے لیے بہت جدوجہد کی۔

انگریز بہت ہی ہوشیار اور شاطر تھے، انگریز نے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد (خیبرپختونخوا) کو مغربی پاکستان بنایا اور بنگال کو مشرقی ریاست بنایا۔ حیدرآباد دکن، جونا گڑھ، اترپردیش اور بہار سمیت متعدد مسلم اکثریتی علاقے بھارت کو تحفے میں دیے اور کشمیر کو بھی متنازعہ چھوڑ دیا۔

آزادی کے بعد مسلمانوں نے مزاحمت کا سامنا بھی کیا، کچھ سنبھلنے بھی لگی ترقی و خوشحالی بھی آنے لگی رفتہ رفتہ ہم ناشکری کی بیماری میں مبتلا ہو گئے اور دشمن نے ہماری ناشکری پر شکر ادا کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے غلط فہمیاں پیدا کرنا شروع کر دیں۔ چند ضمیر فروشوں نے بھی ذاتی مقاصد کے لیے آگ میں پیٹرول ڈالا اور آخرکار اسلامی جمہوری ریاست ٹوٹ گئی۔

اس کے بعد دشمن مزید انتشار، تقسیم اور انارکی پھیلانا چاہتا تھا جس کے لیے اسے کم اجرت پر کام کرنے والے غداروں کی ضرورت تھی، اسی مقصد کے لیے اس نے ملک میں لسانی تقسیم کی بنیاد ڈالی اور اپنا مرکز روشنیوں کے شہر کراچی کو بنانا چاہا۔ یہ وہ کراچی تھا جس میں آزادی سے پہلے ملاحوں کی کچھ بستیاں تھیں اور ’کولاچی‘ نامی ملاح کے نام سے کراچی اخذ کیا گیا ہے۔ کراچی ان دنوں اتنا مصروف ترین شہر تو نہیں تھا مگر کچھ بازار، مساجد، اسکول، برطانیہ سرکار کی چھوٹی موٹی سڑکیں، پٹڑیاں وغیرہ موجود تھیں۔

آزادی کے بعد تین مراحل میں ننگے سر ننگے پیر حریت کے جوش و جذبے کے ساتھ مہاجرین کی آمد ہوئی، مہاجرین میں زیادہ تعداد بہاری، گجراتی، راجستھانی مسلمانوں کی تھی جس میں سید و میمن بھی کافی تھے۔ انہیں کراچی میں اتارا گیا۔ سندھیوں نے ان کی خوب مہمان نوازی کی۔ مدینے کے انصار کی یادیں تازہ ہو گئیں، مہاجرین نے بھی بہترین و مثبت ردعمل دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کی آبادی بڑھتی گئی، کاروباری صورتحال بھی بہتر ہونے لگی، کافی اسکول اور یونیورسٹیاں قائم ہو گئیں، اسٹیل مل لگ گیا، بلدیہ عظمی کو بہتر نظام مل گیا۔

دشمن کو یہ ہر گز پسند نہیں تھا اس نے مختلف چیزوں کی آڑ میں چند اردو بولنے والے سندھیوں کو گمراہ کر کے استعمال کرنے کی کوشش کی اور ان بھٹکے ہوئے لوگوں نے سندھی بولنے والوں سے مطالبہ کیا کہ ہمیں اپنا حق دیں۔ سندھی بولنے والے سندھی پریشان ہو گئے کہ ہم ساتھ رہتے ہیں، کھاتے اور پیتے ہیں ہم نے تمہارا کون سا حق کھایا ہے جو ہم دیں یا تمہارے باپ دادا کوئی چیز لے کر آئے تھے۔ دوسری طرف ملک دشمن عناصر سندھی بولنے والوں میں بھی داخل تھے انہوں نے یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ یہ کل کے مہاجر آج تم پر قابض ہونا چاہتے ہیں، اسی طرح دشمن نے معاملات خراب کر دیے۔

سیاست دانوں نے بھی دو قومی نظریے کو نظرانداز کرتے ہوئے لسانیت کا سہارا لینے میں اپنی سیاسی دکانیں چمکائیں۔ کسی نے اردو بولنے والے سندھیوں کو مہاجر کا نعرہ دیا تو کسی نے سندھ دھرتی اور سندھو دیش کے نعرے بلند کیے۔ اس چکر میں کئی بے گناہ لوگوں کے لاش بوری میں بند ہو گئے، تو کئی سمندر میں مار کر پھینک دیے گئے اور کئی ٹارگیٹ کلرس کا ٹارگیٹ بن گئے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی بنیاد سندھی، پنجابی یا اردو نہیں بلکہ دو قومی نظریہ اور کلمہ طیبہ ہے۔ جن لوگوں نے مہاجر کا نعرہ لگایا انہوں نے کبھی گلستان جوہر کی گلستان میں گلستان نہیں بنایا اور جنہوں نے سندھی کا نعرہ لگایا ابھی تک وہ بھی عمر کوٹ کے کوٹ کا دھول صاف نہ کرسکے۔ سندھی اور مہاجر کا نعرہ لگا کر ہمیں صرف لوٹا اور بے وقوف بنایا گیا۔

ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک کروڑ اردو بولنے والے سندھی اپنے آبائی شہر کراچی کو چھوڑ کر کہاں جائیں گے ان کا جانا ممکن ہی نہیں ہے اسی طرح سوا کروڑ سندھی بولنے والے بھی کراچی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے، جب ایک بات ممکن ہی نہیں تو ہم احساس محرومی کا شکار ایک دوسرے کو کیوں بنائیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم دو قومی نظریے پر ڈٹے رہیں، لسانیت کی تفریق کو ختم کریں اپنے بڑوں کی طرح ساتھ جینا سیکھ لیں، جو پاکستان و سندھ میں پیدا ہوا وہ پاکستانی اور سندھی ہے وہ مہاجر نہیں کیوں کہ مہاجر ہجرت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ہمیں رضائے الہٰی سمجھ کر یا پھر مجبوری ہی سمجھ کر ایک دوسرے کو دل سے تسلیم کرنا ہو گا کیوں کہ ہم تو لازم و ملزوم ہیں، ہم جدا ہو نہیں سکتے اور ہمیں کوئی جدا کر نہیں سکتا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

لعل ڈنو شنبانی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments